مضامین سلسبیل

روزے کی فضیلت

(خطابِ مستطاب)
حضرت مولانا شاہ قمر الزماں صاحب الہ آبادی دامت برکاتہم

دارالمعارف ، الہ آباد ، یوپی

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ، یا ایھا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ، صدق اللہ العظیم ، وقال النبی ﷺ الصوم جنۃ او کما قال علیہ الصلوٰۃ والسلام ۔

میں نے جس آیت کی تلاوت کی ہے ، وہ آیت رمضان شریف کے روزوں ہی کے متعلق ہے ، اسی آیت سے رمضان کا روزہ فرض قرار دیا گیا ہے ، من جملہ ارکانِ اسلام کے روزہ بھی ہے ، جیسا نماز ہے ، حج ہے ، زکوٰۃ ہے ،اسی طریقے سے روزہ بھی ہے ، اس کی بڑی اہمیت ہے ، خاص طور سے اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق آیت نازل فرمائی اور اس کے متعلق ہر سال ہی علماء بیان کرتے ہیں ، جو چیزیں جس موسم ، جس مہینے کے لئے ہوتی ہیں اس کا بیان بار بار ہونا ہی چاہئے ، اللہ تعالیٰ ہم سب لوگوں کو اس آیت کے مطابق روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو اس کا فائدہ اورمنشاء و مقصد ہے ، اس کو بھی خیال میں رکھنا چاہئے کہ روزہ کے جومقاصد ہیں وہ اس سے پورے ہوں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ۔ یا ایھا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ ایمان والوںکو خطاب فرمارہے ہیں ، اس لئے کہ ایمان والے اللہ تعالیٰ کے محب اور محبوب ہیں ، یہاں پر اللہ تعالیٰ ایمان والوں ہی کو خطاب فرمارہے ہیں ، یا ایھا الناس نہیں فرمایا ، یا ایھا الذین آمنوا ۔ مشقت کی چیز پیش آنے والی ہے تو اس کو جو مخلص ہوگا ،جو محب ہوگا، وہی قبول کرے گا ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ، جو مخلص ، مومن ہیں ، اللہ تعالیٰ کے عاشق ہیں ، ان کو خطاب فرمایا ، یا ایھا الذین آمنوا  ، تم ایمان لائے ہو، اس بناء پر میں تم کو ایسی بات کا حکم دے رہا ہوں ، تم ضرور اس کی اقتداء کرنا ، اس پر عمل کرنا تاکہ اس کے فیوض و برکات سے تم مالا مال ہوسکو، لہٰذا فرماتے ہیں  یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے ، کیا گیا اس لئے فرمایا، یہ نہیں کہا کہ میںنے تم پر فرض کیا ہے ۔ کیونکہ ایک مشقت کی چیز اپنے بندوں پر ، اپنے مخلصین پر ، اپنے عاشقین پر ڈالنا چاہتے تھے ، اس بناء پر یہ نہیں کہا کہ کتبتُ  میںنے فرض کیا ، یہ نہیں کہا ، فرمایا کہ کُتب علیکم الصیام  تم پر روزہ فرض کیا گیا ،کس نے فرض کیا ، اس کوموہوم کردیا ، اس کو مخفی کردیا گیا ، اس بناء پر اللہ تعالیٰ کی نہایت شفقت ہے یہ گویا کہ ایک تو خطاب کیا مومنین کو ، دوسرے یہ فرمایا کہ  کتب علیکم الصیام ایک مشقت کی چیز میںتم پر لانا چاہتا ہوں ، لیکن یہ نہیں کہا کہ میں نے فرض کیا ہے ، یہ بہت بڑا نکتہ ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسے سمجھنے کی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ کی شفقت اور عنایت اور ان کا احسان اس کو پیش نظر رکھنا چاہئے ۔ 
اے ایمان والوکہنے ہی سے مومنین کو تیار ہوجانا چاہئے ، جب اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں اے مومنو ، تو تیار ہوجانا چاہئے ، جیسے کہا جاتا ہے اے میرے بچو! یہ اسی لئے کہا جاتا ہے ،ہمارے شیخ الحدیثؒ اے پیارو! کہا کرتے تھے ، اے پیارو ، کیوں ، جب پیارے ہو تو ہماری بات بھی مانوگے ، تو گویا پیارو کہنے سے محبت پیدا ہوگئی ۔ یہ ہمارے دلارے ، پیارے ہیں ، ہم پیاروں سے یہ کہہ رہے ہیں ، یہ پیارے ہیں اور ان کی بات بھی ان کو ماننی چاہئے ، یہ کہنے کا مطلب ہی یہی ہے ، اے میرے بچو! اے میرے پیارو! اےمیرے دلارو، یہ سب اسی مفہوم میں ہے ۔ 
یا ایھا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے ،  کما کتب علی الذین من قبلکم  تمہارے پہلے بھی جو لوگ گذرے ہیں ان پر بھی یہ روزہ فرض کیا گیا تھا ، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے ، بلکہ جو تم سے پہلے تھے ان پر بھی فرض تھا، اس میں تسہیل ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ صرف تم پر ہم بار ڈال رہے ہیں بلکہ بہت سے اللہ کے بندوں نے اس کو قبول کیا ہے ، اس پر عمل کیا ہے ، تو تم لوگ بھی جو امت محمدیہ کے ہو اور خاص ہمارے بندے ہو، نبی کریم ﷺ جو ہمارے محبوب ہیں ان کے تم محبوب ہو تو تم کو تو ضرور ہی عمل کرنا چاہئے ۔ 
کتب علی الذین من قبلکم  تمہارے سے پہلے جو لوگ تھے ، ان پر بھی فرض کیا گیا تھا،  لعلم تتقون  تاکہ تم متقی اور پرہیز گار ہوجاؤ ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرض کیا تاکہ تقویٰ تمہارے اندر آجائے ، تقویٰ کی اتنی اہمیت ہے ، اتنی فضیلت ہے کہ پورے ایک مہینے کے روزے کو فرمایا کہ تمہیں متقی بنانے کے لئے ہم نے یہ فرض کیا ، کیونکہ جنت میں زیادہ داخل ہوں گے کس چیز سے لوگ؟ کہتے ہیں کہ تقویٰ ہی سے داخل ہوں گے ، یہاں میں نے حدیث نہیں پڑھی تھی اب پڑھ رہا ہوں ،  سئل رسول الله ﷺ عن اکثر ما یدخل الجنۃ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا ، یا رسول اللہ ! جنت میں لوگ کس چیز سے زیادہ داخل ہوں گے ، اس کو آپ بتلائیے تو فرمایا کہ  تقویٰ اللہ وحسن الخلق اللہ کا تقویٰ ہوگا اور پھر اس کے ساتھ اچھے اخلاق ہوں گے ،تو یہ آیت اس لئے آئی ہے کہ تقویٰ کے لئے تم کو ابھاریں کہ تقویٰ ایسا عمل ہے ، ایسا وصف ہے ، ایسا دل کا عمل ہے کہ اس کے ذریعے سے جنت میں تم پہنچ جاؤگے ، اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی اور رسول اللہ ﷺ سے یہ کہلوایا ۔ حضور ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں وہ بھی گویا کہ وحی ہے ، قرآن تو وحی ہے ہی ، نبی کریم ﷺ کے ارشادات ہیں وہ بھی وحی ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا ،  سئل رسول اللہ عن اکثر ما یدخل الجنۃ  ا س چیز کے بارے میں جس سے لوگ کثرت سے جنت میںداخل ہوں گے تو پہلی چیز کیا فرمائی کہ تقویٰ ۔ اللہ کا تقویٰ ایسا ہے کہ یہ جنت میں لے جائے گا اور دوسری بات جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ، وہ یہ کہ حسن الخلق  ، اخلاق اچھے ہوں ۔ 
علامہ ابن قیمؒ بہت بڑے شخص ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ تقویٰ اللہ ہوگا تو وہ اللہ کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرے گا اور جب حسن الخلق  ہوگا تو لوگوں کےبھی حقوق ادا کرے گا ، بہت زبردست جوڑ ہے اس کا آیت سے ، حسن الخلق اور تقویٰ اللہ ۔ 
ہمارے حضرت (شاہ وصی اللہ صاحبؒ )فرمایا کرتے تھے کہ اصل تقویٰ ہی ہے ، تقویٰ ہوگا تو حسنِ خلق بھی ہوگا ، یہ حضرتؒ کا ایک نکتہ تھا ، کہتے ہیں کہ تقویٰ اگر ہوگا تو حسن خلق خود بخود آجائے گا ، کہتے ہیں کہ اگر اللہ کا ڈر ہوگا تو کسی کے ساتھ بد اخلاقی کرے گا ؟ کسی کے ساتھ گالی گلوچ کرے گا ؟ کسی کے ساتھ معاملہ بگاڑے گا ، نہیں ، کبھی نہیں کرے گا ، اس موقع پر مجھے حضرت کی باتیں یاد آتی ہیں ۔ 
اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کی اہمیت کے لئے روزے کو فرض کیا ، اس بناء پر روزے رکھنے کا بہت اہتمام کرنا چاہئے اور اس کو کسی طرح بگاڑنا نہیں چاہئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، نمیمہ سے ٹوٹ جاتا ہے ، اس کا مطلب یہی ہے کہ روزے کے جو خواص ہیں ، روزے کے جو برکات ہیں ، ان کے اعمال کی وجہ سے وہ ان سے محروم ہوجاتا ہے ، روزہ تو ہوجائے گا فرض تو ادا ہوجائے گا ، اس بناء پر روزے کے ساتھ ساتھ ہم کو وہ بد اخلاقیاں جو روزے کے اندر نقص پیدا کردیں ، اس سے بھی بچنا چاہئے ، اسی بناء پر حدیث میں کہا  الصوم جنۃ روزہ ڈھال ہے ، مطلب روزہ جب آئے گا تو بہت سی برائیوں کے لئے ڈھال بن جائے گا ، روزہ ہم پر اسی لیے فرض کیا گیا ہے کہ یہ روزہ ہمارے لئے برائیوں سے ڈھال بن جائے گا ، رکاوٹ بن جائے، اس بناء پر روزہ کا بہت اہتمام کرنا چاہئے ، اس کی ادائیگی کا اہتمام ہونا چاہئے ، اللہ تعالیٰ جس کو توفیق دے وہ اعذار سے ، برائیوں سے اس کو بچائے رکھے ، ضرور روزہ رکھنا چاہئے ، گرمی میں گرچہ شدت ہوتی ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ اس کا اجر وثواب بھی اتنا دیں گے کہ جس کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ 
حدیثوں میں آتا ہے ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حدیث قدسی ہے کہ دیگر کاموں کا تو اللہ دس گنا اجر دیتے ہیں ، اس میں ہے  انا اجزی بہ  میں اس کا بدلہ دوں گا ، میں اس کی جزا دوں گا اور ایک روایت میں ہے  انا اُجزی بہ  میں اس کی جزا ہوجاتا ہوں ، میں خود میری ذات روزہ داروں کی جزا ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب لوگوں کو اس روزے کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اللہ تعالیٰ اچھے طریقے سے حسن نیت کے ساتھ تقویٰ کے ساتھ احتیاط کے ساتھ اس کو ادا کرنے کی توفیق دے ، مختصراً یہ بیان کیا گیا ، اس کے بعد مزید اس کے متعلق یا دوسری چیزوں کے متعلق بیان کیا جائے گا، ضروری نہیں کہ اسی پر بیان کیا جائے ، خواہش کا اـظہار کیا گیا تھاتو میں بھی بیان کرنے پر آمادہ ہوگیا، اللہ تعالیٰ میرے لئے بھی اس کو مفید بنائے ، میرے بچوں کے لئے ، میرے متعلقین کے لئے،آپ سب ہمارے محب ہیں ، اللہ تعالیٰ روزے کے اس مہینے کے برکات سے مستفید فرمائے ، قرآن پاک کی تلاوت ہونی چاہئے ، درود شریف پڑھا جانا چاہئے ، ذکر اللہ کا بھی اہتمام ہونا چاہئے ، انشاء اللہ اس کی برکت سے بہت کچھ ہم کو حاصل ہوگا ، دعا فرمائیے ، اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کو روزے کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائیے اور صحیح طریقے سے اس کو ادا کرنے کی توفیق بخشے ۔

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم برحمتک یا ارحم الراحمین بحرمۃ سیدنا النبی الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلم ۔

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا