فتاوی
امیر شریعت علامہ شاہ ابوالسعود احمد باقویؒ
السوال:۔
الجواب ہوالموفق للصواب:۔
جو روپیہ سا ل کے اخیر تک حاصل ہو، اسے بھی اس روپے میں شامل کیا جائے گا جو سال کے شروع میں تھا اور کل رقم کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی، بشرطیکہ سال کے شروع میں نصابِ زکوٰۃ موجودرہا ہو، یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت، بصورتِ دیگر سال وہاں سے شروع ہوگا جہاں نصاب مکمل ہو۔
والمستفاد ولو بھبۃ او ارث وسط الحول یضم الی نصاب من جنسہ فیزکیہ بحول الاصل (الدرالمختار علی ھامش ردالمحتار ج۲؛ص۲۸۸)
فقط واللہ تعالی اعلم العبد
ابوالسعود احمدعفی عنہ
؍۱۰ ذوالقعدۃ ۱۴۰۹ھ
(فتوی نمبر۱۴۴؍۱۴۰۹ھ)
السوال:۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ چالیس سال سے کم عمر والا شخص اعتکاف میں نہیں بیٹھ سکتا ، اگرچہ بیٹھنے والا عاقل بالغ بیس ، بائیس ، پچیس سال کی عمر والا ہی کیوں نہ ہو ۔ براہِ کرم شریعت کے مطابق بتائیے کہ چالیس سال سے کم عمر والا اعتکاف کرسکتا ہے یا نہیں؟
الجواب ہوالموفق للصواب:۔
اعتکاف کے لیے چالیس سال کی قید نہیں، بلکہ بلوغ بھی شرط نہیں، نابالغ بھی جب کہ وہ سمجھدار ہوچکا ہو، اعتکاف کرسکتا ہے ۔
واما البلوغ فلیس بشرط لصحۃ الاعتکاف فیصح من الصبی العاقل (عالمگیری ج۱؛ص۲۱۱)
فقط واللہ تعالی اعلم
العبد ابو السعود احمد عفی عنہ
؍۳ ذوالقعدۃ ۱۴۰۲ھ
(فتوی نمبر۱۱۴؍۱۴۰۲ھ)
السوال:۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد کے مؤذن نے بھول کر وقت مقررہ سے چار منٹ پیشتر بسم اللہ پڑھ کر افطار کا اعلان کردیا، اس صورت میں روزہ کھولنا درست ہوا یا اس اعلان پرروزہ کھولنے والوں کو قضا کرنا ضروری ہے ؟۔ فتوی مرحمت فرماکرمشکور فرمائیں ۔
الجواب ہوالموفق للصواب:۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ اعلان پر غروب سے پہلے روزہ کھول دینے والوں پر اس روزے کی قضا لازم ہے ۔
او تسحر او افطر یظن الیوم ای الوقت الذی اکل فیہ لیلا والحال ان الفجر طالع والشمس لم تغرب لف ونشر الخ قضی فی الصور کلھا (الدرالمختار علی ھامش ردالمحتار ج۲؛ص۴۰۶)
فقط واللہ تعالی اعلم
العبدابوالسعود احمدعفی عنہ
؍۴ ؍ رمضان ۱۴۱۳ھ (فتوی نمبر۲۵۳؍۱۴۱۳ھ)
السوال:۔
الجواب ہوالموفق للصواب:۔
ہر ماہ تین سو روپے حاصل کرنے کی شرط پر تجارت میں رقم لگانا سود ہے۔سود حاصل کرنا حرام ہے اور اس طریقے سے امام کی تنخواہ کاانتظام کرناجائز نہیں؍ (۱ ) ۔ نیز مسجد کی رقم کوکسی بھی تجارت میں لگاناجائز نہیں؍(۲)؍
فقط واللہ تعالی اعلم
العبد ابوالسعوداحمد عفی عنہ
؍۲۲؍ذوالقعدۃ ۱۴۱۵ھ (فتویٰ نمبر۱۸۰؍۱۴۱۵ھ)
وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا الاٰیۃ (البقرۃ ۲۷۵)والبيوع الفاسدة فكلها من الربا فيجب رد عين الربا لو قائما لا رد ضمانه لأنه يملك بالقبض ،الدر،قوله والبيوع الفاسدة إلخ والأصل فيه أن كل ما كان مبادلة مال بمال يبطل بالشروط الفاسدة لا ما كان مبادلة مال بغير مال أو كان من التبرعات، لأن الشروط الفاسدة من باب الربا، وهو يختص بالمعاوضة المالية دون غيرها من المعاوضات والتبرعات، لأن الربا هو الفضل الخالي عن العوض، وحقيقة الشروط الفاسدة هي زيادة ما لا يقتضيه العقد ولا يلائمه فيكون فيه فضل خال عن العوض وهو الربا بعينه(ردالمحتار ج۵ ص ۱۶۹)قال تاج الشريعة: أما لو أنفق في ذلك مالا خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله(ردالمحتار ج۱ ص ۶۵۸)
ولا يجوز للقيم شراء شيء من مال المسجد لنفسه ولا البيع له وإن كان فيه منفعة ظاهرة للمسجدالخ ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن(البحرالرائق ج۵ ص ۲۵۹)
السوال:۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید عشاء کی نمازجماعت سے ادا کرنے مسجد پہنچا لیکن جماعت ختم ہوچکی تھی، چنانچہ اس نے اپنی نماز تنہا ادا کیا، پھر تراویح کی نماز باجماعت پڑھی۔توکیا زید کے لئے واجب الوتر جماعت سے ادا کرناجائز ہے یا نہیں؟۔قرآن وحدیث کی روشنی میںمسئلہ کو واضح فرماکرشکریہ کاموقع دیں۔ بینوا توجروا (فتویٰ نمبر۲۵۹؍۱۴۱۳ھ)
الجواب ہوالموفق للصواب:۔
جس شخص نے نمازِ عشاء تنہا پڑھی ہو ، اس کے لیے بھی نمازِ وتر باجماعت پڑھنا جائز ہے(۱)
فقط واللہ تعالی اعلم
العبد ابوالسعود احمد عفی عنہ
؍۱۱؍رمضان المبارک ۱۴۱۳ ھ
صلی العشاء وحدہ فلہ ان یصلی التراویح مع الامام الخ لہ ان یصلی الوترمعہ ھوالصحیح (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۷)
(امداد الفتاویٰ ج۱؛ص۳۲۹،)(فتاوی محمودیہ ج ۷ ص ۱۶۱)فتاویٰ رحیمیہ ج۴؛ص۳۸۶)
السوال:۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے تعلق سے کہ ایک حافظ صاحب باجماعت نماز تراویح کی امامت کرارہے تھے کہ انہیں قرأت میں سہو ہوگیا اور انہوں نے کھڑے کھڑے سلام پھیر دیا اور ان کے ساتھ جماعت نے بھی،پھر حافظ صاحب نے قرآن اٹھا کر دیکھا اور تکبیر کہہ کر پھرازسر نو نماز شروع کردی اور کئی دن سے قرأت میں سہو کے بعد یہی عمل دہرایا جارہا ہے ، جس کی وجہ سے مصلیانِ جماعت بہت ہی پریشان ہیں، اور جماعت میں پھوٹ پڑ نے کا اندیشہ ہے لہٰذا اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔اورمدلل جواب ارسال فرماکر ہمیںشکریہ کاموقع عنایت فرمائیں۔اورعنداللہ ماجورہوں ، عین نوازش ہوگی۔ بینواتوجروا
الجواب ہوالموفق للصواب:۔
قرأت میں سہو ہوجائے تو رکوع میں چلا جانا چاہیے ،دوسری رکعت میں بھی یاد نہ آیا تو کسی اور جگہ سے قرأت کرکے نماز پوری کرنی چاہیے۔ سہوِقرأت (قرأت میں آیتیں بھول جانے )کی وجہ سے کھڑے کھڑے سلام پھیر دینا غلط ہے۔فقط واللہ تعالی اعلم
العبد ابوالسعود احمد عفی عنہ
؍۱۷؍ذوالحجۃ ۱۴۱۲ ھ
(فتویٰ نمبر ۱۳؍۵۹)
ولاینبغی للامام ان یلجئہم الی الفتح لأنہ یلجئہم الی القراء ۃ خلفہ وانہ مکروہ بل یرکع إن قرأ قدرما تجوزبہ الصلاۃ وإلاینتقل الی آیۃ اخری الخ وتفسیرالإلجاء أن یردد الآیۃ أویقف ساکتاکذافی النھایۃ(عالمگیری ج:۱؛ ص : ۹ ۹ )
یکرہ للامام ان یلجئہ الیہ بل ینتقل الی آیۃ اخری لایلزم من وصلھامایفسد الصلاۃ أو الی سورۃاخری أویرکع إذا قرأقدرالفرض الخ وفی روایۃ قدرالمستحب کمارجحہ الکمال الخ ونازعہ فی شرح المنیۃ ورجح قدرالواجب لشدۃ تأکدہ (ردالمحتار ج۱؛ص:۶۲۳)
السوال:۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ مسجد میں نمازِ تراویح کی امامت کے وقت مینارں پر رہنے والے لاؤڈ اسپیکرمیں نماز تراویح میں قرآن سنانے کی چند افراد ہٹ دھرمی کررہے ہیں،محلے کے علمائے کرام شریعت کی روسے مسئلہ سمجھانے کے باوجود یہ ضد پر اڑے ہوے ہیں ؟بینواتوجروا(فتویٰ نمبر ۱۱۰؍۱۴۰۹ھ)
الجواب ہوالموفق للصواب:۔
امام کی آواز اتنی ہو کہ نمازِ با جماعت میں شریک مصلیوں تک پہنچ جائے،اس کے لئے مسجد کے اندر لگے ہوئےاسپیکر کافی ہوں گے،میناروں کے اسپیکر استعمال کرنا جس سے اذان کی طرح قرأت کی آواز بھی محلے بھر میں پھیلے، نماز باجماعت کے مقصد کے خلاف اور نامناسب ہے؟
فقط واللہ تعالی اعلم
العبد ابوالسعود احمد عفی عنہ
۴؍رمضان المبارک ۱۴۰۹ ھ
لایجھد الامام نفسہ بالجھرالخ الامام اذاجھرفوق حاجۃ الناس فقداساء(البحرالرائق ج۱ص:۳۵۵)
قولہ ویجب جھرالامام الخ والأولی ان لایجھد نفسہ بالجھر بل بقدرالطاقۃ لأن إسماع بعض القوم یکفی، بحر و نھر ، و المستحب ان یجھربحسب الجماعۃ فان زادفوق حاجۃ الجماعۃ فقداساءالخ(حاشیۃالطحطاوی علی مراقی الفلاح ص : ۲۵۳) صرح فی السراج بأن الامام اذا جھر فوق الحاجۃ فقدأساء (رد المحتار ج۱؛ ص:۵۸۹)