رسول اللہ ﷺ کی اقتصادی حکمت عملی اور دور جدید میں اس کی اہمیت
مولانااحمد شفیع الدین رشادی ، بنگلور
امام وخطیب مسجد مالک بن دینار ، شارجہ
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام کو کامل و مکمل دستور حیات بنایا ہے ۔ اس دین میں زندگی کے ہر پہلو کے لئے واضح تعلیمات مرتب ہیں ۔ سرکار دوعالم ﷺ نے مدینہ منور ہجرت فرمانے کے بعد سب سے پہلے مسجد نبوی کی بنیاد رکھی اس کے بعد آپ ﷺ نے مسلمانوں کے معاشی استحکام کے لئے بازار کی جگہ منتخب فرمائی ۔ رسول اللہ ﷺ کا عمل ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ مسلمانوں کو جس طرح روحانی ضرورت کی تکمیل کے لئے مساجد کی تعمیر ضروری ہے اسی طرح جسمانی اور مادی ضروریات کی تکمیل کے لئے بازار کا مستحکم ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ۷۰ مرتبہ سے زیادہ اقیموا الصلوٰۃ کے ساتھ اٰتوا الزکوٰۃ کا ذکر فرمایاہے ۔
سرکار دوعالم ﷺ نے مکہ سے ہجرت کرکے جس وقت مدینہ میں قدم رنجہ فرمایا، اس وقت مدینہ والوں کی اقتصادی حالت بےحد خراب تھی۔ سودی کاروبار کی وجہ سےوہ ہر طرف سے یہودیوں کی جال میں جکڑے ہوئے تھے ۔اہل مدینہ کی بازار میں کوئی نمائندگی نہیں تھی ۔ مدینہ کے مشہور بازاروں میں یہودیوں کا دبدبہ تھا۔ اس خطرناک صورتحال سے نکلنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے جو حکمت عملی اختیار کی تھی وہ آج بھی قابل تقلید ہے۔ اس لئے کہ اس دور میں بھی بازاروں میں یہودیوں کی اجارہ داری (monopoly) وہی حیثیت رکھتی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہوا کرتی تھی۔ زیر نظر مضمون میں سرکارِ دوعالم ﷺ کی اقتصادی امور میں عملی تطبیقات کا مختصر تذکرہ کیا گیا ہے ۔ تشنگان علوم نبوت کے لئے انشاء اللہ یہ مضمون مزید تحقیق و تدبر کا باعث بنے گا ۔
اقتصادی معالجہ کے چند نبوی ضوابط درج ذیل ہیں ۔
حکمت عملی (۱) : اقتصادی جدوجہد عبادت ہے
اسلامی اقتصادیات کا سب سے انوکھا امتیاز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اقتصادی جدو جہد کو دین کا حصہ بنایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مال کمانے کو دین سمجھ کر محنت کرے گا، اللہ اس کو مال کے ساتھ ساتھ اجر بھی عطا فرمائیں گے۔ اقوام سابقہ میں یہ تصور نہیں تھا ، وہاں تو رہبانیت تھی، دنیا بیزاری کو عین دین سمجھا جاتا تھا اور راہبین و عابدین آبادی سے کٹ کر اور ہٹ کر اپنی عبادت گاہ بناتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس نظریہ کو صحابہ کے دلوں میں پیوست کیا کہ اکتسابِ مال اور اس کی جدوجہد پر بندہ عند اللہ ماجور ہوتا ہے۔
اقتصادی جدوجہد کے عبادت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح عبادات (مثلاًنماز وغیرہ) میں عقل پر حکم الٰہی کا غلبہ ہوتا ہے ،عین اسی طرح تجارت ، ملازمت یا کسی بھی اقتصادی جدوجہد میں حکم الٰہی کی پیروی لازم اور فرض ہے۔ یعنی اکل بالباطل ، جھوٹ ،دھوکہ ، تدلیس ، احتکار ، وعدہ خلافی ، عیب چھپاکر بیچنا جب شریعت میںحرام قرار دیا گیا تواس سے اجتناب فرض ہے۔ اور احکام شریعت کی پاسداری کرنے والے ہی کی عبادت اللہ قبول فرمائیں گے ۔ جو ان احکام کی پاسداری نہیں کرے گا وہ دین سے ہاتھ دھو بیٹھےگا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :من غش فلیس منا جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں، یعنی مسلمانوںمیںسے نہیں،نبی کے پیروکاروں میں سے نہیں۔معاملات میں اللہ کی فرمانبرداری دعاؤں کی قبولیت کا ضامن ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے یا سعد اطب مطعمک تکن مستجاب الدعوۃ ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اقتصادی انقلاب کے لئے سب سے پہلے ہمیں نبی کریم ﷺ کی مندرجہ ذیل حکمت عملی کو اختیار کرنا ضروری ہے:
۱۔ نیت درست کریں ۔ عبادت کی نیت سے اقتصادی جدو جہد کریں۔
۲۔عبادت میں اصول و ضوابط کی پاسداری ضروری ہے لہٰذا تجارت و ملازمت کے شرعی اصول و ضوابط جان کر عمل کریں۔
۳۔ اقتصادی جدوجہد میں کوئی ایسا کام نہ کریں جو اللہ اور رسول ﷺ کو ناپسند ہو۔
حکمت عملی (۲):مصالحت و مواخاۃ
سرکار دوعالم ﷺ نے مدینہ ہجرت فرمانے سے پہلے مدینہ کے دو بڑے قبیلوں کے درمیان جن کی آپس میں صدیوں سے دشمنی تھی ، مصالحت فرمائی۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ مدینہ میں یہودیوں سے متحدہ طور پر مقابلہ کرنا آسان ہوگیا۔ یہودیوں کی سازش یہی تھی کہ وہ اوس و خزرج کو آپس میں لڑاتے تھے اور دونوں کے مال کو برباد کرتے تھے ۔ جب دونوں قبیلے مالی طور پر مجبور ہوجاتے پھر سودی قرضے کے ذریعہ ان کی مدد کرنے کا ڈھونگ رچتے تھے۔ اس طرح مدینہ کی معیشت یہودیوں کے قبضہ میں ہوا کرتی تھی۔ نگاہ نبوت نے اس کو بہت دور سے بھانپ لیا تھا اسی لئے سرکار دوعالم ﷺ نے مدینہ ہجرت فرمانے سے پہلے ہی اوس و خزرج کے درمیان مصالحت کی شرط رکھدی تھی ۔
مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے لئے اہم چیلنج اور تحدی یہ تھی کہ مہاجرین کی آبادکاری کس طرح سے کی جائے ؟ اس لئے کہ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والے مہاجرین اپنا مال و تجارت سب چھوڑ کر آچکے تھے ۔ اقتصادی اعتبار سے ان مہاجرین کو ازسرنو آباد کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے مواخاۃ کا طریقہ اپنایا ۔
مدینہ میں مواخاۃ کا ایسا نمونہ انصار صحابہ نے پیش فرمایا کہ جس سے مہاجرین کو یہ شک ہونے لگا کہ سارا اجر و ثواب انصار ہی لے جائیں گے۔ چنانچہ مہاجرین نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس احسان مندی کا تذکرہ اس طرح فرمایا يَا رَسُولَ اللهِ، مَا رَأَيْنَا قَوْمًا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ، وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا مِنْ كَثِيرٍ مِنْهُمْ، لَقَدْ كَفَوْنَا الْمُؤْنَةَ -أي: مؤنة النخل- وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَا -الثمرة والنتيجة- لَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ،اے اللہ کے رسول ! ہم کبھی ایسی قوم نہیں دیکھی جو غربت اور کمی کے باوجود مواسات کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہے ، انہوں نےکاشتکاری اور کھجور کے درخت کی باغبانی کا بوجھ تو خود اٹھایا لیکن جب پھل اور انتاج کا وقت آیا تو ثمرات میں ہمیں برابر شریک کیا ، ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ اتنے بڑے احسان کے بعد سارا اجر تو وہی لے جائیں گے ـ۔
مذکورہ حدیث جو بیہقی نے روایت کی ہے چند اہم امور کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک یہ کہ مواساۃ اور مواخاۃ کے لئے مالدار ہونا ضروری نہیں ہے ۔ قلیل میں بھی ممکن ہے ۔ دوسری بات یہ کہ مواخاۃ کرنے والے کی احسان مندی کا اظہار بھی مستحسن ہے تاکہ محسن کی دلجوئی ہو۔ مطلب دونوں جانب سے محبت اور مودت ہو تو یہ مواسات کا ماحول بنایا جاسکتا ہے۔
اس دور میں جب کہ باطل طاقتیں مسلمانوں کے خلاف ہر ممکن ظلم پر آمادہ ہیں ، ہمارے لئے رسول اللہ ﷺ کے اس عمل میں اسوۂ حسنہ ہے کہ ہم آپسی بھائی چارہ کو اقتصادی جدو جہد میں لازم پکڑیں۔
حکمت عملی (۳) : مسلمانوں کا اپنا بازار
هرسول اللہ ﷺ جب ہجرت فرماکر مدینہ تشریف لائے اور یہ دیکھا کہ مدینہ کا اہم بازار بنو قینقاع نامی یہودی قبیلہ کی گرفت میں ہے اور اس بازار میں ہر قسم کے غیراخلاقی اور ظالمانہ تجارتی طور طریقوں کا رواج ہے تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کے لئے الگ بازار قائم کرنے کا حکم دیا۔ اس لئے کہ بنو قینقاع کے اس بازار میں سودی لین دین کا رواج تھا ، دھوکہ دہی ، احتکار ، استغلال جیسی برائیاں عام تھیں ۔ ان برائیوں سے مدنی معاشرہ کو پاک کرنے کے دو طریقے تھے ۔ ایک یہ کہ اسی بازار میں یہودیوں سے درخواست کرکے اصول تجارت کو بدلنا، دوسرا یہ کہ اپنا بازار الگ سے قائم کرنا ۔
رسول اللہ ﷺ نے دوسرے طریقے کو ترجیح دی اور بنو قینقاع کے بازار کے قریب ایک جگہ متعین فرماکر علامت کے طور پر ایک قبہ (خیمہ) لگوایا ۔ کعب بن اشرف جو یہودیوں کا سرغنہ تھا اس نے اس خیمہ کو توڑ دیا ۔ سرکار دوعالم ﷺ کی آمد مدینہ میں چونکہ ابھی ابھی ہوئی تھی اس لئے آپ ﷺ نے یہودیوں سے اس جگہ کے بارے میں مقابلہ نہیں کیا بلکہ ارشاد فرمایا کہ لأضربن له سوقًا هو أغيظ له من هذاچنانچہ وہاں سے بازار منتقل کرکے مسجد نبوی کی بائیں جانب بازار کی جگہ سرکار دوعالم ﷺ نے متعین فرمادی۔ اس جگہ رسول اللہ ﷺ نے قبہ یا بڑا خیمہ نہیں لگوایا بلکہ صرف ایک لکیر اپنے مبارک پیروں سے کھینچ دی اور فرمایا هذه سوقكم لا تتحجروا – أي تضيقوها – ولا يضرب عليها الخراج یہ تمہارا بازار ہے اس بازار میں تنگی نہیں ہوگی یعنی اس بازارمیں سب کے لئے آزادی کے ساتھ تجارت کرنے کی اجازت ہوگی اور اس میں کوئی ٹیکس نہیں وصول کیا جائے گا۔ سرکار دوعالم ﷺ کے اس عمل سے چند اہم امور کی نشاندہی ہوتی ہے۔
۱۔ سرکار دوعالم ﷺ نے آزادبازار قائم فرمایا یعنی اگر کوئی غیر مسلم بھی اس بازار میں تجارت کرنا چاہتا ہے تو اس کو اجازت تھی، بس اصول کی پاسداری ضروری تھی۔
۲۔ بازار میں اصول جو مرتب ہوے وہ عقلاً منصفانہ اور عادلانہ تھے۔ جیسے سود، دھوکہ دہی، احتکار وغیرہ سے روکنا۔
۳۔بازار میں کوئی جبری پیسہ وصولی نہیں ہوگی۔
۴۔ جب یہودیوں نے خیمہ کو توڑا تو آپ ﷺ نے دوسری جگہ میں خیمہ پر اصرار نہیں فرمایا بلکہ ایک خط کھینچ دیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حالات کے اعتبار سے انتظامی امور میں مفاہمت جائزہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔
یہ اصول ایسے تھے کہ عوام خود بخود بازار کی طرف راغب ہوئے اور بازار ترقی کرنے لگا۔
موجودہ دور میں مسلمانوں کو اخلاقی اصولی تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ بات دراصل یہ ہے کہ اصولی اور اخلاقی عمدگی کے ساتھ تجارت کرنے والوں کی آج بھی وہی قدر ہے جو دور نبوت میں تھی۔ کوئی نہیں چاہتا کہ تجارت میں دھوکہ دہی ہو، تدلیس ہو یا عیب چھپا کر بیچا جائے ۔ لیکن افسوس کہ مسلمان ان عمدہ اقدار سے بہت دور ہوگئے۔ جس کی وجہ سے اقتصادی بحران ہمارا مقدر بن چکا ہے ۔
حکمت عملی (۴) : تجارت میں اصول کی اہمیت
اللہ تعالیٰ عبادات اور معاشرتی آداب میںرسول اللہ ﷺ کو امتیازی طریقہ سے نوازا جو کسی بھی قوم سے مشابہت نہیں رکھتا۔ مزید یہ کہ سرکار دوعالم ﷺ نےاپنے قول من تشبہ بقوم فھو منھم کے ذریعہ اہل ایمان کو تشبہ سے منع بھی فرمایا لیکن تجارتی معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کا یہ طریقہ ہے کہ صرف بعض محرمات کی نشاندہی فرمادی گئی اور یہ کہہ دیا گیا کہ ان محرمات سے بچتے ہوئے کسی بھی طریقہ سے لین دین اور تجارت کرنا جائز ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک آیت میں اس پورے مفہوم کو بتا دیا ۔ فرمایا یا ایھا الذین اٰمنوا لا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۔ معلوم ہواکہ باطل اور حرام سے بچنا ہے نیز عدم رضامندی سے بچنا ہے۔ پس جو سود ، میسر ، غش، تدلیس جیسی اہم محرمات سے بچ جائےگا اللہ اس پر اپنی خصوصی رحمت کے دروازے کھول دے گا ۔
رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف یہ کہ ان اصول کو وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا بلکہ ان اصولوں کی عملی تطبیق کا بھی خیال فرمایا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نےبازار میں گیہوں کا ڈھیر دیکھا جو باہر سے تو سوکھا تھا لیکن جب آپ ﷺ نے اس ڈھیر کے اندر ہاتھ ڈالا تواس کو رطب یعنی پانی سے گیلا پایا ۔ رسول اللہ ﷺنے دکاندارسے پوچھا کہ یہ اندر سےگیلا کیوں ہے ؟ماھذا یا صاحب الطعام؟ صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بارش نے گیلا کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من غش فلیس منی یعنی جو دھوکہ دے وہ مجھ میں سے نہیں ہے ۔ اس حدیث کی عملی تطبیق ہمارے اس دور میں کچھ اس طرح ہونی چاہئے :
۱۔ مسلمان تاجروں میں اصول تجارت کی تعلیم کے لئےعلماء لائحہ عمل تیار کریں، یہ بھی علماء کی ذمہ داری ہے۔
۲۔ تجارت کی بنیاد اصول کی پاسداری پر رکھی جانی چاہئے۔
۳۔ دنیوی عقوبت کے ساتھ ساتھ اخروی عقوبت اندیشی کا احساس تاجروں میں بیدار کرناچاہئے ۔
حکمت عملی (۵) استثمار کا لزوم :
استثمار سرمایہ کاری کو کہتے ہیں ۔ یعنی فاضل اور زائد مال کو تجارت میں لگا کر نفع حاصل کرنا۔ لفظ ’’لزوم‘‘ کا استعمال ہم نے عمداً کیا ہے تاکہ اس کی طرف زیادہ توجہ دی جاسکے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ اسلام میں افراد کی ترقی کا دارو مدار قوم اور سوسائٹی کی ترقی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے ۔ اللہ یہ چاہتے ہیں کہ مادی اور اقتصادی ترقی اجتماعی نوعیت کی ہو ۔ ایسا نہ ہو کہ مال و دولت یا ان کے وسائل کسی ایک فرد یا چند محدود افراد پر منحصر اور مرتکز ہوجائے اور قوم کا عوامی طبقہ ان گنے چنے مالداروں کی اجارہ داری کا شکار ہوکر مجبوری کی زندگی گذارنے لگے۔ چنانچہ اسی وجہ سے سود حرام قراردیا گیا نیز زکاۃ فرض کی گئی۔
سود کی حرمت کی علت آج کے اس دور میں سمجھنا بالکل آسان اور سہل ہے ۔ آئے دن بینکوں کا دیوالیہ ہمیں اسلام کی حقانیت کا یقین دلاتا رہتا ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ بینک وہی ارتکاز دولت کا کام کرتے ہیں جس سے شریعت نے ہمیں روکا ہے ۔ عام انسانوں کی جمع پونجی اکٹھا کرکے ٹھیکہ دار قسم کے مالداروں کی بڑی کمپنیوں کو زیادہ شرح سود میں لون کی شکل میں دیتے ہیں اور اس سے اپنا فائدہ حاصل کرنے کے بعد رتی کی مقدار میں ڈپازٹر کو دیتے ہیں۔ یہ سرمایہ دار بے دردی سے بینک سے لیا ہو ا لون اپنی کمپنیوں میں لگاتے ہیں ، لون کا سود بھی گاہکوں سے وصول کرتے ہیں ۔ بازار کی تحدیات جب بڑھ جاتی ہیں تو آہستہ سے کمپنی کے دیوالیہ ہونے کا اعلان کرکے لون ہڑپ جاتے ہیں ۔ کمپنیوں کا دیوالیہ ہوتے ہی بینک دیوالیہ ہوجاتے ہیں ۔ سرمایہ جمع کرنے والوں کا نقصان ایک طرف ، دوسری طرف بینکوں کے دیوالیہ ہونے کی وجہ مہنگائی میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔
زکاۃ کی فرضیت مسلمانوں کو جمع شدہ رقم کی سرمایہ کاری پر آمادہ کرتی ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیموں کے مال کے سلسلے میں فرمایا أَلا مَنْ وَلِيَ يَتِيمًا لَهُ مَالٌ فَلْيَتَّجِرْ فِيهِ وَلا يَتْرُكْهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ(سنن الترمذی، باب ما جاء فی زکاۃ مال الیتیم ، رقم الحدیث 641)کہ جو شخص یتیم کی کفالت کا ذمہ لے اور اس کے پاس یتیم کا مال ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اس سے تجارت کرے اور نفع حاصل کرے تاکہ زکوٰۃ اس کے مال کو نہ کھالے۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استثمار یعنی سرمایہ کاری کی اہمیت بتائی۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ سرمایہ صندوقوںمیںرہنے کے بجائے بازار میں گردش کرتا رہے تاکہ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری ہو ، ہنر مندوں کا ہنر استعمال کیا جاسکے، سرمایہ کاروں کو اپنے سرمایہ کا نفع بھی حاصل ہو۔ جب مال اور سرمایہ بازار میں گردش کرتا رہے تو مہنگائی پر بھی قابو رہتا ہے ۔ان اصولوں میں سے ہر اصل آج ہماری ترقی کے لئے بے حد ضروری ہے ۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے ۔