مضامین سلسبیل

کامیاب طالب علم کی صفات

مو لانا نو رالحسن صاحب رشادی

منشی دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور

علم ایک لازوال اورقیمتی دولت ہے۔ وہ خرچ کرنے سے گھٹتی نہیں ،بڑھتی ہے۔اسے چرایا نہیںجا سکتا ،پانی بہا نہیں سکتا اور آگ جلا نہیں سکتی ، رشتہ دار تقسیم نہیں کرلے سکتے، علم صاحب علم کو جلا بخشتا ہے ،اسلام نے اس کےحصول کو تمام مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے ، علم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺنے فرمایا:۔

مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ

[صحیح مسلم، بَابُ فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِ ،رقم الحدیث ۲۶۹۹]

یعنی جو حصولِ علم کے لئے کہیں کا سفر کیا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمائےگا۔ 
علم کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ غارِ حرا میں نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو پانچ آیتیں نازل ہوئیں وہ تقریباً تمام کی تمام حصولِ علم کے ذرائع پر ہی مشتمل ہیں، وہ فرشتے جنہوں نے تخلیق آدم پر اعتراض کیا تھا ان پر حضرت آدم ؑ کو اسی علم کے ذریعے فضیلت و برتری حاصل ہوئی ۔
دورِ اول کے مسلمانوں نے علم و فن کی اس اہمیت و فضیلت کو سمجھا اور اس کے حصول کے لئے اَنتھک کوششیں کیں ، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دنیا کے امام اور قائد ثابت ہوئے، عروج و ارتقاء ان کا مقدر ہوا  لیکن رفتہ رفتہ مسلمانوں نے اس میدان میں کوتاہی کرنی شروع کردی بالآخر زوال و انحطاط ان کا مقدر ہو گئی اور وہ محکوم و مقہور ہوگئے ، اگر آج بھی ہم حصولِ علم میں سرگرداں اور کوشاں ہوجائیں تو یقینا ً پھرسے عروج اور اقبال ہمارے نصیب میں آجائے گا اور ہم دوبارہ دنیا کے امام اور قائد ثابت ہوں گے۔ 
امام ابویوسفؒ فرماتے ہیں کہ علم ایک ایسی چیز ہے کہ جب تم اپنی ساری زندگی اس کے لئے وقف کردوگے تب جاکر علم تم کو اپنا بعض حصہ دے گا ،جب اس کا بعض تم کو مل جائے تو اس پر تکیہ کر کے مت بیٹھ جائو ، بلکہ مزید حاصل کرنے کی کوشش کرو ۔
حضرت عبداللہ بن مبارکؒ سے حصولِ علم کی مدت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے کہا کہ علم اس وقت تک حاصل کرتے رہو جب تک جسم میں جان باقی ہو ۔
حضرت سفیان بن عینیہؒ فرماتے ہیں کہ جب اہل علم کو یہ گمان ہو نے لگے کہ اس کا علم مکمل ہو چکا ہے تو سمجھ جائو کہ اس کی جہالت کا دور شروع ہو چکا ہے ۔
حصولِ علم کے دوران اسباق کے یاد نہ ہونے یا اسباق کے سمجھ میں نہ آنے کا مسئلہ بسااوقات ایک سنگین صورتِ حال اختیار کرلیتا ہے ،اس کی وجہ سے طلبہ احساسِ کمتری کا شکار ہوکر حصولِ علم ترک کرنے کافیصلہ کر لیتے ہیں حالانکہ سلفِ صالحین کی زندگیاں بتاتی ہیں کہ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ اس کی وجہ سےحصولِ علم کا ارادہ ترک کر دیا جائے بلکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو مسلسل محنت و سعی سے بآسانی حل ہو سکتا ہے ۔
مشہور و معروف محدث امام بخاری ؒسے قوت حافظہ کی مضبوطی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ قوتِ حافظہ کا علاج مسلسل کتابوں کا مطالعہ کرنا ہے۔ آج طلبہ مطالعہ سے دور ہوتے جا رہے ہیں، مدارس میں کتب خانہ رہنے کے باوجود بہت کم طلبہ اس کا رخ کرتے ہیں اور اپنے وقت کو کھیل کود ، دوستوں کے ساتھ وقت گزاری یا موبائل میں مشغولیت کی نذر کردیتے ہیں ، جس کی وجہ سے مطالعہ کرنا تو دور کتابوں کو چھوتے بھی نہیں ہیں، نتیجتاً طالب علم پڑھائی میں کمزور ہوجاتاہے ، تعلیم وتربیت کے میدان میں نمایاں کامیابیوں سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری ہے کہ طالب علم اپنے وقت کو منظم کرے ، ہر وقت مطالعہ میںلگے رہے۔ علم اللہ کانور ہے جو اس کے فرمانبردار بندوں ہی کو ملتا ہے ، لہٰذا اس نور سے اپنا سینہ مزین کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ علم کی قدر کرتے ہوئے برائیوں سے اجتناب کریں ورنہ تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت سے اسے دوچار ہونا پڑے گا ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ۔
من لم یتورع فی تعلمہ ابتلاہ اللہ باحد ثلاثۃ اشیاء ، اما ان یمیتہ فی شبابہ او یوقعہ فی الرساتیق او یبتلیہ بخدمۃ السلطان  [تعلیم المتعلم]
یعنی جو طالب علم حصولِ علم کے زمانے میں برائیوں سے اجتناب نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے کسی ایک چیز میں مبتلا کرتے ہیں ۔؍ (۱) عین عالَمِ جوانی میں اس کی موت ہوگی ؍(۲ )وہ حیران و پریشان دردر کی ٹھوکریں کھائے گا،اپنے علم اوراپنی قابلیت وصلاحیت سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچاپائےگا ؍(۳ )یا کسی بادشاہ کی خدمت میں ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگا۔ (آج کے دور میں بادشاہ تو نہیں ہیں ہاں وہ ایسی جگہ خدمت کرےگا جہاں وہ ذلت سے رہے گا)۔
حصول علم کے لئے اساتذہ کا ادب واحترام اور عزت و توقیر نا گزیر ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جن سے تم علم حاصل کرتے ہو ان کے ساتھ تواضع و انکساری سے پیش آئو،چاہے وہ استاد چہل سبق پڑھائے یا اردو کی کوئی کتاب، تفسیر پڑھائے یا حدیث کی کوئی کتاب ، ہر ایک کا ادب و احترام کرنا طالب علم پر ضروری ہے ، طالب علم بڑی جماعت میں پہنچ جاتے ہیں تو ابتداء میں جواساتذہ  کتابیں پڑھاکربڑی جماعت کی کتابیں پڑھنے کے قابل بناتے ہیں ان کا ادب واحترام نہیں کرتے ، وہ سمجھتے ہیںکہ یہ تو پڑھاچکے ، اب ان کی عزت کیا کرنا ، ایسا سوچنا غلط ہے ، کوئی طالب علم فارغ ہونے کے بعد مدرسہ کو آتا ہے تو صرف انہی اساتذہ سے ملتاہے جو بڑی کتابیں پڑھاتےہیں ، یہ کامیاب طالب علم کی صفت نہیں ، بلکہ کامیاب طالب علم وہ ہے جو ناظرہ پڑھانے والے کو بھی اپنا محسن اور استاد سمجھےبلکہ مدرسہ کے عام اساتذہ جن کے سبق میں بیٹھنے کا اتفاق نہیں ہوا ان کو بھی اپنا استاد سمجھے، ان کا ادب و احترام کرےان کی خدمت کرے، ان سے دعائیں لے۔
کتابوں کا احترام ،درس گاہ کا احترام ،مدرسہ کا احترام کرنا بہت ضروری ہے،مدرسہ کی ہر جگہ کا احترام کرنا ضروری ہے،یہ علم آسانی سے حاصل ہونے والا علم نہیں ہے،ایک طالب علم کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی اس کی تعمیر و ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی اور مقصد کے حصول میں ناکامی کا منہ دکھانے والی چیز سستی و کاہلی ہے،سستی و کاہلی زہر کے اس قطرے کی طرح ہے جو قابل استعمال چیز کو ناکارہ بنا دیتی ہے ،کاہلی وسستی ایک ذہین وکامیاب طالب علم کو ناکامی سے ہمکنار کرتی ہے۔
مذکورہ بالا اوصاف کے علاوہ ایک مثالی طالب علم میں خوف خدا،نبی کریمﷺ سے محبت، اطاعت ، عظمت کا جذبہ ،دین و شریعت کے احکام کی پابندی ،انسانیت کی خدمت کا جذبہ ، پاکی صفائی ،اساتذہ کی تفویض کردہ ذمہ داریوں کی احسن طریقہ سے انجام دہی جیسے اوصاف پائے جاتے ہیں،طالب علم کی صفات میں یہ بھی ہے کہ بلا اجازت جماعت اور درس گاہ میں داخل ہوتا ہے نہ باہر جاتا ہے ،اپنے ماں باپ، اساتذہ ،اپنے کردار اور اپنے تعلیمی ادارے کی نیک نامی کو ہر حال میں برقرار رکھتا ہے،طالب علم کی صفات میں یہ بھی ہے کہ وہ تحصیل علم کے سفر کو پر کیف بنانے کے لئے اچھے ساتھیوں کا انتخاب کرے تاکہ اس کے اساتذہ ، والدین،خاندان کے افراد کی امیدوں ، آرزؤوں اور ارمانوںکا خون نہ ہو ۔مذکورہ بالا صفات کو اپنے اندر پیدا کرتے ہوئے ایک طالب علم خود کو نہ صرف مثالی بنا دیتا ہےبلکہ دنیا و آخرت میں عزت اورر ضائے الٰہی کا حقدار ہو جاتا ہے۔

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا