مولانا محمد طاہر حسین رشادی
مدرس ۔ دارالعلوم سبیل الرشاد ، بنگلور
عَن عبد الله بن مَسْعُود قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِق المصدوق:إِن أحدكُم يجمع خلقه فِي بطن أمه أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثمَّ يكون فِي ذَلِك علقَة مثل ذَلِك ثمَّ يكون فِي ذَلِك مُضْغَة مثل ذَلِك ثمَّ يُرْسل الْملك فينفخ فِيهِ الرّوح وَيُؤمر بِأَرْبَع كَلِمَات بكتب رزقه وأجله وَعَمله وشقي أَو سعيد فوالذي لَا إِلَه غَيره إِن أحدكُم لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَ (مشکوٰۃ)
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اإذا أراد الله تبارك وتعالى أن يخلق النسمة، فجامع الرجل المرأة، طار ماؤه في كل عرق وعصب منها (طبرانی)
پھر اس کو اللہ تعالی علقہ کی شکل دیتے ہیں ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے اقرأ باسم ربک الذی خلق ، خلق الانسان من علق ، جمع علقة وهي القطعة اليسيرة من الدم الغليظ پڑھ اپنے رب کے نام سے جو سب کا بنانے والا ہے، بنایا آدمی کوجمے ہوئے خون سے۔ علقہ کہتے ہیں گاڑھے خون کو(خونِ بستہ) کے چھوٹے ٹکرے کو۔ خلق کہتے ہیں ایجاد الشیئ بمادۃ وغیرھا یعنی کسی چیز کو مادہ یا بغیر مادہ کے وجود میں لانا ۔عالم مشاہدہ مادہ سے اور عالم غیب کو بغیر مادہ کے پیدا فرمایا ، یہ اللہ تعالیٰ کی مختلف شئون ہیں ، اگرچہ اللہ رب العزت مادہ کا محتاج نہیں ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس عالم مشاہدہ کو عالم الاسباب بنایا لہٰذا اس کے بندے اپنی بقا کے لئے اسباب اختیار کرتے ہیں، یہ اللہ کا نظام ہے ۔ الا لہ الخلق والامر (الاعراف ۵۴) سن لو، اسی کاکام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا یعنی پیدا کرنے کے بعد تکوینی یا تشریعی احکام دینا اور دونوں اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے ۔ انسان کو چونکہ مختلف مٹی سے پیدا فرمایا ولقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین انسان کوبالیقین ہم نے مٹی کے خلاصہ یعنی غذا سے پیدا کیا ، غذا ء نباتی کا مٹی سے اگنا اور پیدا ہونا بالکل ظاہر ہے (مولانا دریابادیؒ)
انسان مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں اس لئےوہ مختلف الوان و اخلاق و اوصاف والے ہوتے ہیں ، جیسا کہ حدیث میں ہے ۔
عن أبي موسى قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن الله خلق آدم من قبضة قبضها من جميع الأرض فجاء بنو آدم على قدر الأرض منهم الأحمر والأبيض والأسود وبين ذلك والسهل والحزن والخبيث والطيب» . رواه أحمد والترمذي وأبوداود(مشکوٰۃ ، ص۶۰،باب الایمان بالقدر )
مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى الایۃ (سورۃ الحج ۴)
علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر میں فرمایا ، اور تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پھر تم کو قطرۂ منی سے بنایا ،یا یہ مطلب ہے کہ مٹی سے غذا نکالی ، جس سے کئی منزلیں طے ہوکر نطفہ بنا، نطفہ سے جما ہوا خون اور خون سے گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے ، جس پر ایک وقت آتا ہے کہ آدمی کا پورا نقشہ ہاتھ پاؤں آنکھ ناک وغیرہ بنادیا جاتا ہے اور ایک وقت ہوتا ہے کہ ابھی تک نہیں بنایا گیا ، بعض کی پیدائش مکمل کردی جاتی ہے اور بعض یونہی ناقص شکل میں گرجاتا ہے ، لِنُبَيِّنَ لَكُمْ یہ اس واسطے کہ تم کو کھول کر سنادیں کہ خود تمہاری اصل کیا تھی اور کتنے روز گذرنے کے بعد آدمی بنے ہو ، اسی کو سمجھ کربہت سےحقائق کا انکشاف ہوسکتا ہے اور بعث بعد الموت کا امکان بھی سمجھ میں آجاتا ہے ۔ انتہٰی
جب آدمی کا پورا نقشہ اور جسم مکمل ہوجاتاہے ثمَّ يُرْسل الْملك ایک فرشتہ کو اللہ کی طرف سے بھیجا جاتا ہے ، وہ وہی فرشتہ ہے جو رحم کا نگران ہوتا ہے یا کوئی دوسرا فرشتہ ہوتا ہے جو غیر حفظہ ہو، فرشتہ کہتا ہے یا رب اذکر ام انثی پروردگار! یہ مرد ہوگا یا عورت ہوگی ، تو اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اس کا فیصلہ فرماتا ہے ، اس کی عمر اور اس کا رزق اورعمل اور بد بخت ہونا اور نیک بخت ہونا لکھ دیا جاتا ہے ، فینفخ فیہ الروح جسم کی شکل پوری ہوجاتی ہے تو اس میں روح پھونکی جاتی ہے ، فرمانِ باری تعالیٰ ہے
فخلقنا المضغۃ عظاما فکسونا العظام لحما ثم انشأناہ خلقا آخر ، ای ینفخ الروح فیہ
قاضی عیاض نے فرمایا کہ علماء کا اتفاق ہے کہ نفخ روح چار ماہ کے بعد ہی ہوتا ہے ۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نفخِ روح چار ماہ دس دن کے بعد ہوتاہے اور دنیا وآخرت میں اس کی کیا حالت ہوگی لکھ دی جاتی ہے ، آخرت میں جنتی ہوگا یا دوزخی، حضرت ابن عمرؓ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ کے دونوںہاتھوں میں دو کتابیں حقیقتاً یا حکماً ، داہنے ہاتھ کی کتاب کے بارے میں فرمایا ، اس میں جنتیوں کے نام ہیں ، ان کے آباء او رقبیلوں کے نام ہیں اور ان کی عمریں بھی لکھی ہوئی ہیں ، اور بائیں ہاتھ کی کتاب کے بارےمیں فرمایا کہ اس میں جہنمیوں کے نام ہیں ، ان کے آباء اور قبیلوں کے نام اور ان کی عمریں ۔ ان میں نہ کمی ہوگی نہ زیادتی ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارا نام جنتیوں میں تجویز کردے ، جہنم سے ہماری حفاظت فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ سے اس دعا کرتے رہنا چاہئے ۔