مضامین سلسبیل

سرچشمہ جلد ۱ شمارہ۲

مدیر سلسبیل : مولانا صغیر احمدصاحب رشادی 
محترم قارئین کرام !الحمد لله، سہ ماہی سلسبیل کا تیسرا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ آپ حضرات نے جس ذوق و شوق سےسلسبیل کی پذیرائی کی، علمی حلقوں میں اس کے مضامین پسند کیے گئے، ابنائے قدیم کے جلسہ میں تشریف لانے والے ہمارے عزیز فارغ التحصیل رشادی علماء نے چاہت اور رغبت کا اظہارکرتے ہوئےسلسبیل کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور تمام معزز قارئین نے نیک خواہشات کا اظہار کیا، ہم ان تمام کے ممنون ہیں۔ 
اس تیسرے شمارے میں بانی دارالعلوم بڑے حضرت علامہ شاہ ابوالسعود احمد صاحب باقویؒ کے فتاوی ، آپؒ کی ایک یادگارتقریر جسے احقر نے دور طالب علمی میں قلمبند کیا تھا-شامل ہے، نیز رمضان المبارک کی مناسبت سے حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحبؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا شاہ قمر الزماں صاحب الہ آبادی دامت برکاتہم کی ایک تقریر بھی نقل کی گئی ہے، درس قرآن ،درس حدیث،تاریخ سبیل الرشاد، سبعہ قرأت پرتحقیقی مضمون بنام سبعہ احرف سبعہ قرأت، لغات کے تقابلی مطالعہ پرقیمتی مضمون بنام  فرہنگ آنندراج اورنور اللغات کا تقابلی مطالعہ، سلسلہ وار مضمون قرآنی فارمولے کے علاوہ ماہر اصحاب قلم کے مضامین شامل ہیں۔ نیز آزاد و قافیہ بند ایک ایک نظم بھی اس شمارے کا حصہ ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ رسالہ ملاحظہ فرما کر اپنی قیمتی آراء اور گراں قدر مشوروں سے نوازیں۔ ہمارے پاس بعض مضامین باقی رہ گئے ہیں، جگہ کی کمی کی وجہ سے وہ شائع نہیں کیے جا سکے ، ہم ان مضمون نگاروں سے معذرت خواہ ہیں، انشاء اللہ آئند ہ شمارے میں وہ مضامین شائع کیے جائیں گے۔ 
۔۔۔
آپ حضرات کے علم میں ہے کہ گذشتہ دنوں کرناٹک میں حجاب موضوع سخن بن گیا، اڈپی کے ایک اسکول کی طالبات کے حجاب پہنے پر کچھ نا عاقبت اندیش لوگوں کے اعتراض سےجو چنگاری سلگی اس نے بہت جلد آتش فشاں بن کر پورے کر ناٹک بلکہ پورے ملک کو اپنا مسموم ہواؤں میں لپیٹ لیا۔ معاملہ ہائی کورٹ تک جا پہنچا اور افسوس کہ ہائی کورٹ نے خلاف توقع فیصلہ سنایا، ہائی کورٹ کے فیصلے پر  کرناٹک کے مسلمانوں کو حیرانی بھی ہوئی اور وہ خفا بھی ہوئے، بہرحال اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ قوی امید ہے کہ ملک کی عدالت عظمی  حجاب کے اس اہم مسئلہ میں حق کا ساتھ دے گی۔ 
بہر صورت ہم مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنااتحاد مضبوط سے مضبوط تر کریں،سمع و طاعت کا مادہ اپنے اندر پیدا کریں، اسلامی وضع قطع اور شرم وحیا کالحاظ مردوں کو بھی کرنا چاہئے ، بالخصوص مسلمان عورتیں اپنی روز مرہ کی زندگی میں پورے طور پر اسلامی پردہ اپنائیں ، بصورتِ دیگر امت مسلمہ شرمسار ہوگی کہ غیروں سے پردہ کی اجازت مانگی جاتی ہے اور مسلمان خواتین خود پردے کا اہتمام نہیںکرتیں۔ 
سوچنا چاہئے کہ اگر ہم خود دین بیزاری اور بےپردگی کا مظاہرہ کریں گے تو کل قیامت میں اللہ تعالی کی عدالت میں( جو سب سے بڑی عدالت ہے، جہاں نہ جھوٹ چلتا ہے، نہ رشوت چلتی ہے، نہ کسی کا اثر ورسوخ کام آتا ہے اور نہ کوئی حیلہ کام دے سکتا ہے) ہم سخت مجرم شمار ہوں گے۔ الله تعالی اس دن کی رسوائی سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔ 

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا