مضامین سلسبیل

تاریخ سبیل الرشاد

(تیسری قسط)

سن ۱۳۸۳ ھ میں طلبہ کی ادبی انجمن ’’ جمعیۃ الارشاد‘‘ کے نام سے شروع ہوئی ، جس میں طلبہ کے لئے تقریری و تحریری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع دیا جاتا ہے ، طلبہ زبان و قلم سے اپنی ما فی الضمیر کو ادا کرنے کا سلیقہ اساتذہ کی نگرانی میں سیکھتے ہیں ، اس انجمن کا پہلا افتتاحی جلسہ بڑے حضرت ؒ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس افتتاحی اجلاس میں حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب ؒ مدیر ماہنامہ الفرقان لکھنؤبھی تشریف لائے تھے ،آپ نے طلبہ کے لئے اردو ادب پر روشنی ڈالتے ہوئے بہت ہی معنی خیز نصیحت فرمائی،جناب الحاج محمد جلال صاحب ایم اے (پروفیسر اسلامیہ کالج وانمباڑی ) مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو تھے ، انہوں نے زبان و ادب کی اہمیت پر طلبہ کو خطاب فرمایا تھا۔ 
مورخہ ۱۲ ربیع الاول ۱۳۸۴ھ کو حسب روایت جمعیۃ الارشاد کے زیر اہتمام بڑے حضرت ؒ کی صدارت میں جلسہ سیرت النبی ؐ منعقد ہوا ۔ طلبہ نے جوش وخروش سے حصہ لیا ، عربی ، فارسی ،کنڑی، تمل، منی پور، سیلونی اور انگریزی وغیرہ زبانوں میں سیرتِ نبوی کے مختلف پہلوؤں پر تقریریں کیں ، سامعین بے حد محظوظ ہوئے کہ پہلی دفعہ نئی نئی زبانوں کے الفاظ سے کان آشنا ہوئے ۔ اس موقع پر مقامی شعرا ء کرام بھی شریک ہوئے اور نعتیہ کلام سنایا۔
انجمن جمعیۃ الارشاد کے دوحصے ہیں ، ایک ’’بزمِ خطابت ‘‘ جس میں طلبہ کو بولنے کا ڈھنگ سکھایا جاتا ہے اور دوسراحصہ بزم امانی کا ہے، جس میں طلبہ کو لکھنے کا سلیقہ بتایا جاتا ہے تاکہ زبان و قلم، تقریر و تحریر دونوں میں اپنی بات مخاطب کو سمجھانے میں مکمل مہارت حاصل کرسکیں۔ 
جمعیۃ الارشاد کا قلمی مجلہ ’’ الرشاد ‘‘ کے نام سے جاری ہوتا ہے ، جس میں زبانِ اردو کے علاوہ عربی ، کنڑی ، تامل ، ملیالم میں بھی طلبہ کےمضامین ہوتے ہیں ، بعض اہل علم حضرات نے اس کے مضامین کو ملاحظہ فرمایا تو یہ مشورہ دیا کہ یہ پرچہ اس قابل ہے کہ اس کو زیورِ طباعت سے آراستہ کیا جائے اور منظر عام پر لایا جائے تاکہ اس کے افادی پہلو اجاگر ہوں اور سب کو استفادہ کا موقع ملے ۔ 
طلبہ کی اس انجمن اور تحریری تقریری ادبی سرگرمیوں کی نگرانی عمومی طور پر تمام اساتذہ کرام فرماتے رہتے ہیں لیکن بالخصوص ایک استاذ کو نگرانِ خاص بنایا جاتا ہے ۔ لہٰذا حضرت مہتمم صاحب بڑےحضرتؒ کی سرپرستی میں حضرت مولانا نیر ربانی صاحب ؒ کو انجمن کا نگران اول بنایا گیا اور چند سالوں بعد حضرت مولانا قاری امداد اللہ صاحب انجم سعودی رشادی ؒ کو اس انجمن کی باگ ڈور سونپی گئی ، آپ کے بعد حضرت حکیم الملتؒ کے زمانے میں حضرت مولانا مفتی محمد اشرف علی صاحب باقویؒ کی سرپرستی اور راقم الحروف کی نگرانی میں جمعیۃ الارشاد کا کام ترقی کی راہوں پر گامزن ہوتا رہا اور اب اس انجمن کی نگرانی عزیزم مولانا جوادا حمد خان رشادی اور محترم مولانا محمد طاہر حسین رشادی کے ذمہ ہے جو بحسن وخوبی آج تک جاری و ساری ہے 

کونسی بات کب  کہاں کیسے کہی  جاتی  ہے
یہ  سلیقہ ہو تو  ہر  بات   سنی   جاتی  ہے

اسی چمنستان علم و ادب کے خوشہ چینوں میں مشہور و معروف نامور واعظوں کے نام آتے ہیں جیسے بڑے حضرت ؒ کے بڑے فرزندِ ارجمند حضرت مولانا ولی اللہ صاحب رشادی ؒ کا بصیرت افروزبیان ، جس سے سامعین بے حد متاثر ہوا کرتے تھے ، اسی طرح حضرت مولانا ریاض الرحمن صاحب رشادی ؒ امام وخطیب جامع مسجد بنگلور کی شیریں بیانی سے محظوظ ہونے کےلئے لوگ دور دراز کا سفر برداشت کرتے تھے ، ایسے بیسیوں مقررین گذرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں جو اپنی شیریں بیانی اور شعلہ بیانی کا لوہا عوام و خواص میں منواچکے ہیں ، یہ وہ بے باک مقررین ہیں جو زمانہ طالب علمی ہی سے امت کو راہِ راست پر لانے کی طلب رکھتے تھے اور تڑپ ان کے قلوب میں جاگزیں تھی اور اس انجمن سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے خوب محنت و لگن سے اپنی مافی الضمیر کو ادا کرنے کا ڈھنگ سیکھا جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے

سمندر الٹا سیدھا بولتا ہے
سلیقے سے تو پیاسا بولتا ہے

حضرت مولانا نیر ربانی صاحب ؒ اردو زبان کی مٹھاس اور شیفتگی کو طلبہ کے سامنے بیان فرماتے ، اردو الفاظ کا املاء اور تلفظ کی صحت پر کافی زور دیتے اور اردو زبان مثالوں سے سمجھاتے تھے ، جس میں بہت سے ادیب بھی غلطی کرجاتے ہیں ،اورہر جمعرات صبح اشراق کے بعد طلبہ کو نصیحت فرماتے ہوئے چھوٹی چھوٹی مگر موٹی مثال دے کر خوشگوار طرزمیں سمجھایا کرتے تھے جو طلبہ کو سفر و حضر میں بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔ فجزاھم اللہ عنا خیر الجزاء

پتھر کی بھی تقدیر بدل سکتی ہے
شرط یہ ہے کہ سلیقے سے تراشا جائے

اسی طرح حضرت حکیم الملت ؒ اردو زبان و بیان کی نزاکتوں اور باریکیوں سے وقتاً فوقتاً طلبہ کو نہایت خوبصورت اور دل چسپ انداز میں واقف کرایا کرتے تھے ، آج ابنائے سبیل الرشاد کے زبان و قلم میں جو بھی شیرینی و چاشنی ہے وہ آپ ہی کی توجہات کی برکت ہے ۔

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں

مورخہ ۲۱ ربیع الاول ۱۳۸۴ھ (۲۱ جولائی ۱۹۶۴ء) کو حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی مہتمم دارالعلوم دیوبندؒاور دعوت و تبلیغ کے اللہ کے ولی منشی اللہ دتہ صاحب ؒان دونوں  کے دست مبارک سے دارالعلوم کی مغربی جانب آٹھ درسگاہوں کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ اس شاندار عمارت کا کام کڈور کے کافی پلانٹر جناب وی کے عبدالرحمن صاحب کے گراں قدر عطیہ سے شروع ہوا تھا۔ چونکہ قبل ازیں یہاں چمڑے کی منڈی تھی جہاں صرف بڑے بڑے ہال تھے جو کھپریل کی اونچی اونچی چھت کے بنے ہوئے تھے بلکہ ٹیانری روڈ سے ناگوارہ تک کھپریل کی ناہموار پرانی عمارتوں کی لائن نظر آتی تھی ، جب ہم میں سے کوئی بندہ بنگلور سٹی یا کنٹونمنٹ سے ٹاؤن بس میں مدرسہ کو آتا تو جوں ہی کھپریل کی لمبی قطار نظر آتی تو اندازہ ہوجاتا کہ اپنا علاقہ آگیا ہے۔ 
اسی سال دارالعلوم سے دو فرلانگ دور جانب مغرب میں حاجی محمد زکریا صاحب اینڈ برادرس سے سوا پانچ ایکڑ زمین خرید لی گئی، جو سوم پور ٹیانری کہلاتی تھی ، اس کےاحاطہ میں میٹھے پانی کا ایک بڑا کنواں موجود تھا ، اس وقت مدرسہ کے لئے میٹھے پانی کی نہایت سخت ضرورت تھی چونکہ مدرسہ کی زمین میں پائے جانے والے کنویں سب کے سب کھارے پانی کے ہی تھے جو آج بھی لبریز ہیں، حتی کہ بوریل کھدوانے پر بھی چونکہ زمین شوریدہ تھی ، کھارا پانی ہی نکلتا تھا لہٰذا چشمۂ شیریں کومدرسہ والوں کےلئے اللہ کی طرف سے نعمت غیر مترقبہ سمجھا گیا ، اس کنویں کے پاس ٹیانک بنوا کر سترہ سو قدم طویل پائپ لائن ڈال کر دارالعلوم کے اندر پینے کے لئے میٹھے پانی کا انتظام عمل میں لایا گیا۔ 
یہ عظیم الشان خدمت دارالعلوم کے محسن و ٹرسٹی جناب اے محمد ابراہیم صاحب نے انجام دے کر مدرسہ کی ایک بہت ہی اہم ضرورت کو پورا کیا ۔ جزاھم اللہ خیر الجزاء۔ 
اس انتظام کے بعد سے ماضی قریب تک بھی اس کنویں سے مدرسہ کو میٹھا پانی چوبیس گھنٹے آتا تھا ، صدر دروازے میں داخل ہوتے ہی مقابل میں طلبہ کے لئے کپڑے دھونے کی جگہ بنائی گئی تھی ، وہاں پر ایک نل لگایا گیا ، جس میں ہمیشہ میٹھا پانی آتا تھا اور پانی کا پریشر اور دباؤ اتنا تھا کہ چند ہی سکینڈ میں بالٹی بھر جاتی تھی ، نل سے ہر وقت پانی ٹپکتا رہتا تھا جو اس بات کی علامت تھی کہ پانی آرہا ہے ، لیکن آج یہ کنواں مسجدانعام الحسن کے قریب ناکارہ ہوکر پڑا ہوا ہے ، پانی کی پائپ لائن مسدود ہوگئی ہے ،کنویں میں پانی بھی ختم ہوگیا ہے ، مگراللہ کے فضل و کرم سے دوسرے ذرائع سے میٹھا پانی مدرسہ میں آرہا ہے ، الحمد للہ۔ 
اسی سال یعنی ۱۳۸۴ھ جمادی الاولیٰ کی ۳ ، ۴، ۵ تاریخ کو پوری ریاستِ کرناٹک کے کارکنان تبلیغ کا مشورتی اجتماع دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں ہونا طےپایا ، جس میں ریاست بھر کے مختلف ذمہ داروں کے علاوہ گجرات سے ایک جماعت محترم فضل کریم صاحب کی سرکردگی میں آئی ، ٹمل ناڈو اور دوسرے علاقوں سے علمائے کرام تشریف لائے ، حضرت مولانا عبدالسلام صاحبؒ بھی ترچی کی جماعت کے ساتھ موجود تھے ۔ 
مدرسہ کے احاطے میں چونکہ ہمیشہ تبلیغی مشورے اور اجتماعات ہوا کرتے تھے لہٰذا مدرسہ کی چہار دیواری سے متصل حمام، استنجاء خانے اور بیت الخلاء مستقل بنادیے گئے تھے ، اسی طرح وضو کے لئے دو فٹ چوڑے اور بہت لمبے پتھر کے مضبوط مستقل حوض بھی بنادیے گئے تھے ، ان اجتماعات کا سلسلہ ۱۹۸۵ء م۱۴۰۵ھ تک بھی چلتارہا ، لیکن جب آبادی بڑھ گئی ، لوگ بھی زیادہ جمع ہونے لگے تو جگہ نا کافی ہونے لگی تو بڑے میدانوں کی طرف رخ کرنا پڑا۔ 
الغرض دوسری قسط میں دارالعلوم کے پانچویں سال کا تذکرہ ہوا تھا ، چھٹا تعلیمی سال ۱۴ شوال ۱۳۸۴ھ (فروری ۱۹۶۵) کو شروع ہوا ۔طلبہ کی تعداد ۱۳۵ تک پہنچ گئی ، جن میں سیلون ، محل دیپ اور ملیشیا کے طلبہ بھی شامل تھے ۔ 
مدرسین کی تعداد میں اضافہ ہوا ، اسی سال حضرت مولانا لقمان الحق فاروقی قاسمی صاحب کا تقرر عمل میں آیا ، مغربی جانب آٹھ درسگاہوں والی عمارت کا کام جو شروع ہوا تھا الحمد للہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا ، علم و عمل کے اس کارخانے میں عجیب چہل پہل اور رونق نظر آنے لگی ، دور دور تک اس ادارے کا چرچا ہونے لگا ، ملک کے نامور اہل علم اور اہل قلم آئے جنہوں نے نظام تعلیم اور طرزِ تربیت کو دیکھ کر نہایت حوصلہ افزاء تاثرات کا اظہار فرمایا ، آئندہ قسطوں میں چند منتخب حضرات کے تاثرات کا خلاصہ انشاء اللہ پیش کیا جائے گا۔ 
مشاہدینِ مدرسہ کا حال یہ تھا کہ اہل مدارس کو مشورہ دیا جانے لگا کہ دارالعلوم سبیل الرشاد کے طرزِ تعلیم کو اپنایا جائے ، سرِ دست ’’مشتے نمونہ از خروارے ‘‘ کے طور پر یہاں جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی ۱۹۶۲ء ۱۹۶۴ء کی روئداد سپردِ قرطاس کی جاتی ہے ۔ ملاحظہ ہو۔ 

جامعہ کو اعلیٰ معیار پر پہنچانے کے لئے دیگر تعلیمی اداروں کا معائنہ بھی کیاجائے اور دینی طلبہ کی زندگی کو دین کے لئے کار آمد بنانے کے سلسلے میں  علی الخصوص دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کے نظام کا مشاہدہ و مطالعہ کیا جائے ، جہاں تعلیم و تربیت کے علاوہ طلبہ کو تبلیغ بھی سکھائی جاتی ہے جو دینی کام ہفتہ واری چھٹیوں میں یہ طلبہ بنگلور سٹی و لشکر کے محلوں میں جاکر انجام دیتے ہیں ، جاننے سے تعلق رکھتا ہے ، ان کے نظام اور تعلیمی استعداد کی بلندی قابل رشک ہے ‘‘۔ ادارے کی اللہ تعالیٰ نظرِ بد سے حفاظت فرمائے ۔

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا