مضامین سلسبیل

بڑے حضرت ؒ کا سہل ترین قاعدہ

باب القرآن

مولانا قاری محمد سراج الدین صاحب رشادی

استاذ تجوید وقرأت دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور

قرآن اللہ کا کلام ہے اور رسول آخر الزماں کا قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ ، قرآن مجید کاایک اعجازیہ بھی ہے کہ اس سے علوم کے سرچشمے پھوٹتے ہیں ، اس کے علوم کی انتہانہیں ، تفسیر،فقہ، ادب، بلاغت، معانی، رسم الخط ، الٰہیات ، فلسفہ ، طب، غرض سارے ہی علوم کا سرچشمہ قرآن مجید ہے ، لیکن قرآنی علوم میں سب سے مقدم تلاوت کلام اللہ کی تعلیم اور تعلم ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسی لئے پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کی بعثت کے مقاصد میں سے پہلا مقصد تلاوت آیات بتلایا

ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منہم یتلوا علیہم آیاتہ الایۃ(جمعہ)

اوراس میں شک نہیں کہ تلاوتِ قرآن مجید کے لئے علم تجوید و قرأت سے واقفیت اور مخارج و صفات کی صحت اور وقوف کی معرفت بے حد ضروری ہے ۔

بانی دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور بڑے حضرت علامہ شاہ ابوالسعود احمدباقوی ؒ کا قرآن مجید سے لگاؤ مثالی تھا،آپ سفر وحضر میں ہمیشہ تلاوت میں مشغول رہا کرتے نیز ہمیشہ کوشاں رہتے تھے کہ قرآن مجید کی تعلیم عام ہو، اس کی تعلیم و تعلم کی طرف عام انسانوں کو راغب کیا جائے اس لیے کہ اس دور میں عوام تو عوام خواص ( علماء) میں بھی تجوید نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔

اللہ تبارک وتعالی نے بڑے حضرت ؒ کو علم تجوید و قرأت ماہرین فن سے سیکھنے کا موقع عنایت فرمایا اور بڑ ے حضرت نے بڑی جانفشانی سے اپنے اساتذہ کے پاس اس فن کوحاصل کیا۔ آپؒنے علم تجوید و قرأت قاری سید محمد المدنی ؒ سے سیکھا ہے جو کہ قاری عبداللہ مکی ؒ کے ممتازشاگردوں میں سے تھے ۔قاری عبداللہ مکی محتاج تعارف نہیں ، آپ اپنے زمانے کے خوش الحان اور صاحبِ فن قاری تھے آپ نے مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ سے تعلیم حاصل کی اور وہیں فن قرأت کی ترویج و اشاعت کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیا تھا ۔ دور دور سے آنے والے علم تجوید و قرأت کے پیاسوں کی پیاس بجھاتے تھے ۔ قاری عبداللہ مکی ؒ کے تلامذہ سے اللہ تعالی نے ہندوستان میں بہت کام لیا ہے ۔فنِ قرأت وتجوید سے متعلق درسِ نظامی کی مشہور کتاب ’فوائد مکیہ ‘کے مصنف قاری عبدالرحمن مکی ؒ اوربڑے حضرت کے استاذِ تجوید قاری سید محمد المدنی ؒ، حضرت قاری عبداللہ مکیؒ کے مخصوص شاگردوں میںسے ہیں ۔ اس طرح بڑے حضرت ؒ کو علم ِقرأت کا فیض مکۃ المکرمہ سے حاصل ہوا۔ 

  بڑے حضرتؒ نے یہ محسوس کیا کہ جنوبی ہندوستان میں قرآن مجید کی صحیح تلاوت کا طریقہ نہیں پایا جاتا اور اس علم کے فقدان نے لوگوں کو قرآن مجید کی رحمتوں اور برکتوں سے دور کر رکھا ہے تو تلاوت قرآن کی ترویج کی خاطر بڑے حضرت ؒ نے آسان اور سہل انداز میںباب القرآن تصنیف فرمائی۔ ضرورت اور افادیت کے اعتبار سے اس کتاب کا نہ کوئی ثانی تھا اورنہ آج ہے ۔ سینکڑوں طلبہ نے باب القرآن کے ذریعے قرآن صحیح پڑھنا سیکھا ،مساجد میںنمازیں درست ہوئیں ،جس کے نتیجے میں لوگوں کا تعلق اللہ سے بنا اور نجات کا سامان مہیا ہوا ۔

اللہ تعالی نے بڑے حضرتؒ کو تسہیل کا بہترین ملکہ عطا فرمایا تھا ۔ دقیق اور باریک مسائل آسان اور سہل انداز میں پیش کرنا اور سامعین کو سادہ زبان میں اپنی بات سمجھادینا ، یہ بڑے حضرت ؒ کو رب ذوالجلال کی جانب سے عطا کی ہوئی نعمت تھی ۔ بڑے حضرت ؒ نے اپنی تصنیف باب القرآن کے دیباچہ میںخود تحریر فرمایاہے کہ ’’بفضلہ تعالی یہ قاعدہ بچوں کے نازک ذہن کو مد نظر رکھتے ہوئے نفسیاتی اصول پر نہایت آسان اور دل نشین طریقے پر مرتب کیا گیا ہے‘‘ ۔ یہ بات سو فیصد یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ بڑے حضرت ؒ نے اپنی مقدس زندگی کے تدریسی تجربے کا نچوڑ ’ باب القرآن ‘ میں پیش فرمادیا ہے ۔ 

باب القرآن کی خصوصیات

بتیس صفحات والے اس مختصر مگر جامع قاعدہ کو بڑے حضرت ؒ نے دو حصوں میں تقسیم فرمایا ہے ۔ پہلا حصہ مفردات (حروف تہجی کی شناخت ) سے متعلق ہے ، بڑے حضرت ؒ نے تدریس سے متعلق ہدایت میں لکھ دیا ہے کہ استاد کو چاہیے کہ ہر سبق بچہ سے لکھوائے ، جب تک بچہ اپنے سبق کو اچھی طرح لکھنے پڑھنے اور سمجھنے پر قادر نہ ہوجائے ہرگز دوسرا سبق شروع نہ کرے ۔

حضرت کی اس ہدایت کو ملحوظ رکھا جائے تو مفردات کی ترتیب اس قدر آسان اور دلنشیں ہے کہ بچہ ایک سبق پڑھنے کے بعد دوسرا سبق استاد کے بتانے سے پہلے پڑھنے لگتا ہے ،حضرت نے ترتیب کچھ یوں قائم کی ہے کہ سب سے پہلے حروف تہجی ترتیب کے ساتھ ، پھر حروف تہجی کو بلاترتیب ذکرکیا ہے ، اس کے بعد حروف منقوطہ کی نشاندہی الگ کی گئی پھر حروف مہملہ کو بیان کیا گیا ہے ۔ اس ترتیب کو شاید ہی حضرت سے پہلے کسی نے سوچا ہو ۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ بچوںکے ذہن میںالفاظ کی شناخت خوب اچھے طریقے سے بیٹھ جاتی ہے اور وہ اس لفظ کو پورے قرآن مجید میںکہیں بھی لکھا ہوا پاتا ہے تو فوراً پہچان لیتا ہے ۔

اس کے بعد بڑے حضرت ؒ نے حسن ترتیب سے حرکات ، سکون ، تشدید ، مد ، حرکات اشباعی ، تنوین کو بیان کیا ہے ۔ حضرتؒ کا یہ انداز واقعی نرالاہے اور بچوں کے نازک ذہن کے لئے بالکل موزوں بھی ۔ قواعد لکھ کر کتاب کو بوجھل نہیں کیا گیا بلکہ یہ کام استاذ کے سپرد ہے کہ وہ تمام قواعد کو اپنی زبان سے ادا کرکے بچے کو سمجھائے ، اسی طرح مخارجِ حروف اور صفات بھی استاذ کے ذمہ ہیں کہ وہ تلفظ کرکے بچوں کو سمجھائے۔ 

باب القرآن کے دوسرے حصے میں ملے جلے حروف یعنی مرکبات کا تعارف کیا گیاہے ، حضرت ؒ نے تمام مرکبات قرآن مجید سے اخذ کیے ہیں۔ باب القرآن سے پہلے کسی قاعدہ کی کتاب میں اتنی کثرت سے الفاظ قرآنی منقول نہیں تھے ۔ بڑے حضرت ؒ نے خود لکھا ہے ’’ چونکہ اس قاعدہ میں پارۂ عم کے سیکڑوں الفاظ آگئے ہیں اس لئے اس کے ختم کر لینے کے بعد پارۂ عم شروع کرادیں تو بچے نہایت شو ق اور آسانی کے ساتھ پارۂ عم پڑھ لیں گے اور اس تدریجی طرزِ تعلیم سے باقی قرآن مجید کا پڑھنا بھی آسان ہوجائے گا ‘‘۔ 

راقم الحروف کا ذاتی تجربہ ہے کہ بچے دوسری کتابوں کی بہ نسبت باب القرآن کے ذریعے سے قرآن بہت جلد پڑھنا سیکھ لیتے ہیں ۔ جسے دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ بڑے حضرت ؒ کی یہ کاوش محض کسبی نہیں بلکہ وہبی ہے ۔ سچ ہے کہ اللہ تبارک وتعالی اپنے برگزیدہ بندوں کے دل میں قرآن مجید کی تعلیم کا انوکھا انداز ودیعت فرماتے ہیں ۔ یہ اللہ کی عطا ہے اور بڑے حضرت ؒ کی کرامت ۔

اس کے برعکس آج کل دیکھا جارہا ہے کہ بچوں کو الفاظ کی شناخت کے بجائے الفاظ رَٹانے پر زور دیا جارہا ہے ۔ کم سن طلبہ طوطے کی طرح سبق رٹ لیتے ہیں، بعدمیں الفاظ کی شناخت سے عاری رہتے ہیں ، جس کا خمیازہ یہ بھگتنا پڑتا ہے کہ اگر ان بچوں کو ان کی نصابی کتاب کا کوئی سبق سنانے کہا جائے تو وہ فرفر سنادیںگے ، لیکن قرآن مجید درمیان سے کھول کر کہیں سے پڑھنے کہا جائے تو بہت اٹک اٹک کر پڑھیں گے ۔ یہ در اصل حروف کی شناخت ٹھیک طورپر نہ ہونے کی وجہ سے ہے ۔ 

بہتر ہوگا کہ مکاتب کے ذمہ دار مسئلہ کی جڑ کو سمجھیں ، احساس کریں کہ کیوں ہمارے مکاتب میں کئی کئی سال پڑھنے کے باوجود طلبہ قرآن مجید ٹھیک طریقے سے پڑھ نہیں پاتے ۔ذمہ داروں کو چاہئے کہ اپنے مکاتب میں باب القرآن کو داخلِ نصاب کریں تاکہ بچوں کو کم مدت میں قرآن ٹھیک ٹھیک پڑھنا آجائے اور ان کی عمر ضائع نہ ہو۔ 

بالخصوص بچیوں کے مکاتب میں تو یہ چیز لازمی ہے اس لئے کہ بچی کو کم عمری میں ناظرہ پڑھنے کے قابل بنانا از حد ضروری ہوتا ہے ، عمر بڑی ہونے کے بعد بچیاں مکاتب نہیں آسکتیں اور گھروں میں بھی دینی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے وہ قرآن مجید کی بنیادی تعلیم سے زندگی بھرکے لئے محروم ہوجاتی ہیں اور آگے چل کر اپنے اولاد کوقرآن سکھانے کے قابل نہیں ہوتیں۔ ذمہ دارانِ مکاتب غور فرمائیں۔ 

اللہ تعالیٰ ہمیں باب القرآن کی اہمیت کو سمجھتےہوئے اس مبارک قاعدے سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے، بالخصوص بچوں اور بچیوں کو اس بابرکت قاعدے سے خوب استفادے کی توفیق بخشے ، مکاتب کے اساتذہ اور علماء کرام سے درخواست ہے کہ اس قاعدے کے اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اس جانب خاص توجہ مبذول فرمائیں۔ 

یہ خبر نہایت مسرت خیز ہے کہ دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں حضرت امیر شریعت مولانا صغیر احمدصاحب رشادی دامت برکاتہم نے شہر بنگلور کے متعدد رشادی ائمہ کو مورخہ ۱۵ ذی قعدہ ۱۴۴۳ھ بروز جمعرات جمع فرمایا اور باب القرآن کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مکاتب میں باب القرآن  شروع کرنے کی ترغیب دی۔ امیر شریعت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بیسیوں ذمہ دارانِ مکاتب نے اپنے یہاں’ باب القرآن ‘کی تعلیم شروع کردی ہے اورالحمد للہ روز افزوں اس میں اضافہ ہورہا ہے ، انشاء اللہ آئندہ دنوں میں اس مفید اور بر وقت اقدام کے اچھے ثمرات ونتائج ظاہر ہوں گے ۔ 

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا