مضامین سلسبیل

نور توحيد كا اہتمام ابھی باقی ہے

مولانا محمد اعجاز خان صاحب رشادی

معاون  دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور

(دوسری اور آخری قسط)
ارتداد کے بہت سے عوامل اور اسباب ہیں ۔
؍(۱)ایک سبب’ غربت‘ ہے،بہت سی لڑکیاں صرف غربت وافلا س سے مجبور ہوکر مرتد ہورہی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے آگاہ فرمایا تھا کہ كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا  (  شعب الایمان للبیھقی ،رقم الحدیث۶۱۸۸ ) غریبی اورافلاس کفر کے قریب پہنچادیتی ہے،فقر کفر کا ایک ذریعہ ہے ،اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ایک دعا میں کفر کے فوراً بعد فقر اور محتاجگی سے بھی پناہ مانگی ہے ، وہ دعا یہ ہے : اَللّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِوَعَذَابِ الْقَبْرِ(مسنداحمد رقم الحدیث ۲۰۳۸۱)۔ آپ ﷺ کےہرعمل سے ہمیں ہدایت اور رہنمائی ملتی ہے اس میں بھی ہمیں یہ سبق ہے کہ ان تینوں (کفر، محتاجگی اورعذ اب قبر)سےپناہ مانگنی چاہئے۔
غربت کے ازالہ کے لئے اسلام نے زکاۃ کا ایک بہترین اور خوبصورت نظام عطافرمایا ، اس کوایسا مرتب اورمنظم کرناچاہئےکہ بسہولت غریبوں اور مفلسوں تک امدادپہنچ جائے، ہرزکاۃ لینے والا دینے والا بن جائے،ہمیشہ لینے والا ہی نہ رہے،رسول اللہ ﷺ نے غربت دور کرنے کے لئے کیسی بہترین تدبیریں اختیار فرمائیں ،ایک واقعہ یہ ہواکہ ایک صاحب مسجدنبوی میں داخل ہوئے ، حضور ﷺ کو وہ صاحب نہایت ہی مفلوک الحال نظر آئے، بالکل فقروفاقہ کی حالت اُن سے ظاہر ہورہی تھی ، جمعہ کےدن لوگ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اچھا لباس پہن کر آئے ہیں ، لیکن ایک ساتھی نہایت ہی غربت کی حالت میں میلے کچیلے کپڑے پہن کرآئے ہیں ، حضور ﷺکو خیال آیا کہ ان کی طرف لوگوں کو متوجہ کرانا چاہئے ، چنانچہ ان سے تو یہ پوچھ لیا :أَصَلَّيْتَ، انہوں نے عرض کیا؛نہیں ، حضورﷺ نے ان سے فرمایا: دورکعت پڑھو۔یہاں تک واقعہ بخاری شریف میں ہے اور روایتوں میں تفصیلات ہیں کہ حضور ﷺنے لوگوں کو صدقہ وخیرات کی ترغیب دی، صحابہ کرامؓنے اسی وقت کپڑے جمع کرائے،رسول اللہ ﷺ نے کچھ کپڑے ان صاحب کو عنایت فرمائے ۔ اس واقعے میں یہ غور کرنا ہے کہ آپﷺ نے انہیں تحیۃ المسجد پڑھنے کاحکم فرمایا ۔کیوں؟ ۔ اس لئے کہ ان صحابی کے لباس سے غربت جھلک رہی تھی اور نگاہ بھی تو نگاہِ نبوت تھی، آپ سب کے روبرو ہیں صراحتاًامداد کا حکم فرمادیتے تو صحابیؓکی عزتِ نفس مجروح ہوتی، اس لئے آپ نےیہ شکل اختیار فرمائی کہ اپنا خطبۂ جمعہ  روک کر صحابیؓکو تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم دیا تاکہ تمام صحابہ اور حاضرینِ مسجد کے سامنے صحابی کی حالت واضح ہوجائے اور صحابہ ان کی مدد پر آمادہ ہوجائیں ۔اس طرح کئی موقعوں پررسول اللہ ﷺ نے نفلی صدقات وخیرات کی ترغیباًبھی اور ترہیباً بھی ہدایات دی ہیں جن کی وجہ سے فی سبیل اللہ خرچ کرنے کاشوق اورجذبہ امت میں پیدا ہوا۔ 
؍(۲)ارتداد کی ایک بڑی وجہ بے حیائی اور فحاشی کاعموم ہے ،جب کہ اسلام میں حیا کی تعلیم اہتمام سے دی گئی ہے ،اس کی عظمت اور اہمیت کو رسول اللہ ﷺ نے اس طرح ارشاد فرمایا :الحیاء  شعبۃ  من الایمان  (بخاری) حیا ایمان کا عظیم الشان اور اہمیت والا شعبہ ہے اور ایک موقع پر بے حیا ہونے سے بچنے کی ان الفاظ میں ترغیب دی: اذا لم تستحیی فاصنع ما شئت (بخاری: ۶۱۲۰) جب تمہیں حیا نہیں ہے تو جو چاہے کیجئے،اسی مفہوم کی ادائیگی کے لئے فارسی میںیہ الفاظ ہیں:  بے حیاء باش ہر چہ خواہی کن  ، بے شرم ہوجا جو چاہے کر ۔یہ اظہر من الشمس ہے کہ نوجوانوں نے حیا کی چادر نکال دی ہےاورجوان لڑکیوں کے اندرسے بھی شرم وحیا کم ہوتی جارہی ہے، بے پردگی عام ہوگئی  اور گھر گھر ایسے اسباب و وسائل ہیںکہ رات دن عریانیت کا نظارہ بآسانی ممکن ہے۔ یہ یقینی بات ہےکہ جتنا زیادہ بے حیائی کا نظارہ ہوگا ،اسی قدرایمان کمزور ہوتا چلاجائےگا ، موبائیل وغیرہ میں گندی اور ناجائز چیزیں دیکھنےسے ایمان کمزور ہو جاتا ہے ، اب یہ احساس ہی مفقود ہوتا جارہا ہے کہ بےحیائی کے مناظر دیکھنے سے ایمان میں اضمحلال ،کمزوری، ضعف اور نقص آجاتا ہے ، یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ایمان اور حیا کا ایسا گہرا تعلق ہے کہ جس دل میں ایمان ہو گا، اس کالازمی اثر حیاکی شکل میں ظاہر ہوگا ، اور جس قالب میں حیا ہوگی اس میں ضرورایمانی اثرات ہوں گے ،اگر ایمان کمزور ہوجاتا ہے تواس سے حیا اور شرم کے جذبات سرد پڑجاتے ہیں ،کوئی جب بے حیا ہوجائےگا تو ایمان کا چراغ کمزور ہوتے ہوتے بجھنے کے قریب ہوجائے گا،اندرہی اندر کھوکھلا پن آجائے گا اورجب آدمی سے حیارخصت ہوجاتی ہےتو آہستہ آہستہ ایمان سے بھی وہ ہاتھ دھوبیٹھتا ہے؛ رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا : إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْإِيمَانَ قُرَنَاءُ جَمِيعًا فَإِذَا رُفِعَ أَحَدُهُمَا رُفِعَ الْآخَرُوَفِي رِوَايَۃ فَإِذَا سُلِبَ أَحَدُهُمَاتَبِعَهُ الْآخَرُ(شعب الایمان للبیھقی، رقم الحدیث ۷۳۳۱  ) ایمان اور حیاایسے ہم نشین (لازم ملزوم)ہیں کہ جب ان دونوں میںسےکوئی ایک اٹھالیا جاتا ہے تو دوسرا خود بخود اٹھ جاتا ہے ،اسی لئے اللہ تعالی نے اوررسول اللہ ﷺ نے بے حیائی کے ہرسبب اور ہرجہت پر قدغن لگائی تاکہ مسلمانوں کے دامن بھی محفوظ رہیںاور ایمان بھی سلامت رہے ۔ 
؍(۳)ارتداد کاایک عام سبب جہیز اور جوڑے کا لین دین ہے ،اسراف اور تبذیر نے نکاح کو مشکل بنادیا، معاشرہ میںمفاسد اور بگاڑ کی جڑ اسوۂ رسول اکرم ﷺ کو بالکل فراموش کرنا ہے۔ شادی میںکثیر خرچ کے ڈر سے والدین اسی میں راحت خیال کرتے ہیں کہ لڑکیاں اپنا شوہر خود تلاش کرلیں، کورٹ میریج کرلیں ،ان خیالوں کے پیچھے ان کی غربت اور دینی تعلیم وتربیت سے دوری کا بڑا دخل ہوتا ہے، اگر بنیادی دینی تعلیم وتربیت والدین اور بچوں کے پاس ہوتی تو انہیں اس کا ہروقت احساس رہتاکہ غربت اور شادی کی پریشانیاں عارضی ہیں اور ایمان چلے جانے کی صورت میں آخرت کا عذاب حتمی اور لازمی ہے تو شاید ان کے لیے ان وقتی پریشانیوں کو جھیل جانا آسان ہوجاتا۔ 
؍(۴ ) ارتداد کاایک بڑاسبب مخلوط نظام تعلیم ہے؛ مردوزن کا اختلاط تعلیمی اداروں، ہاسٹلوں،نوکری کی جگہوںا ور کوچنگ کلاسوں میں بھی ہے، موبائل انٹرنیٹ، سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ اختلاط زمان ومکان کی حدود وقیود سے آزاد ہو گیا ہے، پیغام بھیجنے اور موصول کرنے کی مفت سہولت نے اسے اس قدر بڑھا وا دیدیا ہے کہ لڑکے لڑکیوں کی جلوت گاہیں ہی نہیں خلوتیں بھی بے حیائی، عریانیت کا آئینہ دار بن گئی ہیں، یہ اختلاط اور ارتباط آگے بڑھتا ہے تو ہوسناکی تک پہنچتا ہے، جسے محبت کے حسین خول میں رکھ کر پیش کیا جاتا ہے، والدین اورسرپرست ؛یا تو اتنے سیدھے سادےہیں کہ انہیں لڑکے لڑکیوں کی بے راہ روی کا ادراک یا احساس ہی نہیں؛یا اتنی ہمت اپنے اندرنہیں پاتے کہ وہ بچوں کی بے راہ روی پر انہیں روکیںبلکہ اپنی زبانیں بند رکھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں، یہ مرض اتنا عام ہوگیا ہے کہ اکثراس کو غیر شرعی نہیںسمجھتے  اور حیا کاحکم دینے والےقدامت پسندلگتےہیں،اس طرح مخلوط اداروں میں اپنی اولاد کو تعلیم دلانا اور انہیں دینی تعلیم سے آراستہ نہ کرنامسلمانوں کوزیب نہیںدیتا۔

کیاخبرتھی کہ چلاآئے گا الحاد بھی ساتھ

ہے عشق ومحبت کے لئے علم وہنر موت 

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زن

؍(۵) ارتداد کی ایک وجہ یہ ہے کہ لڑکے تعلیم میں انحطاط کے شکار ہیں،جو کچھ مسلم معاشرہ میںتعلیمی سطح بلند ہے،وہ لڑکیوںکی اونچی تعلیم کی وجہ سےہے اور جب انہیںاپنےجوڑکا شوہر مسلم سماج میں نہیں ملتا ،تواس وقت مسلم لڑکیاں غیر مسلموںسے دوستیاں کرتی ہیں،وہ ارتدادپرمنتج ہوتی ہیں ۔
؍(۶) لڑکیوں کی شادی میںدیری کرنا،صرف تاخیر نکاح بھی کئی نقصانات اور ضرررساں امور کی بنیاد ہے ،حالاں کہ رسول انورﷺنے مناسب رشتہ ملنے پر تعجیلِ نکاح کی ترغیب دی ہے۔ 
؍(۷) شوہر کا ملازمت کی وجہ سےبیوی سے دور رہنا،یہ دوری ملکی ملازمت میں بھی ہوتی ہے لیکن غیر ملکی ملازمت کے حدود وقیود کی وجہ سے دوسرے ملکوں میں مقیم شوہروں کی بیویوںکوزیادہ پریشانی ہوتی ہے ،مجبوریاں اپنی جگہ؛ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس دوری کی وجہ سے بڑے مفاسد پیدا ہوتے ہیں۔ 
؍(۸) ارتداد کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ ہم اپنی نسلوںکو ایمان کی عظمت واہمیت ذہن نشین کرنے کی خاطر وقت نہیں دیتے ۔حضورﷺ کی غلامی کتنی بڑی دولت ہے ،یہ ہم اپنی اولاد کو پورے خاندان کواور پورے سماج کو بتانا ہوگا ۔اتباع سنت اورغیر مشروط وفاداری کا جذبہ پیداکرنا ضروری ہے ۔ ایک مسلمان کے لئے سب سے بڑا سانحہ، المیہ اور مصیبت یہ ہے کہ اس کی بیٹی کسی غیرمسلم کے ساتھ فرار ہوجائے، ایسی بچی جو مسلم معاشرہ میں پیدا ہوئی اورپروان چڑھی ، وہ کسی ہندو سے شادی کرکےاپنے سب سے قیمتی سرمایہ اور سب سے بڑی دولت اور نعمت ’ایمان‘سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔ ارتداد کی اس نئی لہر سے ہر ایمان والے کا بے کل اورمضطرب ہونا فطری ہے، ضرورت ہے کہ ان اسباب کاخاتمہ کریں، جن کی وجہ سے لڑکیاں مرتد ہو رہی ہیں اور غیر مسلموں سے شادی کرکے اپنی عاقبت خراب کررہی ہیں۔

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

ظاہرہےکہ اس فتنہ کا تدارک کسی ایک شخص اور تنظیم کے بس میں نہیں ، بلکہ ہرگاؤں اورہر محلہ کےعلماء او رغیرت مند وںپر لازم ہے کہ وہ فکر کریں اور اس فتنۂ ارتداد کے سدباب کےلئے باہمی مشاورت سےایک مضبوط لائحہ عمل طے کریں۔ا رتدادسے روکنے کی چند تدابیر یہ ہیں :
؍(۱) والدین اپنی اولاد کوایمان کی قدروقیمت سمجھائیں اورایسی صورتیں اختیار کریںکہ قلوب میں ایمان ویقین راسخ ہوجائے ،ایمان سے محرومی کے نقصانات اور مضراثرات سے واقف کرائیں،اس کے لئے کسی مستند کتاب کی روزانہ خواندگی کانظام گھرمیں رکھناچاہئے۔
؍(۲) مکاتب کا نظام مضبوط کیاجائے ،وہاں ایمان ویقین کی عظمت کااس طرح نقش بیٹھےکہ زندگی کی آخری سانس تک مٹنے نہ پائے ۔ بچوں اور بچیوں کے لئے الگ الگ مکاتب رہناضروری ہے ۔
؍(۳)اپنی اولاد کو غیرمخلوط نظام کےحامل صحیح اسکولوں میں تعلیم دلانا ضروری ہے ،ہم خود کفیل بنیں، لہٰذا مسلمانوں کے بھی ایسے ادارے ہونے چاہئے، جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ مقام پرتعلیم کا بندوبست ہو،اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لڑکے لڑکیوں کے سیکشن الگ الگ کرنے کے لیے اداروں کے ذمہ داروں سے مطالبہ کیاجائے،اور سرِدست یہ ضروری کام ہے کہ عصری تعلیم پڑھنے والے بچوں اور بچیوں کے لئے دینی تعلیم کابھی بہترین نظام ہو،گھروں میں دینی ماحول ہو، ماں باپ  غور کریں کہ ہم اپنی بچیوں کو کس طرح برے ماحول کےبرے اثرات سے بچائیں۔
؍(۴) والدین اپنی اولاد کی مکمل نگرانی کریں ،بالخصوص گھر کے باہر کس سے ملتے ہیں، اور گھر کے اندر بھی موبائیل ،لیپ ٹاپ ، کمپیوٹر وغیرہ پر کس کس سے رابطےمیں ہیں ،اس کا استعمال صحیح اور جائز کاموںکے لئےکررہے ہیں یا ناجائز امور کے لئے ۔انہیں غلط حرکتوںسے بچانا والدین کی ذمہ داری ہے ،لہٰذااپنے بچوںمیںاسلامی غیرت وحمیت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔
؍(۵) لڑکوں میں یہ شعوربیدارکرنا کہ وہ لڑکیوں سےتعلیم میں آگے بڑھیں۔
؍(۶) نکاح سادہ ، آسان اور کم خرچ میں کرنے کی مہم میں خودبھی شریک رہنا اور دوسروں کو بھی حصہ دار بناناچا ہئے تاکہ زنا مشکل ہوجائے ۔
؍(۷) غریبوں کی خدمت کا اجتماعی نظام ہرمحلہ اور ہرشہر میں بنایاجائے ۔
؍(۸) اولاد اورخصوصاً لڑکیوںکا مناسب رشتہ ملتے ہی نکاح کردیا جائے اور وقفے وقفے سے خواتین کے اجتماعات رکھے جائیں،جوان لڑکیوں سے متعلق مسلم دشمن عناصر کی ترغیبی مہم سے انہیں آگاہ کریںاور ارتدادکے دنیوی اور اخروی نقصانات بتائےجائیں۔
؍(۹)لڑکیوں کو وراثت میں حصہ دینے کی مہم چلائی جائے اورلڑکوں کولڑکیوں کی حق تلفی سے روکا جائے۔
؍(۱۰)آنڈرائڈ موبائل سے لڑکیوں کو روکتے ہوئے ان کی حرکات وسکنات پر خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ پہلے مرحلہ میں ہی اس کے سد باب کی کوشش کی جاسکے۔
؍(۱۱) جن علاقوں میں ارتداد کی یہ نئی قسم سامنے آئی ہو، اس کا مقامی سطح پر سروے کرایا جائے، ذمہ داروںکی جانب سے گم شدگی کا یف آئی آر درج کرایا جائے، وکلاء سے قانونی مدد لی جائے تاکہ ایسی لڑکیوں کی گھر واپسی آسان ہوجائے۔
؍(۱۲) غیر مسلم لڑکوں کے مسلم محلہ میں ٹیوشن پڑھانے اور دوسرے مقاصد سے آنے پر بھی نگاہ رکھی جائے۔ اس کے لیے تمام ملی تحریکیں اور تنظیمیں اپنے اپنے حلقۂ اثر میں اس فتنہ سے بچائو کی کوشش ترجیحی بنیادوں پر کریں،ہر دن کی بنیاد پر کام کرنے کا مزاج بنائیں اور زمینی سطح پر محنت کرنے کی عادت ڈالیں ۔ 

شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا