مسجدیں جنت کے باغ ہیں
مولانا محمد ہارون صاحب رشادی
قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء بنگلور
سب سے زیادہ محبوب جگہ مسجد ہے
بندگی کا فطری تقاضہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی بندگی بارگاہ میں عاجزی وانکساری کے ساتھ اپنی محتاجی وفقیری کا اظہار کرتے ہوئے ، اس کی خوشنودی اور قرب حاصل کرنے کی نیت سے اس کی محبت میں گرفتار ہوکر کھڑا ہوجائے اور اپنی بلند پیشانی اس کے حضور میں جھکادے اور انتہائی عاجزی کے ساتھ اس کی بارگاہ میں اپنا سر رکھ دے اور اس کی یاد سے اپنے دماغ کو منور اور تازہ اور دل کو مسرور کردے ۔ انہی پاک جذبات کے ساتھ عبادت کا نام نماز ہے اور اسی نماز کو اجتماعی نظام کے ساتھ ادا کرنے کا نام جماعت ہے اور جن دو عظیم ووسیع مقاصد کے ساتھ یہ نماز اللہ کے جس گھر میں ادا کی جاتی ہے اس کا نام مسجد ہے اور یہ مسجدیں ، جہاں سینکڑوں ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلمان جمع ہوکر ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز کےمصداق ہرقسم کی تفریق سے بلند ہوکر شانہ بہ شانہ کھڑے ہو کرنماز ادا کرتے ہیں ، ان مسجدوں کا رشتہ اسی خانہ کعبہ سے منسلک ہے جو انوار وتجلیاتِ ربانی کا محیط مرکزاورمنبع ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شہروں میں ، بستیوںمیں ، اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ان کی مسجدیں ہیں اور سب سے زیادہ مبغوض ان کے بازار اور منڈیاں ہیں۔ اس حدیث کا ما حصل یہی ہے کہ مسجدیں زندگی کے مقصد کو پورا کرتی ہیں ، ان کے ذریعے بندہ اپنی زندگی کے تقاضے پورے کرتا ہے اور یہی مقصدِ حیات بھی ہے اور بازار صرف ضرورتِ زندگی ہے۔
مسجد سے ہمارا تعلق
جس طرح بندے کا اپنے رب سے تعلق ہونا چاہیے ، اسی طرح اس کا اس کے گھر یعنی مسجد سے بھی تعلق ہونا چاہیے ۔ ایک مومن اگرچہ صرف نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں آتا ہے پھر چلا جاتا ہے لیکن ایک سچے اور پکے مومن کے دل میں بار بار مسجد آنے جانے کی وجہ سے ایک ایسا تعلق مسجد سے ہوتا ہے کہ وہ کسی نماز کے بعد اپنے گھر جاتا ہےیا بازار چلا جاتا ہے تو وہاں بار بار اس کے دل میں کھٹکا ہوتا رہتا ہے کہ کہیں اذان تو نہیں ہوگئی ۔ اس طرح بار بار خیال آنا ایمان کی پختگی کی علامت ہے ۔ ایسے لوگوں کے تعلق سے کہ جن کے دل مسجد میں اٹکےرہے اللہ کے رسول کا فرمان ہے کہ اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ اس دن جب کوئی اور دوسرا سایہ نہ ہوگا اپنا سایۂ رحمت عطا کریں گے ۔
اللہ کے نیک بندے مسجد کے باہر رہتے ہوئے بھی مسجد کے اندر رہتے تھے ،حضرت سالمؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت عبداللہ بن عمرؓ بازار سے گذرے تو نماز کا وقت آگیا، لوگوں کو دیکھا کہ دکانیں بند کرکے نماز کی طرف جارہے ہیں تو فرمایا’’ انہی لوگو ں کے بارے میں یہ ارشاد ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں خرید وفروخت اللہ کی یاد سے غفلت میں نہیں ڈالتی‘‘۔
قیامت کے دن نور ِکامل کے حقدار
حضرت برید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے جو بندے اندھیریوں میں مسجد کی طرف جاتے ہیں،ان کو بشارت سنادو کہ ان کے اس عمل کے بدلے میں قیامت کے دن ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نورِ کامل عطا ہوگا، کس قدر خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو رات کی اندھیروں میں مسجد کی طرف رخ کرتے ہیں اور ابدی روشنی کو پانے کے لیے وقتی اندھیرے کو برداشت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر مومن کے دل میں نور کامل کا جذبہ پیدا فرمائے اور ا س کا ہمیں حقدار بنائے۔
ایمان کی گواہی دو
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی خدمت ونگہداشت کرتا ہے تو اس کے ایمان کی شہادت دو، کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اوریوم آخرت پر‘‘۔
مسجدوں کی فکر رکھنے والوں کے لیے اس سے بڑا ایوارڈ اور کیا ہوسکتا ہے کہ نبی آخر الزماں نے اپنی امت کے افراد کو حکم دیا کہ ایسے فکر مندوں کے بارے میں ایمان کی گواہی دوجو مسجد سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کی خدمت ونگہداشت کرتے ہیں ۔ جس کے ایمان کی گواہی خود پیغمبر دیں ، اس کی خوش نصیبی قابل رشک ہے ۔
مسجدیں مضبوط قلعے ہیں
مسجدیں مذہب اسلام کا شعار بھی ہیں اور اسلامی تہذیب وتمدن اور اسلامی ثقافت کی نگہبان بھی ہیں، مساجد سے مسلمان اسلامی طور طریقوں سے آگاہ ہوتا ہے ، یہیں سے تقویٰ اور پرہیز گاری کا درس ملتا ہے ۔ حضرت ابو ذر غفاری ؒ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ برخوردار ! بہت بہتر ہے کہ مسجد تمہارا گھر ہوجائے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مسجدیں متقیوں کا گھر ہیں ، مسجد جس کا گھر ہوجائے تو اللہ اس کے لیے رحمت کا اور پل صراط پر سے گذرنے کا ضامن ہوتا ہے ۔
مسجدیں جنت کے باغ ہیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنت کے باغوں پر سے گذروتو خوب میوے کھایا کرو ۔ پوچھا گیا ، یا رسول اللہ جنت کے باغ سے میوے کھانے کا کیا مطلب ہے ۔ فرمایا : سُبْحَانَ اللّٰہِ ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ کی تسبیح پڑھنا ۔
اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ مسجدیں اس اعتبار سے جنت کے باغ ہیں کہ مسجدوں میں کی جانے والی عبادت جنت کے باغوں کے حصول کا سبب ہے ۔ خوب میوے کھانے کا مطلب مسجدوں میں داخل ہوجانے کے بعداللہ کی پاکی وحمدوثناء بیان کرو اس کے ایک ہونے کا اعلان کرو۔ تمہارے اس عمل سے خوش ہوکر جنت کے باغ عطا فرمائیں گے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو مسجدوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جنت کے باغوں کے حصول کا شوق عطا فرمائے ۔ خدا وند قدوس کی خصوصی رحمتوں کو وصول کرنے والا بنائے ۔