مولانا افتخار احمدمحسن رشادی
مدرس دارالعلوم سبیل الرشاد ، بنگلور
إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا
[احزاب:۵۷]
ترجمہ :جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں،اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے ، اوران کے لئےایسا عذاب تیار کررکھا ہے جو ذلیل کرکے رکھ دے گا ۔
تشریح :اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ رب العزت کو اور اس کے محبوب پیغمبر ﷺ کو تکلیف دیتے ہیں ، اللہ ان پر لعنت و پھٹکار نازل کرتا ہے ،لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت سے دوری اور محرومی ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی چیز تکلیف نہیں پہنچا سکتی ، اس کی ذات ہر طرح کے تاثر و انفعال سے بالا تر اور کل کائنات کے خیر و شر سے بے نیاز ہے ۔
ذاتِ باری تعالیٰ کو تکلیف پہنچانے سے مراد کیا ہے ؟ ائمہ تفسیر کے اقوال مختلف ہیں۔
چنانچہ حضرت ابن عباس ؓنے فرمایا:الذین یؤذون اللہسے یہودی، عیسائی اورمشرک مراد ہیں ، یہودیوں نے کہا:حضرت عزیر علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ عیسائیوں نے کہا :حضرت مسیح علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں، اور اللہ تین میں کا تیسرا ہے ۔ مشرکوں نےکہا : فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور انہوں نے بتوں کو اللہ کےساتھ شریک ٹہرایا ۔ (مظہری)
بعضوںنے فرمایا: اللہ کی ذات و صفات کا انکار کرنا یا اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرانا ، اس کی طرف بیوی بچے منسوب کرنا،زمانہ کو گالی دینا ،جانداروں کی تصویریں بنانا ، اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرنا وغیرہ مراد ہے۔
ان اقوال کا حاصل یہ ہے کہ ایسے افعال و اقوال مراد ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ایذاء کا سبب قرار دیا ہے اور جو عادۃً ایذاء کا سبب بنتے ہیں۔
ورسولہ یعنی آیت میں ’’رسول اللہ ﷺ کوجولوگ اذیت دیتے ہیںاُن پر بھی اللہ نے لعنت کی ہے‘‘ ،رسول اللہ ﷺکو اذیت دینےسے کیا مراد ہے ؟۔ اس میں بھی حضراتِ مفسرینؒ کے اقوال مختلف ہیں ۔
حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: ’’ ایذاء دینے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے غزوۂ احد میں آپ کے دندانِ مبارک کو شہید کیا ، آپ کے چہرۂ انور کو زخمی کیا ، مکہ میں سجدہ کی حالت میں آپ پر اونٹ کی اوجھڑی ڈالی، آپ کو ساحر ، شاعر ، کاہن اور مجنون تک کہا ، حضرت عائشہؓ پر تہمت لگائی ، حضرت صفیہ بنت حی اورحضرت زینب بنت جحش سے نکاح کرنے پر طعن کیا ‘‘(قرطبی)
حضرت ابن عباسؓ نے انہی ایذاؤں کو آیت کا شانِ نزول قراردیا ہے۔ (مظہری)
جمہور علماءؒ نےفرمایا : ایذاء اللہ ورسولہسے ہر ایسا کام مرادہے جو اللہ اوررسول کو ناپسند ہے ۔
مسئلہ : رسول اللہ ﷺ کی شخصیت ، دین ، نسب یا صفت پر طعن کرنا ،صراحتاً یا کنایۃً یا اشارۃً یا تعریضاً اورنکتہ چینی کرنا اور عیب نکالنا کفر ہے ، ایسے شخص پر دونوں جہاں کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لئے جہنم کا عذاب تیار رکھا ہے۔ امام ابوحنیفہؒ ، صاحبین اور امام مالکؒ وغیرہ کا فتوی ہے کہ شاتمِ رسول ﷺکو قتل کی سزا ہرحال میں دی جائے ، خواہ وہ اپنےجرم سے توبہ کرلے ۔ (مظہری)
اللہ جل شانہ نے مشرکین و منافقین اور یہودیوں کی جانب سے اپنے محبوب ﷺ کی شان میں گستاخی و توہین کو کبھی برداشت نہیں فرمایا بلکہ ان پر لعنت والی بیسیوں آیات نازل فرمائیں۔
ناموس رسالت ﷺکی حفاظت اور صحابہ کرامؓ کا کردار
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے قول اور عمل کے ذریعے حضور اقدس ﷺ سے عشق و محبت کی اور جانثاری و فدا کاری کی جومثالیں پیش کی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں، آپ ﷺ کی شان میں تھوڑی سی بے ادبی بھی انہیں گوارا نہیں ہوتی تھی۔
چنانچہ مدینہ منورہ میں ایک یہودی اور منافق کے درمیان کسی معاملہ میں جھگڑا تھا ،فیصلہ کرانے کی خاطر منافق نے اس مقدمہ کوکعب بن اشرف کی طرف اور یہودی نے رسول اللہ ﷺ کی طرف لےجانا چاہا، بالآخردونوں اپنا مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے ، آپ نے ساری باتیں سن کر یہودی کےحق میں فیصلہ سنایا۔ منافق اس پر راضی نہ ہوا اورمنافق کے اصرار پر دونوں حضرت عمرؓ سے فیصلہ کروانے پہنچے ، یہودی نے حضرت عمرؓ سے کہہ دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے حق میں فیصلہ سنا یا ہے۔
حضرت عمرؓ نے منافق سے پوچھا کیا اسی طرح ہوا ؟ تو منافق نے کہا : ہاں۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا’’ میرے آنے تک دونوں یہیں ٹہرے رہو‘‘ ۔ حضرت عمرؓ گھر میں داخل ہوکر تلوار ہاتھ میں لئے آئے اوریہ کہتے ہوئے منافق کا سر تن سے جدا کردیا کہ جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرے عمر کے پاس اس کا فیصلہ یہی ہے ۔ (تفسیر جلالین)
آپ ﷺ نے جوپر امن معاشرہ تشکیل دیا تھا اس کے امن وامان کی بقاء کی خاطر بعض شر پسندوں کو راستے سے ہٹانا ناگزیر تھا ، چنانچہ آپ ﷺ نے الگ الگ موقعوں پر ان سب کو ٹھکانے لگوادیا۔اسی طرح ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ من للکعب بن الاشرف فانہ قد آذی اللہ ورسولہ کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا اس لئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچاتا ہے ۔ وہ اپنے اشعار سے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی ہجوکرتا تھا اور کفارِ قریش کو آپؐ پر حملہ کے لئے ابھارا کرتاتھا ، حضرت محمد بن مسلمہ انصاریؓاس کوقتل کرنے کے لئے تیار ہوئے اور اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر بڑی عجیب تدبیرسےاسے قتل کیا،اور حضور ﷺ کو اس کی خوشخبری سنائی ۔ صحابہ کرام ؓکی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے ۔
صحابہؓ کے بعدہر دور میں جب بھی اس قسم کے فتنوں نے سر اٹھایا تو اس وقت کے غیور حکمرانوں اور مسلمانوں نے اسی وقت ان کو کیفر کردار تک پہنچادیا، آج بھی اسلام دشمن عناصر اظہار رائے کی آزادی کے پر فریب نعرے کی آڑمیںاسلام کی بنیادوں کو کمزورکرنے کے لئےانہیں نشانہ بنارہے ہیں ۔ بقول علامہ اقبال ؒکے
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو
آج کے اس پُر فتن دور میں بھی الحمد للہ ، ایک عام مسلمان بھی ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کی خاطر اپنی جان قربان کردینے کو بھی اپنی زندگی کی معراج تصور کرتا ہے ۔
ماضی قریب میں سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے ملعونِ زمانہ چند بد بختوں نے ملک و بیرونِ ملک مقدساتِ اسلام کو بدنام کرنے کی ناکام کوششیںکیں مگر وہ سب ذلیل و رسوا ہوئے اور اِس وقت مردود وسیم رضوی(تا دمِ تحریر نیا نام جتندر نارائن سوامی تیاگی ، اس نے ۶ دسمبر۲۰۲۱ء کو باقاعدہ طور پر ہندو مذہب قبول کرلیا اور اپنا نام بھی تبدیل کرلیا ہے) کے ذلیل ہونے کی باری ہے ۔ یہ اپنے ذاتی اغراض کی خاطر دشمنانِ اسلام کا آلۂ کار بن کر اپنی باطنی خباثت کا مظاہرہ کرکے سستی شہرت پانے کی کوشش کررہا ہے ،اس کی اس حرکت سے تمام مسلمانوں کے دل بےانتہاء زخمی ہیں،لیکن یہ ملعون بھی دنیا و آخرت میں اپنے کیے کی سزایقینا ً بھگت کررہے گا۔
بار بار کےیہ فتنے ہم سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ملت کے علماء و عمائدین کے مشورے سے ہم ایسے ٹھوس اقدامات کریںکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کی جرأت نہ کرسکے۔
اپنی زندگیوں کو سیرت نبوی ؐکے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنامحاسبہ کرتے رہیں ۔
اللہ تعالیٰ کے دربار میں ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے دعائیں کرتے رہیں ۔
خدانخواستہ دنیا میں اس جیسے ملعونوں کی تعداد اگر اورزیادہ ہوجائے تب بھی آپ ﷺ کی عزت وناموس میں ذرہ برابر فرق نہیں آئے گا اس لئے کہ خود اللہ جل شانہ نے آپؐ کے بارے میں یہ ازلی فرمان نازل کردیاہے: ورفعنا لک ذکرکاورہم نے تمہاری خاطر تمہارے تذکرے کو بلند مقام عطا کردیا ہے ۔چنانچہ چوبیس گھنٹوں میں کوئی لمحہ ایسا نہیں گذرتا کہ دنیا میں کہیں بھی اشھد ان لا الہ الا اللہ کے ساتھ اشھد ان محمدا رسول اللہ کی صدا بلند نہ ہوتی ہو،لیکن ایک مسلمان کی خوش بختی وسعادت مندی اس میں ہے کہ وہ آپﷺ کی عزت و حرمت کو برقرار رکھنےکی خاطر استطاعت بھر کوشش کرے۔علامہ اقبال ؒنے فرمایا:
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کردے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کردے
نیزعلامہ اقبالؒ نے فرمایا۔۔