مضامین سلسبیل

السوال:۔

فجر کی نماز میں قرأت کے دوران امام کا بار بار جمائی لینا کیسا ہے؟۔اس سلسلے میں فتوی عنایت فرماکرمشکورفرمائیں۔ بینوا توجروا

الجواب ہوالموفق للصواب:۔

ز کے دوران جمائی آنے لگے تو منھ کو بند کرلینا چاہیے بایں طور کہ اپنے دونوں ہونٹ دانتوں میں دبائے رکھے ۔اگر اس طرح کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تو پھر بائیں ہاتھ کی پشت سے منھ کو بند کرلے

 وامساک فمہ عند التثاؤب ولو باخذ شفتیہ بسنہ فان لم یقدر غطاہ بظھر یدہ الیسریٰ (الدرالمختار علی ھامش ردالمحتار ج۱؛ ص۴۷۸) 
فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعود احمد عفی عنہ
۲۲؍ربیع الثانی ۱۴۱۶ ھ
(فتوی نمبر۵۹؍۱۴۱۶ھ)

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ان اللہ یحب العطاس ویکرہ التثاؤب الخ واماالتثاؤب فانما ھو من الشیطان فاذاتثاء ب احدکم فلیردہ ما استطاع فان احدکم اذاتثاء ب ضحک منہ الشیطان(صحیح بخاری حدیث نمبر ۶۲۲۶) فلیضع یدہ علی فیہ(ترمذی حدیث نمبر ۲۷۴۶)

السوال:۔

ہمارے محلہ میں ایک نئی مسجد تعمیر ہوئی ہے (اہل سنت والجماعت حنفی ) اور اس میں اسی محلہ کے چھوٹے بچے صبح وشام عربی تعلیم کے لیے آتے ہیں ۔اسی مسجد کے امام صاحب جو غیر شادی شدہ ہیں اورعمر تقریباً۲۶،۲۷ سال ہے بچوںکو عربی پڑھانے کا کام انجام دیتے ہیں ۔اس مدرسہ میں لڑکیوں کی تعداد تقریباً ۱۵ ہے،جس میں ایک لڑکی کی عمر ۱۴ سال ہے (آٹھویں جماعت پڑھ رہی ہے) جو ہماری رشتہ داروں میں سے ہے ۔ آپ سے گزارش ہے کے مساجد میں صبح اور مغرب کی نماز کے بعد لڑکیوں کو لڑکوں کے ساتھ کتنی عمر تک پڑھایاجاسکتاہے؟معلوم کرائیں تاکہ ہمیں معلوم ہوسکے اور آئندہ دوسری بچیوں کے داخلہ کیلئے سہولت ہوسکے۔بینواتوجروا

الجواب ہوالموفق للصواب:۔

صحیح طریقہ یہ ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کا علاحدہ علاحدہ انتظام کیا جائے،نیز لڑکیوں کو استانیاں پڑھائیں،مرد نہ پڑھائیں۔ مخلوط تعلیم اسلام میں سخت ناپسندیدہ ہے اور یہ بہت سے ناگفتہ بہ واقعات کاسبب بن جاتی ہے ،بدرجۂ مجبوری کمسن بچیاں (زیادہ سے زیادہ نو سال کی عمر تک ) چھوٹے بچوں کے ساتھ مل کر پڑھ سکتی ہیں ۔ چودہ سالہ لڑکی کا بے پردہ ہوکر اجنبی مرد سے تعلیم حاصل ۔کرناشرعاً جائز نہیں۔

فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعوداحمد عفی عنہ

؍۲۱؍ذوالقعدۃ۱۴۰۶ ھ

(فتوی نمبر۱۳۳؍ ۱۴۰۶ھ)

 

الخلوۃ بالأجنبیۃ حرام (الدرالمختار علی ھامش ردالمحتار ج۶، ص۳۶۸)
ولا یاذن بالخروج الی المجلس الذی یجتمع فیہ الرجال والنساء وفیہ من المنکرات الخ (فتاوی بزازیہ علی ھامش عالمگیری ج۴، ص ۵۷)
ويمنعها من زيارة الأجانب وعيادتهم والوليمة وإن أذن كانا عاصيين،الخ له منعها من الغزل وكل عمل ولو تبرعا لأجنبي، الخ ومن مجلس العلم إلا لنازلة امتنع زوجها من سؤالها (الدر المختار علی ہامش رد المحتارج۳ص ۶۰۴)
تفصیل کے لیے دیکھیں : ’’ مخلوط تعلیم کی برائیاں ‘‘ مصنف بڑے حضرت علامہ ابوالسعود احمدؒ ،کتب خانہ سبیل الرشاد کتاب نمبر۲۴۳۹، فن ِاخلاق ۔

السوال:۔

حکومتِ کرناٹک کے ایک بیان کے مطابق آئندہ تعلیمی سال سے ریاست کے تمام سرکاری اور نیم سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں یوگا کی تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے ۔ علمائے کرام سے گزارش ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ ثابت کریں کہ یوگا کرنا اور اس کی تعلیم حاصل کرنا مسلمان بچوں کے لیے جائز ہے یا نہیں ؟ کیونکہ یوگا میں سوریہ نمسکار ، وجراسنا اور سمہا سنا جیسی پوجا کرنے کی بیہودہ حرکتیں ہوتی ہیں ، ان کے اختیار کرنے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ (۱) سوریہ نمسکار : ورزش کے ذریعے اوربیہودہ فعل کے ذریعے سورج دیوتا کو نمسکار کرنا ہے (۲) وجرا سنا: یوگا کا ایک فعل ہےجس میں مختلف حرکات وسکنات سے اندرا یعنی آگ کی پوجا کی جاتی ہے (۳) سمہا سنا: یوگا کی مختلف حرکات وسکنات سے شیر دیوتا کی پوجا کی جاتی ہے،(نعوذ باللہ) ۔بینوا توجروا 

الجواب ہوالموفق للصواب:۔

 اسلام کی بنیاد توحیدِ خالص پرہے،وہ خدائے واحدپر ایمان رکھنے اور اسی کی عبادت کرنے کو لازمی قرار دیتا ہے ۔غیر اللہ کی پوجا شرک ہے ، شرک ناقابلِ معافی جرم ہے ،اورمسلمان کو دائرۂ اسلام سے خارج کردیتاہے ۔پس یوگا جو سورج ،آگ اور شیر وغیرہ کی پوجا پر مشتمل ہے ، صریح مشرکانہ عمل ہے اور عقیدۂ توحید کے قطعاً منافی ہے۔مسلمان بچوں کو اس کا سیکھنا یا اس میں شریک ہونا شرعاًحرام ہے ۔ دردمندانِ ملت کا فریضۂ دینی ہے کہ اسکولوں میں اس کے نفاذ کو قانونی جدوجہد کے ذریعے رکوائیں  ۔
 فقط واللہ تعالی اعلم  العبد
ابوالسعوداحمد عفی عنہ 
؍۲۰ ؍رجب۱۴۱۲ ھ 
(فتوی نمبر۲۳۲؍ ۱۴۱۲ھ)

وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ (البقرۃ آیت :۱۶۳)
وَمِنْ اٰیَا تِہِ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُوَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوْالِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ (حم السجدۃ آیت :۳۷)
اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَا لًا بَعِیْدًا(النساء آیت:۱۱۶)
تعد الیوجا من طرق التمسک الہندویۃ؛ فلا یجوز اتخاذہا طریقًا للعبادۃ الخ فإتخاذہا بہذہ الصفۃ التعبدیۃ ضلال قطعًا الخ اما من یقوم بحرکات تشبہہا ولم تخطر ببالہ ارتباطہا بتمسک الہندو؛ فہو من باب التشبہ المنہي عنہ شرعًا؛ والاصل في ذلک ما ورد عن النبي ﷺ انہ نہی في کثیر من احادیثہ عن التشبہ بغیر المسلمین في ملبسہم ومشربہم وماکلہم، فہذا التشبہ من باب الحرام۔ (فتاوی عصریۃ:ص۱۵۴)

السوال:۔

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زوال دن کے کس حصہ کوکہتے ہیں؟کیادن کے بارہ بجے کاوقت زوال کہلاتاہے ۔ کیا زوال کے وقت نمازیں اداکی جاسکتی ہیں ؟یاجیساکہ ہندو مذہب کے لوگ دن کے ایک مخصوص وقت کو ’’زاہوکالا‘‘ کے نام سے منحوس سمجھ کر کوئی اچھا کام نہیں کرتے۔ فتوی عنایت فرمائیں ۔ بینوا توجروا

الجواب ہوالموفق للصواب:۔

سورج جب ٹھیک سر پرہوتاہے،اس کووقتِ استوا ء اور جب سر سے ڈھل جائے تو اسے وقتِ زوال کہا جاتاہے،بوقتِ استوا ء نماز پڑھنامنع ہے ۔ اور زوال کے بعد جائز ہے(۱)،   اسلام میں وقت کی نحوست کاکوئی تصور نہیں۔اس لئے عین استواء کے وقت بھی نماز کے سواباقی کام جائز ہیں(۲)۔فقط واللہ تعالی اعلم
العبد ابوالسعود احمد عفی عنہ 
؍۸رجب المرجب ۱۴۱۱ 
(فتوی نمبر۱۸۹؍۱۴۱۱ھ)

؍(۱)وکرہ تحریما الخ صلاۃ مطلقا الخ مع شروق الخ واستواء،الدر، قولہ واستواء التعبیربہ اولی من التعبیربوقت الزوال لأن وقت الزوال لا تکرہ فیہ الصلاۃ اجماعا، بحرعن الحلیۃ أی لأنہ یدخل بہ وقت الظھر کما مر(رد المحتار ج :۱؛ص:۳۷۱)
ثلاثۃ أوقات لایصح فیھاشیء من الفرائض والواجبات الخ والثانی:عنداستوائھافی بطن السماء الی أن تزول أی تمیل الی جھۃ الغرب الخ لقول عقبۃ بن عامر رضی اللہ عنہ ثلاثۃ اوقات:نھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أن نصلی فیھاالخ وعند زوالھا حتی تزول الخ رواہ مسلم’’مراقی الفلاح‘‘قولہ وعند زوالھاأی قرب زوالھاوھووقت الاستواء فالمعنی عنداستوائھا حتی تزول(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح ص: ۱۸۶)

؍(۲)مااصاب من مصیبۃ فی الارض ولافی انفسکم الافی کتاب من قبل ان نبرأھاان ذلک علی اللہ یسیر(سورۃ الحدید ۲۲) ومامن ساعۃ من الساعات الاوھی سعد علی شخص نحس علی آخر باعتبارمایحدث اللہ تعالی فیھامن الملائم والمنافر والخیر والشر فکل یوم من الایام یتصف بالامرین لاختلاف الاعتبار الخ (روح المعانی ج۱۴ سورۃ القمر ص ۸۵)
نحوست کی حقیقت بجزمعصیت کے اورکچھ نہیں اس لئے غیرمعاصی علامت ِ نحوست ہوہی نہیں سکتے ،واقعات وحوادث وتشویشات کونیہ کاعلاج صرف توکل اورتفویض اوراپنی خیالی تجویزوں کاترک کردیناہے نہ کہ تدبیروں کا (انفاس ِ عیسی ملفوظات حضرت تھانویؒ ص: ۲۱۳) (اغلاط العوام ص :۱۸۸)

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا