مضامین سلسبیل

معاصر فارسی اور اردو لغات ، تقابلی مطالعہ

مولانا ڈاکٹر راہی فدائی باقوی

اردو کی کہاوت ہے ’’ اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی‘‘یہ مثل اس شخص کے بارے میں کہی جاتی ہے جس کا کوئی قول و فعل صحیح نہ ہو اور اس کے حرکات و سکنات بے ڈھنگے ہوں ۔ مسرورؔ نے کیا خوب کہا ہے۔
چرخ کج روکے تو حق میں یہ مثل سیدھی ہے
اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی ہے۱
مذکورہ ضرب المثل خود زبان اردو پر صادق آتی ہے ،یہ اس لئے کہ صدیاں گذرنے کے باوجود نہ اس کے قواعد پوری طرح منضبط ہوئے ہیں اور نہ اس کے املا پر مکمل اتفاق رائے حاصل ہوسکا ہے ۔ مثال کے طور پر علامتِ مفعول ’’کو‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے کہا جائے کہ میں چنائی کو گیا تھا یا میں چنائی گیا تھا ، بچہ کو اٹھاؤ یا بچہ اٹھاؤ، بستے کو اٹھاؤ یا بستہ اٹھاؤ ، میں نے اس کو کہا تھا یا میں نے اس سے کہا تھا۔ 
مذکورۂ بالا جملے کو کے ساتھ صحیح ہیں یا کو کے بغیریا دونوں بیک وقت درست ہیں ،اگر آخر الذکر فیصلہ ٹھیک ہے تو ترجیح کس کو دی جائے گی، کونسا جملہ فصیح کہلائے گا اور کیوں ؟
اسی طرح دئیے، لئے ، گئے ، نئے وغیرہ الفاظ کا املا ہمزہ کے ساتھ مناسب ہے یا بغیر ہمزہ کے ؟ ایسےکئی سوالات تا حال تسلی بخش جواب کے منتظر ہیں ۔ 
یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ ہمارے نزدیک اردو کے قواعد ہوں یا الفاظ کا استعمال ۔ تذکیر و تانیث کا معاملہ ہو ، قیاسی اور سماعی کے مرہونِ منت ہیں ، مگر ان دونوں میں حقیقتاً توازن و اعتدال کی روش قدرے کم ہے ۔
یہی معاملہ ’’لغات‘‘ کا بھی ہے ، اردو کی کوئی فرہنگ کامل و مکمل نہیں تاہم جس قدر بھی لغات بازار میں دستیاب ہیں ،ان سے متوسط درجے کا طالب علم فیض یاب ہوسکتا ہے مگر اعلیٰ درجے کے طلبہ ، اساتذہ ، ماہرین و محققین کے لئے کسی ایک فرہنگ پر اکتفاکرنا ممکن نہیں ، ادبی اور فنی کتب کے مطالعہ کے دوران اردو، فارسی ، عربی بلکہ انگریزی ڈکشنریوں کو بھی اپنا ہم جلیس بنانا پڑے گا تاکہ کسی مشکل لفظ یا نادر الاستعمال لفظ کے معنی تلاش کرنے میں وقت ضائع نہ ہو۔خصوصاً قدیم اردو جس کو دکنی سے موسوم کیا گیا ہے ،ہمارے مطالعہ میں اگر ہو تو اس کی فہمائش مہارت کے بغیر بڑی آزمائش کا سبب بن جاتی ہے کیونکہ اہل علم کے درمیان مروجہ و متداول لغات دکنی الفاظ کے معانی بتلانے سے بالکل قاصر ہیں حالانکہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دکنی بھی اردو ہی ہے ، کوئی علاحدہ زبان نہیں ، بلکہ یہ حقیقت ہے کہ ترقی یافتہ و شگفتہ اردو زبان کی ابتدائی شکل و صورت ، اسی طرح تھی جس طرح کہ ہم حضرت گیسو درازؒ ، امین الدین اعلیٰؒ، برہان الدین جانمؒ ، نظامی بیدری، ملا وجہی، نصرتی ، شاہی ، فراقی ، قربی وغیرہ بیسیوں دکنی اہل قلم کی تخلیقات میں موجود پاتے ہیں ، دکنی زبان و ادب کے اقرار باللسان کے بعد ہی اردو پر ایمان بالجنان ثابت ہوتا ہے اور اردو کی تاریخ صدیوں پرانی اسی وقت ہوتی ہے جبکہ دکنی ادب کی تعلیم و تفہیم اس کے ساتھ مربوط ہو۔ 
ہمارے اکثر و بیشتر لغات نویس معنی کے اظہار میں مترادفات کے بیان تک ہی خود کو محدود کرلیتے ہیں اور اس کے مختلف و متنوع استعمال سے پہلو تہی کرجاتے ہیں ، اگر معنی کے ضمن میں مثالیں دی جاتی بھی ہیں تو فقط اشعار پر اکتفاء کیا جاتا ہے اور ادیبوں کی نثری تخلیقات سے صرف نظر کیا جاتا ہے ۔ یہ رویہ شاید اس لئے روا رکھا گیا ہے کہ ان مؤلفین لغت کی نظر میں شعر بہرحال نثر کے مقابلے میں ارفع و افصح صنف ادب ہے ۔ حالانکہ لغت نویسی کے وقت اس امتیاز کو ملحوظ رکھنا غیر ضروری ہے ۔ 
راقم الحروف اس تمہید کے بعد فارسی اور اردو کے دو معاصر لغات ’’فرہنگ آنند راج ‘‘ اور ’’نور اللغات ‘‘ کا تقابلی مطالعہ اس لئے پیش کرنا چاہتا ہے کہ لغت نویسی کے کار پُر وقار میں شدید محنت و ریاضت کے ساتھ وسعت مطالعہ اور فکر اعلیٰ بھی ہو تو نتیجہ عمل بے حد شاندار اور انتہائی خوش گوار ہوگا جو بالآخر کثیر الجہت افادہ کا باعث بن جائے گا۔ 
’’فرہنگ آنند راج ‘‘ فارسی کی معتبر ومستند لغت ہے ، جو جنوبی ہند کے مشہور ساحلی شہر ’’ اسحاق پٹن ‘‘ معروف بہ ’’ ویساکھاپٹنم‘‘ (آندھرا پردیش ) کے قریب واقع قدیم ریاست ’’وجیانگرم‘‘ میں تالیف کی گئی تھی ۔ اس مقتدر فرہنگ کے مؤلف منشی محمد پادشاہ صاحب شاد ابن مولوی غلام محی الدین صاحب ہیں ، جن کی ولادت سن ۱۲۵۲ھ مطابق ۱۸۳۵ء میں بمقام وجیا نگرم ہوئی۔۲   آپ اردو ، فارسی ، عربی ، تلگو اور انگریزی کے ماہر تھے ۔ یہی سبب تھا کہ ’’ وجیا نگرم ‘‘ کے راجا مہاراج وجیا راما گجپتی راج نے آپ کو اپنے دربار کا پہلے تو میر منشی مقرر کیا پھر آپ کی صلاحیتوں سے متاثر ہوکر اپنے مصاحبین خاص میں شامل کرلیا۔ آپ نے ۱۲۷۹ھ مطابق ۱۸۶۲ء میں مہاراج کی معیت میں شہر بنارس کا سفر کیا ، جہاں راجا کی بہت سی جائیدادیں تھیں، بقولِ پروفیسر شمس الرحمن فاروقی :
’’وزیانگرم کی کثیر املاک بنارس میں بھی تھی اور اس کا معتد بہ حصہ اب بھی باقی ہے ، اس تعلق سے مہاراج کمار وزیانگرم کا قیام بنارس میں تا دیر رہا‘‘۔۳
منشی محمد بادشاہ نے اپنے قیام بنارس کے دوران وہاں کے صاحب کشف و کرامت بزرگ مولانا مفتی محمد رضا علی رضا بنارسی (۱۸۳۰ھ-۱۸۹۵ھ)سے نسبت بیعت و ارشاد بھی قائم کرلی تھی ۔ منشی موصوف نے اپنی فرہنگ مطبع نولکشور ، لکھنو سے ۱۸۸۹ء سے ۱۸۹۶ کے درمیان تین جلدوں میں چھپوائی اور اپنی گراں قدر تالیف کا نام اپنے محسن و مربی مہاراج آنند گجپتی راج بہادر متخلص بہ رشید کے نام پر  ’’ فرہنگ آنند راج ‘‘ رکھا ۔ منشی بادشاہ نے کن اسباب و ضروریات کے تحت اس عظیم کام کا بیڑا اٹھایا اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے صاحب ’’استشہاد‘‘ نے لکھا ہے :
’’ منشی بادشاہ کثیر المطالعہ تھے ، ہر وقت آپ کے ہاتھوں میں کوئی نہ کوئی کتاب ضرور رہتی تھی ، آپ ہمیشہ علم کے جویا اور عمل کے درپئے رہتے تھے ، تحقیق اور تلاش و تفتیش آپ کا محبوب مشغلہ تھا، کتب انگریزی کے مطالعہ کے دوران وبسٹر (Webster)کی ڈکشنری نے آپ کی بھرپور رہنمائی کی تھی ، اس کارآمدلغت سے آپ اس قدر متاثر ہوئے کہ آپ نے یہ دیکھنا چاہا کہ فارسی اور عربی زبانوں میں بھی کوئی ایسی لغت موجود ہے جس سے ایک طالب علم کی علمی و ادبی اور فنی ضرورت کی تکمیل ہو اور اس کی متجسس نگاہوں کو لغات کےمطالعہ سے ایک گونہ سرشاری و سیرابی حاصل ہو۔ ’’وبسٹر‘‘ کے مماثل کی تلاش و جستجو میں منشی محمد باشا نے لغات کی وادیوں کی خاک چھانی ، قاموس ، صراح ، بہارِ عجم ، برہان قاطع ، غیاث اللغات ، فرہنگ انجمن آرائے ناصری ، فرہنگ رشیدی ، فرہنگ جہانگیری ، ہفت قلزم ، منتخب ، کشف ، مصطلحات و ارستہ ، کنز، مدار، مؤید الفضلاوغیرہ بیسویوں لغات کی ورق گردانی کی مگر کہیں گوہر مراد ہاتھ نہ لگا بلکہ مایوسی و ناامیدی نے ذہن ودماغ کو ماؤف کردیا۔ یہ اس لئے کہ کوئی بھی مشہور و متبادل لغت افراطِ محاورات و کثرت تمثیلات میں وبسٹر اور براؤنس (Brouns) کے ہم پلہ تو کجا عشر عشیر بھی نہیں ہے ۔ ادبیاتِ فارسی کی اس زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے آپ کے دل میں یہ شدید خواہش رونما ہوئی کہ فارسی زبان میں ایک کامل و مکمل لغت کی تالیف کی جائے ، جس میں فارسی و عربی اور ترکی کے وہ تمام الفاظ جو ادبیات فارسی میں زیادہ یا کم مستعمل ہیں، صحیح تلفظ و صحیح محاورے کے ساتھ اندراج کئے جائیں اور ہر لفظ کی سند اساتذۂ سخن کے کلام سے فراہم کی جائے ۔ آپ نے اپنی اس دلی تمنا کا ذکر آنند راج سے بر سبیل تذکرہ کیا تو مہاراجہ چونکہ خود بھی فارسی ادبیات کے ماہر و شاعرتھے ، منشی پادشاہ کی تجویز سے بے حد خوش ہوئے اور باصرار یہ حکم صادر فرمایا کہ اس لاجواب و بے مثال تالیف کا کام جلد از جلد شروع کردیا جائے ۔ اس کارِ عظیم کے لئے مہاراج صاحب نے نہ صرف اپنا مالی تعاون پیش کیا اور بھرپور نصرت کی بلکہ خام مواد کی صورت میں ضروری وسائل بھی فراہم کیے ۔ ۴
’’ نور اللغات ‘‘ اردو کی مستند و مایہ ناز لغت ہے جس کے مؤلف مولانا مولوی الحاج نور الحسن نیر کاکوری ہیں، آپ کے والد ماجد مشہور نعت گو شاعر و انشاپرداز حضرت مولانا محمد محسن کاکوری (متوفی ۱۹۰۵ء ) ہیں ، نیرؔ کی ولادت بقول مالک رام بتاریخ ۷؍ شعبان ۱۲۸۲ھ مطابق ۲۶ دسمبر ۱۸۶۵ء قضبۂ کاکوری میں ہوئی اور وفات لکھنو میں ۱۹ جمادی الثانی ۱۳۵۵ھ مطابق ۶ دسمبر ۱۹۳۶ ء کو ہوئی اور تدفین جھنجری روضہ کاکوری میں عمل میں آئی۔ ۵    آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار کی زیر سرپرستی حاصل کی پھر مدرسہ میں داخل ہوکر دینی و عربی نصاب سے فارغ ہوئے ، بعد ازاں عصری تعلیم میں بی اے اور یل یل بی کی اسناد سے سرفراز کئے گئے ، شعر وسخن کا ذوق ورثہ میں ملا تھا۔ والد صاحب اور حضرت امیر مینائی (متوفی ۱۹۰۰ء ) سے مشورۂ سخن کرتے رہے یہاں تک کہ خود استاذ سخن کے منصب پر فائز ہوگئے ۔ مولانا نیرؔ نے ’’ نور اللغات ‘‘ کی تالیف کا سبب بیان کرتے ہوئے رقم کیا ہے:
’’ میں ہمیشہ سے زبان اردو کا دلدادہ ہوں اور مدت سے اس ضرورت کو محسوس کررہاہوں کہ اردو زبان کی کوئی مکمل و مستند لغت تیار ہوجائے جس سے اہل ملک کو فائدہ پہنچے ’’ امیر اللغات‘‘ کی ترتیب کی خبر سننے پر جس قدر خوشی میرے دل کو ہوئی ، اتنی قلم سے ادا نہیں ہوسکتی اورجب شائع ہوکر آئی اور میںنے مطالعہ کیا تو میری مٹی ہوئی امیدیں ابھریں ۔ ’’ امیر اللغات‘‘ کے پہلے حصہ کو میں نے بہت ہی ذوق و شوق کے ساتھ پڑھا اور اس کی نسبت اپنی مختصر آزاد رائے ریویو کی صورت میں اخبار آزاد کو چھپنے کے لئے بھیج دی (جو امیر اللغات کے دوسرے حصے کے ساتھ شائع بھی ہوگئی) جس کے جواب میں امیر مرحوم نے میری ناچیز رائے کی داد دی۔ ۸ ؍ اگست ۱۸۹۹ء کو گرامی نامہ بھیجا ، اس تحریر نے میری ہمت اور بڑھادی ، میرے دلی جوش میں اور ترقی ہوئی اورمجھ کو رات دن تحقیق اردو کی دھن لگی رہی۔ امیر مرحوم کے وصال کے بعد مدتوں انتظار رہا کہ شاید مرحوم کے صاحبزادوں اور شاگردوں میں سے کوئی صاحب اس کام کا بیڑا اٹھائیں جس سے مرحوم کی روح کو خوشی اور ملک کی منتظر آنکھوں کو سرور ہو لیکن باوجود اہل ہونے کے کسی صاحب نے اس کی ہمت نہیں کی‘‘۔ 
۱۹۱۴ء میں میرے بہت سے ذی علم احباب نے طرح طرح سے ہمت بڑھا کر مجبور کیا کہ میں باوجود پیشۂ وکالت اور دیگر مشاغل کے اس ذمہ داری کا بار اپنے سر لوں اور اپنے اوقات کا زیادہ حصہ اس نہایت ضروری کام کے لئے وقف کردوں۔ میں نے عذرات کی لپیٹ میں اپنی حالت کا اظہار بہت کچھ کیا لیکن کچھ سماعت نہ ہوئی اور مجبور ہوکر تعمیل ارشاد کی کوشش کرنے لگا ، اپنے کتب خانے کی موجودہ کتب کے علاوہ اس ضرورت کے لئے معتد بہ کار آمد کتابوں کا ذخیرہ جمع کیا اور ایک خاص دفتر اس کا قائم کیا ، محرر ملازم رکھے اور اس کا صرفہ اپنے ذمہ لیا اور الفاظ و محاورات کو بترتیب حروف تہجی لکھنا شروع کردیا۔ ۶
’’ فرہنگ آنند راج ‘‘ (فارسی ) اور ’’نور اللغات ‘‘ (اردو) تین تین ہزار سے زائد صفحات پرمشتمل ضخیم لغات ہیں اور یہ دونوں ایک ہی عہد میں کم و بیش پچیس تیس سال کے تقدم و تاخر کے ساتھ منظر عام پر جلوہ افروز ہوئیں ، یہ وہ دور تھا جب کہ فارسی اور اردو دونوں زبانیں ملے جلے علمی ماحول میں شانہ بہ شانہ چل رہی تھیں۔ اسی لئے دونوں زبانوں کی تعلیم و تفہیم اور ان کے شعر و ادب کی تشریح و تصریح کے لئے بہتر سے بہترین لغات کی ضرورت واہمیت یکساں محسوس ہورہی تھی چنانچہ مذکورہ دونوں لغات کا وجود اسی غرض وغایت کے تحت ہوا مگر تالیف لغت کے سلسلہ میں ’’ فرہنگ آنند راج ‘‘ (۱۸۸۹ء- ۱۸۹۶ء) کو تقدم حاصل ہے ، علاوہ ازیں ان کی ترتیب و تدوین قدرے جدید اصول پرقائم کی گئی ہے ۔ چونکہ اس کے مؤلف منشی محمد پادشاہ نے ضخیم و باوقار انگریزی لغت ’’وبسٹر‘‘ (Webster) کو اپنا رہنما بنایا تھا، اس لئے انہوں نے پیش رو مؤلفین لغت کے مقابلے میں بہتر و عمدہ ترتیب کے ساتھ شستہ و شائستہ اور افادۂ عام کے طریقہ کار کو اپنایا ، جس کے مقابلے میں صاحب ’’ نور اللغات ‘‘ کا تصور و نظریہ (Vision) محدود ان معنوں میں تھا کہ وہ فصحائے دہلی و لکھنؤ کے رائج الوقت سکوں کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں پاتے تھے ،جیسا کہ آپ نے فرمایا :
’’ انہیں دونوں (دہلی اور لکھنؤ) مقاموں کے فصحاء نے جن الفاظ اور محاورات کو مستند کہہ دیا ، وہی مستند سمجھ لئے گئے اور جن کو متروک یا غیر فصیح قرار دے دیا وہ ٹکسال سے باہر ہوگئے ۔ روز مرہ کے محاورات بول چال میں آگئے ،جن کا پتہ ان کی شاعری اور نثر کی تحریروں سے صاف مل رہا ہے ۔ اب مشکل یہ پڑگئی ہے کہ ہر ایک کے پاس نہ کوئی ایسا ذریعہ جس سے زبان اردو کی تحقیق ہوسکے نہ ایسی کوئی دستاویز جو اختلاف کی صورت میں دعوے کے غلط یا صحیح ہونے کا قطعی فیصلہ کراسکے ‘‘۔ ۷
تاہم انہوں نے اس بات کی گنجائش رکھی کہ اصحاب علم و فضل اس لغت کے کمزور گوشوں کی طرف اشارہ کردیں تو وہ اس کی تصحیح کے لئے آمادہ ہوں گے ، چنانچہ ان کا اعتراف ہے کہ ’’ وہی اس بات کی داد دے سکتے ہیں کہ میں نے کس قدر جانفشانی کی ہے اور میں کہاں تک اپنی محنت میں کامیاب ہوا ہوں ، با وصف اپنی کوششوں کے میں اس کے لئے تیار ہوں کہ اربابِ فہم کی سچی رائیں لینے اور ان رایوں کے ذریعہ سے تغیر و تبدل کرنے کے بعد اس کا ضمیمہ شائع کروں گا تاکہ یہ تالیف اردو کی مستند لغت ہو‘‘۔ ۸
علاوہ ازیں مؤلف موصوف کی مجبوریوں کا ادراک کرتے ہوئے پروفیسر تنویر احمد علوی رقم طراز ہیں۔ 
’’ مولانا اردوکی تبدیلیوں سے واقف تھے ، ان کو موقع موقع سے نور اللغات میں ظاہر بھی کردیا لیکن الفاظ کے اخذ و انتخاب میں انہوں نے متروک اور غیر متروک لفظوں ہی کو پیش نظر رکھا۔ مولانا کے سامنے لغات کی ترتیب و تالیف کے سلسلہ میں جومشرقی یا شہری روایت تھی ، اس کے مقابلے میں ایک دوسری روایت شیکسپیئر ، ٹیلر ، فابس ، پلاٹس اور فیلن کی قائم کردہ روایت تھی جسے ہم مغربی روایت بھی کہہ سکتے ہیں ۔ یہ نسبتاً زیادہ سائنٹیفک تھی اور اسے اردو یا ہندوستانی زبان کے ہندوی کردار کے ساتھ وابستہ کرکے دیکھا گیا تھا لیکن زبان کی نوک پلک پر زور دینے والوں نے اس کو در خور اعتنا نہیں سمجھا تھا ، مولانا نور الحسن کا زوایۂ نگاہ بھی کچھ ایسا تھا اور اہل زبان کے حلقے میں جو معیار بندی اور امتیاز پسندی کا رویہ تھا ، ان کی زبانِ قلم اس کا مقلد و پیروکار رہی‘‘۔۹ 
مذکورۂ بالا دونوں لغات کے تعلق سے تفصیلی موازنے کے بعد مزید وضاحت کے لئے دونوں لغات میں سے چند اندراجات کو جگہ جگہ سے نمونتاً پیش کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ 
(۱) ’’ فرہنگ آنند راج ‘‘ جلد اول ، ص: ۵۷، آفتاب ، ف ۔ بمعنی جرم شمس ، آفتاباں ، جمع ، شیخ شیراز
چناں نورانی از فرّ عبادت
کہ گوئی آفتاباں اندوماہاں
بمعنی شراب و بمعنی مطلق عکس و پرتو مجاز ست ، و قیاس آں بر مہتاب خطااست ، زیراکہ ’’آف ‘‘ کلمہ علاحدہ نیست کہ کلمہ ’’ تاب ‘‘ ترکیب دادہ باشد چنانچہ کہ آفتاب در اصل ’’آب تاب‘‘بودہ کہ بمعنی گرم کنندۂ آب باشد۔ ’’با‘ ‘ رابہ ’’فا‘‘ بدل کردند ۔ وہمچنیں بعضے گمان بردہ اند بر خلاف ’’مہتاب ‘‘ کہ مرکب است از تاب و ماہ و ’’ماہ‘‘ تنہا بمعنی قمر آمدہ و اطلاق مہتابر ’’قمر‘‘ مجاز است ۔ از ’’ بہارِ عجم ‘‘ صاحب ’’ فرہنگ انجمن آرائے ناصری‘‘ نوشتہ کہ آفتاب بمعنی تابش مہر ست ، زیراکہ ’’آف ‘‘ مطلق بمعنی مہر آمدہ چنانکہ ’’مہتاب‘‘ تابشِ ماہ را گوئند ‘‘ انتہاء۔ چوں شمس در عربی مؤنث سماعی ست ، فارسیاں نیز بایں لحاظ ’’ آفتاب ‘‘ را مؤنث بستہ اند ۔ سنائی گوید۔ 
مردے چناں شد از تو کہ در خویش نہ دیددر سادگی مشابہتِ دختر آفتاب
و نزد ار بابِ سلوک از آفتاب ’’ روح ‘‘ مراد ست و از مہتاب ’’نفس‘‘ و گوئند روح در بدن بمنزلۂ آفتاب است و نفس و بمنزلۂ مہتاب و آفتاب بمعنی روز ہم آمدہ است و مترادفات آفتاب ’’آبگونِ صدف ‘‘ آبلۂ رخ فلک ، ابن صبح ‘‘ آتشِ بے دود ، وغیرہ۔ 
مؤلف موصوف نے لفظ آفتاب کے مترادفات کے طور پر جملہ ایک سو اٹھاسی (۱۸۸) نام گنوائے ہیں اور پھر ان کے محل استعمال کے شواہد بھی پیش کئے ہیں ۔ علاوہ ازیں آفتاب کی چھتیس (۳۶)تشبیہات کی تفصیل بیان کرنے کے بعد آفتاب سے متعلق چھتیس (۳۶) محاورات کا ذکر بھی کیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مؤلف نے ’’بہارِ عجم ‘‘ سے استفادہ کرنے کے باوجود اس سے اختلاف بھی درج کیا ہے۔
نور اللغات : جلد اول ص:۱۱۸ :۔ ’’آفتاب ‘‘ (ف) ’’آف‘‘ سورج ، تاب ’’چمک‘‘ ، بعضے کہتے ہیں کہ ’’آب تاب ‘‘ سے مرکب ہے ، یعنی پانی پر چمکنے والا ، بعض کہتے ہیں کہ ’’آفت آب ‘‘ بفکِ اضافت (اس وجہ سے کہ پانی کو بخارات کی صورت میں اڑاتا ہے )
۱۔ لغوی معنی دھوپ
۲۔ (اصطلاحی ) سورج۔ دھوپ۔۔۔
 چہرے پہ تیرے ، آنکھیں کیوں نہ ہوں سیاہ
ہوتا ہے آفتاب سے کالا ہرن کا رنگ
(وزیر)
۳۔ صفت: ۔ مشہور ، کامل ، بلند مرتبہ ۔ 
تعریف کس زبان سے کریں مغبچوں کی ہم
اے کیف آفتاب ہے ، یہ خانداں تمام
(کیف)
۴۔ شراب:۔
ساقی قدحِ شراب دے دے
مہتاب میں آفتاب دے دے 
(گلزار نسیم)
۵۔ خوبصورت ، معشوق ۔۔۔
 آتش شب فراق میں پوچھوں گا ماہ سے
یہ داغ ہے یاد ہوا کس آفتاب کا
(آتش)
۶۔ گنجفے کی چھٹی باری کا پہلا پتا ،جس سے دن کو کھیل شروع ہوتا ہے ۔ 
گنجفے کا شوق ہو تجھ کو جو اے خورشید رو
آفتاب آسماں آئے بجائے آفتاب
(بلال)
مؤلف نور اللغات نے مذکورہ بالا معلومات بہم پہنچانے کے بعد آفتاب سے جڑی ہوئی اکیس 
؍(۱) کہاوتوں اور محاوروں کا ذکر کیا جن میں بیشتر آفتاب کے لغوی معنی پر دلالت کرتے ہیں ، مثلاً آفتاب ایک نیزے پر آنا ، آفتاب بر آمد ہونا ، آفتاب بلند ہونا وغیرہ۔ فرہنگ آنند راج میںگنجفے کا ذکر نہیں ہے مگر جس قدر معلومات کا اندراج وہاں پایا جاتا ہے نور اللغات میں اس کا عشر عشیر بھی ندارد۔
؍(۲) فرہنگ آنند راج : کی پہلی جلد بلا ارادہ کھولی گئی ، اس میں لفظ ’اخوان‘ نکلا ، اس لفظ کے معنی بتاتے ہوئے مؤلف نے لکھا ہے:
اخوان ۔ بالکسر ۔ ع۔ یعنی جمعِ اخ است کہ در اصل اَخو بود، واویکہ در واحد بجہت تخفیف حذف شدہ در حالت جمع عود کرد و ایں بر وزن فعلان بالکسر است چنانچہ غزلان ، ومردان و تیجان جمع غزال ومرد تاج پس کسانے کہ ’’اخوان‘‘ را بفتح خوانند خطا است۔ غ۔
نور اللغات: اخوان ۔ (ع بالکسر ، سگے بھائی) اَخ کی جمع ، مذکر ۔ بھائی بند ، بھائی ۔ یہ لفظ عربی میں بضم اول و بکسر اول دونوں طرح ہے ۔ نا واقف بفتح اول بولتے ہیں۔ 
’’نور اللغات ‘‘ نے اخوان کی قرأت بضمِ اول جائز ہونے کی اطلاع دی ہے ۔ یہ بات فرہنگ آنند راج میں نہیں ہے مگر فرہنگ آنند راج نے اپنی تشریح میں لفظ کی اصل اور صحیح وزن کی خبر مثالوں کے ساتھ دی ہے ۔ 
؍(۳) فرہنگ آنند راج :اَخیار ۔ بالفتح ۔ ع۔ جمع خَیر و خِیر ۔ ہر دو باشد ۔ برگزیدگان ، نیکو کاراں ، و نیکاں و در اصطلاح سالکاں ، ’’اخیار ‘‘ آنرا کہ گویند کہ ہفت تن اندر از جملہ سیصد وپنجاہ وشش تن مردمانِ غیب ۔ ک۔ 
نور اللغات : اَخیار (ع، بالفتح خیر کی جمع) مذکر بھلے لوگ۔ 
؍(۴) فرہنگ آنند راج : پلنگ ۔ بفتح اول بر وزن خدنگ ۔ ف۔ درندہ ایست معروف بتکبر موصوف۔ 
مؤلف نے اس معنی کی مناسبت سے حکیم فرخیؔ کے دو شعر اور ارزوقی و مسعود سعدؔ کے شعر نقل کرنے کے بعد لکھا ہے ۔ 
’’ ودیگر چار پایۂ چوبیں بود و براں نشینند وجنبند و پیشتر در ہندوستان متعارف است و میانِ آں را بنوار ببافند و محکم کنند و بکسر ثانی پیشِ آستانۂ خانہ ہا نہایت ضخامت دیوار کہ برابرِ در واقع است گویند ۔ و نوعے از رنگ کبوتر باشد ۔ ن ر۔‘‘
مذکورہ لفظ کے متعلق دونوں لغات کے مشتملات کا فرق اہل علم سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ 
نور اللغات : پلنگ (ف ۔ بر وزنِ خدنگ) ا۔مشہور درندے کا نام  ۲۔ بڑی چار پائی
؍(۵) فرہنگ آنند راج : دکن و دکھن : بفتح اول و ثانی نام ولایت و دیارِ معروف ، از طرف مشرق محدود است بدریا ، از مغرب بگجرات ، واز شمال بدریا ہند ، واز جنوب بہ ارضِ چیناپتن بکسرِ جیم پارسی و نون مع الالف و بفتح بائے فارسی و تائے منقوطہ و سکونِ نون ۔ وآں ملک مشتمل است بر شش صوبہ و ہر صوبہ محتوی بر بلادِ بسیار و امصار بے شمار از اہالی اسلام ، ملوک بہمنیہ دراں مدت ہا سلطنت داشتہ اند پس ازایشاں ملوک طوائف دراں حکمرانی کردند کہ آں را منسوب بہ دکن گفتہ۔ 
چرا دلم نبود عاشقِ ہوائے دکن
کہ اندروست دویارِ عزیز قبلۂ من
وازاعاظم سادات دراں ولایت سید محمد گیسو دراز از سادات حسینی اولاد سید نور الدین نعمت اللہ کرمانی ولی بودہ وسید رضا علی شاہ از اکملین اربابِ معارف دراں ولایت ۔ بولایت معروف و یکصد و چہل سال عمر داشتہ ۔ ن ۰
نور اللغات: دکھن ( ھ۔ بتشدید کاف مفتوح و بروزن برتن و نیز کاف مکسور و نیز بغیر تشدید و بر وزن چمن) مذکر۔ جنوب
چلے تھے بیخود اس کی دھن میں ہم کیا جانے کس جانب 
وہ اتّر تھاکہ دکھن تھا وہ پورب تھا کہ پچھم تھا
(داغ)
دکنی ۔ صفت ۔ جنوبی ۔ دکھنی مرچ۔ مونث ، گول مرچ۔ دکھنیری۔ دکھنائی ۔ (ھ)صفت۔ جنوبی ہوا۔ 
یہاں پر ایک پر لطف بات یہ بتانی ہے کہ پروفیسر گیان چند جین صاحب نے دکن کے حدود اربعہ کے تعلق سے دریافت کرتےہوئے جناب علیم صبانویدی صاحب کو خط لکھا تھا اور انہوں نے اپنے مراسلے میں یہ بھی سوال کیا تھا کہ مدراس (چنائی) دکن میں کیوں شامل نہیں ہے؟ مؤلف آنند راج کی وضاحت سے یہ مسئلہ خود بخود حل ہوگیا۔ 
راقم کی رائے میں اس موازنے سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ مؤلف ’’ نور اللغات ‘‘ کے پیش نظر جن مؤلفین کی لغتیں تھیں ان میں دکن میں تالیف کردہ مشہور زمانہ لغت ’’فرہنگ آنند راج ‘‘ نہیں تھی۔ 
مآخذ
۱ مولوی نور الحسن نیرؔ ’’ نور اللغات ‘‘ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، حکومت ہند مطبوعہ ۱۹۹۸ ء جلد اول ، ص ۴۴۴۔ ۔۔۔  (بقیہ مآخذ صفحہ نمبر ۶۰پر ملاحظہ فرمائیں)
 

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا