مضامین سلسبیل

(پہلی قسط)

اللہ رب جلیل کے با برکت نام سے ابتداء کرتا ہوں ، جس نے’’کذلک نقص عليك من انباء ما قد سبق‘‘ اور اس جیسی بہت سی آیتوں کے ذریعے اپنے بندوں کوفن تاریخ اور اس کی اہمیت کی جانب واضح اشارہ فرمایا۔

درودوسلام ہونبی کریم ﷺ پر کہ آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قرآن وحدیث کوتحریر میں محفوظ کرنے کی تاکید فرما کر اس ناتواں امت پر کرم کا معاملہ فرمایا۔

اسلام سے پیشتر دنیا کی کسی قوم اورکسی ملک کویہ توفیق میسر نہیں ہوئی تھی کہ تاریخ نویسی کی طرف توجہ کرتی یا اپنے بزرگوں کے کارنا مے کی کوئی صحیح تاریخ مرتب کرتی۔ 
تاریخ کو باقاعد ہ فن کی شکل اسلام ہی نے عطا کی ہے، احادیث نبوی کی حفاظت اور روایت میں جس احتیاط سے کام لیا گیا ہے، اس کی نظیر انسانی نسل میں نہیں ملتی۔ اصول حدیث، اسماء الرجال وغیرہ مستقل فنون 
محض حدیثِ نبوی کی حفاظت اور خدمت کے لئے مسلمانوں نے ایجاد کیے۔ فالحمد للہ علی ذلک۔

 

اقوام عالم میں اس وقت مسلمان ہی وہ قوم ہے جو سب سے زیادہ شاندار تاریخ رکھتی ہے، اور اس سے بڑھ کر وہ اپنے بزرگوں کے کارناموں کی نسبت ایسا یقین رکھتی ہے جو ہرقسم کے شک وشبہ سے پاک ہوتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان ہی سب سے زیادہ اپنی تاریخ سے غفلت برتنے لگے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مؤرخوں کے تحریر کردہ واقعات سے نا آشنا ہیں اور اپنے بزرگوں کے کارناموں کو بھولنے لگے ہیں۔ان کی یہ علم سے بے رغبتی اور تاریخ سے نادانی ہی انہیں بے یارومددگار، در در ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر رہی ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ لوگ نیند کے لئے بستر پر جاتے تھے تو کوئی نہ کوئی کتاب ،کوئی رسالہ یا کوئی اخبار پڑھتے پڑھتے سو جایا کرتے تھے۔ لوگ اپنا کچھ وقت مطالعے کے لئے ضرور نکال لیا کرتے تھے۔
آج زمانہ یہ آ گیا ہے کہ لوگوں کے پاس کتاب کے لئے وقت نہیں رہا، اور ان کی توجہ کتاب کی طرف نہیں رہی کیونکہ موبائل نے انہیں ہر قسم کی واہیات کا چسکا لگا دیا، اورہر شخص اپنی پسند کی چیز میں گم رہتا ہے اور کتاب دھری کی دھری رہ گئی ہے۔
کتب خانے میں جا کر کسی کتاب کو الماری سے نکالنے کی کوشش کی جائے تو وہ جلدی نکل نہیں پاتی، چونکہ عرصہ دراز سے انہیں اسی طرح چھوڑ دینے کی وجہ سے ایک دوسرے سےچپک گئیں ہیں۔

کاغذ میں دب کر مر گئے کیڑے کتاب کے

دیوانہ  بے       پڑھے     لکھے   مشہور    ہوگیا

کتابوں سے دوری ، تاریخ سے لاعلمی اور اپنے بزرگوں کے کارناموں سے نا واقفی،آئندہ نسل کے لئے بہت بڑا المیہ ہوگا۔

دھوپ   میں   نکلو گھٹاؤں  میں نہا  کر  دیکھو
زندگی  کیا  ہے     کتابوں   کو اٹھا    کر   دیکھو

کتاب ایک ایسی چیز ہے کہ جس گھر میں کتاب ہو وہ بڑا بابرکت گھر ہوتا ہے، جن کو ‘ کتب بینی کی عادت ہے ، جن کو مطالعہ سے دلچسپی ہے وہ زندگی کے کسی شعبے میں رسوا نہیں ہوتے ۔ وہ مجمعے کو چیر کر آگے نکلنے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہیں۔
جب بات کتاب کی آئی تو کتابوں میں سب سے بڑی عظیم الشان کتاب ، ام الکتاب، قرآن مجید فرقانِ حمید ہے، جو اس کو پڑھتے ہیں ،سمجھتے ہیں، اس پرعمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،انہیں دونوں جہاں میں سرخ روئی حاصل ہوگی ،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :خيركم من تعلم القرآن وعلمہ تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن کو سیکھے اور سکھائے۔

اسی غرض کی تکمیل کے لئے جس طرح صحابہ کرام ارضِ حجاز سے دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچے تھے ’’چلے ہم ادھر کو ہوا چلے جدھر کو “ کے مصداق اپنی سواریوں کا رخ جس جانب تھا ادھر ہی نکل پڑے تھے ، یہی وجہ تھی کہ سارے عالم میں اسلام کی حقانیت پہنچی اور ہر سو اسلام کا بول بالا ہوا۔
 
آمدم بر سرِ مطلب ، آج سے تقر یباً سو برس قبل جنوبی ہند کی مشہور ریاست کرناٹک کی تاریخ میں ایک ایسا دور گذر رہا تھا جب کہ انگریزی ریشہ دوانیاں اپنے عروج پر تھیں اور یہاں کی عوام میں جہالت و دین بیزاری کی وبا عام تھی ، ٹھیک ان ہی دنوں ریاست تامل ناڈو کی ایک مادرمہرباں نے ایک ایسے بچے کو جنم دیا جو مستقبل میں نہ صرف یہ کہ برادرانِ وطن کو کفر کی ظلمت سے نکال باہر کرنے کی غرض سے ہاتھوں میں قندیل لئے قریہ قر یہ گھوم کر اسلام کی دعوت دینے والا تھا بلکہ ساری دنیا کے نوجوانوں میں اسلامی اور قرآنی تعلیمات کو عام کر کے امت میں حفاظ ، قراء اور علماء تیار کرنے کی غرض
سے اس علاقہ کی بنجر اور شوریدہ زمین میں باغ لگانے اور دارالعلوم سبیل الرشاد کے نام سے اسلامی قلعہ تیار کرنے والاتھا، جہاںسےعالم کے چپے چپے سے آ کر دین کے داعی پیدا ہونے تھے۔
 
بڑے حضرت امیر شریعت اول حضرت مولانا ابوالسعود احمد باقوی رحمہ الله کرناٹک کی راجدھانی بنگلور کب تشریف لائے ، یہاں آنے کی زحمت کس نے دی ،اور پھر کن کن مراحل سے گذرنا پڑا ، کیسے کیسے حالات سے نبردآزما ہونا پڑا، کیا کیا آزمائشیں پیش آئیں اور کس طریقے سے غیبی مددپہنچی؛ ان تمام تفصیلات کو قیامت تک آنے والی نسل کے لئے تحریر میں لانے کا بار بار خیال آرہا تھا۔
لہذا دل و دماغ کے گوشوں میں سالہا سال سے پیوست باتوں کو صفحۂ قرطاس پر لانے کی کوشش کر رہا ہوں ، اللہ سے توفیق کی دعا مانگتا ہوں ۔ہوالموفق للصواب
 

کوئی  بات ایسی  اگر ہوئی، کہ تمہارے  جی  کو بری  لگی
تو بیان سے  پہلے ہی  بھولنا، تمہیں  یاد ہو  کہ  نہ یاد ہو

راقم الحروف جب عدم سے عالم وجود میں آیا تو کرناٹک ہی کے ایک گاؤں کولا ندہ میں اپنی ماں کی گود میں تھا اور ذرا شعور آیا تو اپنے مادرِ علمی دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کی آغوش میں آنکھ کھولا اور الحمد لله ثم الحمد للہ تب صغر سنی سے اب تک تقریبا ساٹھ برس کے عرصے سےیہیں ہوں اور رہوں گا، انشاءاللہ۔

وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر، وہ کرم کہ تھا میرے حال پر
مجھے  سب  یاد ہے  ذرا  ذرا،  تمہیں  یاد  ہو  کہ  نہ  یاد  ہو

۔۔۔۔

دارالعلوم سبیل الرشاد کی تاسیس کا داعیہ حضرت مولانا ابوالسعود احمد صاحبؒ المعروف بہ بڑے حضرت کے قلب میں ۱۳۸۰ھ مطابق ۱۹۶۰ء میں باقیات صالحات ویلور کے بارِ اہتمام سے سبکدوشی کے بعد پیدا ہوا تھاکہ ایسے علاقے میں جہاں دینی مدرسہ نہ ہو علوم دینیہ کی ترویج واشاعت کے لئے مدرسہ کی بنیاد ڈالی جائے ۔ 

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مدرسہ باقیات صالحات سے سبکدوش ہونے کے فوراً بعد متعدد اداروں نے حضرت قبلہ کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور کئی تقاضے سامنے آئے تھے مگر حضرت قبلہ نے سارے مطالبات نظر انداز فرمادیے ۔ 

چنانچہ سب سے پہلے حضرت قبلہ نے اپنے وطن مالوف بلنجپور میں اپنے دولت کدے پر مخلصین احباب کی ایک خصوصی مجلس طلب کی اور ان کے سامنے اپنے ارادے کا اظہار فرمایا ، سب نے بیک زبان تائید کی اور طے پایا کہ شہر بنگلور میں مدرسہ کھولا جائے ۔ 
بنائے مدرسہ کا ارادہ سن کر سب سے پہلے حضرت قبلہ کی والدۂ ماجدہ نے پچیس روپے اور حضرت کی ہمشیرہ محترمہ (معلمہ مدرسہ نسوان میل وشارم ) نے ایک سو پچیس روپے چندہ پیش کیا جو مدرسہ کی پہلی روئدادمیں درج ہے ۔ 
 
اہل خانہ کی موافقت اور مخلص احباب کی تائید کے بعد حضرت قبلہؒ نے اپنے استاذِ محترم جو رشتے میں آپ کے خسر بھی تھے ، شیخ الملت حضرت علامہ ضیاء الدین احمد امانیؒ کے ایمائے گرامی پر شہر گلستاں بنگلور تشریف لائے اور حاجی پی عبدالسبحان صاحب مرحوم تاجر آہن اوینیو روڈ بنگلور کے یہاں قیام پذیر ہوئے ۔ 
قیام مدرسہ کے سلسلے میں حاجی وی او عبدالرشید صاحب مرحوم کے دولت کدے پر مشورہ ہوا جس میں
 حاجی اے محمد ابراہیم 
حاجی پی کے ہدایت اللہ صاحب
حاجی آر کے عبدالحق صاحب
حاجی پی ای اکبرشریف صاحب
حاجی وی او عبدالغفور صاحب
حاجی پی عبدالسبحان صاحب
اور دیگر احباب شریک تھے ، حسب مشورہ شہر کے اطراف و اکناف  ميں مدرسہ کے لئے جگہ کی فوری تلاش شروع ہوئی ، حاجی پی کے احمد حسین صاحب بھی اس کوشش میں شامل تھے ۔ 
آخر بنگلور کے شمالی سرے پر جو اس وقت قلب شہر ہوچکا ہے بمقام کال گنڈن ہلی چمڑے کا ایک کارخانہ جو ساڑھے تین ایکڑ زمین پر مشتمل تھا خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ 
یہ چمڑے کا کارخانہ جو ٹیانری کہلاتا ہے ، میل وشارم کے ایک رئیس الحاج ایس ایم عبدالجلیل صاحب کے والد بزرگوار کا تھا۔ 
  
الحمد للہ ، معاملہ ساڑھے سترہ ہزار روپے پر بآسانی طے پایا اور رجسٹریشن بھی ہوگیا ، مدرسہ سے متصل زمینات بھی حسب سہولت خرید لی گئیں ۔ اس مقام پر ابتداء میں کھالوں کی صفائی کا کارخانہ تھا ، اس میں بدبودار آلائشوں اور گندگیوں کے سوا کیا ہوتا ہے پھر ایک مدت سے یہ بند بھی پڑا تھا ، جس کے نتیجے میں پورا احاطہ خار دار جنگل کا نمونہ بنا ہوا تھا ، لیکن حاجی اے محمد ابراہیم صاحب اور ان کے معاونین کی انتھک محنت نے اسے ایسا گلزار بنادیا کہ جنگل میں منگل کا لطف آنے لگا۔ 
 
حضرت مولانا ابوالسعود احمد ؒ نے اپنے رفقائے کار کی معیت میں افتتاح مدرسہ کے لئے رئیس المبلغین حضرت مولانا شاہ محمد یوسف رحمۃ اللہ علیہ جیسی بزرگ شخصیت کو دعوت دی تھی تو حضرت جی نے فرمایا کہ ’’ ہم تو تبلیغی اجتماعات میں حاضر ہوا کرتے ہیں ، کسی افتتاحی تقریب میں شرکت نہیں کرپاتے ، البتہ اس کے لئے مشورہ کیا جائے‘‘ ۔ 
مشورے میں حضرت مولانا انعام الحسنؒ ، حضرت مولانا عبیداللہ صاحب بلیاوی ، حضرت مولانا محمد رحمت اللہ صاحب میرٹھی ، میاں جی محمد عیسیٰ صاحب میواتی ، منشی بشیر احمد صاحب ، حافظ محمد صدیق صاحب میواتی جیسے اہم حضرات شریک تھے ۔ 
 
اس موقع پر بڑے حضرتؒ کے ہمراہ حضرت مولانا نیر ربانی صاحب ، استاذ دارالعلوم سبیل الرشاد بھی موجود تھے ۔ مشورے کے بعد بالاتفاق طے پایا کہ بنگلور کی دعوت قبول کرلی جائے بشرطیکہ مجوزہ مدرسہ کے احاطے میں تبلیغی اجتماع منعقد ہو، جماعتوں کی روانگی کا انتظام بھی ہو اور اجتماع کےآخری دن بعد نماز عصر مدرسہ کا افتتاح عمل میں آئے ، اس فیصلہ کو حضرت جی مولانا محمد یوسفؒ نے پسند فرمایا اور بنگلور کی دعوت بخوشی منظور فرمالی ، چنانچہ حسب مشورہ مدرسہ کے احاطے میں تبلیغی اجتماع منعقد ہوا اور ۲۲ ربیع الاول ۱۳۸۰ھ مطابق ۱۴ ستمبر ۱۹۶۰ء بروز چہارشنبہ بعد نماز عصر حضرت مولانا محمد یوسف صاحبؒ نے سات خوش نصیب طلبہ کو درسِ نظامی کی اولین کتاب میزان الصرف کا پہلا سبق پڑھایا ۔ اس طرح شہر گلستاں بنگلور میں مرکز تعلیم و تبلیغ دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کا افتتاح عمل میں آیا اور حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کی سر زمین کرناٹک نے ایک تاریخ ساز انقلابی کروٹ لی۔
 
اس افتتاحی تقریب میں شیخ الملت حضرت مولانا ضیاء الدین احمد امانیؔؒناظرمدرسہ منبع الانوار لال پیٹ و صدر جماعۃ العلماء تامل ناڈو ، حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلویؒ ، حضرت مولانا امیر احمد صاحبؒ صدرالمدرسین مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور ، حضرت مولانا محمد عمران خان صاحب ندویؒ ، امیر دارالعلوم تاج المساجد بھوپال ، مولانا جمیل احمد صاحبؒ مہتمم ادارہ ملیہ حیدرآباد ، مولانا محمد ضیاء الدین قاسمی مہتمم دارالعلوم کلکتہ اور دیگر مشاہیر علماے کرام اور مقامی و بیرونی ممتاز شخصیات نے شرکت فرمائی۔ 
 
اختتام مجلس پر حضرت جیؒ نے طویل رقت آمیز دعا فرمائی اور حاضرین نے آنسو بہاتے ہوئے آمین کہی ۔ اس طرح ریاست کرناٹک میں بڑے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی جد و جہد اور ان کے مخلص رفقاے کار کے تعاون سے علوم دینیہ کی ترویج و اشاعت کا دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔ 
 
فی الوقت تا دمِ ایں تحریر مدرسہ کا موجودہ رقبہ پندرہ ایکڑ زمین کا ہے ، جس میں ایک عالیشان خوبصورت مسجد ، سامنے کشادہ صحن (مسجد اور صحن میں بیک وقت تقریباً تین ہزار افراد نماز ادا کرسکتے ہیں )اور مدرسہ کی ضروریات کے مطابق الگ الگ عمارتیں جیسے دارالاقامہ ، مطبخ ، درس گاہ ، کتب خانہ ، ایوانِ علامہ شاہ ابوالسعود احمد کے نام سے ایک وسیع جلسہ گاہ جس میں اسٹیج کے علاوہ دو ہزار کرسیاں بچھائی جاسکتی ہیں ، پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر بنائی گئی ایک یادگار پرشکوہ عمارت جو قصر زریں کے نام سے موسوم ہے ، جس میں دارالافتاء ، کتب خانہ درسیاتِ اساتذہ ، کتب خانہ درسیاتِ طلبہ ، شعبۂ افتاء اور شعبۂ حفظ وغیرہ موجود ہے ،اس کے علاوہ دارالقضاء ہے، فقہ کی کتابوں میں دارالقضاء کی عمارت کا جو نقشہ بتایا گیا ہے ، اسی شکل میں اور اسی ترتیب سے خاص دارالقضاء کے لئے تعمیر کی جانے والی ہندوستان کی تاریخ میں سب سے پہلی عمارت ہے ، جو ریاست کرناٹک کا مرکزی دارالقضاء ہے اور اس کی بیسیوں شاخیں پوری ریاست میں پھیلی ہوئی ہیں جو مستقل رابطے میں ہوتے ہیں۔ ان عمارتوں کے درمیان میں وسیع و عریض سر سبز و شاداب ، ہریالی سے بھرپور، کشادہ میدان ہے ، جس میں طلبہ بعدِ عصر کھیل کود ، بھاگ دوڑ اور ورزش سے پوری طرح لطف اٹھاتے ہیں ۔ الحمد للہ علی ذلک ۔ 
 
پہلے تعلیمی سال میں دارالعلوم سبیل الرشاد میں صرف بیس طلبہ داخل ہوئے تھے ،جن میں ریاست کرناٹک کے چودہ ، تمل ناڈو کے چار اور آندھرا پردیش کے دو طلبہ تھے ، چونکہ مدرسہ کا افتتاح ماہ ربیع الاول میں ہوا تھا لہٰذا پہلا تعلیمی سال صرف پانچ ماہ پر مشتمل تھا ، شعبان ۱۳۸۰ کے دوسرے ہفتے میں سالانہ امتحان منعقد ہوا ، پانچ طلبہ غیر حاضر رہے جن میں دو نو مسلم بھی شامل ہیں ، بقیہ پندرہ طلبہ امتحانِ سالانہ میں شریک ہوکر مختلف درجوں میں کامیاب ہوئے ۔ الغرض ۱۳۸۰ھ مطابق ۱۹۶۰ء میں حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب کی پر خلوص دعاؤں سے افتتاح عمل میں آنے کے بعد خدا کی شان کہ مدرسہ ترقی کی منزلیں طے کرتا رہا اور سال بہ سال ایک ایک جماعت کا اضافہ ہوتا گیا اور تعلیمی زینے طے کرنے لگا۔ یہاں تک کہ ۱۳۸۵ ھ میں جماعت ہفتم کا آغاز ہوا ، اس میں سات طلبہ شریک رہے اور شعبان ۱۳۸۶ھ کے سالانہ امتحان میں کامیاب ہوئے ۔ اس طرح پہلی جماعت فارغ التحصیل ہوئی ، جس کا سلسلہ بلا ناغہ بحمد اللہ آج تک جاری و ساری ہے ۔ 
 
بانی مدرسہ کی یہ دعا اور تمنا رہی تھی کہ یہ نوخیز ادارہ اس طرح پروان چڑھے کہ اس کے فیوض و برکات کی ٹہنیاں سارے عالم میں پھیل جائیں ، یہ دعا بہت جلد رنگ لائی چنانچہ مغرب و مشرق ، شمال و جنوب کے مختلف ملکوں سے تشنگانِ علم اس چشمۂ فیض سے سیراب ہونے کے لئے ٹوٹ پڑے، بقول حضرت سعدیؒ 
 

  ہر   کجا   چشمۂ   شیریں  بود
 مردم و مرغ و مور گردآیند

ان ممالک و اقالیم میں مکہ ،مدینہ ، مصر ، کویت ، عمان ،ملیشیا ، اندونیشیا، ساؤتھ آفریقہ، امریکہ ، انگلینڈ ، آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز ، سری لنکا ، برما ،محل دیپ ، یورپ ، سنگاپور اور جزائر فیجی خاص طور پر قابل ذکر ہیں ،اوریہاںسے ان ممالک کے طلبہ فارغ ہوکر اپنے اپنے مقامات پر دینی خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنے مادرِ علمی سے رابطے میں بھی ہیں بلکہ بعض نے تو سبیل الرشاد ہی کے نام سے مدرسہ کی شاخ قائم کی ہے جہاں درس نظامی کا مکمل نظام چل رہا ہے ۔

ایں سعادت  بزورِ بازو نیست
تا نہ    بخشد     خدائے  بخشندہ

(جاری )

بَنٰی لِنَشْرِ الْعُلُوْمِ قَصْراً اٖلٰھُنَا مُرْشِدُ الْعِبَادِ
فَحِیْنَ مَا زُرْتُ ذَاکَ أَرَّخْتُ ذَا سَبِیْلٌ اِلٰی الرَّشَادِ

۱۳۸۰ ھ

شیخ الملت علامہ ضیاء الدین احمد امانیؔرحمہ اللہ

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا