قرآنی فارمولے
مولانا غیاث احمدصاحب رشادی
صدر صفا بیت المال انڈیا ، حیدرآباد
قارئین سلسبیل کی خدمت میں دوسرے شمارہ میں قرآنی فارمولہ کے عنوان سے دو فارمولے آیاتِ قرآنی کی روشنی میں پیش کئے گئے تھے، سکونِ قلب اور رحمتِ الٰہی کے حصول کے فارمولے ۔ اسی سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے یہ دوسری قسط پیش کی جارہی ہے۔
؍۳۔ حصولِ جنت کا فارمولہ
رب ذوالجلال کی وہ پیاری جنت جس میں موجود نعمتوں کا حقیقی تصور دنیاکی اس حقیر اور مختصر سی زندگی میں نہیں کیاجاسکتا۔ جنت کی وہ نعمتیں کہ مالا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر کبھی آنکھوں نے جن نعمتوں کو نہیں دیکھا اور نہ ہی کانوں نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا حقیقی تصور آیا۔ وہ بیش بہا نعمتوں سے لبریز سرشار جنت یوں ہی نہیں ملے گی۔ قدرت کا دستور یہی ہے کہ ہر غیر معمولی چیز کیلئے غیر معمولی محنت اور قربانی بھی مطلوب ہوتی ہے۔
؍(۱) وَبَشِّرِ الَّذِیْن آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ
اور ان لوگوں کو جو ایمان لے آئے اور نیک اعمال کئے اس بات کی خوشخبری دیجئے کہ ان کیلئے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ (البقرۃ : ۲۵)
جو لوگ جنت پانا چاہتے ہیں ان کیلئے حصولِ جنت کا فارمولہ یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے سچے اور پکے مومن بن جائیں اور اعمالِ صالحہ اختیار کریں۔ ایمان اور عملِ صالح سے جنت حاصل کی جاسکتی ہے۔
؍(۲) وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أُولَـئِکَ أَصْحَابُ الْجَنَّۃِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَ
اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں وہ جنت کے مالک ہوں گے اور ہمیشہ اس میں عیش کرتے رہیں گے۔ (البقرۃ: ۸۲)
اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری آفاقی کتاب میں اس فارمولہ کو بار بار بیان کیا ہے کہ اگر واقعی جنت کو پانا ہوتو ایمان اور عملِ صالح کو اپنے دامن سے چھوٹنے نہ دو اور اسی کے ساتھ ساتھ جنت کو پانے کے لئے ان کبائر سے بچنا ضروری ہے جن سے روکا گیا ہے۔
؍(۳)إِن تَجْتَنِبُواْ کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَنُدْخِلْکُم مُّدْخَلاً کَرِیْماً
اگرتم ان میں سے بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہو تو ہم تمہارے چھوٹے گناہوں کو معاف کردیں گے اور تم کو ایک معزز جگہ میں داخل کریں گے۔ (النساء:۳۱)
اس آیت میں مُّدْخَلاً کَرِیْماًسے جنت مراد ہے اور جنت کے حصول کا فارمولہ یہ ہے کہ آدمی کبیرہ گناہوں سے بچ جائے۔
؍(۴) وَلَقَدْ أَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ وَبَعَثْنَا مِنہُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْباً وَقَالَ اللہُ إِنِّیْ مَعَکُمْ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاَۃَ وَآتَیْتُمُ الزَّکَاۃَ وَآمَنتُم بِرُسُلِیْ وَعَزَّرْتُمُوہُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللہَ قَرْضاً حَسَناً لَّأُکَفِّرَنَّ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَلأُدْخِلَنَّکُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ فَمَن کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ مِنکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِیْلِ (المائدۃ:۱۲)
اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا تھا اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے تھے اور اللہ نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پرایمان رکھو گے اور ان کی مددکرتے رہوگے اور اللہ کو قرضِ حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کردوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا تو وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا۔
اللہ تعالیٰ نے جنت کے حصول کا ایک فارمولہ یہاں یہ دیا ہے کہ ہم نماز کو قائم رکھیں، زکوٰۃ دیں، اس کے رسولوں پر ایمان لائیں اور ان کو تقویت پہنچائیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کریں، ان کاموں کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو مٹادیں گے اور ہمیں جنت بھی عطا فرمائیں گے۔
؍(۵) إِنَّ اللہَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُم بِأَنَّ لَہُمُ الجَنَّۃَ یُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَیْہِ حَقّاً فِیْ التَّوْرَاۃِ وَالإِنجِیْلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَی بِعَہْدِہِ مِنَ اللہِ فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُم بِہِ وَذَلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (التوبۃ:۱۱۱)
اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خریدلئے ہیں اور اس کے عوض ان کے لئے بہشت تیار کی ہے۔ یہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی اور مارے بھی جاتے ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
اپنی جان اور اپنے مال کو جب آدمی اللہ کو بیچ دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے جنت عطا کریں گے، تو جنت کو پانے کا فارمولہ یہ ہے کہ اپنی جان اور اپنے مال کو اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کیاجائے۔
؍(۶)وَمَن یُطِعِ اللہَ وَرَسُولَہُ یُدْخِلْہُ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْم (النساء: ۱۳)
؍(۱) إنَّ اللہَ مَعَ الصَّابِرِیْن (البقرۃ: ۱۵۳)
بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اس مختصر سے جملہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بہت بڑی حقیقت سمجھائی ہے جس میں بندے کیلئے بہت بڑی نعمت موجود ہے‘ دنیا کا کوئی بڑا عہدیدار کسی ادنیٰ انسان سے یہ کہہ دے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تو وہ کس قدر خوش ہوجائے گا؟ خدا کی قسم اس سے بڑھ کر نعمت کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے سے یہ کہہ دیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ وہ خوش نصیب بندہ کون ہے؟ وہ ہے صابر بندہ جو مصیبتوں میں صبر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نزدیکی اور قربت پالیتا ہے۔ قرآنِ مجید نے یہ فارمولہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں یعنی اللہ کے ساتھ ہوجانے کیلئے ہمیں صبر سے کام لینا ہوگا۔
؍(۲) وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ (البقرۃ: ۱۹۴)
اور جان لو کہ بے شک اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہیں۔
دو اور دوچار کی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ مفید فارمولہ عطا فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ کے تمہارے ساتھ ہونے کیلئے تقویٰ کا فارمولہ ضروری ہے‘ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ رہیں اور اس کی مدد اس کے ساتھ رہے تو اس کو چاہئے کہ وہ تقویٰ والی زندگی اختیار کرے۔
؍۵۔ حصولِ توبہ کا فارمولہ
یہ رب ذوالجلال کا کس قدر احسان ہے کہ اس نے اپنے گنہگار بندوں کیلئے توبہ کا وہ رحیمانہ و کریمانہ دروازہ کھلا رکھا جس کے ذریعہ بندہ اپنی زندگی کا داغ مٹاسکے جس داغ کو مٹانے کی سوائے رب ذوالجلال کے کسی میں طاقت نہیں۔ آئیے ہم قرآنِ مجید سے حصولِ توبہ کا وہ فارمولہ معلوم کرتے ہیں۔
؍(۱) إِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَیَّنُواْ فَأُوْلٰـئِکَ أَتُوْبُ عَلَیْہِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ
ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور احکامِ الٰہی کو صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا بڑا مہربان ہوں۔(البقرۃ: ۱۶۰)
اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ قبول ہوجانے کا فارمولہ یہ ہے کہ آدمی جو گناہ کرچکا ہے اس گناہ سے باز آجائے اور اپنی اصلاح کرلے اور سچی توبہ کرلے تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کی توبہ کو قبول فرمالیتے ہیں۔ یہی توبہ کے حصول کا بہترین فارمولہ ہے۔
؍(۲)إِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُواْ مِن بَعْدِ ذٰلِکَ وَأَصْلَحُواْ فَإِنَّ اللہ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (آلِ عمران: ۸۹)
ہاں جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اپنی حالت درست کرلی تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
جولوگ چاہتے ہیں کہ ان کا پروردگار ان کی مغفرت فرمادے اور ان پر رحم کرے تو انہیں اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرنی ہوگی اور جو خرابیاں اور برائیاں ان کی زندگی میں ہیں ان کی اصلاح کرنی ہوگی۔ اگر توبہ کے بعد والی زندگی سنور گئی اور ہر قسم کے گناہوں سے گریز کرنے لگ جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان ہے کہ وہ ان کی مغفرت کردے گا اور ان پر رحم و کرم کا معاملہ فرمائے گا۔
؍(۳)أَنَّہُ مَن عَمِلَ مِنکُمْ سُوء اً بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِہِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (الانعام:۵۴)
کہ جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہو جائے تو وہ بخشنے والا ہے مہربان ہے۔
اگر بندہ یہ چاہتا ہے کہ اس کا رب اس کو معاف کردے تو اس کا بہترین فارمولہ یہ ہے کہ اگر غلطی سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو فوراً توبہ کرلے اور ساتھ ہی نیک بھی بن جائے ، اگر کوئی بندہ حقیقی معنی میں ایسا کرے گا ،اللہ ضرور اس کو معاف کردے گا۔
؍(۴)وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِہِمْ خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحاً وَآخَرَ سَیِّئاً عَسَی اللہُ أَن یَتُوبَ عَلَیْہِمْ إِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (التوبۃ:۱۰۲)