سرچشمہ جلد ۱ شمارہ۳
مدیر سلسبیل : مولانا صغیر احمدصاحب رشادی
محترم قارئین کرام !آ ج ہمارا ملک نہایت افراتفری کا شکار ہے ، اکثر باشندوں کے لئے خوف و ہراس کا مرکز بنا ہوا ہے ، مسلمان اور سیکولر ذہن رکھنے والے ہندو ، سکھ ، عیسائی وغیرہ سب پر موجود ہ خود مختار اربابِ حکومت کی وجہ سے مایوسی چھائی ہوئی ہے ، مذہبی و غیر مذہبی ادارے ، مساجد و مدارس اور دیگر تعلیم گاہیں ، تجارتی و سماجی بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں آزاد نہیں ہیں، وقفہ وقفہ سے بدلتے ہوئے ظالمانہ قوانین کی قیود میں جکڑے ہوئے ہیں ، خصوصاً مسلمانوں کا نا حق قتل وخون اور ان کے ساتھ انتہائی ذلت و رسوائی کا وحشیانہ سلوک بلکہ بعض اوقات خدا اور رسول کا نام لے کر نازیبا گستاخانہ حرکتوں کے شرمناک واقعات جن کو کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا ،ہر روز پیش آرہے ہیں ، ہر کسی اسلام دشمن بدبخت کو ہمت ہوجاتی ہے اور رات میں نہیں ، بند کمرے میں نہیں بلکہ دن میں کھلے عام بر سر بازار مسلمانوں پر حملہ کیاجاتا ہے، طرح طرح سے پریشان کیا جاتا ہے لیکن حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ۔
حقیقت یہ ہے کہ ملک میں باشندگانِ ملک پر ظلم و بربریت اور درندگی کے جو کھیل کھیلے جارہے ہیں ،حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں اس لئے اس سے باز آنے اور اس ناسور سے پورے ملک کو پاک کرنے کی طرف حکومت کو متنبہ کریں اور مطالبہ کریں کہ عدالتوں سے عدل و انصاف صادر ہو تاکہ پبلک میں ہر ایک کو اس کاحق حاصل ہو۔
احقر کی تمام امت مسلمہ سے گذارش ہے کہ پہلے وہ اپنے بارے میں سوچیں کہ ہم اللہ کے بندے ہیں ، اس کے احکامات اور ہدایات و تعلیمات پر ثابت قدم اور مضبوط ہیں یا نہیں ، اگر ہم بہ نظر غائر نہیں بلکہ سطحی نظر سے بھی دیکھیں تو محسوس ہوگا کہ امت مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ اس سے غافل ہے ، یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ پوری امت کا یہ حال ہے ، اس لئے کہ یہ جملہ کہنا قیامت کو دعوت دینا ہے ، لہٰذا سو فیصد نہ سہی تیس چند فیصدبھی ہم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوجائیں تو نصرت خداوندی یقینی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ ۔
امت مسلمہ عبادات محضہ کے ساتھ اخلاقِ حسنہ سے خود کو مزین کرلے ، ہر ایک کے حقوق کی ادائیگی ہو ، باہم متحد و متفق رہیں، مسلکی و مشربی اختلاف کی وجہ سے آپس میں عداوت ، بغض و عناد ، حسد و تنازع نہ ہو ۔ اختلاف تو ہوسکتا ہے مگر نزاعات اور جھگڑے نہ ہوں، ایک جماعت ہوجائیں تو اللہ کی نصرت ضرور ہوگی ۔ ید اللہ علی الجماعۃ نیز قول باری تعالیٰ ہے واعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقوا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں افتراق و انتشار مت کرو، اللہ کی رسی چھوٹ تو سکتی ہے ،ٹوٹتی نہیں ۔ لہٰذا ہم اللہ کے احکام کے پابند ہوجائیں تو اللہ ہمارا ہوجائے گا اور ہمارے اندر ایک قوت آجائے گی اور ہم متحد ومتفق ہوکر باطل کو شکست دے سکتے ہیں۔
الحمد للہ سہ ماہی سلسبیل کا پہلا شمارہ اللہ کی توفیق سے شائع ہوا اور مقبولِ خاص و عام ہوا۔ اب دوسرا شمارہ قارئین کی خدمات میں پیش ہے ۔ حسب سابق اس دوسرے شمارے میں تاریخ سبیل الرشاد اور دیگر اہل قلم و ماہر مضمون نگاروں کے مضامین شامل ہیں۔ امید ہے کہ یہ شمارہ بھی ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا اور قارئین کی توجہات حاصل ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ تا قیامت یہ سلسلہ جاری رکھے۔
صغیر احمد رشادی عفی عنہ
؍۲۵ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۳ھ