مضامین سلسبیل

آفاقی فارمولے

مولانا غیاث احمد رشادی

صدر صفا بیت المال انڈیا

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایک نظام قائم کیا ہے اسی نظام کے مطابق یہ دنیا قائم ہے۔ ایک تو ظاہری نظام ہے اور دوسرا باطنی یعنی تکوینی نظام ہے۔ کچھ فارمولے ظاہری ہیں جن کو اختیار کرتے ہوئے انسان کچھ چیزیں پالیتا ہے۔ مثلاً ، زمین پر انسان بیج بوتا ہے اور رب ذوالجلال اس کو پودے اور درخت کی شکل دیتے ہیں اور ایک مدت کے بعد اس میں پھل اور پھول نکل آتے ہیں، جس طرح بیج بونا ایک فارمولہ ہے جس کے نتیجہ میں ترکاریاں، اناج، پھل پھلاریاں حاصل ہوتی ہیں، بالکل اسی طرح کچھ آفاقی فارمولے ہیں جن فارمولوں کو انسان جب اختیار کرتا ہے تو وہ بہت سی نتیجہ خیز چیزوں کو پانے لگتا ہے۔ 
وہ آفاقی مفید و نفع بخش فارمولے اس کتابِ مقدس میں موجود ہیں جس کو زمین و آسمان کے خالق و مالک رب ذوالجلال نے روح القدس جبرئیل امین علیہ السلام کے ذریعہ آخری نبی رحمۃ للعالمین ﷺ پر اتارا جس کو ہم قرآنِ مجید فرقانِ حمید کہتے ہیں۔ 
قرآنِ مجید وہ کتابِ ہدایت ہے جو ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی و گیرائی کا ہم انسانوں کو اندازہ ہی نہیں ہے جو بحرِ نا پیدا کنار ہے ۔ قرآنِ مجید کو پڑھنے والے اور اس کے معانی پر غور و فکر اور تدبر کرنے والے جس قدر اس کے معانی و مطالب پر غور و فکر کرتے رہیں گے اور جس قدر اس سمندر میں غوطے لگاتے رہیں گے اسی قدر قیمتی موتیاں پاتے رہیں گے اور یہ سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا۔ 
احقر نے قرآنِ مجید کی آیات پر جب غور کیا تو یہ بات محسوس ہوئی کہ اس کتابِ ہدایت میں ایسے آفاقی فارمولے بیان کئے گئے ہیں کہ اگرانسان ان فارمولوں پر غور کرے گا تو اس کی دنیا اور آخرت نہ صرف سدھر اور سنبھل جائے گی بلکہ وہ ان فارمولوں کی روشنی سے وہ منزل پالے گا جس منزل میں سکون و سرور بھی ہے اور فوزو فلاح بھی ، امن و سلامتی بھی ہے اور حسنِ انجام بھی ۔ راقم الحروف نے آفاقی فارمولے کے عنوان سے یہ سلسلہ شروع کیا ہے ۔ان شاء اللہ آیاتِ قرآنی کی روشنی میں ان مفید و نفع بخش فارمولوں کو سلسلہ وار بیان کروں گا۔
سکونِ قلب کا آفاقی فارمولہ :(۱) ہم میں سے کون یہ نہیں چاہتا کہ اس کو سکون و اطمینان نصیب ہو، دنیا کی نصف سے زائد آبادی آج بے چینی و بے اطمینانی کی زندگی بسر کررہی ہے اور سکون کی تلاش میں حیران و سرگرداں ہے۔ ایسے میں اگر ہمیں سکونِ قلب حاصل کرنے کا فارمولہ مل جائے تو یقینا یہ نعمتِ غیر مترقبہ ہے۔ آئیے ہم اس آفاقی فارمولہ کو آفاقی کتاب قرآنِ مجید سے حاصل کرتے ہیں۔ سورۂ رعد کی آیت نمبر ۲۸ میں اللہ تعالیٰ نے سکونِ قلب کا فارمولہ یہ دیا کہ أَلاَ بِذِکْرِ اللّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ خبردار! اللہ کے ذکر سے قلوب کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم جس قدر اللہ کا ذکر کریں گے اسی قد راپنے دلوں میں سکون پائیں گے۔ 
اللہ کی رحمت پانے کا فارمولہ :(۲) نیک اور سعادت مند بندے یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کی ساری مخلوقات کے خالق و مالک کی رحمت اسے مل جائے اور کل کائنات کا پروردگار ان پر اپنی رحمت نازل کرے، مگر سوال یہ ہے کہ آفاقی کتاب قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی رحمت پانے کا کیا فارمولہ دیتی ہے؟ اللہ تعالیٰ کی رحمت پانے کے مختلف فارمولے قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر بیان کئے گئے ہیں۔ رحمتِ الٰہی کا ایک فارمولہ یہ ہیکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی جائے۔ سورۂ آل عمران کی آیت نمبر ۱۳۲ میں رحمتِ الٰہی پانے کا یہ فارمولہ پیش کیاگیا ہے وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ 
سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۷۱ میں اللہ کی رحمت کے فارمولے یہ بیان کئے گئے ہیں۔۔۔
؍(۱) مسلمان مردوں اور عورتوں کی آپسی خیر خواہی اور دوستی 
؍(۲) امر بالمعروف یعنی بھلائی کا حکم دینا 
؍(۳) نہی عن المنکر یعنی برائی سے لوگوں کو روکنا
؍(۴) نماز کا قائم کرنا 
؍(۵) زکواۃ کا ادا کرنا
؍(۶) اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا
یہ آفاقی فارمولے قرآنِ مجید میں یوں بیان کئے گئے ہیں ۔ وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ  بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَیُطِیْعُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ أُوْلَـئِکَ سَیَرْحَمُہُمُ اللّہُ إِنَّ اللّہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ مومن مرد او رمومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا، بیشک اللہ غالب ہے حکمت والا ہے۔ 
ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں کہ کیا واقعی ہم مسلمان ایک دوسرے کے حقیقی معنی میں دوست بنے ہوئے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ خیر خواہی کررہے ہیں اور حقیقی معنی میں اپنے ماتحتوں وغیرہ کو بھلائی کا حکم دے رہے ہیں اور برائی سے بروقت روک رہے ہیں اور اپنی زندگی میں نماز قائم کئے ہوئے ہیں او راپنے مال کی پوری پوری زکوٰۃ ادا کر رہے ہیں اور اپنی زندگی کے تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کررہے ہیں؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو واقعی ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہیں اور اگر ہم ان تمام اوصاف سے محروم ہیں تو ہمیں حق نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار بنے رہیں۔ سورۂ نور کی آیت نمبر ۵۶ میں بھی نماز کے قائم کرنے ، زکوٰۃ ادا کرنے اور رسول ﷺ کی اطاعت کرنے پر رحمت کی بشارت موجود ہے۔ وَأَقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ وَأَطِیْعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیاجائے۔ اللہ کی رحمت کو حاصل کرنے کا ایک آفاقی فارمولہ یہ بھی ہے، جس کو سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۹۹ میں بیان کیاگیا ہے۔ 
وَمِنَ الأَعْرَابِ مَن یُؤْمِنُ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِندَ اللّہِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ أَلا إِنَّہَا قُرْبَۃٌ لَّہُمْ سَیُدْخِلُہُمُ اللّہُ فِیْ رَحْمَتِہِ ۔ اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ اللہ پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو اللہ کے قرب اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں دیکھو! یہ بات بلاشبہ ان کے لئے موجب قرب ہے، اللہ ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ 
اِس آیت سے یہ آفاقی قرآنی فارمولہ ملا کہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان اور قربِ الٰہی نیز رسولِ رحمت ﷺ کی دعاؤں کے حصول کی نیت سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ، رب ذوالجلال کی رحمت کو پانے کا ذریعہ ہے۔ 
اللہ تعالیٰ کی رحمت کو پانے کا ایک آفاقی فارمولہ یہ بھی ہے کہ بندے اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ سورۂ نمل کی آیت نمبر ۴۶ میں یہ فارمولہ دیاگیا لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ کیوںنہ اللہ سے معافی چاہتے ہو شاید تم پر مہربانی کی جائے۔ 
اللہ تعالیٰ کی رحمت کو پانے کا ایک فارمولہ یہ بھی ہے کہ بندے تقویٰ والی زندگی اختیار کرلیں۔ سورۂ حجرات کی آیت نمبر ۱۰ میں یہ آفاقی فارمولہ دیاگیا وَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم پر رحم کیاجائے۔ سورۂ انعام کی آیت نمبر ۱۵۵ میں بھی یہ بات کہی گئی ہے۔ وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ فَاتَّبِعُوہُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ ۔ اور یہ ایک کتاب قرآنِ مجید ہے، ہم نے ہی اس کو بھی اتارا ہے جو برکت والی ہے، اسی لئے اس کی پیروی کرو او رنافرمانی سے بچو تاکہ تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ 
معلوم یہ ہوا کہ قرآنِ مجید کی پیروی کرنا اور تقویٰ کی روش اختیار کرنا رحمتِ الٰہی کے حصول کا موثر ذریعہ ہے۔ سورۂ اعراف کی آیت نمبر ۱۵۶ میں رحمتِ الٰہی کو ان لوگوں کے نام لکھ دئیے جانے کا وعدہ کیا گیاہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْْء ٍ فَسَأَکْتُبُہَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُونَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَـاۃَ وَالَّذِیْنَ ہُم بِآیَاتِنَا یُؤْمِنُونَ جو بندے اللہ کی رحمت کی طلب اور تلاش میں ہوں ان کے لئے رحمت کے بیسیوں آفاقی فارمولے تیار ہیں۔ سورۂ اعراف کی آیت نمبر ۲۰۴ میں رحمتِ الٰہی کا یہ فارمولہ بھی پیش کیاگیا ہے کہ جب قرآن کسی کے سامنے پڑھاجائے تو اس قرآنِ مجید کو توجہ سے سن لیاجائے اور اس وقت جبکہ اللہ کا کلام پڑھا جائے اپنا کلام بند کردیا جائے اور خاموشی کو لازم پکڑلیا جائے تو ایسے سعادتمند بندوں کو رب ذوالجلال کی رحمت اپنے آغوش میں لے لیتی ہے وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُواْ لَہُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ ۔ اور جب قرآن پڑھاجائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو شاید کہ تم پر رحم کیا جائیے۔ 
اللہ کے وہ نیک بندے جن کی خوف یا بھوک یا مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی اور نقصان کے ذریعہ آزمائش کی جائے اور وہ ایسے کٹھن مراحل میں صبر و برداشت سے کام لیں اور اپنے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیں اور رجوع الی اللہ کی کیفیت میں ڈوب کر ان کے دل سے یہ پیارا جملہ نکل جائے کہ انا للہ و انا الیہ راجعون ہم سب اللہ کے لئے ہیں او راللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو ایسے پیارے بندوں کے یہ پیارے جملے اس قدر محبوب اور پسندیدہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی عنایتیں اور خصوصی رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔ اس حقیقت کو سورۂ بقرہ کی ان تین آیتوں میں بیان کیا گیا ہے ۔ 
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْْء ٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ ۔الَّذِیْنَ إِذَا أَصَابَتْہُم مُّصِیْبَۃٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّہِ وَإِنَّـا إِلَیْہِ رَاجِعونَ ۔أُولَـئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ وَأُولَـئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُونَ 
اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور میووں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے تو صبر کرے والوں کو (اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو ۔ ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جن پر اُن کے رب کی مہربانی اور رحمت ہے اور یہی سیدھے رستے پر ہیں ۔ 

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا