مضامین سلسبیل

تفقہ انسان کی فطری خصوصیت

مولانا مفتی محمد اشرف علی رشادی قاسمی

مہتمم الجامعۃ الاسلامیہ الحنیفیہ بنگلور

فقہ کے لغوی معنی سمجھنا ،کسی بات کی گہرائی میں پہنچنا اور ادراک کرنا ہے ، اللہ تعالیٰ نے کائنات میں لا محدود مخلوقات پیدا فرمائی ہے ، ان میںحیوانات کی یہ کیفیت ہے کہ وہ صرف اپنی ضرورت اور حفاظت کے متعلق چیزوں کو سمجھتے اور پہچانتے ہیں ، حواسِ خمسۂ ظاہرہ (دیکھنے کی قوت، سننے کی قوت، سونگھنے کی قوت ، چکھنے کی قوت اور چھو نے کی قوت ) کی راہ سے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں ،ان سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن کبھی ان معلومات میںغور وفکر کرنے کی یا کسی چیز کےبارے میں پوری تفصیلات حاصل کرنے کی جستجو ان میں قطعاً نہیں ہے ، مثلاً بیل ، گھوڑا اور شیر وغیرہ حیوانات چاند اور سورج کی روشنی اور اجالے سے فائدہ اٹھاتے ہیں مگر چاند اور سورج کی رفتار ،کیفیت اور کمیت کے بارے میں ان کے پاس کوئی تحقیق نہیں ، جب کہ یہ مخلوقات ہزاروں سال سے دنیا میں آباد ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں یہ صلاحیت و قابلیت ودیعت نہیں فرمائی ہے ۔ 
ان کے بالمقابل آدم علیہ السلام کی اولاد ، آفتاب و ماہتاب ستاروں اور سیاروں کو دیکھ کر علم ہیئت ، علم نجوم ، علم الفلکیات اور خدا جانے کتنے علوم پیدا کرلیے ، جن میں کا ہر علم اپنی جگہ ایک سمندر کی حیثیت رکھتا ہے ، حسی اور ظاہری معلومات کے محدود سرمایہ سے آدمی کی عقل جب علوم کے ان دریاؤں کو نکال رہی ہے تو یہی انسان اگر خالق کائنات اللہ کی وحی اور نبوت کی راہ سے جومعلومات عطا ہوئی ہیں ، ان میں غور و فکر کرتا ہے اور عقل سلیم سے کام لیتا ہے تو بہتر نتائج اور عمدہ ثمرات کا مستحق ہوگا، وحی اور نبوت کی معلومات کو دین اور مذہب کے لفظ سے تعبیر کیاجاتا ہے ۔ 
بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ دین و مذہب میں قیاس کرنا ، اندازہ کرنا اور عقلی غور وفکر کرنا جائز نہیں ہے ، یہ بات اس مذہب کے متعلق تو صحیح ہوسکتی ہے جو کسی جانور اور حیوان کو عطا کیا گیا ہو ، لیکن انسان جو صاحب فہم و عقل کا نام ہے ، اس کے بارے میں یہی رائے رکھنا انسانی فطرت کے متعلق غلط اندازہ اور اس کی فطری خصوصیات سےلاپرواہی کا نتیجہ ہے ۔ 
وحی اور نبوت یعنی قرآن و حدیث کے منصوصات و معلومات کے تعلق سے عقل اور قیاس سے کام لیا جائے تو اس کو اصطلاح شرع میں ’تفقہ‘ اور’ اجتہاد‘ کہا جاتا ہے ، چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطیؒ  نے فقہ و تفقہ کے بارے میں لکھا ہے  اِنَّ الْفِقْہَ مَعْقُوْلٌ مِن مَنْقُوْلٍ یعنی فقہ ایک عقلی علم ہے جو منقول (قرآن و حدیث ) سے ماخوذ ہے ۔فقہ حنفی کی مشہور انسائیکلوپیڈیا الحاوی القدسی سے صاحب بحر علامہ ابن نجیم مصریؒ نے لفظ فقہ کی لغوی و اصطلاحی تشریح ان الفاظ میں کی ہے ۔
 وفی الحاوی القدسی اعلم ان معنی الفقہ فی اللغۃ الوقوف والاطلاع وفی الشریعۃ الوقوف الخاص وھو الوقوف علی معانی النصوص واشاراتھا ودلالاتھا و مضمراتھا و مقتضیاتھا و الفقیہ اسم للواقف علیھا (البحر الرائق ج ۱، ص۱۶ ، مکتبہ زکریا ، دیوبند) 
معلوم ہونا چاہئے کہ لغت میں فقہ کے معنی واقف ہونا اور اطلاع پانا ہے ، شریعت میں ایک خاص قسم کی واقفیت کا نام فقہ ہے یعنی شرعی نصوص کے معانی اور ان کے اشاروں ، دلالتوں ، پوشیدہ معانی اور مقتضیات سے واقف ہونا ہےاور جو ان امور سے واقف ہوگا وہ فقیہ ہے ۔
مطلب یہ ہے کہ کتاب اللہ (قرآن کریم) اور سنت نبویہ (آنحضرت ﷺ کے اقوال ، افعال اور تقریرات ) کے نصوص و معلومات کے ظاہری معانی اور ان نصوص میں جن باتوں کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں اور دلالتیں ملتی ہیں اور ان نصوص کے جامع و مانع الفاظ کی کلیت میں جو باتیں مضمر اور پوشیدہ ہیں اور وہ نصوص جن امور کا تقاضہ کرتی ہیں ، ان کو جاننے کا نام فقہ ہے اور جس شخص کی عقل ان نصوص سے نتائج پیدا کرتی ہے ، اس کو فقیہ کہتے ہیں ، فقیہ شریعت میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتا ہے بلکہ قرآن وحدیث کے نصوص میں چھپے ہوئے احکام و نتائج کو اپنی عقل کی طاقت کے بقدر اخذ کرتا ہے ، جیسے گنے سے رس نکالنے والی کوئی مشین اپنی طاقت اور پاور( Power)کے بقدر رس نکالتی ہے اورگنے میں کچھ رس باقی رہ جاتا ہے ، لیکن ایک دوسری مشین ہوتی ہے جو گنے سے ایک ایک قطرے کو نچوڑ کر رکھ دیتی ہے ، یعنی مشینوں کی قوت و ضعف کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے ، بعینہ یہی صورت مختلف اشخاص کی عقلوں کے نتائج میں پائی جاتی ہے یعنی مختلف مجتہدوں اور فقہاء کے نتائج میں اختلاف پایا جانا ایک فطری بات ہے ۔ ایک حدیث میں ہے 
نضر اللہ امرأ سمع منا حدیثا فحفظہ حتی یبلغہ غیرہ فرب حامل فقہ لیس بفقیہ (ترمذی ، ابواب العلم ج۱) 
ترجمہ : اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی ، پس اس نے اس بات کو یاد کرلیا تاکہ کسی دوسرے کو (اسی طرح) پہنچائے ، اس لئے کہ بات کو سننے والے بعض لوگ فقیہ نہیں ہوتے یعنی بات کو سمجھ نہیں سکتے ۔ 
اس حدیث میں پیغمبر ﷺ نے انسانی عقلوں کے تفاوت کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، نیز دماغی قوتوں کے تفاوت کا انکار فطرت کے قانون کا انکار ہے ، اسی طرح فقہائے کرام و مجتہدین عظام کے قرآن وحدیث کے نتائج اور استخراجات کا انکار کرنا جن تک عام لوگوں کی رسائی نہیں ہوتی فطرت الٰہی کے جھٹلانے کے مترادف ہے ۔ 
اس بات کی مزید وضاحت صحیح بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے :

عن ابی موسی الاشعری عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال مثل ما بعثنی اللہ بہ من الھدیٰ والعلم کمثل الغیث الکثیر اصاب ارضا فکان منھا نقیۃ قبلت الماء فانبتت الکلأ والعشب الکثیر وکانت منھا اجادب امسکت الماء فنفع اللہ بھا الناس فشربوا و سقوا و زرعوا واصاب منھا طائفۃ اخریٰ انما ھی قیعان لا تمسک ماء ولا تنبت کلأ فذالک مثل من فقہ فی دین اللہ و نفعہ بھا بما بعثنی اللہ بہ و مثل من لم یرفع بذالک رأسا ولم یقبل ھدی اللہ الذی ارسلت بہ (بخاری ج۱، ص۱۸)

ترجمہ: حضرت نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے مجھے جس علم و ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے ، اس کی مثال زبردست بارش کی سی ہے ، جو زمین پر خوب برسے ، بعض زمین جو صاف ہوتی ہے وہ پانی کو پی لیتی ہے اور بہت بہت سبزہ اور گھاس اگاتی ہے اور بعض زمین جو سخت ہوتی ہے وہ پانی کو روک لیتی ہے ، اس سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ، پس لوگ اس پانی سے سیراب ہوتے ہیں اور سیراب کرتے ہیں اور کھیتی کرتے ہیں اورزمین کے بعض خطوں پر پانی پڑا وہ بالکل چٹیل میدان ہی تھے ، نہ پانی کو روکتے ہیں اور نہ سبزہ اگاتے ہیں ، تو یہ مثال ہے اس شخص کی جو دین میںسمجھ پیدا کرے اور نفع دیا اس کو اس چیز نے جس کے ساتھ میں مبعوث کیا گیا ہوں ( یہ پہلی مثال ہے ) جو اس نے علم دین سیکھا اور سکھایا ( یہ دوسری مثال ہے ) اور اس شخص کی مثال جس نے سرنہیں اٹھایا (یعنی توجہ نہیں کیا ) اور قبول نہیں کیا اس ہدایت کو جس کو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے (یہ تیسری مثال ہے)
اس صحیح حدیث میں فطرت انسانی کے درجات اور قدرتی آثار و نتائج کی صریح لفظوں میں تصریح کی گئی ہے ۔ تفقہ فی الدین خدائی عطیہ و انتخابِ الٰہی ہے جیسا کہ حدیث میںہے  من یرد اللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین (بخاری ، ج۱، ص۱۶) اللہ پاک اپنے کرم سے ہم سب کو تفقہ فی الدین کے خیر سے سرفراز فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا