مضامین سلسبیل

(دوسری قسط)

دوسرے تعلیمی سال کا آغاز ۱۵؍ شوال ؍۱۳۸۰ھ سےہوا۔ اخبارات میں اعلانِ داخلہ اور شرائط داخلہ کا اعلان کیا گیا ،داخلے کے لئے توقع سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں ۔ ریاست کرناٹک ، تامل ناڈو اور آندھرا پردیش سے نہایت شوق و ذوق سے داخلے ہونے لگے ، بقول علامہ اقبال

نہ ہو نومید اے اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

الحمد للہ ۸۴ طلبہ داخل ہوئے ، جماعت بندی ہوئی ، جماعت دوم میں ۵، جماعت اول میں ۹ ، جماعت ابتدائے اول میں ۴۹ ، جماعت اردو میں ۱۹ اور جماعت خصوصی میں دو طلبہ تھے ۔ عربی ، فارسی ، اردو کا باقاعدہ درس ہونے لگا، ابتدائی دور تھا، اس لئے کم استعداد طلبہ کے لئے جماعت اردو اور جماعت خصوصی بھی قائم کرنی پڑی ، جماعت خصوصی میں ناظرہ قرآن کی مشق اور ابتدائی تعلیم تھی، بعض نو مسلم اصحاب نے اس جماعت سے استفادہ کیا ۔ 
شوال ۱۳۸۱ھ سےدارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کا تیسرا سال شروع ہوا۔ امسال جماعت سوم کا اضافہ ہوا ، اس جماعت میں پانچ طلبہ داخل ہوئے ، جن میں سیلون(سری لنکا ) کے ایک طالب علم ، جماعت اردو میں ملیشیا کے ایک طالب علم محمد فوزی کا داخلہ ہوا ، گویا قیام مدرسہ کے بعد بیرونی طلبہ کے داخلے کی یہ ابتداء تھی۔ 
۱۳۸۱ھ میں حضرت مہتمم صاحب کی امارت میں ایک جماعت بنگلور کے احباب کی ملیشیاء گئی اور واپسی میں وہاں کے طلبہ کی ایک جماعت حضرت مہتمم صاحب کے ساتھ آئی ، مذکورہ طالب علم ان ہی میں سے ایک تھے، الحمد للہ ، اسی سال شعبہ حفظ کا بھی قیام عمل میں آیا ، جس میں پندرہ طلبہ نے داخلہ لیا اور تعلیم کے تیسرے سال جملہ طلبہ کی تعداد ۱۳۰ تک پہنچ گئی ۔ 
دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کا چوتھا تعلیمی سال شوال ۱۳۸۲ھ سے شروع ہوا ۔ ۱۱۹ طلبہ داخل ہوئے ، اسی سال یعنی ۲۰،۲۱،۲۲ ذیحجہ ۱۳۸۲ھ مطابق ۲۵، ۲۶، ۲۷ مئی ۱۹۶۳ء کو مدرسہ کے احاطے میں جنوبی ہند کا سہ روزہ تبلیغی اجتماع منعقد ہوا ۔ 
اس اجتماع کی خصوصیت یہ تھی کہ دہلی سے حضرت مولانا شاہ محمد یوسف صاحب رحمہ اللہ تشریف لائے تھے ، قیام دارالعلوم سبیل الرشاد کے بعد حضرت موصوف کا یہ دوسرا دورہ تھااور یہی آپ کا آخری دورہ ثابت ہوا۔ 
اس سفر میں آ پ کے ہمراہ حضرت مولانا محمد انعام الحسن صاحب کاندھلوی،حضرت مولانا محمد عبید اللہ صاحب بلیاوی ، حضرت مولانا محمد عمران خان صاحب ندوی بھوپالی ، مولانا محمد رحمت اللہ صاحب میرٹھی ، مولانا حسن خان صاحب میواتی کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں سے اکابر حضرات اور علماے کرام نے شرکت فرمائی ، چونکہ یہ پورے جنوب کا اجتماع تھا ، لہٰذا ریاست کرناٹک ، ریاست تامل ناڈو ، ریاست آندھرا اور کیرلا سے ہزاروں بندگانِ خدا حاضر ہوئے تھے ۔ تقریباً پانچ سو جماعتیں دین کی دعوت و تبلیغ کے لئے راہِ خدا میں مختلف علاقوں کی جانب روانہ ہوئیں۔ 
اسی طرح دارالعلوم سبیل الرشاد سے سالانہ امتحان ۱۳۸۳ھ کے بعد ایام تعطیل میں ہمارے طلبہ کی بیس دن کی ایک جماعت اور پندرہ دن کی چھ جماعتیں دور دراز اور نزدیکی علاقوں کے لئے نکلیں۔ 
حسب معمول اب بھی ہر جمعرات کو بعد نماز ظہر طلبہ کی جماعتیں اساتذہ کرام کی نگرانی میںمختلف محلوں میں دعوت کا کام کرنے کے لئے نکلتی ہیں اور دوسرے دن جمعہ کو بعد اشراق واپس آتی ہیں۔ 
حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمارے مدرسے کے طلبہ کے اندر دعوتِ دین کا ولولہ خدمت اور ایثار اورتبلیغی کارگزاری معلوم کرکے بے انتہاء خوشی اورمسرت کا اظہار فرمائے تھے ۔ 
اس دور میں مدرسہ کاشف العلوم (مرکز تبلیغ ،دہلی) کے بعد ہفتہ واری جماعتوں کا سلسلہ قائم کرنے والا جنوب کا یہ پہلا مدرسہ تھا ، جو سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور جاری رہے گا ۔ انشاء اللہ ۔ اس کو دیکھ کر دوسرے مدارس میں جماعتوں کا نظام چل پڑا۔ 
بنگلور سے واپسی پر نیو کالج مدراس (جو اس وقت چینائی کہلاتا ہے ) میں تبلیغی اجتماع ترتیب دیا گیا تھا ، جس کے بعد حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب رحمہ اللہ کی دہلی واپسی ہوئی ، سفر دہلی سے پیشتر ابھی ٹرین کی روانگی میں چند منٹ باقی رہ گئے تھے کہ حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب رحمہ اللہ سبیل الرشاد کے بانی و مہتمم حضرت مولانا ابوالسعود احمد صاحب کو سبیل الرشاد کے تعلق سے کچھ خصوصی مشورے دیے ، اس موقع پر حضرت مولانا نیر ربانی صاحب رحمہ اللہ بھی موجود تھے ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت جی موصوف کو سبیل الرشاد سے کس قدر دل چسپی اور وابستگی تھی۔ 
در اصل حضرت والا جیسے بزرگانِ دین کی دعاؤں اور توجہات ہی کا نتیجہ تھا کہ اتنی قلیل مدت میں سبیل الرشاد ترقی کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔ 
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
۱۶؍ شوال ۱۳۸۲ھ مطابق ۱۳؍ مارچ ۱۹۶۳ ء کو حضرت مولاناحافظ محمد اسماعیل صاحب بلنجپوری مدرس دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور (جو چھوٹے حضرت سے مشہور تھے ) سفر حج پر روانہ ہوئے ، قیام دارالعلوم کے بعد موصوف پہلے مدرس تھے ، جن کو رب کعبہ نے حج و زیارت کی سعادت سے نوازا۔ 
اسی طرح طالب علم حاجی سید عباس بنگلوری نے بھی ان ہی ایام میں سفر حج کیا اور واپسی میں ایک ہزار روپے کی چند عربی کتابیں ہدیہ کے طور پر پیش کیا ۔ یہ دارالعلوم سبیل الرشاد کے اولین طالب علم ہیں جو حج بیت اللہ کی نعمت سے مشرف ہوئے تھے ، اللھم زد فزد
۱۳۸۳ھ شوال سے سبیل الرشاد نے پانچویں تعلیمی سال میں قدم رکھا ، امسال (۱۲۶) ایک سو چھبیس طلبہ نے داخلہ لیا ، جماعت پنجم کا اضافہ ہوا ، شعبہ حفظ اور فارسی کی دو ابتدائی جماعتوں کے علاوہ شعبۂ عربی عالمیت کی پانچ جماعتیں ہوگئیں۔ 
نہ صرف سرزمینِ ہند سے بلکہ ، سری لنکا ، ملیشیا ، انڈومان ، نکوبار اور محل دیپ جیسے دور دراز علاقوں کے طلبہ بھی داخل ہونے لگے ۔ 
جماعتوں کے اضافے کی وجہ سے تین نئے مدرسین حضرت مولانا مفتی محمد اشرف علی صاحب باقویؒ (امیر شریعت ثانی شیخ الحدیث ومہتمم دارالعلوم سبیل الرشادبنگلور) حضرت مولانا محمد میران صاحب باقوی رحمہ اللہ ، حضرت مولانا عمر فاروق صاحب داؤدی کا تقرر عمل میں آیا ۔ جملہ نو مدرسین خدمات انجام دینے لگے ، حسب معمول سہ ماہی ، ششماہی اور سالانہ امتحانات ہوا کرتے تھے ، شعبہ حفظ کے آٹھ طلبہ حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی تھی۔ ان آٹھ سعادت مند طلبہ میں راقم الحروف بھی تھا کہ قاعدہ اور ناظرہ قرآن مجید پڑھ کر ایک سال میں حفظ قرآن مجید مکمل کرنے کی توفیق اللہ نے دی ۔ فالحمد للہ علی ذلک۔ 
۲۹ جمادی الاخری ۱۳۸۳ھ کو سالانہ انعامی جلسہ منعقد ہوا ۔ جس کی صدارت بانی دارالعلوم سبیل الرشاد حضرت مولانا ابوالسعوداحمد صاحب مہتمم نے فرمائی ، اور مسیح الامت حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب ، خلیفہ حضرت تھانویؒ و مہتمم مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم جلال آباد مہمانِ خصوصی تھے ۔ 
طلبہ نے عربی ، فارسی اور اردو وغیرہ میں تقریریں کیں ،یہی سلسلہ آج بھی موجود ہے کہ مدرسہ میں ملک کی مختلف ریاستوں کی زبانوں میں طلبہ تقریریں کرتے ہیں۔ 
، جن کو عوام نہایت دلچسپی سے سنتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ 
حضرت مسیح الامت نے علم دین کی فضیلت اور مدارس اسلامیہ کی اہمیت پر بصیر ت افروز خطاب فرمایا پھر اپنے دست مبارک سے امتحان سالانہ میں امتیازی خصوصیت کے ساتھ کامیاب ہونے والے طلبہ کو انعامات تقسیم فرمائے ، حفظِ قرآن مجید کی تکمیل پر چار طلبہ کو خصوصی انعامات دیے گئے ۔ 
اس جلسے میں بہت سے علماے کرام ، ارکانِ مجلس شوریٰ اور شہر بنگلور کے سر بر آوردہ حضرات بھی تشریف فرماتھے ، جس میں قابل ذکر حضرت مولانا ابوالناصر ذاکر حسین عبیدی ، حضرت مولانا محمد یوسف صاحب شرقی بنگلوری ، مولانا عبدالتواب صاحب مفتاحی ، صدر مدرس مدرسہ مشکوٰۃ العلوم بنگلور سٹی ، الحاج حبیب الرحمن صاحب مہکری، الحاج سید مصطفی صاحب اور عبدالرحمن صاحب اسسٹنٹ کمشنر ہیں۔ 
(جاری)

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا