مضامین سلسبیل

فتاوی

امیرشریعت ،بڑے حضرت علامہ شاہ ابوالسعود احمد باقویؒ

السوال:۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص بیمہ (انشورنس )کی رقم ایک مدت تک جمع کیا ہے اور اس کی مقررہ مدت کے بعد جو پیسہ اسے زائد آتا ہے، کیا اس پیسہ کو دین کے فرائض میں سے ایک فرض یعنی حج کےاخراجات میں صرف کرنا جائز ہے ؟ جواب عنایت فرماکر مہربانی فرمائیں ۔

الجواب ہوالموفق للصواب:۔

بیمہ سے حاصل شدہ وہ رقم جو خود کی جمع کردہ ہے ،وہ حلال ہے ، اس سے حج کرنا جائز ہے اور جو زائد رقم بطورِ سود ملتی ہے، وہ حرام ہے، اسے حج میں صرف نہیں کرنا چاہیے ، اس لیے کہ مالِ حرام سے کیا ہوا حج مقبول نہیں ہوتا(۱)

۔ ویجتھد فی تحصیل نفقۃ حلال فانہ لا یقبل الحج بالنفقۃ الحرام مع انہ یسقط الفرض معھا وان کانت مغصوبۃ کذا فی فتح القدیر (عالمگیری ج۱؛ص۲۲۰)فقط واللہ تعالی اعلم
العبد ابوالسعود احمد عفی عنہ ۸ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۲ھ (فتوی نمبر ۱۴۰۲ھ ؍۲۸)

؍(۱)ويجتهد في تحصيل نفقة حلال فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث، مع أنه يسقط الفرض عنه معها

 ولا تنافي بين سقوطه  وعدم قبوله فلا يثاب لعدم القبول  ولا يعاقب عقاب تارك الحج (ردالمحتار ج۲ ص ۴۵۶)

 

السوال:۔

بکر صاحبِ استطاعت ہے ، زکوٰۃ باقاعدہ ادا کرتاہے، حتی المقدور قرابت داروں کی ضروریات کو پورا بھی کرتا ہے ، دینی مدرسے ، مکاتیب اورتعمیر ِمسجد میں بھی حصہ لیتا ہے ۔ ہر سال ماہِ رمضان المبارک میں عمرے کے لیے جاکر ارکان ادا کرتے ہوئے حرم شریف میںتراویح فرض نماز کے بعد پورے بیس رکعت ادا کرکےمزید طواف اور عمرہ کرتاہے ۔ ان کو شوقِ عمرہ رمضان المبارک کی ابتداء سے ہی موجزن ہوتا ہے ۔ معترضین کا کہنا ہے کہ ہر سال نفل عمرہ شرعاً درست نہیں ، سفر کے اخراجات کو ملک کے ضرورت مندوں پر خرچ کیا جائے ۔ شرعی نقطۂ نظر سے بکر کو ہرسال عمرہ کرنے کا معمول جاری رکھنا درست ہے یا نہیں؟۔ فتوی عنایت فرماکر مشکور فرمائیں ۔

الجواب ہوالموفق للصواب:۔

عمرہ عمر میں ایک بار سنتِ مؤکدہ ہے یہ سال بھر جائز ہے اور رمضان میں مستحب ہے ، بار بار عمرہ کرنا یا ہررمضان میں عمرہ کرنا ناجائز یا مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے البتہ شدید ضرورت مندوں ،مصیبت زدہ لوگوں ، دین کے خدمت گزاروں اور حضراتِ سادات کی امداد واکرام باربار کے عمرہ سے زیادہ بہتر اور افضل ہے۔

والعمرۃ فی العمرمرۃ  سنۃ مؤکدۃ الخ وجازت فی کل السنۃ وندبت فی رمضان، الدر،قوله والعمرة في العمرمرة سنة مؤكدۃ الخ فالحاصل ان من اراد الاتیان بالعمرۃ علی وجہ افضل فیہ فبأن یقرن معہ عمرۃ فتح، فلا یکرہ الاکثار منھا خلافا لمالک، بل یستحب علی ما علیہ الجمہور(ردالمحتار ج۲؛ ص: ۴۷۲) واذاکان الفقیر مضطرا او من أھل الصلاح أو من ال بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقد یکون اکرامہ افضل من حجات وعمر وبناء ربط (ردالمحتار ج۲؛ ص۶۲۱)فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعود احمد عفی عنہ ۲۲ ذوالقعدۃ ۱۴۱۲
(فتوی نمبر۲۶؍۱۴۱۲ھ )

السوال:۔

کیا فرماتے ہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ میںنے زیدکو ایک کثیر رقم شرکت میں کاروبار کرنے کی شرط پر دی تھی، ایک سال تک انہوں نے شرکت میں کاروبار کیا اور کچھ منافع بھی دیا، بعد میں مشترکہ کاروبار روک کر انہوں نے میری اجازت کے بغیر میری رقم کو اپنے ذاتی کاروبار میں لگادیا ۔ بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود میری رقم واپس نہیں کرپاتے ۔ ہمیشہ چار چھ مہینے کا وعدہ کرتے مگر وفا نہیں کرپاتے۔ اس درمیان میںانہوں نے کافی رقم خرچ کرکے اپنے تین لڑکوں کی شادیاں کیں ۔ اب چوتھے لڑکے کی شادی بھی کرنے والے ہیں ، مزید انہوں نے کافی رقم خرچ کرنے اپنے گھر کی از سر نو تعمیر بھی کرلی ہے اور ان کے کاروبار میں بھی کافی ترقی ہوئی ہے ، اس سال انہوں نے مع اپنی اہلیہ حج کرنے کی درخواست دے کر منظوری بھی حاصل کرلی ہے ۔ وہ صاحب جائداد بھی ہیں ، وہ چاہیں تو کوئی ایک جائیداد بیچ کر بھی میری رقم واپس کرسکتے ہیں ۔ مگر ایسا نہیں کررہے ہیں۔ براہِ کرم فتویٰ صادر کیجئے کہ دوسروں کا واجب الاداء قرضہ ادا کیے بغیر حج ادا کرنا جائز ہے یا نہیں ۔ ایسی صورت میں ان کا حج ادا ہوگا یا نہیں؟ ۔ فتوی مرحمت فرماکر ممنون فرمائیں ۔

الجواب ہوالموفق للصواب:۔

قرض ادا کرنا لازم ہے اور سہولت کے باوجود اس کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا جائزنہیں ۔ حج کے آداب میں سے ہے کہ قرض ادا کرکے حج کو جائے ، لیکن اگر کسی نے قرض ادا کیے بغیر حج کرلیا تو بھی حج ادا ہوجائے گا(۱)

واما آدابہ فانہ اذا اراد الرجل ان یحج قالوا ینبغی ان یقضی دیونہ کذا فی الظھیریۃ (عالمگیری ج ۱، ص۲۱۹) فقط واللہ تعالی
اعلم العبد ابوالسعود احمد عفی عنہ ۱۳ رجب ۱۴۱۱ھ
(فتوی نمبر۱۹۳؍ ۱۴۱۱ھ)

؍۰۱)وينبغي لمن يتوجه إلى الحج الشريف أن يتوب إلى الله تعالى مما اكتسب وما فعل من أنواع الذنوب عسى ربه أن يكفر عنه سيئاته وأن يرضي خصومه ويقضي ديونه إلا ما كان مؤجلا (مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر ج۱ ص ۳۱۴)

السوال:۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زکوۃ کا مال غیر مسلم کو دیا جاسکتا ہے ، ہمارے شہر میں اکثروں کی ترتیب یہ ہے کہ زکوٰۃ کے مال سے سال میں ایک مرتبہ اپنی اپنی فیکٹریوں کے ملازموں کے لئے کپڑے بنوادیے جاتے ہیں، ملازم اکثر غیر مسلم ہوتے ہیں ، کیا یہ درست ہے ، نیزعید الاضحی کے موقع پر جو قربانی دی جاتی ہے ، کیا اس کا گوشت غیر مسلموںکو دینا جائز ہے یانہیں ؟ ۔ فتوی عنایت فرماکر مشکور فرمائیں ۔

الجواب ہوالموفق للصواب:۔

غیر مسلم کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں، قربانی کا گوشت دینا جائز ہے ۔

واما اھل الذمۃ فلا یجوز صرف الزکوٰۃ الیھم بالاتفاق (عالمگیری ج۱، ص۱۸۸) ویھب منھا ما شاء للغنی والفقیر والمسلم والذمی الخ (عالمگیری ج۵، ص۳۰۰)
فقط واللہ تعالی اعلم العبد ابوالسعوداحمد عفی عنہ ۱۵ ذوالحجۃ ۱۴۰۹ھ
(فتوی نمبر ۹؍۱۸۸)

السوال:۔

گذرے ہوئے لوگوںکی طرف سے قربانی دینا(برائے ایصالِ ثواب) جائزہے یا نہیں؟۔ فتوی مرحمت فرماکر مشکور وممنون فرمائیں۔

الجواب ہوالموفق للصواب:۔

 میت کی طرف سے قربانی جائز ہے ۔

قال في البدائع : لان الموت لا یمنع التقرب عن المیت بدلیل انہ یجوز ان یتصدق عنہ ویحج عنہ وقد صح ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضحی بکبشین احدھما عن نفسہ و الاٰخر عمن لم یذبح من امتہ(۱) (ردالمحتار ج۶، ص۳۲۶)فقط واللہ تعالی اعلم
العبدابوالسعوداحمد عفی عنہ ۱۹ جمادی الاولی ۱۴۰۱ھ
(فتوی نمبر ۱۴۰۱ھ؍۳۵)

؍(۱) عن جابر بن عبد الله، قال: شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الأضحى بالمصلى، فلما قضى خطبته نزل من منبره وأتي بكبش فذبحه رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده، وقال: بسم الله، والله أكبر، هذا عني، وعمن لم يضح من أمتي( سنن ابو داؤد  رقم الحدیث ۲۸۱۰)( سنن ترمذی ۱۵۲۱)  أنه عليه الصلاة والسلام إنما فعل ذلك لأجل الثواب، وهو أنه جعل ثواب تضحيته بشاة واحدة لأمته، لا للإجزاء وسقوط التعبد عنهم(بذل المجہود شرح ابوداؤد ج ۹ ص ۵۶۳)

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا