مضامین سلسبیل

زبان کی حفاظت

مولانا محمد سہیل رشادی

استاذ دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور

انسان کے جسم میں ایک چھوٹا سا عضو زبان ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے ، اس نعمت پر جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے تاہم زبان کی جسامت جتنی چھوٹی ہے ،اس سےہونے والے جرائم اتنے ہی بڑے ہیں ۔ عربی زبان کا مقولہ ہے :اللسان جِرمہ صغیر و جُرمہ کبیر ۔ امام ترمذیؒ نے حضرت ابوسعید خدریؒ سے مرفوعاً روایت کی ہے :۔

اذا اصبح ابن اٰدم فان الاعضاء کلھا تکفر اللسان فتقول اتق اللہ فینا فانما نحن بک فان استقمت استقمنا وان اعوججت اعوججنا (ترمذی ، ما جاء فی حفظ اللسان ، رقم الحدیث ۲۴۰۷) 

 یعنی جب آدمی صبح اٹھتا ہے تو تمام اعضائے بدن زبان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے زبان تو ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر ، ہم تجھ سے متعلق ہیں ، اگر تو سیدھی رہے گی تو ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تو تیڑھی ہوگئی تو ہم بھی تیڑھے ہوجائیں گے ،مطلب یہ ہے کہ انسان کا سارا جسم زبان کے تابع ہوتا ہے ، اگر زبان غلط ہوجائے تو جسم کے سارے اعضاء متاثر ہوتے ہیں ۔ زبان کی لغزش پاؤں کی لغزش سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے ، پاؤں پھسل جائے تو آدمی دوبارہ کھڑا ہوسکتا ہے ، لیکن زبان سے کوئی غلط بات نکل جائے تو پھر اسے واپس لینا آدمی کے اختیار میں نہیں رہتا ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام زبان کی حفاظت کا خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے ۔ 
موطا امام مالکؒ میں ہے کہ حضرت عمرؓ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس تشریف لائے ، صدیقِ اکبرؓ اپنی زبان کو پکڑ کر مروڑ رہے تھے ، حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’ ’ اللہ آپ کو بخشے ، اپنی زبان کو چھوڑ دیجئے ، صدیقِ اکبرؓ نے فرمایا: ’’ اس زبان نے مجھے بڑی ہلاکتوں میں ڈال رکھا ہے ‘‘۔

ان عمر بن الخطابؓ دخل علی ابی بکر الصدیق وھو یجبذ لسانہ فقال لہ عمر ، مہ غفر اللہ لک ، فقال ابوبکر : ان ھذا اوردنی الموارد (موطا مالک ، ما جاء فیما یخاف من اللسان ، رقم الحدیث ۳۶۲۱)۔

نہ نکلے اور ضرورت پڑنے پر سوچ سمجھ کر زبان سے کلمات ادا کئے جائیں ۔ 
یحییٰ بن معین ؒفرماتے ہیں کہ دل کی مثال ہانڈی کی سی ہے اور زبان کی مثال چمچے کی سی ۔ چمچے سے وہی چیز نکلتی ہے جو ہانڈی میں ہے ، اسی طرح زبان سے وہی باہر آتا ہے جو دل میں ہوتا ہے ۔ اگر دل میں ظلمت ہوتو زبان سے بری گفتگو نکلے گی اور دل میں نور ہوتو زبان سے پاکیزہ گفتگو برآمد ہوگی۔ 
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جب انسان بات کرتاہے تو اس کے (حسن و قبح ) کو پہچان لیا جاتا ہے ،  آپ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے ۔ یعنی انسان کا ایک جملہ اس کی حقیقت کو کھولنے کے لئے کافی ہے ، اس لئے انسان کو چاہئے کہ سوچ سمجھ کر گفتگو کرے ۔ 
امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بندہ اللہ کی رضامندی کا کوئی کلمہ کہتا ہے ، اسے اس وقت اس کلمے کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا ، مگر اسی کلمے کی بدولت اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے درجات بلند فرمادیتے ہیں ۔ اس کے برعکس بندہ اپنی زبان سے اللہ کو ناراض کرنے والا کوئی کلمہ نکالتا ہے ، جس کا اسے احساس بھی نہیں ہوتا ، مگر اسی ایک کلمہ کی وجہ سے اس بندے کو جہنم میں پھینک دیا جاتا ہے ۔

ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ان العبد لیتکلم بالکلمۃ من رضوان اللہ لا یلقی لھا بالا یرفعہ اللہ بھا درجات وان العبد لیتکلم بالکلمۃ من سخط اللہ لا یلقی بھا بالا یھوی بھا فی جھنم (بخاری، باب حفظ اللسان ، رقم الحدیث ۶۴۷۸)

آج لوگ ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں ، کبھی کسی پر طنز کرتے ہیں ، کبھی کسی کا دل جلاتے ہیں ، جبکہ یہ سب کبیرہ گناہ ہیں اورسامنے والے کے دل پر ان کا گھاؤ اتنا سخت پڑتاہے جو کبھی مندمل نہیں ہوتا۔ شاعر نے کہا:

جراجات السنان لھا التیام
ولا یلتام ما جرح اللسان

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہی بات کس خوبصورت پیرائے میں بیان کی ہے ، فرمایا:۔

یا ایھا الذین آمنوا لا یسخر قوم من قوم عسیٰ ان یکونوا خیرا منھم

اے ایمان والو! تم میں سے ایک جماعت دوسری جماعت سے مذاق نہ کرے ، ہوسکتا ہے وہ تم سے بہتر ہوں۔
طنز و مزاح کو اسی لئے منع کیا گیا ہے کہ زبان سےالٹی سیدھی باتیں نکلتی ہیں، زبان بڑے آرام سے الفاظ ادا کردیتی ہے لیکن ان الفاظ کو اللہ کے سامنے سچ کرنا انسان کے لئے مشکل ہوجائے گا۔ 
حضرت خواجہ باقی باللہ بہت کم گو بزرگ تھے ، ایک دفعہ کسی نے آپ سے کہا : ’’ حضرت کچھ نصیحت فرمائیں ، ہمیں فائدہ ہوگا‘‘۔ حضرت نے فرمایا:’’ جس نےہماری خاموشی سےکچھ نہیں پایا وہ ہماری باتوں سے بھی کچھ نہیںپائے گا‘‘۔ 
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے: ۔

کہہ رہاہے شورِ دریا سے سمندر کا سکوت
جتنا جس کا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

اس لئے اللہ والے خاموش طبع ہوا کرتے ہیں ، ہاں کوئی علمی بات ہو ، گفتگو کرتے ہیں ، مسئلہ پوچھا جائے تو بتاتے ہیں لیکن انہیں باتوں کا چسکا نہیں ہوا کرتا۔ انسان زبان کے غلط استعمال کی وجہ سے پہاڑوں کے برابر گناہوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ بیوقوف کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ،اس کی گفتگو بتادیتی ہے کہ وہ بیوقوف انسان ہے ۔ 
حضرت سہل بن سعد ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:  من یضمن لی ما بین لحییہ و ما بین رجلیہ اضمن لہ الجنۃ (بخاری ، باب حفظ اللسان ، ۶۴۷۴) جو شخص مجھے دو چیزوں (کو گناہ کے کاموں میں استعمال نہ کرنے) کی ضمانت دیدے تو میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں ، ایک وہ چیز جو دو جبڑوں کے درمیان ہے ، یعنی زبان ، دوسری وہ جو دو ٹانگوں کے درمیان ہے ، یعنی شرمگاہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دونوںکی خوب حفاظت کرنے والا بنائے ۔ 

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا