مضامین سلسبیل

ایمان کا معیار

مولانا جواد احمد خان صاحب رشادی

استاذ دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور

ایمان کے بلند بانگ دعوؤں کا پرچم لہرانا بہت آسان ہے ، یہ کام ہم کر بھی رہے ہیں ، لیکن جب کوئی محبوب تعلق دل کو ایک طرف کھینچ رہا ہو اور دوسری طرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ بلا رہے ہوں ، اس وقت دنیا کے پرکشش ہاتھ سے ہاتھ چھڑانا اور دین کی طرف دوڑے پڑنا کارے دارد اور یہی وہ کارِ گراں ہے جو حضورﷺ کے اصحاب پر کتنا آسان ہوگیا تھا۔ 
سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۳۱ میں مفصل ارشاد فرمایا گیا ہے ، جس کی تشریح علماے امت نے یہ کی ہے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرے اور اس کے اعمال و اخلاق مطابقِ فرمانِ نبوی نہ ہوں ، طریقۂ محمدیہ پر وہ کاربند نہ ہو تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے ۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو ، وہ مردود ہے ۔ اسی لئے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تم خدائے تعالیٰ سے محبت رکھنے کےدعوے میں سچے ہوتو میری سنتوں پر عمل پیرا ہوجاؤ ، اس وقت تمہارے چاہت سے زیادہ خدائے تعالیٰ تمہیں دے گا، یعنی وہ خود تمہارا چاہنے والا بن جائے گا ، جیسے بعض حکیم علماء نے کہا کہ تیرا چاہنا کوئی لطف نہیں ، لطف تو اس وقت ہے کہ خدائے تعالیٰ تجھے چاہنے لگ جائے ، غرض خدائے تعالیٰ کی محبت کی نشانی یہی ہے کہ ہر کام میں اتباع سنت مد نظر ہو۔ 
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دین صرف اللہ تعالیٰ کے لئے محبت اور اسی کے لئے دشمنی کا نام ہے ۔ فرماتے ہیں کہ حدیث پر چلنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے تمام گناہوں کو بھی معاف فرمادے گا ، پھر ہر عام وخاص کو حکم ملتا ہے کہ سب خدائے تعالیٰ اور رسول ﷺ کی مانتے رہیں ، جو اس سے لوٹ جائیں ، یعنی خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے ہٹ جائیں تو وہ کافر ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے محبت نہیں رکھتا۔ 
اس سے صاف واضح ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کے طریقے کی مخالفت کفر ہے ، ایسے لوگ خدائے تعالیٰ کے دوست نہیں ہوسکتے ، گو ان کا دعویٰ ہو، لیکن جب تک خدائے تعالیٰ کے سچے نبی کی تابعداری ، پیروی اور اتباع سنت نہ کریں وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں۔ حضرت رسول اللہ ﷺ تو وہ ہیں کہ اگر آج انبیاء اور رسول بلکہ بہترین اولو العزم پیغمبر بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی آپ کو مانے بغیر اور آپ کی شریعت پر کابند ہوئے بغیر چارہ ہی نہ ہوتا۔ (تفسیر ابن کثیر)
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا ، جب تک کہ میں اس کے باپ اور اس کی اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔ 
اسلام کی دولت ہمیں چونکہ رسول اللہ ﷺ ہی سے ملی ہے ، اس لئے خدا کے بعد اگر کسی کا احسان ہماری گردنوں پر ہے تو وہ رسول اللہ ﷺ کا ہے اور اسلام ہی وہ دین ہے جس نے ہمیں پرسکون اور ہموار زندگی گذارنے کے طریقے بتلائے ہیں اور ماں باپ تو دنیا میں صرف ہمارے وجود کا ایک ذریعہ ہیں ، اسی طرح اولاد ہمارے نام ونشان کو باقی رکھنے کی ایک صورت ہے ، لیکن بچپن سے لے کر موت تک جو برسوں کی زندگی ہم گذارتے ہیں ، اس زندگی کو سدھارنے اور موت کے بعد کی دائمی زندگی کو سنوارنے کے گر ہمیں محمد ﷺ ہی سے معلوم ہوئے ہیں۔ اس لئے آپ کا احسان سب سے زیادہ ہے۔
ایک مومن کو اللہ اورا س کے رسول کی محبت اور ان سے تعلق ساری کائنات سے زیادہ ہونا چاہئے ، اس لئے کہ ایمان اللہ کی توحید اور رسول اللہ کی اطاعت پر ہی موقوف ہے ۔ جتنا زیادہ ان دونوں سے تعلق ہوگا اتنا ہی ایمان کامل اور ایمان کی لذت سے لطف اندوز ہوگا ، پھر ایک مومن کے تعلقات دنیاوی اغراض کے بجائے محض اللہ ہی کی خاطر ہونے چاہئے ۔ 
تیسری بات کہ آدمی کو کفر سے ، جو ایمان کی بالکل ضد ہے ، اتنی شدید نفرت ہونی چاہئے ، جتنی نفرت اور ناگواری آگ میں جلنے سے ہوسکتی ہے ۔ 
یہ تینوں باتیں جس میں ہوں گی وہ یقیناً ایک سچا اور پکا مسلمان ہوگا، وہی ایمان کے مزے کو پاسکتا ہے، اور اس کا مشاہدہ صحابہ کرام کی زندگیوں سے کیجئے کہ جن کی جان سپاری وسرفروشی اور فدویت و جاں نثاری سے ایمان کی حلاوت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ (بخاری)
آج ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے اندر خدا اور رسول ﷺ کی کتنی محبت ہے ، ہم اپنے اعمال ہی سے اندازہ لگا سکتے ہیں ، چونکہ محبت اور عشق کے تقاضوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عاشق کو اپنے معشوق کی ہر ہر اداپسند آتی ہے اور وہ اس کو اپنانے کی حتی المقدور کوشش کرتا ہے ، کوئی کسی کھلاڑی کو پسند کرتا ہے تو وہ اس کا ہر عمل نوٹ کرکے اس کی نقل کرنے لگتا ہے ، کوئی کسی فلمی اداکار کو چاہتا ہے اور اس کی ہر بے ڈھنگی ادا بھی اس کے دل میں جاگزیں ہوجاتی ہے اور اس کی ہر ہر نقل و حرکت پر وہ عمل کرنے لگتا ہے ، لیکن مسلمانوں کو تو صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول سے عشق اور حد درجہ محبت ہونا ایمان کی شرط ہے ۔ 
لوگ بلند بانگ دعوے بھی کرتے ہیں کہ ہم عاشقانِ رسول ہیں ، ہم محبانِ مصطفیٰ ہیں، لیکن ان کے قول و عمل میں یکدم تضاد ہوتا ہے ، ان کے ظاہری حلیے سے ذرہ برابر بھی یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ مسلمان بھی ہیں کہ نہیں ۔ محبت کرنے والوں سے ذرا پوچھیں کہ محبت کرنے والا کبھی اپنی محبت کا اظہار نہیں کرتا ، دل ہی دل میں چاہنےلگتا ہے ، کسی شاعر نے شاید ایسے ہی موقع کےلئے کہا تھا :
وہ کچی آگ ہے جس میں دھواں ہو
وہ جھوٹ عشق ہے جس میں فغاں ہو
صحابہ کی زندگی اٹھاکر دیکھئے کہ وہ واقعی خدا اور رسول ﷺ کے اس طرح عاشق ہوگئے تھے کہ اس دنیا کی کوئی بھی دوسری چیز ان کو ایک لمحے کے لئے بھی اس ایمان سے غافل نہ کرسکی ، کیسے تھےوہ لوگ جو ہم سے پہلے اسی اسلام کے دائرے میں دیکھے گئے ، ان کے کارنامے ان کے ساتھ ساتھ گئے ، اور ہمارے کرتوت ہماری جان کے لاگو ہیں ، وہ اہل حق تھے ، جنہوں نے حق کی قیمت پہچانی اور جی جان سے قیمت چکانے کی پروا نہ وار کوشش کی اور ہم حق فروش ہیں کہ دنیائے فانی کے چند ٹکوں میںہم نے سدا کی راحتوں کو ہنسی خوشی بیچ ڈالا ، ایک لمحہ کےلئے ذرا ہم اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھیں کہ ہمارے اندر خدا اور اس کے رسول سےمحبت کے جتنے دعوے ہیں اس کے ہم پلہ اپنے اعمال بھی ہیں ؟ 
خدا کرے کہ ہمارے دعوؤں اور اعمال و کردار میں صد فیصد مطابقت پائی جائے ۔  

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا