حضراتِ علمائے کرام ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا محمد بن آدم صاحب اس مجلس کے لئے عرصۂ دراز سے مجھ سے فرمائش کررہے تھے اور کچھ موضوعات توخود انہوں نے انتخاب کئے ، ان میںسے میں چند مسائل کے بارے میںاپنے بزرگوں کو جس طرح دیکھااور بزرگوں کاجوطرزعمل اللہ تبارک وتعالی نے دیکھنے کی توفیق عطا فرمائی، اس کے بارے میںکچھ گذارشات پیش کرتاہوں۔
پہلی بات شرائط اوراہلیتِ افتاءہے،یعنی شرائط کیاہیں اور فتوی دینے کی اہلیت کب پیدا ہوتی ہے ،یہ اس لیے بھی ضروری ہوگیاہے کہ اس موضوع پر بات کرنا کہ آج کل -اگربے تکلفی میں کہوں تو مبالغہ نہیں ہوگاکہ- تھوک کے حساب سے مفتی موجود ہیں ۔یعنی ہروہ شخص کہ جس نے درسِ نظامی پڑھ لیا،اور آج کل درسِ نظامی کے بعد تخصص فی الفتوی کی ایک ریل پیل ہے۔
پاکستان میںکم ازکم میرے علم کے مطابق سب سے پہلےتخصص فی الافتاء کادرجہ ہمارے والدماجدحضرت مولانامفتی محمد شفیع صاحبؒ نے قائم فرمایاتھا،میںاورمیرے بڑے بھائی حضرت مولانامفتی محمد رفیع صاحب (صدردارالعلوم کراچی)اس کے پہلے طالب علم ہیں، اِس وقت تک کہیں اور تخصص فی الافتاء نہیں ہواکرتاتھا،بعد میں جب شروع ہواتویہ صورتِ حال ہوگئی کہ سال بھر بلکہ سال بھرمیں بھی نومہینے کسی جگہ کچھ جزئیات یاد کرلئے اوراس کے بعد آدمی مفتی کہلانے لگا،بلکہ مفتی کالفظ اب اتنازیادہ عامیانہ اورصوفیانہ ہوگیاہے کہ ہراُس شخص کے ساتھ کہ جس کا علم کے ساتھ کوئی تعلق ہو تواس کو مفتی کے ساتھ یادکیاجانے لگا کہ مفتی فلاں صاحب ، مفتی فلاں صاحب ۔اورابھی کچھ دنوں پہلے ایک صاحب جومجھ سے دورۂ حدیث میں پڑھے ہوئے تھے ،اُن کاکوئی ایک کلپ میرے پاس آیا،اس میں ان کے نام کے ساتھ لکھا ہواتھا کہ مفتی فلاں ۔اور’مفتی فلاں‘ لکھنے کی وجہ یہ کہ میں نے درجۂ تخصص فی الفتوی میں داخلہ لے لیاہے ،تودرجۂ تخصص میں داخلہ لینے کے بعدہی سے انہوںنے اپنے آپ کو مفتی تصور کرلیا۔ لوگوں کی زبانوں پر بھی مفتی کالفظ اتناعام اورصوفیانہ ہوگیاہے کہ ہرایک شخص کے ساتھ مفتی کالفظ لگا ہوا ہے ۔
اس لئے اس دور میں خاص طور پراس بات کوسمجھنے کی ضرورت ہے کہ مفتی کیاچیزہے ؟۔
یہ صرف درس نظامی پڑھ لینے کانام نہیں ، یہ صرف جزئیاتِ فقہ یاد کرلینے کانام نہیں ۔یہ صرف کتابوں کے الفاظ ونقوش یاد کرلینے کانام نہیں ۔ یہ فتوی کی اہلیت صرف کتاب پڑھنے سےحاصل نہیں ہوتی ۔کتاب توبہرحال وہ ایک ذریعہ ہے ، جو لازمی ہے ، لیکن جب تک کسی شخص نے مدتوں کسی ماہرمفتی کی صحبت میں رہ کر فتوی کا مزاج ومذاق نہ سیکھاہو،اس وقت تک اس کو مفتی کہنااورکہلانا،اِس کی کوئی گنجائش نہیں ۔
علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ کاقول میں نے اپنی کتاب ’’اصول الافتاء‘‘ میں نقل کیاہے کہ کسی شخص کے لئے جائز نہیں ہے فتوی دینایامفتی کہلانا جب تک کہ اس نے ماہراساتذہ کی صحبت میں رہ کر فتوی کامزاج ومذاق پیدانہ کیاہو ، اب یہ مزاج ومذاق یہ ایک ایسالفظ ہے کہ جس کی جامع ومانع ’’حدِّ تام ‘‘کرنامشکل ہے۔یہ ملکہ ہے ، ملکۂ فقہیہ ہے ، جو اللہ تبارک وتعالیٰ ماہر حضرات کی صحبت سے عطافرماتے ہیں ان کے ساتھ ممارست کےذریعےعطافرماتے ہیں ،کتابیںدیکھ لینے سے یاکتابوں کے فقہی جزئیات محض یاد کرلینے سے وہ ملکہ حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ کسی ماہر مفتی کے زیرتربیت انسان نے کام نہ کیاہو۔
میں اپنے والد ماجد قدس اللہ تعالی سرہ کی یہ بات نقل کرتاہوں کہ ہمارے یہاں (دارالعلوم کراچی میں) تخصص فی الفتوی -سب جانتے ہیں -تین سال کاہوتاہے ،اس میں تین سال لگتے ہیں اورطالب علم جب داخل ہوتاہے تواس کویہ کہہ دیاجاتاہے کہ تین سال کایہ کورس ضرور ہے اوراس تین سال کے کورس کے بعد آپ کو یہ تصدیق نامہ تو بے شک دیدیاجائے گاکہ آپ نے تین سال تک یہاں فتوی کی تربیت لی ہے ، لیکن مفتی کی سرٹیفکیٹ ہم اس وقت نہیں دے سکتے جب تک کہ ہمیں اس بات کااطمینان نہ ہوجائے کہ فتوی کاصحیح مزاج ومذاق آپ تک پہنچ گیاہے،آپ کے اندر پیدا ہوگیا ہے ۔ بعض ایسے بھی پاکستان کے ہمارے ساتھی ہیں جو ہمارےتخصص فی الفتوی کے درجے کے اندرآئے، صرف چھ مہینے انہوں نے ہمارے ساتھ کام کیااورچھ مہینے کے بعد ہم نے ان کو مفتی قراردیدیا۔ لیکن بعض ایسے بھی ہیں جوتین تین سال تک ہمارے ساتھ رہے ہم نے انہیں مفتی قرار نہیں دیا،ان کو ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں تصدیق نامہ دیتے ہیں کہ انہوں نے تین سال ہمارے پاس پڑھاہے ، لیکن مفتی کاخطاب یہ ان کو دینے کے ہم پابند نہیں ۔باوجود تخصص فی الافتاء کرنے کے ۔کیوں؟ اس لئے کہ یہ صرف کتابیں پڑھ لینے سے حاصل نہیں ہوتا ۔ بلکہ یہ درحقیقت ایک خاص مزاج ہے ، مذاق ہے ، ملکہ ہے ، جو مفتی کے لئے ضروری ہے، اس کے بغیر مفتی نہ بنتاہے اور نہ کہلانے کامستحق ہوتاہے۔ یہ مزاج ومذاق کیاہے ،تو میں نے جیسے عرض کیاکہ اس کی کوئی ’’حدِّ تام‘‘جامع مانع تعریف نہیں کی جاسکتی ۔یہ ایک خوشبو ہے،ایک ذائقہ ہے جو اللہ تبارک وتعالی صرف ’’ماہر اساتذہ کی صحبت‘‘ کے نتیجے میں عطافرماتے ہیں۔
میںکہاکرتاہوںجیسے گلاب کی خوشبواورچنبیلی کی خوشبو ان دونوں کے درمیان فرق ہے کہ نہیں ۔لیکن اگرکوئی یہ کہے کہ گلاب کی خوشبو کی کوئی جامع مانع تعریف کروجواس کو چنبیلی سے ممتازکردے تو یہ کسی کے بس میں نہیں۔کوئی بڑے سے بڑامنطقی گلاب کے خوشبو کی تعریف نہیں کرسکتا ۔ آم بھی میٹھاہوتاہے اورخربوزہ بھی میٹھاہوتاہے،لیکن آم کی مٹھاس اورخربوزہ کی مٹھاس میں کیافرق ہے،اس کی اگرکوئی جامع مانع تعریف کرناچاہے کہ خربوزہ کی مٹھاس کی تعریف یہ ہے اورآم کی مٹھاس کی تعریف یہ ہے تو وہ کرنہیں سکتا۔اس کاواحد حل کیاہے ؟۔ حل یہ ہے کہ اگر گلاب کوسمجھناہے تو اس کوسونگھناہوگااورچنبیلی کی تعریف معلوم کرنی ہے تواس کو سونگھناہوگا۔آم کی مٹھاس سمجھنی ہے توآم کو چوسناہوگا۔یہ محض کتاب اورمحض الفاظ کے ذریعےاس کاعلم حاصل نہیں ہوسکتا۔
یہی بات فتوی کے اندریہ ہے کہ فتوی کاایک مزاج ہوتاہے اوراس کاایک مذاق ہوتا ہے ، اس مزاج ومذاق کے تحت اللہ تبارک وتعالی جو ملکہ عطافرماتے ہیں وہ صرف صحبت سے حاصل ہوتا ہے ۔جس کی صحبت میں رہ کر بندہ نے افتاء کی تربیت حاصل کی ہو،اُسی کواللہ تبارک وتعالی وہ مزاج ومذاق عطافرماتے ہیں ۔
اسی لئے سب سے پہلے اس بات پرمتنبہ -میں اپنے آپ کو پہلے ۔اوراپنے واسطے سے دوسرے حضرات کوکرناچاہتاہوں کہ سچی بات ہے کہ مفتی جوہے وہ بہت بڑامنصب ہے، اتنا بڑا منصب ہے کہ علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ اورعلامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو توقیع عن رب العالمین سے تعبیر فرمایاہے ۔