مضامین سلسبیل

گھریلوتشدد سے بچنے کے گُر

جناب سلیمان خان صاحب

موتی نگر، بنگلور

ہر قوم میں بلالحاظ مذہب و ملت طلاق و خلع کے واقعات وقوع پذیر ہوتےہیں ، لیکن جہاں تک مسلم معاشرے میں طلاق و خلع کے واقعات کو بھارتی خبررساںایجنسیاں متعصب شوشل میڈیا اور خصوصاً جمہوریت دشمن نظریہ رکھنے والی فسطائی حکومت اپنے سیاسی مفادات کے لئے غلط ہندسے بتا رہی ہے وہ سراسر بے بنیاد ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر تمام مذاہب کی قوموں میں طلاق و خلع کی شرح کا اوسطاً تناسب دیکھا جائے تو مسلم معاشرے میں یہ بہت کم پایا جاتاہے ۔ 
ازدواجی زندگی میں جھگڑے اور میاں بیوی کے درمیان کھٹ پٹ اور ان بن ہونا ایک فطری چیز ہے ، جہاں چوڑیاں ہوں وہاں کھنکنےکی آواز ضرورآئے گی، البتہ اگر مرد عورتوں کی ناز برداریاں اسی طرح عورتیں مردوں کی حاکمیت کو بہتر طور سے سمجھنے لگیں تو ازدواجی زندگی پر سکون ماحول میں گذرے گی اور گھریلو جھگڑوں کا خاتمہ نہ سہی طلاق و خلع کی شرح کو کم تو کیا جاسکتا ہے ۔ بسا اوقات میاں بیوی کی ضد اور ہٹ دھرمی خاندان کو تباہی تک پہنچا دیتی ہے ، حالانکہ یہ رشتہ اللہ کی طرف سے اور اللہ کے نام پر قائم ہوتا ہے ۔
حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ نے نکاح کو ہمارے لئے دین کی تکمیل کا ذریعہ بنایا ہے ، یہ ایک جوڑے کے رشتے کو غیر معمولی حد تک گہرا کرتا ہے ، کسی بھی قریبی رشتے میں تنازعات کا ہونا ناگزیر ہے ، یہ نا ممکن ہے کہ دو افرا د رشتہ ازدواج سے منسلک ہوں اور ان کے درمیان ایسے اختلافات نہ ہوں جو پریشانی کا باعث بنیں۔ غصہ ،ضد، ہٹ دھرمی ؛یہ سب فطری ہیں،لیکن جب بات کسی دوست یا رشتے دار کی ہو تو پھر اختلافات کے باوجود بھی آپ اپنی دوستی اور رشتے داری کو نبھاتے رہتے ہیں ، مگر جب بات آپ کی شریکِ حیات کی ہو توآپ سمجھوتے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور سارے کنبے کو ہلاکر رکھ دیتے ہیں۔ آپ اپنے شریک حیات کےبہت قریب رہنا چاہتے ہیں پھر بھی جو محبت آپ ان کے ساتھ بانٹتے ہیں وہ مشروط نہیں ہوسکتی ۔ شریکِ حیات کے ساتھ اختلافات کا ہونا بھی فطری عمل ہے ۔ بہت سے اختلافات آپ کے سمجھوتے سے درست ہوسکتے ہیں ، یہ اختلافات غلط عقیدے گھٹیا خاندان کھانوں کی پسند نا پسند ،یا ایک دوسرے کے مشاغل جیسی چیزوںسےمتعلق ہوسکتے ہیں۔ان اختلافات سے پیدا ہونے والے تنازعات کے بارے میں ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی ۔ لیکن جب بات آتی ہے کہ ہم ان تنازعات پرکیا رد عمل ظاہر کرتے ہیں ، تو زیادہ تر لوگ اپنے ازدواجی تنازعات کے بارے میں بالکل بھی کوئی وضاحت نہیں کرپاتے ۔ شوہر یا بیوی کسی چیز سے پریشان ہوسکتے ہیں اورمحض ان جذبات پر رد عمل ظاہر کرنا جس کا اختتام شور و ہنگامے پر ہوسکتا ہے یا پھر دونوں کے درمیان کچھ عرصہ کا فاصلہ ہوسکتا ہے ،تو اس قسم کے ردِ عمل سے گریز کرنا چاہئے ۔ 
بہت کم لوگ ہیں جو تنازعات کو پر سکون ماحول میں طے کرتے ہیں، سمجھنے کی سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ازدواجی زندگی کےکئی مقاصد ہیں۔اکثر عوام ایسے ہیںجو تنازع سے بچنے یا اسے حل کرنے کے گر سے نا واقف ہوتے ہیں۔ 
نکاح سے دو اجنبی افراد ایک دوسرے کی زندگی کا لازمی جز اور حصہ بن جاتے ہیں ۔ جن میں سے ہر ایک کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لئے بہترین فرد بن جائے ۔ شوہر اور بیوی کا ہمیشہ اور ہر بات پر متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔ اس بات کو نہیں بھولنا چاہئے کہ ہر شخص مختلف المزاج ہونے کےباوجود قدرتی طور پر ہر انسان میں اپنے رویہ کو بدل کراس کے اندر مثبت تبدیلی لانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔ ہمارا نقطہ نظر اپنی شریک حیات کی ضروریات کو پورا کرنے پر مرکوز ہونا چاہئے ،یہ حقوق اور فرائض کا نچوڑ ہے ،ہم جو شادی کے بارے میں ہروقت نصیحتیں سنتے رہتے ہیں وہ ہمیں اس بات سے روشناس کرانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ہم اپنی رفیقہ حیات کے حق میں کس طرح ذمہ داری نبھا رہے ہیں؟ ان رہنما اصولوں میں جونکاح کے شرعی مسائل سے متعلق ہیں ایک آدمی کو بتایا جاتا ہے کہ اپنی بیوی کے لئے جس رہن سہن اور بود و باش کی وہ اپنےخاندا ن میںعادی رہی ہے حتی الامکان اس کے مطابق روٹی کپڑا اور مکان دینے کی کوشش کرے۔ اور بیوی کو شوہرکے ساتھ صبر و استقلال کا مظاہرہ کرنے کی بھی تلقین کی جاتی ہے ۔ 
ایک عورت کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اسے اپنے شوہر کی جنسی ضروریات کیسے پوری کرنی ہے،کس حد تک شوہر کی اطاعت کرنی ہےبشرطیکہ شریعت اسلامی سے متصادم نہ ہو۔ ہم مسلمانوں کو نشوز کے سلسلے میں تعدیل کا طریقہ بھی سکھایا جاتا ہے یعنی ازدواجی تنازعات میں کس طرح منظم طریقے سے اصلاح اور تادیب کریں ۔ مزید برآںہمیں وہ واقعات بھی یاد دلائے جاتےہیں جو رسول اللہ ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ محبتانہ برتاؤ فرماتے تھے ۔ 
اگر لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ کھانا کھلانا ،کپڑا اور رہائش کا انتظام کرنا کس کا فرض ہے یا اختلافِ رائے میں حتمی رائے کس کی ہے ، اگر ہم ان حدود کو نہ جانتے ہیں جو اللہ نے شوہر کے اختیار میں رکھے ہیں تو ایک فرد ظالم دوسرا مظلوم ہوگا۔ 
بعض علماء کی تحقیقات کے مطابق ہمیں مخالف جنس کی نفسیات سے بھی واقفیت رکھنی ہے ۔ اس لئے کہ ہم اس سے اپنی محبت کو اس طریقے سے پہنچاسکتے ہیں جس طرح وہ چاہتاہے۔ 
ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے شریک حیات کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں ،بہت سے جوڑے ایسے ہیں جو شادی کے شرعی تقاضے پورا کرنے کے باوجود ان کے درمیان اختلاف ہوتا رہتاہے اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایسا کیوں ہورہاہے ؟ یا اسے کیسے حل کیا جائے ؟
چنانچہ ایک جوڑے کے ازدواجی تعلقات تو پورے ہورہے ہیں ، یوںتو یہ ہر جاندار کرتا ہے ، انسان کی شادی کا ہرپہلو شرعی اور فقہی نقطہ نظر سے مکمل ہونا چاہئے، شادی کا ایک مکمل جذباتی پہلو یہ بھی ہوتا ہے ہے کہ ایک دوسرے کی کی بے چینی کو راحت میںتبدیل کریں، اور یہ اس وقت ہوسکتا ہے جب ہمارا شریک حیات ہماری خواہشات کا خیال رکھے ،بہت سے جوڑے اپنی ازدواجی زندگی میں بظاہر سنت نبوی پر عمل پیرا ہوتے ہیںاس کے باوجود اکثر اپنی روز مرہ زندگی کے جذباتی عمل کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ، ہمیں اس جذباتی تعامل کوسمجھنے اور منظم طریقے سے اپنانے کی ضرورت ہے ، جس کی بنیاد لازمی طور پر شریعت اسلامی اور سنت نبوی پر ہی ہوسکتی ہے۔ 
  معاشرتی طور پر تعلقات میںجذباتی صحت مندی کے تین مراحل پائے جاتے ہیں ۔ ان کے ذریعے آپسی اختلافات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
(اول)  آپ خود کوتبدیل کریں
اس طرح کے حالات میں سب سے پہلے اپنے طرز عمل میں تبدیلی یہ ہے کہ ہم اپنے شریک حیات پر حد سے زیادہ توجہ مرکوز کرنے سے باز آجائیں، اوراس کی ابتداء اپنے رویے کی جانچ کے ساتھ کریں۔ یہاں تک کہ جب شریک حیات کوئی ایسا کام کر رہا ہے جس کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ وہ قابلِ الزام ہے، تب بھی ہمیں اس مخصوص صورتحال کو سدھارنے کے لئے پہلے اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ اگر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا شریک حیات کچھ غلط کررہا ہے، تو عام طور پر اس کی اصل وجہ بھی ہم خود ہی ہوسکتے ہیں اور ان کے اس رویے کو سمجھے بغیر جب کوئی تنازعہ پیدا ہوتا ہے، تو ایک ہی شخص ہے جسے آپ بدل سکتے ہیں وہ آپ خود ہیں۔ لہٰذا ازدواجی تنازعات کا پہلا علاج یہ ہے کہ آپ خود کو بدلنا ہوگا۔
عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک شوہر اپنی بیوی سے ناراضگی اور مایوسی اس وجہ سے محسوس کرتا ہے کیونکہ جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باہر جاتا ہے تو اس کی بیوی اس بات کو ناپسند کرتی ہے یا پریشان ہوجاتی ہے۔ جب شوہر گھر واپس آتا ہے تو بیوی جارحانہ رویہ اختیار کرتی ہے، اوریہ صورت حال عام طور پر بحث و مباحثہ پر ختم ہوتی ہے۔ شوہر اپنی بیوی پر الزام لگاتا ہے کہ وہ اس کی زندگی پر کنٹرول رکھنا چاہتی ہے، اس لیے اسے اپنی بیوی یا سماجی زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔لیکن اگر وہ پیچھے ہٹتا ہے اور صورتحال پر غور کرتا ہے، تو وہ محسوس کر سکتا ہے کہ وہ خود بھی کچھ غلطیاں کر رہا ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ شاید اس کی بیوی کواس کے اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گذارنے پر کوئی اعتراض نہ ہو بلکہ وقت پرگھر آجائے تو کوئی شکایت نہیں ۔
ہوسکتا ہے کہ بیوی اس بات سے ناراض ہو کہ شوہر اکثر اپنے دوستوں کے لئے چھٹی کے دنوں یا دوسرے اہم اوقات میں وقت نکال لیتا ہے، جب کہ وہ اس کے ساتھ کچھ زیادہ وقت گزارنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔  لیکن شوہر اس کی اس خواہش سے واقف نہ ہو۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی بیوی کو واقعی کوئی اعتراض نہیں ہو گا اگر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزارے اور ساتھ ہی اس کی خواہشات کا بھی خیال رکھے۔ 
بہت ممکن ہے کہ شوہر جو گھر کے کام و کاج میں بیوی کے لئے زیادہ مددگار نہ ہو۔ شوہر یہ سمجھتا ہے کہ میں تو باہر جا کر کمائی کرتا ہوں اور گھر کے کسی کام کی ذمہ داری مجھ پر عائد نہیں ہوتی، جبکہ اسوۂ رسول اللہ صلی الہ علیہ و سلم میں ہمیں یہ باتیں ملتی ہیں کہ آپؐ گھر میں جھاڑو لگایا کرتے تھے، آٹا گوندھتے تھے اور گھر کے دوسرے کاموں میںہاتھ بٹایا کرتے تھے۔لیکن کیایہ مسئلہ صرف مرد کا ہی ہے؟ نہیں،عورت کو بھی یہ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس صورت حال کے پیدا کرنے میں اس نے کیا کردار ادا کیا ہے؟اگر بیوی اپنا طریقہ ہی صحیح اور مرد کا طریقہ غلط گردانے تو اس طرح وہ  دونوں ایک تعطل کا شکار ہو جاتے ہیںاور صحیح سمت میں قدم اٹھانے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوا ۔ 
جب بھی آپ کسی مسئلے کے لئے اپنے شریک حیات کو موردِ الزام ٹھہرانے والے ہوتے ہیں، تو آپ کو توقف کرنے، پیچھے ہٹنے اور اپنے آپ کو ایمانداری سے دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا واقعی یہ چیزیں ایسی ہیں ؟ کیا وہ واقعی آپ کو صرف کنٹرول کر رہی ہے؟ کیا آپ کے شریک حیات میں یہ  خامیاں ہیں، یا یہ کسی پیچیدہ مسئلے کا ردعمل ہے جس میں آپ دونوں برابر کے حصہ دار ہیں؟
(دوم)  باتوں کو چھپانے کے بجائے کھل کر اظہار کریں:
دوسری چیز یہ ہے کہ آپ اپنے شریک حیات کو اپنے دل کی بات واضح انداز میں پیش کرنا اوراسے یہ بتادینا کہ اس کا کونسا رویہ آپ پر کس طرح سے اثر انداز ہوتا ہے ۔ اس میں اپنے شریک حیات سے بات کرتے وقت پرسکون، دیانت داری اور تدبر سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ اپنےتعلقات کو بہتر بنائیںاور اپنے رشتے کو مضبوط بنائیں، تو آپ کو اپنے شریک حیات پر اپنا غصہ نکالنے کی کسی بھی طرح کی مکروہ کوششوں کو چھوڑنا ہوگاتاکہ آپ میاں بیوی کے طور پر موجودہ مسئلے پر قابو پا سکیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے تعلقات کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو کوئی اہمیت نہیںدینا چاہئے، نظر انداز کرنا چاہئے ۔ 
(سوم)اپنی بات ختم کرنے کے بعد کھلے دل سے سکون کے ساتھ دوسرے کو سنیں:
اپنے شریک حیات کے ساتھ سکون سے جو کچھ بھی وہ آپ سے کہنا چاہتا ہے اسے سننا اور قبول کرنا بھی ہوگا۔اختلاف ہر مرتبہ غلط نہیں ہوتابلکہ درست اختلافات بھی ہوسکتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھ کر اس کے ساتھ جینا سیکھناہوگا۔ اس سارے عمل کے دوران، ایک چیز ہمارے ذہن میںیہ رہنا چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک کو بطور فرد ہر وقت اپنا بہترین سلوک پیش کرنا چاہئے ۔ یہی دین اسلام میںمطلوب شادی ہے ،کیونکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم ایسے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو اصولی طور پر قربان کر دیتے ہیں،اگر دو افراد باہمی طور پران اصول پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں ، تو ان کا یہ رویہ رشتے کو مضبوط اور ایک دوسرے کو قریب تر کردیتا ہے ۔

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا