مضامین سلسبیل

اللہ کا وجود اور اس کی قدرت

حضرت علامہ شاہ محمدقمر الزماں صاحب الہ آبادی

خلیفہ حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب

کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، ذیل میں حضرتِ والا کا ایک اہم خطاب جو آپ نے بتاریخ یکم ذی قعدہ ۱۴۴۳ھ مطابق ۲ جون ۲۰۲۲ء ،بروز جمعرات اپنے دولت کدہ پر ارشاد فرمایا تھا قارئینِ سلسبیل کے افادے کے لئے پیش ہے ۔

حمد و صلوٰۃ کے بعد فرمایا۔۔
قال تعالیٰ: اَدْعونی استجب لکم 
مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا ، اسی طرح ایک دعا، ایک دیہاتی کی دعا ، اعرابی کی دعا، جس کو نبی کریم ﷺ نے پسندفرمایا ، آج اسی کو میں نقل کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ اس کو ہم سب کے حق میں قبول فرمائے ،آج دلی تقاضا ہے کہ اِس اعرابی صحابی کی دعا نقل کروں، جس کو حضور ﷺ نے پسند بھی فرمایا اور اس کو اس دعا پر قیمتی تحفہ بھی عنایت فرمایا ، وہ حدیث مبارک یہ ہے ۔

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَعْرَابِيٍّ، وَهُوَ يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا مَنْ لَا تَرَاهُ الْعُيُونُ، وَلَا تُخَالِطُهُ الظُّنُونُ، وَلَا يَصِفُهُ الْوَاصِفُونَ، وَلَا تُغَيِّرُهُ الْحَوَادِثُ، وَلَا يَخْشَى الدَّوَائِرَ، يَعْلَمُ مَثَاقِيلَ الْجِبَالِ، وَمَكَايِيلَ الْبِحَارِ، وَعَدَدَ قَطْرِ الْأَمْطَارِ، وَعَدَدَ وَرَقِ الْأَشْجَارِ، وَعَدَدَ مَا أَظْلَمَ عَلَيْهِ اللَّيْلُ، وَأَشْرَقَ عَلَيْهِ النَّهَارُ، وَمَا تَوَارَى مِنْ سَمَاءٍ سَمَاءً، وَلَا أَرْضٍ أَرْضًا، وَلَا بَحْرٍ مَا فِي قَعْرِهِ، وَلَا جَبَلٍ مَا فِي وَعْرِهِ، اجْعَلْ خَيْرَ عُمْرِي آخِرَهُ، وَخَيْرَ عَمَلِي خَوَاتِيمَهُ، وَخَيْرَ أَيَّامِي يَوْمَ أَلْقَاكَ فِيهِ. فَوَكَّلَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – بِالْأَعْرَابِيِّ رَجُلًا فَقَالَ: ” إِذَا صَلَّى فَائْتِنِي بِهِ “. فَلَمَّا صَلَّى أَتَاهُ وَقَدْ كَانَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – ذَهَبٌ مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ، فَلَمَّا أَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ وَهَبَ لَهُ الذَّهَبَ وَقَالَ: ” مِمَّنْ أَنْتَ يَا أَعْرَابِيُّ؟ “. قَالَ: مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ” هَلْ تَدْرِي لِمَ وَهَبْتُ لَكَ الذَّهَبَ؟ ” قَالَ: لِلرَّحِمِ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ” إِنَّ لِلرَّحِمِ حَقًّا، وَلَكِنْ وُهِبْتُ لَكَ الذَّهَبَ بِحُسْنِ ثَنَائِكَ عَلَى اللَّهِ – عَزَّ وَجَلَّ- “.رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

[جمع الفوائد : رقم الحدیث 17267 – باب فیما یستفتح بہ الدعا من حسن الثناء علی اللہ تعالیٰ]

[کذا فی المعجم الاوسط للطبرانی : رقم الحدیث : 9448]

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ ایک دیہاتی صحابی کے پاس سے گذرے ، جو دورانِ نماز ان الفاظ میں دعا کررہا تھا، اے وہ ذات جو نگاہوں سے پوشیدہ ہے –کیا عمدہ ہے ، عربی میں کتنے عمدہ الفاظ ہیں ، اس میں (اردومیں ) بھی عمدہ ہے ، ترجمہ ٹھیک کیا ہے ۔ اے وہ ذات جو نگاہوں سے پوشیدہ ہے ،جو خیال و گمان میں نہیں سما سکتا ہے، اللہ کہاں ہے؟ ہر جگہ اللہ ہے،دلوں میں ہے ، سروں پر ہے ، ہر جگہ اللہ ہے ، پہلو کے بدل بیٹھ کر پکارو، جس طرح چاہو پکارو، ہر طرف اللہ ہے ، اللہ تعالیٰ اس کا عقیدہ دے ہم سب کو۔جو نہیں مانتا ہے وہ دہریہ ہے ، تم کو ماننےمیں کیا حرج ہے بھائی ، جِن کو دیکھ رہے ہو ، کیا جِن کو دیکھ پاتے ہو، نہیں ، تو پھر اللہ کونہ دیکھ پانےسے ان کا انکار کیوں، اسی طرح ہوا کو دیکھ رہے ہو؟ نہیں ، پھر ہوا کو نہ دیکھنے کی وجہ سے اس کا انکار کیوں نہیں کرتے ۔ٹہنیاں ہل رہی ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ ہوا چل رہی ہے ۔
ایک بہت بڑے عالم ہیں، انہوں نےکہا کہ کتنے بیوقوف ہیں یہ لوگ ، کہتے ہیں کہ ٹہنیاں ہلتی ہیں ،اس سے ہوا چلتی ہے ۔ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ ہوا چلنے سے ٹہنیاں ہلتی ہیں۔ کسی بڑے آدمی نے لکھا تھا یہ ، اس کی تردید کی ۔ 
جن دکھائی دیتا ہے ، نہیں نا ، اسی طرح اللہ دکھائی نہیں دیتا ،مگرسمجھنا چاہئے ۔
اعرابی کی بات ’’اے وہ ذات جو نگاہوں سےپوشیدہ ہے ‘‘ اسی پر کہہ رہا ہوں کہ جس طرح ہوا ہے ، ہوا کی وجہ سے آواز پہنچتی ہے ، کان سنتا ہے ،ناک سونگھتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمام اعضاء کے اندر صفات رکھی ہیں ، وہ سب اپنا اپنا کام کرتے ہیں، کان کام کرتا ہے سننے کا، آنکھ کام کرتی ہے دیکھنے کا۔ 
وحی کے لئے بھی ایک کان چاہئے ، آج کچھ کفار اور ملحد قسم کے لوگ ہیں ،ان کو وحی سمجھ میں نہیں آتی۔ جس طریقے سے یہاں کی چیزوں کودیکھنے کے لئے چشمے کی ضرورت ہے وہاںکی چیزوں کو دیکھنے کے لئے نورِ قلب کی ضرورت ہے ، نورِ ایمان کی ضرورت ہے ۔ آنکھ کی انتہاء ہے لیکن نورِ بصیرت کی کوئی انتہاء نہیں ۔اسی نورِ بصیرت سے آدمی مغیبات کو سمجھتا ہے ، آنکھ کی طاقت محدود ہے ، جب نورِ وحی ملتی ہے تووہ خوب روشن ہوجاتی ہے ۔نورِ عقل بہت محدود ہے ، جب نورِ بصیرت ملتا ہے تو بہت روشن ہوجاتا ہے ۔ ابوجہل ، ابولہب بہت قابل لوگ تھے ، لیکن نورِ وحی جب تک نہ ہو کچھ نہیںہوگا۔ علامہ ابن القیم کی بات نقل کررہاہوں کہ بہت مُسلّم لوگ تھے یہ سب (ابوجہل ابولہب وغیرہ)۔ 
اسی طرح علم کی روشنی کی بھی ایک حد ہے ، علم کے بعد وحی کا درجہ ہے ،وہ تم نہیں سمجھ سکتے ، ماہر سے ماہر شخص بھی وحی کی بات ازخود سمجھ نہیں سکتا۔ جس میں زمانےاور حالات کے اعتبار سے کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ، اللہ کے علم کو کوئی نہیں پہنچ سکتا ۔ وہ سمندر میں پانی کے قطروں سے واقف ہے ، کتنے قطرے ہیں اس سے واقف ہے ۔ یہ ہے توحید ۔ وہ واجب الوجود ہے ، واجب السمع ہے ، اس کے سمع میں بھی کوئی کمی نہیں آتی ، وہ پہاڑ کے وزن سے، سمندر میں پانی کی مقدار سے ،اور بارش کے قطروں کی تعداد سے واقف ہے ، یہ توحید ہے ۔ 
 
خاک سمجھیں گے یہ ظاہر بیں رموزِ معرفت
جو ہمیشہ شاہدِ بازار کی باتیں کریں
جو محبوبوں کی باتیں کرتے ہیں، بازار کے معشوقوں کی باتیں کرتے ہیں وہ بھلا معشوقِ حقیقی کی بات کیا سمجھیں گے ۔وہ اللہ بارش کے قطروں کی تعداد سے واقف ہے ، جنگلوں میں درختوں کی تعداد سے واقف ہے ، آپ جائیے افریقہ کے جنگلوں میں ،یا اللہ ، کس قدر جنگل ہے ، اللہ ان جنگلوں کے درختوں سے بھی واقف ، درخت کے پتوں سے بھی واقف اور درخت کے پتے جو گرتے ہیں اس سے بھی واقف ۔ کونسا پتہ کہاں گرا ، اس سے بھی واقف ۔ 
قرآن کہتا ہے ، ہے کہ نہیں ، قرآن میں ہے ، تقسط   اور لکھا ہے کہ پتہ وہی گرتاہے جو ذکر چھوڑ دیتا ہے ، ، آج ہم لوگ گر رہے ہیں پتہ گرنے کی طرح ، ذکر چھوڑنے کی وجہ سے ، صرف اللہ اللہ کرنا ذکر تھوڑی ہے ، یاد ، اللہ کی یاد ضروری ہے ۔ 
اس لئے ڈرنا چاہئے ایسے حوادث سے ، جب زلزلہ آتا ہے تو کتنے آدمی ہلاک ہوجاتے ہیں، میں احمد آباد گیا ، جہاںزلزلہ آیا ، دیکھا کہ پندرہ مالہ ، بیس مالہ کی عمارت ہے ، اوربیس میں سے پندرہ خانہ زمین کے اندر چلا گیا ہے ، پانچ اوپر ہے ۔ یہ اللہ کی شان ہے ۔ بہرحال اس بات سے وہ آگاہ ہے کہ زمین و آسمان میں موجود چیزوں کی تعداد کیا ہے ، اس سے نہ آسمان کا کوئی حصہ پوشیدہ ہے او ر نہ زمین کی کوئی چیز ۔ نہ سمندر کی تہہ میں کوئی چیزاس سے پوشیدہ ہے ۔ اور نہ پہاڑ کے اندر رہنے والی کوئی چیز پوشیدہ ہے ۔ 
اب کیا کہہ رہا ہے اعرابی ، اے میرے پروردگار میری زندگی کا آخری حصہ سب سے خیر بنا دے ۔   آخری حصہ ایمان پر ہو۔ یہ دیہاتی آدمی کہہ رہا ہے ۔ اعرابی سوچتا ہے کہ یہ مینگنی دلالت کرتی ہے اونٹی پر ،  نشانِ قدم دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ یہاں کوئی گیا ہے ۔ تو پھر کیا یہ زمین و آسمان ویسے ہی پیدا ہوگئے ، یہ خود دلالت کرتے ہیں کہ کوئی ان کو بنانے والا ہے ۔ پھر اعرابی اپنے لیے دعا کررہا ہے کہ اے اللہ میری زندگی کا آخری حصہ سب سے خیر والا بنادے ، حوادث کا کیا ہے ، نہ جانے کب کونسا حادثہ ہوجائے ،دن رات حادثات ہورہے ہیں۔ ابھی قریب ہی کی بات ہے ، میاں بیوی اور بچے جارہے تھے کہیں سفر میں ، حادثہ ہوا، سب ختم۔ بڑے آدمی تھے، گجرات میں۔ 
سفر کررہا ہے آدمی ، مطمئن ہو کر ، گجراتیوں میں عام مزاج ہے کہ سفر کرتے ہیں تو کہتے ہیں’ دعا کرو سفر خیریت سے گذر جائے ‘۔ عام مزاج ہے وہاں کا ، یہ چیز میں نے اپنے یہاں سنی ہی نہیں ۔ وہاں ہر آدمی کہتا ہے خواہ معمولی آدمی ہو، یا کوئی بھی ہو ، سفر کے وقت کہتا ہے کہ دعا کرو سفر خیریت سے گذر جائے ۔ یہاں ہم یہ کہتے ہی نہیں ، یہاں تو یہ ہے جب کوئی مصیبت آتی ہے اور کوئی پریشانی آتی ہے ہم لوگوں کو ،تب دعا کرتے ہیں ۔ 
حادثات کبھی بھی ہوسکتے ہیں ، ہمارے ایک صاحب تھے امریکہ میں ، ان کے دو لڑکے تھے ، وہ موٹر نکال رہے تھے ، دوسری موٹر نے ٹکر ماردی ، بس ختم ۔یہ ہے موت، کوئی بھروسہ نہیں زندگی کا۔
بہرحال اعرابی یہ دعا کررہا ہے کہ اے اللہ میری زندگی کا آخری دن سب سے بہتر بنا دے ۔ اورمیرا آخری عمل سب سے بہتر کردے ۔ اور میرے لئے سب سےاچھا وہ دن بنا دے جس دن میری تجھ سے ملاقات ہو۔ 
یہ معمولی بات نہیں ہے مولوی صاحب، اس کے لئے کسی خاص علم کی ضرورت ہے ، اللہ جس کو دیدے اسی کو ملتا ہے ۔ حضرت حاجی صاحب کوئی بہت بڑے عالم نہیں تھے ، ان کے پاس گنگوہیؒ گئے ہیں ، کس چیز کے لئے گئے ہیں ، اس کے لئے کہ اللہ مل جائے ، اللہ پر یقین ، اللہ پر اعتماد ، مولانا قاسم صاحب، مولانا یعقوب صاحب یہ سب لوگ علم کے پہاڑ تھے ، جبال العلم تھے یہ لوگ۔ لیکن ایسے آدمی کے پاس گئے جو کہ اصطلاحی عالم ہی نہیں تھے ، اس وقت تو دیوبند کا مدرسہ ہی نہیں تھا ، دیوبند تو ان کی دعاؤں سے بنا ہے ۔ 
بہرحال، اس کے بعد حضور ﷺ نے ایک صاحب کو مقرر فرمایا کہ جب یہ شخص نماز سے فارغ ہوجائے تو انہیں میرے پاس لے آؤ چنانچہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے ۔ 
رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ سونا ہدیہ میں آیاتھا ،کسی کان سے ، آپ نے انہیں یہ سونا ہدیہ میں دے دیا ۔ ایسے حالات میں انعام دینا چاہئے ، یہ سنت ہے رسول اللہ ﷺ کی، کوئی موقع ہو تو انعام دینا چاہئے ، یہ لڑکے ہیں ، قرآن شریف سنا رہے ہیں ، ان کو انعام دینا چاہئے ۔
آپ ﷺ نے اسے وہ سونا ہدیہ میں دے دیا پھر پوچھا کہ’’ تم کس قبیلہ سے ہو‘‘۔
انہوں نے عرض کیاکہ ’’یا رسول اللہ ، قبیلہ بنو عامر بن صعصہ سے ہوں‘‘ ۔
آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’کیا تم جانتے ہو کہ یہ سونا میں نے تمہیں ہدیہ کیوںدیا ہے ‘‘۔
انہوں نے عرض کیا کہ ’’یا رسول اللہ ، اس وجہ سے آپ کی ہماری رشتے داری ہے ‘‘۔
اسی قبیلے سے حضور بھی تھے ، رشتے داری تھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ’’ رشتے داری کا بھی حق ہوتا ہے ، لیکن میںنے تمہیں سونا اس لئے ہدیہ دیا ہے کہ تم بہت اچھے انداز میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کررہے تھے ‘‘۔
سبحان اللہ العظیم کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اعرابی دیہاتی کی دعا کی کیسی پذیرائی فرمائی ، اور انعام دے کر کیسے حوصلہ افزائی فرمائی ۔ پس ایسے امورِ خیر کو انجام دینے پر تحسین و تکریم کرنا چاہئے ، تاکہ ایسے امورِ خیر کی ادائیگی امت کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث ہو ۔ واللہ الموفق 
اب دعا کرلو ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عافیت دے ، صحت دے ، ہر کسی میں خیر و بھلائی دے ۔ اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد وثنا کی ہم کو توفیق عطا فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ پر پورا اعتماد ، نبی ﷺ پر پورا اعتماد ،تمام علماءصالحین سے حسن ظن ، یہ وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو ترقی دینے والی ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اللہ ہم سب کو توفیق دے ۔

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، برحمتک یا ارحم الراحمین بحرمۃ سید النبی الکریم ۔

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا