مضامین سلسبیل

ہندوستان کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ذہن سازی

ہندوستان جنت نشان ایک ایسا ملک ہے جس کی اہمیت وافادیت عالمی برادری کے لئے عموماً اوربر اعظم ایشیا کے لئے خصوصاً ہر دور میں تسلیم شدہ رہی ہے۔ہمارے اس دعوے کی بیسیوں دلیلیں ابو ریحان بیرونی (متوفی ۴۴۲ھ مطابق۱۰۵۱ء)کی بے نظیر تصنیف ’’تاریخ الہند‘‘حضرت امیر خسرو(متوفی ۷۲۵ھ مطابق ۱۳۲۵ء)کی گرانقدر مثنوی’’نہ سپہر‘‘علامہ میر غلام علی آزاد بلگرامی(متوفی ۱۲۰۰ھ مطابق ۱۸۰۵ء)کی مایہ ناز تصنیف’’سبحۃ المرجان فی آثار ہندوستان‘‘اور مولانا سید سلیمان ندوی(متوفی ۱۳۵۴ھ مطابق۱۸۰۵ء)کی مؤقر کتاب’’عرب وہند کے تعلقات‘‘میں دیکھی جاسکتی ہے۔
ہندوستان عہدنبوی میں بھی خصوصی توجہ کا مرکز رہاہے،چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے’’مجھے ہندوستان سے ربانی خوشبوآتی ہے‘‘ یہ اس لئے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام بحکم خداوندی اھبطوا بعضکم لبعض عدوولکم فی الارض مستقر(اعراف :۲۴)جنت سے دنیا میں اتارے گئے تو آپ کا نزول،سر ندیپ یعنی سری لنکا‘‘کی پہاڑی پر ہوا،جہاں آج تک آپ کے نشانِ قدم چٹان پر موجود ہیںاور اس کی زیارت کے لئے دور درازعلاقوں سے عقید ت مند آتے رہتے ہیںاور یہ عمل صدیوں سے جاری ہے۔یہ مسلم حقیقت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں سری لنکا،ہندوستان سے ملحق و متصل اوراس کا ایک اٹوٹ حصہ تھا جو ایک زبردست و شدید ترین زلزلے کے بعد ٹوٹ پھوٹ کرجزیرہ کی شکل اختیار کر گیا،بقول مولانا سید سلیمان ندوی’حدیثوں اور تفسیروں میں جہاں حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ ہے وہاں متعدد روایتوں سے یہ بیان آتاہے کہ حضرت آدم ؑجب آسمان کی جنت سے نکالے گئے تو وہ اس زمین کی جنت میں جس کانام ہندوستان جنت نشان ہے،اتارے گئے(ص،۱/عرب و ہند کے تعلقات)یہ حضرت ابوالبشرؑجس وقت ارض ہند کے طول وعرض میں حیران و پریشان آہ وبکا کرتے ہوئے اِدھر اُدھر گھوم پھر رہے تھے،اس وقت آپ کی پیشانی پر جلوہ گر نور محمدیؐ کی کرنیں سر زمین ہند کے رخ زیبا کو اپنے بوسوں سے منور ومعطر کرتی رہی ہوں گی۔یہی وجہ ہے کی آپؐ کے قلب اطہر میں اس کی الفت جاگزیں ہوگئی بقول شاعر:

اتانی ھواھا قبل ان اعرف الھوی
فصادف قلبی خالیا فتمکن

یعنی اس کی محبت اس وقت سے ہے جبکہ مجھے پتہ بھی نہیں تھا کہ محبت کیا ہے،میں صرف اس قدر جانتا ہوں کہ جب دل کو اس نے خالی پایا تو فوراًاس نے دل پر اپنا قبضہ جمالیا۔ہند کی دھرتی سے اس اولین محبت کی تاثیر حضور پر نور صلی اللہ علہ وسلم کے ارشاد گرامی میں رچی بسی خوشبو سے ظاہر ہونے کے علاوہ آپؐ کی ان تو جہات سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے کہ جب بھی ہندوستان کی فضا ضلالت و ظلمت سے آلودہ ہوکر حیات انسانی کے لئے سم قاتل بنی،آپؐ کا فرمان عرب وعجم کے مختلف اولیاء اللہ کو پہنچا کہ جائو!ملک ہند کے فلاں فلاں شہر پہنچواور وہاں تو حیدر رسالت کا نظام عدل و انصاف قائم کرو تاکہ اس سر زمین کی تقدیس و تنویر پھر بحال ہو جائے۔اس کی سینکڑوں مثالیں بزرگان دین کے سوانحی نگارشات اور تاریخی واقعات میں بآسانی مل جاتی ہیں۔ 
اس ضمن میں مشہور دانشور ومحقق علامہ آزاد بلگرامی کا بیان قابل توجہ ہے کہ جب آدمؑ سب سے پہلے ہندوستان اترے اور یہاں ان پر وحی نازل ہوئی تو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ وہی ملک ہے جہاں خدا کی پہلی وحی نازل ہوئی اور چونکہ’’نور محمدی‘‘حضرت آدمؑ کی پیشانی میں امانت تھا،اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابتدائی ظہور اسی سر زمین میں ہوا،اس لئے آپؐ نے فرمایا’’مجھے ہندوستان کی طرف سے ربانی خوشبو آتی ہے‘‘۔(ص:۲۹۴مولانا سید سلیمان ندوی کی تصانیف، ایک مطالعہ)
عہد نبویؐ کے بعد دور خلفائے راشدین میں بھی ہندوستان کی اہمیت و فضیلت کا اظہار مختلف مواقع پرہوتارہا ہے۔چنانچہ حضرت عمر فاروق ؓنے اپنے زمانہ خلافت میںایک عرب سیاح سے ہندوستان سے متعلق اس کی رائے دریافت فرمائی تو اس نے نہایت بلیغ اسلوب میں اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا،بحرُھا در و جبلھا یاقوت وشجر ھا عطر‘‘(ص۵/عرب وہند کے تعلقات)یعنی دریا موتیوں سے پُر ہیں،اس کے پہاڑلعل ویاقوت کے مخزن ہیں اور اس کے درخت عطربیزہیں۔
اس تمہیدکا خلاصہ یہی ہے کہ ہندوستان پر جب بھی اَدبار کی گھٹائیں چھاتی رہیں، اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اولین محبت کی لاج رکھتے ہوئے حیات بخش ہوائوں کے ذریعہ مطلعِ ہند کو پاک و صاف فرماتارہا ہے۔ اب جبکہ گلشن ہند کی آب و ہوا روز بروز مسموم ہوتی جارہی ہے اور اس کے مالی اور اس کے محافظ جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے اس چمن وطن کی آبیاری کی تھی اور اپنا تن من دھن تج کر نہ صرف اسے پروان چڑھایا تھا بلکہ اس کی عزت و حرمت کے لئے اپنی جانیں بھی قربان کی تھیں، آج انہیں مشتبہ اور مخالف قرار دیا جارہا ہے اور مختلف طریقوں سے انہیں تنگ اور ننگ کیا جارہا ہے تاکہ وہ اس لہلہاتے باغ کے گل و ثمر سے محروم رہیں حتیٰ کہ اس سرسبز و شاداب گلستان کے سائے سے بھی دور ہوجائیں۔ ایسے شدید ابتلاء کے وقت میں اور ایسی سخت آزمائش کی گھڑی میں مسلمان قوم اجتماعی طور پر اپنے ماضی کا جائزہ لے، اپنے حال کا محاسبہ کرے اور اپنے مستقبل کے لئے صحیح و مفید لائحہ عمل متعین کرے۔
راقم کی رائے میں ماضی کے سبق آموز اوراقِ پارینہ سے عبرت حاصل کرنا جس قدر ضروری ہے، اس سے کہیں زیادہ اپنی موجودہ حالت پر تدبر و تفکر اور بحث و نظر بھی ناگزیر ہے ورنہ ہم اپنے لئے اور اپنی آئندہ نسلوں کے لئے مستقبل کا کوئی واضح منصوبہ بنانہیں پائیںگے۔ آج کی اس مشکل صورتِ حال میں یہ حسنِ اتفاق تائیدغیبی سے کم نہیں ہے کہ ’’سچرکمیشن‘‘ کی رپورٹ ہمارے لئے ان معنوں میں ایک نعمتِ غیرمترقبہ ثابت ہوئی ہے کہ اس میں پیش کردہ مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی حالت کے اعداد و شمار ہماری نیم وا آنکھوں کو پوری طرح کھولنے اور حیرت زدہ کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اس ضخیم رپورٹ کا خلاصہ صرف ایک جملہ میں ادا کرنا چاہیں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ’’قوم مسلم غفلت و جہالت میں سب سے آگے اور تعلیم و تربیت میں سب سے پیچھے ہے۔‘‘ یہ اس لئے کہ مدرسوں اور کالجوں میں مسلم طلبہ کا گراف دوسری اقوام کی بہ نسبت بے حد نیچے اور ہسپتالوں اور جیل خانوں میں انتہائی اوپر ہے، اس ایک بات سے ہماری پسماندہ حالت کی عکاسی اور قوم کی طویل علالت کی تشخیص بخوبی ہوجاتی ہے۔ مگر ہمیں اس بات سے مایوس اور بددل ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ کوئی لاعلاج مرض تو نہیں جس کا بہانہ بناکر مریض بدپرہیزی کرتا رہے۔ اس مرضِ غفلت و جہالت کا علاج صحیح تعلیم و نیک تربیت سے بآسانی ممکن ہے۔ تعلیم و تربیت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں، اس سے قوم ظاہری شفائے جسمانی کے ساتھ باطنی قوت روحانی بھی حاصل کرلیتی ہے جو دراصل اسلام کا مقصد و مدعیٰ بھی ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ صحیح تعلیم سے دینی و دنیاوی (عصری) دونوں طرح کی تعلیم مراد ہے، جس سے انسانیت کا نفع مقصود ہو۔ دینی تعلیم پر آج کل خواہ مخواہ کے اعتراضات داغے جارہے ہیں کہ عصری تقاضوں پر کھری نہیں اترتی اور ضروریات زندگی کو پورانہیں کرتی۔ یہ اعتراض درحقیقت علوم دینیہ اور ان کے طریقہ تعلیم سے سراسر ناواقفیت کی بنا پر کیا جارہا ہے، چونکہ فی الوقت یہ ہمارا موضوع نہیں ہے، لہٰذا ہم اس سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف اتنا عرض کرتے ہیں کہ امت مسلمہ میں حاذق ڈاکٹر، ماہر انجینئر، باکمال سائنسدان، کامیاب تاجر، صائب الرائے دانشور، مخلص قائد اور صنعت و حرفت کا مردمیدان کا ہونا جس طرح ضروری ہے، اس طرح مسلمانوں کی دینی و شرعی رہنمائی کے لئے جید علمائے ربانی کا ہونا بھی لازمی ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے کہ

فَلَوْ لاَ نَفَرَ مِن کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَائِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْن (توبہ:۱۲۲)

(یعنی ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب کہ وہ ان کے پاس آئیں انہیں ڈرائیں شاید کہ وہ ڈرجائیں) ہم نے نیک تربیت کی بات اس لئے کہی ہے کہ عمدہ اخلاق اور صالح کردار کے بغیر تعلیم کا مصرف کسی بے جان مجسمے کی طرح بے کار و بے سوداور کسی نادان دوست کی مانند غیرنافع و بے فیض ہوتا ہے۔ اسی مفہوم کی ترجمانی مشہور صوفی شاعر حضرت جلال الدین رومیؒ (متوفی۷۱۲ھ مطابق۱۳۱۲ء) کے اس شعر سے ہوتی ہے:

علم را برتن زنی مارے بود

 علم را بردل زنی یارے بود

یعنی علم صرف ظاہری زینت کا ذریعہ بنے گا تو وہ سانپ کی طرح موذی ہوجائے اور اگر یہی علم باطن کی اصلاح کے لئے استعمال ہوگا تو وہ مخلص دوست بن جائے گا۔
الغرض دور ماضی میں اس صحیح تعلیم اور نیک تربیت کی فراوانی نے ہمارے بزرگوںکو مملکت علم وفن کا شہر یار و تاجدار بنادیا تھا، چنانچہ ایک جانب قرآن و حدیث اور فقہ و تصوف وغیرہ علوم دینیہ کے کاملین جیسے امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدبن حنبلؒ، امام غزالیؒ، امام رازیؒ اور ان کے متقدمین و متاخرین ہیں اور دوسری جانب فلسفہ و فلکیات اور طب و طبعیات وغیرہ علوم و فنون کے ماہرین جیسے فارابی، بوعلی سینا، بیرونی، اصفہانی، ابن ماجہ، ابن رشد، خیام، طوسی، دوانی اور ان کے سابقین و لاحقین اپنی اپنی دانش گاہوں اور درسگاہوں میں داد ایجاد و اجتہاد دیتے رہے ہیں۔ اس دور میں تعلیم ظاہری اتنی وسیع اور تربیت باطنی اس قدر وقیع تھی کہ خواص تو خواص عوام کے مختلف و متنوع طبقات میں بھی علم و حکمت اور فکر و بصیرت کے چرچے رہتے تھے۔ چنانچہ اونٹوں کی چرواہوں میں نامور صحابیٔ رسولؐ حضرت براء ابن عازب انصاری ؓ (متوفی۷۲ھ مطابق۶۱۹ھ) درزیوں میں حضرت حسن بصریؒ (متوفی ۱۱۰ھ مطابق۷۲۸ء) کے شاگرد حضرت ابوعبداللہ صالح بن راشدؒ جوتا سازوں میں مشہور صوفی و محدث عبداللہ بن مبارک کے شیخ حضرت خالد بن عمران الحذّاء (۱۴۱ھ ۷۵۸ء) آٹاپیسنے والوں میں امام جرح و تعدیل یحی بن سعید القطان کے شیخ حضرت خالد بن عبداللہ طحان مزنی (متوفی ۱۷۹ھ مطابق۷۹۵ء) موچیوں میں امام احمدبن حنبل کے شیخ حضرت خالدبن حیان الرقی الخراز (متوفی ۱۹۱ھ مطابق۸۰۶ء)، دھوبیوں میںا مام سفیان ثوری کے تلمیذ خاص حضرت معاویہ بن ہشام قصار(متوفی ۵؍۲۰۴ھ مطابق۲۰؍۸۱۹ء) پارچہ فروشوں میں امام مالک کے شاگرد شام کے مشہور محدث مروان بن محمدطاطری(متوفی۲۰۱۰ھ مطابق۸۲۵ء) مسالہ بیچنے والوں میں امام بخاری کے شیخ حضرت حسن بن صباح بن محمدالبزار واسطی (متوفی ۲۴۹ھ مطابق ۸۶۳ء) مزدوروں میں امام حدیث ابوعمران موسی بن ہارون بن عبداللہ حمال (متوفی ۲۹۴ھ مطابق ۹۰۶ء) لوہاروں میں مذہب امام شافعی کے عظیم فقیہ حضرت ابوبکر محمد بن احمد بن جعفر حداد (متوفی ۳۴۴ھ مطابق ۹۵۵ء) پارچہ بافوں میں ممتاز و معروف محدث حافظ ابونعیم کے استاد شیخ ابوالقاسم بن یحی بن کثیر بن صالح نسّاج واسطی (متوفی ۳۵۰ھ مطابق ۹۶۱ء) صیقل گروں میں مشہور صوفی و عالم شیخ ابوغالب محمد بن غالب بن محمد صیقل جرجانی (متوفی ۴۳۲ھ مطابق ۱۰۴۰ء) صابون سازوں میں شیخ الاسلام امام ابوعثمان اسماعیل بن عبدالرحمن بن احمد صابونی (متوفی ۴۴۹ھ مطابق ۱۰۵۷ء) شیشہ گروں میں مشہور فقیہ عبدالرحمن بن ابوبکر احمد بن علی زجاجی (متوفی ۴۹۰ھ مطابق۱۰۹۶ء) حلوائیوں میں احناف کے امام شمس الائمہ ابومحمدعبدالعزیز بن احمدحلوائی (متوفی ۴۹۸ھ مطابق ۱۱۰۴ء) وغیرہ رحمہم اللہ جیسے اہل علم و فضل کی چند مثالیں تعلیم و تربیت کی وسعت و وقعت کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔
اس مختصر تحریر کے آخر میں راقم الحروف مندرجہ بالا اپنی پہلی بات کی طر توجہ مبذول کراتے ہوئے عرض گزار ہے کہ مسلمانوں کے مختلف طبقوں میں خاص کر طبقہ دانشوران کے درمیان ہندوستان کے مسلمانوں کی مفلوک الحالی اور ان کی زبوں خیالی پر قابو پانے کی تدبیروں کو موضوع بحث بنانا اور ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کے تعلق سے غور و فکر کے لئے محافل و مجالس کے انعقاد کا خیال پیدا ہونا درحقیقت حضورپرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہندوستان پر توجہ خاص اور نظر عنایت و نگاہ محبت کا فیض ہے ورنہ خدا معلوم ہم کب 
تک خواب غفلت میں پڑے سوئے رہتے یا سرابوں کو پانی کے سرچشمے سمجھ کر سیرابی کی آس لگائے منتظر آب رسانی رہتے۔
علامہ اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا 

ترسم کہ تو می رانی زورق بہ سراب اندر
زادی بہ حجاب اندر میری بہ حجاب اندر

یعنی مجھے اندیشہ ہے کہ تو اپنی زندگی کی نائو سرابوں میںچلانے کی سعی لاحاصل کرے گا۔ اس لئے کہ تیرا جنم حجابوں میں ہوا ہے اور تیری وفات بھی حجابات کی نذر ہوکے رہ جائے گی۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ ایمانی بصیرت کے آئینہ کو خوب صیقل کریں، ناامیدی اور احساس کمتری کے دلدل سے اپنے ذہن و دل اور فکر و نظر کو باہر کھینچ نکالیں، پھر اللہ رب العزت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی عملی صلاحیتوں کو اجتماعی شکل میں بروئے کار لائیں اور اپنے معاشرے کو ارشاد ربانی ’’وَاعْتَصِمُوْا بِحَبَلِ اللہِ جَمِیْعًا‘‘ (آل عمران:۱۰۳) (یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے سب مل کر تھام لو) کی جیتی جاگتی تصویر بنائیں پھر ان شا ء اللہ ہمارے اس ملک کے نامساعد حالات خودبخود سنبھل جائیںگے اور اس میں بسنے اور رہنے والے مسلمانوں کا مستقبل بھی اپنے آپ سنور جائے گا۔ راقم کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سبھی کو اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طفیل میں نیک افکار و صالح اقدار کاحامل بنائے۔، آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ اصحابہ اجمعین والحمدللہ رب العالمین۔

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا