مضامین سلسبیل

بِرَبِّ الْفَلَقِ

مولاناڈاکٹر راہی فدائی، بنگلور

کہہ دیجئے
اے میرے رشکِ مہر و ماہ
ربِّ فلق کی چاہتا ہوں میںپناہ
ہے کیا ’  فلق‘؟
اک روشنی ، وقتِ سحر
صبحِ طرب ہے ،پو پھٹی ہوگی جہاں 
مخلوق کا شر ، تیرگی شب کی
اثر جادو کے شر کااور شرِّ حاسداں
اک روشنی سے چار شرکا خاتمہ ہوگا کہاں؟
پھر شر ہے کیا؟
وہ ہے سراپا گھپ اندھیرا
تاریکی قول و عمل
شرِّ حسد بھی ہے مثالِ تیرگی
کیا ہے ’  فلق ‘؟
وہ ہے جلوۂ صبحِ ازل
وہ ہے ضیاے شمعِ حق، مصباحِ دیں، نورِ یقیں
ہے منبعِ تابندگی روئے جمالِ مصطفیؐ  
حسنِ کمالِ مصطفی  ﷺ
ہے کیا ’  فلق ‘؟ نورِ حبیبِ کبرؐیا
مصداق ہیں نورانیت کے وہ سُنن
جن پر ہوئے ہیں گامزن،
سب اولیاء و اصفیا، 
ہاں روشنی میں سنتوں کی 
تیرگی شر کا ہوجائے گا کامل خاتمہ
لوگو، ’ فلق‘ سمجھو
کرو، نورِ سنن سے ہر اندھیرے کو فنا!

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا