مضامین سلسبیل

مکتوب نگاری کی نئی تحقیق

مولانا ڈاکٹر ظہیر احمد صاحب راہی فدائی باقوی

نائب صدر رابطہ ادب اسلامی شاخ کرناٹک

قرآن مجید علوم وفنون کا سر چشمہ ہے ، جہانِ رنگ و بو کے مفید و مستند سب رنگ علمی و ادبی اشارے ’’ کتاب اللہ ‘‘ میں جا بجا جلوگر نظر آتے ہیں ۔ یہی اس مقدس کلامِ ربانی کا اعجاز ہے ، بقول مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ’’ قرآن مجید کے نازل ہونے پر لوگ اس کے معجز ہونے کو محسوس کرکے ہی متاثر ہوئے اور انہوںنے اس کو خدا کا کلام تسلیم کیا ، اور اس کی خصوصیت بتانے میں انسانوں کے کلام کے اقسام کا ذکر کرکے ہر ایک سے اس کو الگ قرار دیا ،جیسے جیسے علم کا چرچا بڑھا اور علمی غور وفکر کا رواج ہوا، ادب اور فلسفہ کےماہرین 
(۱)نے قرآن مجید کی خصوصیت پر غور کرنے کی کوششیں کیں، ان کوششوں میں سےمتعدد کو اعجاز قرآنی سے تعبیر کیا گیا ‘‘۔ 
قرآن مجید نے جن علوم و فنون کی طرف رہنمائی فرمائی ہے ، ان میں اعلیٰ فصاحت وبلاغت سے آراستہ و پیراستہ ادب عالی کی جلوہ سامانیاں چشم بصیرت کو خیرہ کرنے کے لئے کافی ہیں ، بقول مولانا قاضی مجاہد الاسلام ’’ خالق کائنات خود سمیع و علیم اور بصیر وقدیم ہے ، اس لئے اس کے کلام میں ادب عالی کی تمام ارفع بنیادیں اور حسن کلام کی تمام اعلیٰ فنی خوبیاں اور ادبی محاسن ، اوزان و فواصل کا رنگا رنگ مسحور کن تنوع بدرجہ کمال پایا جاتا ہے ۔ ‘‘ (۲)
ادب عالی کے شستہ و شائستہ اصناف میں ’’انشا‘‘ بھی ایک ہے ، جس کی ذیلی قسم ’’مکتوب نگاری‘‘ ہے ۔ جس طرح ادب کے اصناف مثلاً قصہ نگاری کی عمدہ مثال قرآن کریم میں سورۂ یوسف ہے ، جسے ’’احسن القصص ‘‘ کہا گیاہے ، اسی طرح ’’مکتوب نگاری ‘‘ کا اولین جز مکتوب الیہ سے خطاب یعنی جس کو مکتوب روانہ کیا جارہا ہے ، کے نام یا اس کے کسی مخصوص صفت کے ذریعے اس سے مخاطب ہونا ، کاتب تقدیر الٰہی نے اپنے محبوب ترین بندے خاتم المرسلین ، رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’ یا ایھاالمزمل ‘‘ یعنی چادر لپیٹ کے لیٹے ہوئے میرے محبوب کے عنوان سے مخاطب فرمایا ہے ۔ یہ وصفی اسم گرامی آپ ﷺ پر عارضی طور پر طاری اضطراب و رنج کی کیفیت کو دور کرنے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی محبت و ملاطفت کا اظہار فرمانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے وقتی حالت کی مناسبت سے خطاب فرمایا جب کہ سردارانِ قریش نے ’’ دارالندوہ‘‘ میں جمع ہوکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کاہن ، مجنون ، ساحر وغیرہ الفاظ سے پکارنے پر گفتگو کررہےتھے ، اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا ملال ہوا ، آپ ﷺ فکر و اضطراب کی حالت میں خود کو کپڑوں میں لپیٹے رہے ۔ رب تعالیٰ کو اپنے محبوب کی یہی ادا پسند آگئی تو ’’ یا ایھا المزمل ‘‘ سے خطاب فرمایا۔ 
مکتوب نگاری کا دوسرا اور اہم جز مواد و مقصد ہے ۔ مکتوب نگار اگر اپنے کسی بزرگ کو خط لکھ رہا ہے تو مکتوب کے الفاظ میں احتیاط و التجا کا پہلو نمایاں رہے گا ، اگر دوست کے نام خط ہے تو اس کا اسلوب قدرے بے تکلفانہ ہوگا اور اگر کوئی بزرگ اپنے لاڈلے کو مکتوب ارسال کررہا ہے تو اس کا انداز نہایت مشفقانہ اور انتہائی مخلصانہ ہوگا ،جس میں اپنے پیارے بیٹے کو بڑی ملاطفت و بے حد محبت کے ساتھ نصیحت کی جائے گی۔ اپنے محبو ب کو منوانے کے لئے مختلف مثالیں پیش کی جائیں گی اور اپنے چہیتے کی ہمت افزائی کرتے ہوئے مقصد کی بات آگے بڑھائی جائے گی ،جیسا کہ سورۂ مزمل میں اللہ رب العزت نےاپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز تہجد میں پوری رات صرف کرنے اور عبادت کے لئے تما م شب وقف کرنے سے روکنے کے لئے جس الفت و محبت سے لبریز شیریں لہجہ اپنایا ہے وہ فصاحت و بلاغت کی اعلیٰ و ارفع آخری حد ہے ، چنانچہ حق تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے  یَا اَیُّھَا الْمَزَّمِّلُ ۱ قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا۲نِصْفَہُ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا۳اَوْ زِدْ عَلَیْہِ  وَ رَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا۴  یعنی اے میرے لاڈلے ، نماز کے لئے رات کا تھوڑا ہی وقت لگاؤ ، آدھی رات یا اس سے بھی کم یا کچھ زیادہ (مگر اے محبوب، رات بھر نماز کے لئے صرف نہ کریں ، تھوڑی دیر سہی آرام فرمالیں ) اے میرے محبوب آپ کو دن میں بہت کام رہتا ہے (اِنَّ لَکَ فِی النَّھَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا۷) آپ طعن وتشنیع کرنے والوں کی پرواہ نہ کیجئے ، صبر کرتے رہئے ، اللہ تعالیٰ جو مشرق و مغرب کا رب ہے ،ان سے آپ کا بدلہ دے گا۔ (رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا اٖلٰہَ اِلَّا ھُوَ فَاتَّخِذْہُ وَکِیْلًا ۹وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاھْجُرْھُمْ ھَجْراً جَمِیْلًا۰) اسی طرح رب العالمین نے رحمۃ العالمین کو دلاسہ دلایا ، بڑے پیارے اور بڑے ہی نرالے انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت افزائی اور قدر افزائی فرمائی ، مشرکین مکہ کے مقابلے فرعون کی مثال دی ، ان کی نافرمانی کا اجمالی تذکرہ کرکے اس کا انجام بھی بتادیا تاکہ آپ ﷺ کے مخالفین و اعدا کو تنبیہ ہوجائے اور آپ کے قلب مبارک کو تسکین حاصل ہو۔ 
مکتوب نگاری کا آخری جز مکتوب نگار کے نام کی صراحت ، خط تحریر کرنے والا آخر میں اپنے دستخط ثبت کرے گا اور اپنانام ظاہر کرے گا ورنہ اس خط کی قدر وقیمت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا ‘‘۔ ’’سورۂ مزمل ‘‘میں خدا وند قدوس نے اختتام کے موقع پر اپنا اسم گرامی مع صفات عالیہ کا ذکر فرمایا ہے ، چنانچہ فرمایا ’’ ان اللہ غفور رحیم ‘‘ اس طرح رب تعالیٰ نے گویا اپنے دستخط ثبت فرمادیے ، بہرحال مذکورہ بالا تفصیل و توضیح کو پیش کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ’’ مکتوب نگاری ‘‘ کا بہترین نمونہ قرآن پاک میں’’ سورۂ مزمل ‘‘ کی صورت میں جلوہ گر ہے ۔ 
مذکورہ بالا تمہید کے بعد ایک عجیب وغریب سوال ذہن کے پردے پر روشن ہوتا ہے کہ اس عالم آب و گل کا اولین مستند و معتبر مکتوب کس نے تحریر کیا اور وہ کس کے نام تحریر کیا گیا ، اس کا بھی صحیح ترین جواب قرآن مجید و فرقان حمید میں موجود ہے ۔ وہ یہ کہ خدائے تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر حضرت سلیمان ابن حضرت داؤد علیہم السلام نے ملکہ سبا محترمہ بلقیس کے نام لکھا ، جس کا ذکر خیر اللہ تعالیٰ نے بڑے اہتمام سے اپنے کلام میں محفوظ فرمایا ہے ،چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت بلقیس کے نام خط لکھ کر ’’ ہد ہد پرندے ‘‘ سے فرمایا ۔ اذھب بکتبی ھذا فالقہ الیھم ثم تول عنھم فانظر ما ذا یرجعون ، قالت یایھا الملؤ انی القی الی کتب کریم ، انہ من سلیمان و انہ بسم اللہ الرحمن الرحیم (سورۂ نمل ، آیت : ۲۸،۲۹،۳۰) یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام نے ’’ہدہد‘‘ کو حکم دیا کہ میرا یہ خط لے جا اور ان کے پاس ڈال دے اور وہاں سے ذرا ہٹ کر یہ بھی دیکھ کہ وہ اس خط کو اچانک دیکھ کر کیا رد عمل ظاہر کرتے ہیں ، محترمہ بلقیس اس دور کی تعلیم یافتہ ملکہ تھی ، اس نے خط پڑھا تو اپنے درباریوں سے کہا ، میرے پاس سلیمان کی طرف سے ایک معزز مکتوب آیا ہے جس کی ابتداء بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کی گئی ہے ۔
قرآن مجید کی اس صراحت سےیہ بات واضح اور صاف ہوجاتی ہے کہ دنیا کا اولین مکتوب وہی تھا جس کو حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت بلقیس کے نام رقم کیا تھا ، علاوہ ازیں رسول اکرم ﷺ نے اس دور کے حکمرانوں کے نام پر جو خطوط لکھوائے تھے وہ بھی مکتوبات کا قدیم بیش بہا سرمایہ اور مکتوب نگاری کی محفوظ تاریخ کا اولین مآخذ ہے ۔ 
اب رہا یہ اشکال کہ اردو کے قدیم ترین مکاتیب کے ماخذ و مصادر کون ہوسکتے ہیں ، اس کا اطمینان بخش جواب تلاش کرنے سے پیشتر یہ بات ذہن نشین رہے کہ اردوے قدیم یعنی دکنی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اردو شعر و ادب کے اکثر اصناف کی ابتداء اسی سے ہوئی ہے ، جس طرح اردو کی اولین شعری کائنات حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز (متوفی ۸۲۵ء) کے مقدس جھولی سے نکلی ہے (۳) اور اردو کا پہلا مستند نثری خزانہ حضرت سید شاہ برہان الدین جانم ؔ (متوفی ۱۰۰۷ھ) کے رسالہ ’’کلمۃ الحق ‘‘ میںمحفوظ ہے (۴)۔ اسی طرح بقول پروفیسر محمد علی اثرؔ ’’ اردو کے قدیم ترین خطوط نظم کی ہیئت میں ملتے ہیں ، حیدرآباد کے شیر محمد خان ایمانؔ (متوفی ۱۲۲۰ ھ مطابق ۱۸۰۵ء ) کے نامۂ منظوم سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ۱۸۰۳ء سے قبل بھی اردو نظم و نثر میں مکتوب نگاری کی روایت رہی ہے ۔ ایمان ؔ نے اپنا منظوم خط کسی نثری خط کا جواب میں اپنی وفات (۱۸۰۵ء ) سے پہلے اور غالبؔ کی وفات (۱۸۶۹ء ) سے ۶۴ سال قبل تحریر کیا تھا، جہاں تک اردو میں منظوم خطوط کا تعلق ہے ، سب سے قدیم خطوط (۱۱۷۵ھ، ۱۷۶۱ء) سے قبل اور غالب کی ولادت (۱۷۹۷ء ) سے ۳۶ برس پہلے دو آصف جاہی (سلطنت آصف جاہی، حیدرآباد) منصب داروں مرزا علی بیگ اور میر ابراہیم کے دریافت ہوئے ہیں ،یہ خطوط ’’ ادارہ ادبیات اردو ، حیدرآباد‘‘ کی ایک قلمی بیاض میں محفوظ ہیں (۵) مخطوطہ نمبر ۱۴۰، ص۲۸۹)
اردو کے قدیم مخطوطات میں حضرت سید عارف شاہ قادری خلیفہ سید شاہ صدر الدین حسینی طمنگلی مصنف ’’ مصباح النور و مفتاح النور ‘‘ ابن سید شاہ میراں حسینی آرکاٹی ملقب بہ نزوی المبلغین (متوفی ۱۱۴۰ھ ) (۶) کا وہ خط بھی ہے جس کو آپ نے اپنے مخلص دوست محترم غلام علی صاحب کے نام تحریر کیا تھا ، حضرت عارف شاہ بھی اپنے شیخ کی طرح صاحب تصنیف بزرگ تھے ، آپ نے رفیق دیرینہ جناب غلام علی کی خواہش و فرمائش پر ۱۲۲۴ھ مطابق ۱۸۰۹ء میں ’’حقوق المسلمین‘‘ نامی رسالہ لکھا تھا۔ (۷)
علاوہ ازیں جنوبی ہند کے مشہور و معروف بزرگ علامۂ وقت مصلح و مصنف حضرت سید شاہ عبداللطیف نقوی قادری معروف بہ قطب ویلور متوفی ۱۲۸۹ھ جنہوں نے بڑی عمر میں انگریزی زبان سیکھ کر اسی زبان میں ملکہ وکٹوریہ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی – اس غیر معمولی واقعہ کا ذکر مولانا سید عبدالحی لکھنوی نےاپنی معرکۃ الآراء تصنیف ’’نزھۃ الخواطر‘‘ میں کیا ہے- آپ (حضرت قطب ویلور) نے اردو میں ایک طویل خط ویلور (تمل ناڈو) کے انگریز کمشنر لونن صاحب کے نام تحریر کیا تھا ، جب کہ ۱۲۵۵ھ میں بعض معاندین نے آپ پر یہ الزام لگایا کہ آپ اپنی وعظ و نصیحت کی مجلسوں میں انگریز حکومت کے خلاف جہاد کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں(۸) ۔ اس گراں قدر مکتوب کا عکس رفیق محترم ڈاکٹر بشیر الحق لطیفی نے اپنی کتاب ’’مکتوبات قطب ویلور ‘‘ میں شائع کیا ہے ۔ (۹) 
مکتوب در حقیقت کاتب کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے ، کاتب ازل نے پہلے پہل جب قلم کی تخلیق کی اور اس سے کہا کہ لکھ ! تو قلم نے لوح محفوظ پر وہی لکھا جو تقاضائے ’’کن ‘‘ تھا ، اس لئے صفحہ کائنات کے ہر حرف ، بلکہ ہر نقطے سے کاتب ازل کے نورِ کبریائی کا ظہور ہوتا ہے ، جس سے دیدۂ بینا ورطۂ حیرت میں سرگرداں ہوجاتا ہے ۔ 
خط اگر افادۂ عام کے خیال سے زیب رقم کیا گیا ہو تو اس کی حقیقت مقالہ و مضمون کی سی ہوجائے گی ، جیسا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے وہ خطوط جو ’’غبارِ خاطر‘‘ میں شامل ہیں ، جب خطوط میں احتیاط و اجتناب کا احساس دامن گیرہوتو بے خطر آتش شوق میں کود پڑنے کی ادائے دل ربائی دھری کی دھری رہ جائے گی ، بقول مولانا عبدالماجد دریابادیؒ ’’دوستوں ، عزیزوں اور رفیقوں کے نام جو خط عام زندگی سے متعلق ہوتے ہیں اور رو ز مرہ پیش آنے والے حالات و واقعات کے ماتحت ان کا رنگ ہی دوسرا ہوتا ہے ، تصنیف و تالیف کے فکر واہتمام سے انہیں کوئی مناسبت ہی نہیں ہوتی ، نہ وہ سوچ بچار کر لکھے جاتے ہیں ، نہ ان میںکوئی دخل عبارت آرائی کو ہوتا ہے اور نہ ان پر نوبت نظر ثانی کی آتی ہے ، بس جس طرح انسان بے تکلف اپنی بیوی ،بچوں ، بھائی بندوں ، دوستوں ، رفیقوں سے بات چیت کرتا ہے ، یہ نجی خط بھی اسی طرح سادہ زبان میں اور قلم برداشتہ لکھے جاتے ہیں ۔ (۱۰) 
مکتوبات شخصی دستاویزبھی ہیںاور تہذیبی و سماجی اقدار کے عکس جمیل بھی ہیں ، یہی سبب ہے کہ کسی ادب پارے کی تحقیق و تدوین کے موقع پر اس کے متن (Text) سے متعلق دستیاب مکاتیب کا مطالعہ ضروری سمجھا گیا ہے ، بقول پروفیسر معین الدین عقیل ’’ ہمارے ادب کےمطالعہ میں ادب وسیلے سے تہذیبی ، معاشرتی عہد و ماحول اور تاریخ کے سمجھنے میں اور مقصود مطالعہ شخص کے حالات و افکار اور فن کو پوری طرح سمجھنے اور متعین کرنے میں خطوط یا مکاتیب ناگزیر ہورہے ہیں ۔(۱۱)
مکتوبات کے مذکورہ افادات کے باوجود بعض اہل علم و اصحابِ قلم حین حیات خطوط کی اشاعت کو نامناسب سمجھتے ہیں ، بقول ڈاکٹر ذاکر حسین ’’ البتہ خطوط کے معاملے میں ، میں سمجھتا ہوں کہ وہ شخصی دستاویز ہی ہوتی ہیں ، اس لئے ان کی اشاعت سے کم از کم لکھنے والوں کی زندگی میں احتراز کرنا چاہئے ‘‘۔ (۱۲) 
حاصل کلام یہ کہ مکتوبات کی اشاعت کے مثبت و مفید پہلو پر نظر کرتے ہوئے اکثر قلمکاروں نے انہیں منظر عام پر لانے کو صحیح اور مناسب خیال کیا ہے۔
مآخذ و حواشی ۔۔۔
 (۱) قدرت اللہ حسینی باقوی سید شاہ پروفیسر ، ’’ فنون القرآن ‘‘ یعنی قرآن کریم کا صوتی ، فکر ی ، ادبی علمی آہنگ ، ناشر ، دارقدرت ۱۵۵، ادے گری میسور ، کرناٹک ، سال اشاعت ۲۰۰۴ء ص ۱۱ (بقیہ مآخذ و حواشی صفحہ۶۳پر )

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا