زبان کی حفاظت
مولانا محمد سہیل رشادی
استاذ دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور
اذا اصبح ابن اٰدم فان الاعضاء کلھا تکفر اللسان فتقول اتق اللہ فینا فانما نحن بک فان استقمت استقمنا وان اعوججت اعوججنا (ترمذی ، ما جاء فی حفظ اللسان ، رقم الحدیث ۲۴۰۷)
ان عمر بن الخطابؓ دخل علی ابی بکر الصدیق وھو یجبذ لسانہ فقال لہ عمر ، مہ غفر اللہ لک ، فقال ابوبکر : ان ھذا اوردنی الموارد (موطا مالک ، ما جاء فیما یخاف من اللسان ، رقم الحدیث ۳۶۲۱)۔
ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ان العبد لیتکلم بالکلمۃ من رضوان اللہ لا یلقی لھا بالا یرفعہ اللہ بھا درجات وان العبد لیتکلم بالکلمۃ من سخط اللہ لا یلقی بھا بالا یھوی بھا فی جھنم (بخاری، باب حفظ اللسان ، رقم الحدیث ۶۴۷۸)
آج لوگ ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں ، کبھی کسی پر طنز کرتے ہیں ، کبھی کسی کا دل جلاتے ہیں ، جبکہ یہ سب کبیرہ گناہ ہیں اورسامنے والے کے دل پر ان کا گھاؤ اتنا سخت پڑتاہے جو کبھی مندمل نہیں ہوتا۔ شاعر نے کہا:
جراجات السنان لھا التیام
ولا یلتام ما جرح اللسان
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہی بات کس خوبصورت پیرائے میں بیان کی ہے ، فرمایا:۔
یا ایھا الذین آمنوا لا یسخر قوم من قوم عسیٰ ان یکونوا خیرا منھم
کہہ رہاہے شورِ دریا سے سمندر کا سکوت
جتنا جس کا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے