مضامین سلسبیل

سبعۂ احرف و سبعۂ قراءات

مولانا قاری محمد سراج الدین صاحب رشادی

استاذ دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ

إن هذا القرآن أنزل على سبعة أحرف، فاقرؤوا ما تيسَّر منه

کہ قرآن مجید کو سات احرف میں نازل کیا گیا پس جو حرف آسان ہو اس کے ذریعہ تلاوت کرو۔

قرن ثالث کے بعد سے امت میں قراءات سبعہ کا معمول رہا ہے کہ جس میں حرمین ، شام ، بصرہ اور کوفہ کے مشائخ کی طرف منسوب سات متواتر قراءات پڑھی جاتی ہیں ۔زیر نظر مضمون میں سبعۃ احرف اور سبعہ قراءات کے درمیان جوفرق ہے اس کو زیر بحث لاکرسمجھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ 

اسلاف و اکابرین کی بہت ساری تصانیف ہیں جس میںاس موضوع پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے اور اس کی پیچیدہ گرہوں کو کھولا گیا ہے۔ علامہ ابن الجزری ؒکی مایہ ناز تصنیف’ النشر‘، علامہ سیوطی ؒ کی الاتقان اس میں سر فہرست ہیں ۔حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں اس موضوع پر بہت خوب روشنی ڈالی ہے۔ حضرت علامہ مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نےاس موضوع پر ’’علوم القرآن‘‘ میں بہت عمدہ ، کافی و شافی بحث فرمائی ہے۔

میری نظر سے علامہ احمد بن محمد بن ابی بکر القسطلانیؒ (متوفی ۹۲۳ھ) کی مایہ ناز تصنیف لطائف الاشارات لفنون القراءات گذری جو ۱۰ جلدوں میں تقریبا ۵۰۰۰ صفحات پر مشتمل ہے ۔ علامہ قسطلانیؒ نے جلد اول میں اس موضوع پر روشنی ڈالی ہے ۔ اسی کا حاصل مطالعہ مضمون کی شکل میں قارئین کی پیش خدمت ہے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس سعی کو کارآمد اور نافع بنائے ۔  

سبعۃاحرف میں نزول قرآن کا مقصد

مضمون کی ابتدا ء میں مذکورہ حدیث سے یہ واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے کہ سبعۃ احرف میں  قرآن مجید کے نازل ہونے کی وجہ تیسیر اور آسانی پیدا کرنا ہے ۔ ذیل میں آنے والی اس حدیث سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے۔

عن اُبی بن کعب ان جبریل لقی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وھو عند أضاۃ بنی غِفَار فقال ان اللہ یامرک ان تقریٔ امتک القرآن علیٰ حرفٍ فقال أسأل اللہ معافاتہ ومغفرتہ ، فإن امتی لاتطیق ذلک الخ (مسلم:۸۲۱)

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبریل نے بنی غفار کے ایک باغ ( جس میں پانی کا چشمہ تھا)میں ملاقات کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ایک حرف کے ذریعہ اپنی امت کو قرآن پڑھائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اللہ سے معافات اور مغفرت طلب کرتا ہوں کہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ۔ 
راوی کہتے ہیں کہ جبریل دوبارہ حاضر ہوئے دو احرف کی اجازت لے کر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید کی گذارش کی، جبریل آتے رہے اضافہ کی گذارش ہوتی رہی ،یہاں تک کہ سات حروف کی اجازت ملی اور رب ذوالجلال نے یہ پیغام بھی ساتھ بھیجا کہ فایما حرف قرؤوا علیہ فقد اصابوا  کہ امت جس حرف کے ذریعہ چاہے تلاوت کرے حق اور صواب کو پالے گی ۔

سبعۃ احرف کی تحدید و تعیین

سبعۃ احرف کی اصل مراد اور توجیہ نصوصِ قرآن و حدیث سے واضح نہیں ہے ۔ چنانچہ جب تحدید قرآن و حدیث سے ثابت نہیں تو علماء کے مختلف اقوال مذکور ہیں ۔امام سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الاتقان‘‘ میں سبعۃ احرف کی تشریح میں تقریباً ۳۵ (پینتیس) اقوال نقل فرمائے ہیں ۔

سبعۃ احرف کی توجیہات

بعضوں نے کہا ’’سبعۃ احرف‘‘ سے مراد’’ سبعۃ اصناف‘‘ ہیں ، حجت و دلیل کے طور پر یہ حدیث پیش کی کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل فرمایا کان الکتاب الاول ینزل من باب واحد و نزل القراٰن من سبعۃ ابواب علیٰ سبعۃ احرف : زاجر و اٰمر، وحلال ، وحرام ، و محکم و متشابہ و امثال (مستدرک حاکم :۳۱۴۴ ) کہ پچھلی آسمانی کتابیں ایک راستہ سے نازل ہوتی تھیں لیکن قرآن مجید سات ابواب سے سات احرف پر نازل ہوا، جس میں زجر (ڈرانا) اور حکم کرنا، حلال و حرام ، محکم و متشابہ اور مثالیں ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ احرف کا تعلق الفاظ سے نہیں بلکہ معانی و مفاہیم سے ہے ۔ لیکن یہ قول زیادہ قوی نہیں ہے۔

امام ابن الجزری النشر میں تحدید احرف سبعہ کے بارے میں فرماتے ہیں

تتبعت القراءات صحیحھا وشاذھا وضعیفھا ومنکرھا فاذا ھی ترجع الیٰ  سبعۃ اوجہ من الاختلاف لا تخرج عنھا

فرمایاکہ میں نے تمام قراءات صحیح وشاذ ضعیف منکر ، ہر قسم کی قرأت میں غور و فکر کیا تو یہ پایا کہ اختلاف کی سات وجوہات اسی میں محیط ہیں ۔ اس کے بعد ان سات وجوہات کا ذکر فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے

؍۱) صرف حرکات میں اختلاف ہوگا ، معنی اور صورت کی تبدیلی کے بغیر ۔جیسے

البُخْل البَخَل لَھَب لَھْب

؍۲) یاحرکات میں اختلاف ہوگا معانی کے بدلنے کے ساتھ ۔جیسے

فتلقیٰ اٰدمُ من ربہ کلماتٍ، فتلقیٰ اٰدمَ من ربہ کلماتٌ

؍۳) یا حروف میں اختلاف ہوگا ، معنی بدلیں گے لیکن صورت باقی ہوگی جیسے

ننشزھا ننشرھا ، تبلوا ، تتلوا

؍۴) یا حروف میں اختلاف ہوگا معنی اور صورت کی تبدیلی کے ساتھ جیسے

بضنین بظنین

؍۵) یااختلاف کلمہ میں ہوگا صورت اور معنی کی بقا کےساتھ جیسے

صیحۃ واحدۃ ، ذقیۃ واحدۃ

؍۶) یا اختلاف کلمات کی تقدیم و تاخیر کی شکل میں ہوگاجیسے

وجاءت سکرۃ الموت بالحق، وجاءت سکرۃ الحق بالموت

؍۷) یا پھر زیادتی و نقصان کی شکل میں جیسے

وماعملت ایدیھم،وماعملتہ ایدیھم

آگے فرماتےہیں کہ

واما نحو اختلاف الاظہار والادغام والروم والاشمام مما یعبر عنہ بالاصول فلیس من الاختلاف الذی یتنوع فیہ اللفظ او المعنی لان ھذہ الصفات المتنوعۃ فی ادائہ لاتخرجہ عن ان یکون لفظا واحدا ولئن فرض فیکون من الاول ۔

یعنی اظہار و ادغام کا اختلاف ،اسی طرح روم و اشمام کا اختلاف وغیرہ جس کو فن قراءت میں اصول سے تعبیر کیا جاتا ہے ، یہ ایسا اختلاف نہیں ہے جس میں الفاظ و معانی کا تنوع پایا جاتا ہو ، اس لئے کسی لفظ کی صفات کو مختلف نوع اور طریقے سے ادا کرنے کی وجہ سے وہ لفظ اپنی ذات اور معنی کو چھوڑ نہیں دیتا ، اور اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ سبعۃ احرف کے اختلافی زمرے میں شامل ہے تب بھی تمام اختلافی احکام مذکورہ اقسام کے نوع اول میں شامل ہوجاتے ہیں یعنی

اختلاف بدون تغیر المعنی والصورۃ 

اختلاف بدون تغیر المعنی والصورۃ 

یہ بات واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر آیت علیحدہ طور پر سات مرتبہ نازل ہونے کی کوئی دلیل نصوص سے ثابت نہیں ہے لیکن یہ بات ضرور ثابت ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تعلیم دی کہ قرآن سبعۃ احرف میں نازل ہوانیز صحابہ کے درمیان یہ تمام حروف بالجملہ متعارف تھے ۔ ذیل میں مذکورہ حدیث سے اس کی وضاحت ہوجاتی ہے۔
مسور بن مخزمہ اور عبد الرحمن القارّی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن الخطاب ؓسے یہ کہتے ہوئے سنا : میں نےرسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہشام بن حکیمؓ کو نماز میں سورۂ فرقان پڑھتے ہوئے سنا ، میں نے پایا کہ ہشامؓ نے دوران تلاوت بہت سارے ایسے الفاظ پڑھے جو کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے نہیں پڑھائے تھے۔ میں نے بمشکل اپنے آپ کو سنبھالا تاکہ ہشامؓ نماز مکمل کریں، جیسے ہی ہشامؓنے نمازمکمل کی، میں انہیں گردن سے پکڑا ، چادر سے لپیٹا اورپوچھا کہ آپ کو یہ سورت کس نے سکھائی؟ ہشام نے کہا رسول اللہ ﷺ نے مجھے اسی طرح  پڑھایا۔ میں نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوسرے الفاظ سے پڑھایا اور تم نے الفاظ ہی بدل دیے۔
پھر میں نےانہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا ۔ میں نے کہا ’’یا رسول اللہ ﷺ یہ سورہ فرقان ایسے الفاظ کے ذریعہ پڑھ رہے ہیں جن کی آپ نے مجھے تعلیم نہیں دی تھی ۔ 
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اقرأ یا ھشام،اے ہشام پڑھو ، تو ہشام ؓ نے ان الفاظ کے ذریعہ تلاوت کی جس کو آپ نے رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کذلک اُنزلتْ  ۔ اس کے بعد عمرؓ سے فرمایا  اے عمر تم پڑھو ۔ رسول اللہ ﷺ نے عمرؓ کی قراءۃ پر بھی فرمایا کذلک انزلت کہ قرآن اسی طرح نازل ہوا ۔ پھر فرمایا ان ھذا القراٰن انزل علیٰ سبعۃ احرف فاقرؤوا ما تیسر منہ یہ قرآن سات حرفوں میں نازل ہوا پس تمہیں جو آسان لگے اس میں تلاوت کرو۔ (البخاری ) 
اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سبعۃ احرف سے مراد ہر حرف کی سات الگ الگ وجوہات متفرقاً ثابت ہونا نہیں ہے بلکہ متداخلاً ثابت ہونا مراد ہیں ۔ اس لئے کہ اگر متفرق طور پر سات الگ الگ وجوہات مراد لیتے ہیں تو اس صورت میں قرآن کے سبعۃ احرف میںنازل ہونے کا مقصد جو تیسیر اور آسانی پیدا کرنا تھا وہ فوت ہوجاتا ہے ۔ 
  اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سبعۃ احرف سےسات مختلف لغات بھی مراد نہیں ہیں اس لئے کہ حضرت عمراورحضرت ھشام رضی اللہ عنہما  دونوں ایک ہی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی لغۃ اور بول چال کا لہجہ بھی ایک ہی تھا ۔ 
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسی لئے فرمایا کہ یکون المراد بالاحرف تغایر الالفاظ مع اتفاق المعنی مع انحصار ذالک فی سبع لغات ۔ فرماتے ہیں کہ سبعۃ احرف سے مراد مرادِف الفاظ کا استعمال ہے ۔ معانی کا تضاد و تناقض ہونا قرآن مجید میں محال ہے ۔ اس لئے کہ قرآن نے خود کہا  افلایتدبرون القرآن ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا ۔

خلاصہ کلام

علامہ دانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان الاحرف السبعۃ لیست متفرقۃ فی القرآن کلھا ولاموجودۃ فی ختمۃ واحدۃ ، فاذا قرأالقاری بقراءۃ من القراءات او بروایۃ من الروایات فانما قرأ ببعض الاحرف السبعۃ لا بکلھا ،یعنی سبعۃِ احرف سے مراد ہر لفظ کا سات مرتبہ الگ الگ نازل ہونا نہیں ہے اور نہ یہ کہ تمام احرف سبعہ کا احاطہ ایک ختمِ قرآن میں ممکن ہے، پس جب قاری کسی ایک قرأت کو منتخب کرکے قرآن پڑھتا ہے تو حقیقت میں وہ احرف سبعہ کے ایک حصہ کو پڑھتا ہے ، احرف سبعہ کا مکمل طور پر احاطہ نہیں کرتا۔ 
اس کامطلب یہ ہوا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کسی حرف کی تقیید کے بغیررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید براہ راست حاصل فرماتے تھے اور اسی کو یاد فرمالیتے تھے ۔ پس، جب کوئی صحابی قرآن مجید کا کوئی حصہ یاد فرماتے تو وہ احرف سبعہ کا ترکیبی مجموعہ ہوتا تھا اور دیگر صحابہ کی قرأت سے بعض اوقات اختلاف قلیل یا کثیر کی گنجائش بھی ہوتی تھی۔ 

کثرت روایات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بے شمار فتوحات سے نوازا اور لوگ دین میں فوج در فوج داخل ہوتے گئے اور قرآن کی تعلیم کا مزاج بھی خوب پروان چڑھتا گیا ۔ لوگ مختلف صحابہ سے قرآن کی تعلیم حاصل کرتے تھے ۔ مثلاً ایک ہی شخص حضرت علی بن ابی طالب سے بھی شرف تلمذپایا وہی شخص زید بن ثابتؓ سے بھی پڑھا وہی شخص ابی بن کعب ؓ سے بھی تعلیم قرآن حاصل کیا ،اس طرح مختلف صحابہ کی قرأت کا مخلوط مجموعہ اس شخص کے ذہن و دل میں مرتسم ہوگیا ۔ اب اس شخص سے جو بھی پڑھے گاوہ ایک الگ ہی روایت جو مختلف صحابہ کی قراءت کا مخلوط مجموعہ ہے ،حاصل کرے گا ۔ اس طرح روایتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا۔

تدوین قرآن

حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وکان القرآن کلہ کتب علیٰ عھدہ ﷺ فی الصحف والالواح والعسب لکن غیر مجموع فی موضع واحد ولا مرتب السور قرآن مجید کامل طور پر رسول اللہ ﷺ کے مبارک دور میںالواح و صحف میں لکھا جا چکا تھالیکن متفرق حصے الگ الگ صحابہ کے پاس محفوظ تھے، ایک جگہ نہیں تھے اور نہ اس میں سورتوں کی ترتیب تھی۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دور خلافت میں جب یمامہ کی جنگ ہوئی اور بے شمار حفاظ صحابہ شہید ہوگئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں لکھے گئے صحف جمع کرنے کا حکم دیا ۔
مصاحف میں نقل کرتے ہوئے حضرت زید بن ثابتؓنے صرف وہی آیتیں مصاحف میں  منتقل فرمائیں جو آیتیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرضۂ اخیرہ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری دور قرآن مجید کا سنایا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے سال ) کے مطابق ہو ۔ زید بن ثابت ؓ عرضۂ اخیرہ میں خود حاضر رہے اور اسی وجہ سے تدوینِ مصاحف کے لئے ابوبکر صدیق ؓ نے اور بعد میں حضرت عثمان ؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کو منتخب فرمایا ۔ 
حضرت عثمانؓ نے مصحف کے سات نسخے تیار فرماکر مکہ ، شام ، یمن، بحرین ، بصرۃ اور کوفہ بھیجا اور ایک نسخہ مدینہ میں محفوظ کیا اور اس کے علاوہ تمام نسخوں کو احتراماًجلادینے کا حکم فرمایا۔ 
رسم عثمانی پر امت کا اجماع ہوااوروہ اختلاف جس کی بنیاد رسم الخط کی تغییر پر موقوف ہو ختم ہوگیا ۔ مثلا اگر کسی روایت میں وجاءت سکرۃ الموت بالحق کی بجائے وجاءت سکرۃ الحق بالموت آیا تو ایسے اختلاف کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، اس لئے کہ امت کا رسم عثمانی پر اجماع ہوچکاہے۔ مصحف عثمانی کے علاوہ دیگر مصاحف میں اگر کوئی لفظ متغایرثابت ہو تب بھی وہ منسوخ  قرار دیا جائے گا ۔ معلوم ہوا کہ قرانیت کا حکم صرف اور صرف مصحف عثمانی کو ہی حاصل ہے۔

اجماع امت رسم عثمانی پر ہوا، قراءۃ واحدۃ پر نہیں

یہاں دو باتوں پر غور کرنے کی خاص ضرورت ہے ایک یہ کہ یہ مصاحف نقطے اور حرکات سے خالی تھے ۔دوسری بات یہ کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے امت کا اجماع ایک روایت پر نہیں فرمایا بلکہ ایک رسم پر فرمایا جس کو رسم عثمانی کہاجاتا ہے ۔ لیکن ایسا اختلاف جو رسم عثمانی کے حدود میں رہتے ہوئے ممکن ہو وہ رحمت ہے اور اس کی گنجائش بھی ہے ،جیسے ایک روایت میں میسَرۃ  ہے اور ایک روایت میں میسُرۃ  ہے ۔ اسی طرح بالبُخْل اور بالبَخَل کا اختلاف ہے یا ابی لَہْب اور ابی لَہَب کا اختلاف ۔

رسم عثمانی بعض احرف سبعہ پر مشتمل ہے

ایک سوال یہاں یہ ابھر کر آتا ہے کہ کہ کیا مصحف عثمانی میں احرف سبعہ پوری طرح مکمل شامل ہوگئے ہیں یا پھر احرف سبعہ کا ایک حصہ شامل ہواہے ۔ علامہ طبریؒ وغیرہ کہتے ہیں کہ رسم عثمانی بعض احرف سبعہ کو محیط ہے اور باقی کو علیٰ سبیل الرخصۃ ہونے کی وجہ سے ترک کردیا گیا ہے ۔ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا کہ فاقرؤوا ما تیسر منہ

اختلاف کی ایک اور نوعیت

رسم عثمانی کے حدود میں رہتے ہوئے بھی بعض ایسے اختلافات جو تواتر سے ثابت نہیں تھےمنظر عام پر آنے لگے مثلا بعض لوگ فالیوم ننجیک ببدنک لتکون لمن خلْفَکَ آیۃکی جگہ لمن خَلَفَک آیۃ پڑھتے تھے جبکہ تواترا ًیہ ثابت نہیں ہے ۔ اہل بدع نے ایسی غیر متواتر روایتوں کو پیش کرنا شروع کیا جو رسم عثمانی میں اختلافی امکان رکھتے ہیں۔ اس طرح پھر ایک بار روایات کی کثرت نے صحیح اور غلط کی پہچان کو مشکل کردیا ۔

شروطِ قبولیتِ قراءات

علماء فن نے قراءت قبول کرنے کے لئے تین شرائط متعین فرمایا تاکہ صحیح اور متواتر قراءات کی نشاندہی ہوسکے۔
؍۱۔ رسم عثمانی کے موافق ہو ۔
؍۲۔ متواتراً ثابت ہو۔ ہر دور میں اتنے لوگ اس روایت کو پڑھتے ہوں جن کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہے۔
؍۳۔ عربی قواعد کے مطابق ہو ۔

تدوین قراءات

ان اصولوں کی بنیاد پر بھی بے شمار روایات موجود تھیں ۔ علامہ ابو عبید قاسم بن سلّام رحمہ اللہ (سن وفات ۲۲۴) نے پہلی مرتبہ پچیس اصح ترین قراءت جمع کرنے کا اہتمام فرمایا ۔ اس کے بعد فن قراءت کے ماہرین کی ایک جماعت نے یہ سلسلہ آگے بڑھا یا۔امام طبری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الجامع میں بیس سے زیادہ قراءات جمع فرمائیں۔
روایات و قراءات کے اس وسیع و عمیق سمندر سے سات اصح ترین قراءات کو منتخب کرنے کا مبارک کام سب سے پہلے امام ابوبکر احمد بن عباس بن مجاہد رحمہ اللہ(متوفی۳۲۴ ھ) نے فرمایاتاکہ یہ عدد احرف سبعہ کے موافق رہے ۔ انہوں نے مکہ ، مدینہ ، شام ، بصرہ ، اور کوفہ کی قراءات کو جمع فرمایا اس لئے کہ اس وقت علوم دینیہ کا انہیں مقامات میں زیادہ اہتمام تھا۔
  علامہ دانی رحمہ اللہ نے اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے فن قراءت کی فقید المثال تصنیف التیسیر کے ذریعہ اس امت پر بڑا احسان فرمایا، جس میں پانچ سو سے زائد طریق سے ان سات منتخب قراء کی قراءات مفصل بیان فرمائیں۔ 
علامہ شاطبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الشاطبیہ ‘‘ میںعلامہ دانی ؒکی نایاب تصنیف التیسیر کو اختصار کے ساتھ اشعار میں ڈھالااور اللہ نے اس کتاب کو ایسی مقبولیت عطا فرمائی کہ صدیوں گذرنے کے بعد آج بھی تشنگان علوم قرآن اس سے فیضیاب ہوتے ہیں اور ان شاء اللہ تاقیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا۔  
الغرض یہ مشہور قراءات سبعہ میں سے ہر ایک قراءۃ وحی الٰہی اور منزّل من اللہ ہے،لیکن حدیث  میں جو سبعۃ احرف کا ذکر ہے ان سب کو محیط نہیں ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ سبعۃ احرف کا ایک وافر حصہ سبعۃ قراءات میں داخل ہے ۔ ان سات قراءات کا قرآن ہونے میں کوئی شک نہیں اور ان سب کی قرآنیت کا اعتقاد ایمان کا لازمی جزو ہے،ان میں سے کسی بھی روایت کی تلاوت نمازوں میں کرنا درست ہے ۔ 

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا