مولانا افتخار احمدمحسن رشادی
مدرس- دارالعلوم سبیل الرشاد ، بنگلور
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا اُولٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُھِیْنٌ (لقمان :۶)
اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی باتوں کے خریدار بنتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو بے سمجھے بوجھے اللہ کے راستے سے بھٹکائیں اور اس کا مذاق اڑائیں ، ان لوگوں کو وہ عذاب ہوگا جو ذلیل کرکے رکھ دے گا۔
تشریح :اللہ تعالیٰ نے سورۃ کی ابتدائی آیات میں حکمت والی کتاب کوایسے نیکو کاروں کے لئے سراسر ہدایت و رحمت کا ذریعہ قرار دیا جونماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں اور فرمایا ایسے ہی لوگ ہدایت پر ہیں اوریہی فلاح پانے والے ہیں۔
ان کے بعدان کے بالمقابل مذکورہ آیت میںاللہ تعالیٰ نے اُن بد بخت لوگوں کا ذکر کیاہے جو اپنی جہالت ونادانی، ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر قرآن پاک کو چھوڑ کرکھیل تماشے گانے بجانے اور واہیات و خرافات میں خود بھی مبتلا ہوتے ہیں اور دوسروں کوبھی راہِ الٰہی سے بھٹکاتے ہیںاورالٹا قرآن اور دین کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا انہی لوگوں کو اہانت آمیز عذاب ہوگا۔
لفظ اشتراء کے لغوی معنی خریدنے کے ہیں ، بعض اوقات ایک کام کے بدلے دوسرے کام کو اختیار کرنے کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے جیسے الذین اشتروا الضللۃ بالھدی وغیرہ۔یہاں یہی معنی مراد ہیں۔
سَبِیْلِ اللہِ سے مراد ہے اللہ کا دین یا اللہ کی کتاب کی تلاوت۔ (بیضاوی)
D بِغَیْرِ عِلْمٍ کا تعلق اگر یَشْتَرِیْکے ساتھ ہوتو مطلب ہوگا کہ وہ جاہل و نادان آدمی کچھ نہیں جانتا کہ وہ کیسی بیش بہا و قیمتی چیز کو چھوڑ کر ایسی تباہ کن چیز خرید رہا ہے جو فکر و اخلاق کو غارت کردینے والی ہے اور اگر اس کا تعلق لِیُضِلَّ سے ہو تو معنی ہوگا کہ وہ علم کےبغیر لوگوں کی رہنمائی کرنے چلا ہے اسے یہ شعورتک نہیں ہے کہ خلق خدا کو خدا سے دور کرنے کی کوشش کرکے وہ کتنا بڑا جرم اور گناہ اپنی گردن پر لے رہا ہے ۔
لھو الحدیث سے کیا مراد ہے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے پوچھا گیا تو انہوں نے تین مرتبہ زور دے کر فرمایا ھو واللہِ الغِناء خدا کی قسم اس سے مراد گانا ہے ۔ (ابن جریر ، حاکم، بیہقی ، ابن ابی شیبہ )
حضرت ابوامامہ سے ترمذیؒ نے نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :گانے والی عورتوں کو بیچنا ، خریدنا ، ان کی تجارت کرنا ،اوران کی قیمت لینا حلال نہیں ہے۔
دوسری روایت میں ان کی قیمت کھانا حرام فرمایا ہے ۔
تیسری روایت میں لونڈیوں کو گانے بجانے کی تعلیم دینا حرام فرمایا ہے ۔
مذکورہ تینوںروایتوں کے بارے میں امام ترمذیؒ نے فرمایا فی مثل ھذا انزلت ھذہ الایۃ ۔یعنی انہی جیسی باتوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ۔
اکثر صحابہ و تابعین اور جمہور مفسرین کےنزدیک لھو الحدیث عام ہے ان تمام چیزوں کے لئے جو انسان کو اللہ کی عبادت اور یاد سے غفلت میں ڈالتی ہیں ،اس میں غنا ،گانا بجانا بے ہودہ قصے کہانیاں،افسانے ڈرامے جنسی اور سنسنی خیز قصے ، بے حیائی کے پرچار اخبارات ،واہیات مشغلے ، گانے بجانے کے سارے آلات (ریڈیو، ٹی وی ، ویڈیو ، فلمیں اور موبائل وغیرہ) سب داخل ہیں۔
امام بخاریؒ نے الادب المفرد میں لھو الحدیث کی تفسیر ھو الغناء واشباھہ سے کی ہے ،یعنی لھو الحدیث سے مراد گانا اور اس کے مشابہ دوسری سب چیزیں ہیں۔
اس آیت کا شان نزول علامہ ابن ہشام نے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ علامہ آلوسی نے اس کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایاہے کہ کفار مکہ کی شدید مخالفت کے باوجود جب دین اسلام روز بروز پھیلتا چلا گیا اور قرآن کا حسنِ اعجاز لوگوں کے دلوں میں اترنے لگا اور روز بروز اسلام کی مقبولیت میں اضافہ ہونے لگا تو قریش کے سر بر آوردہ لوگوں میں فکر مندی کی لہر دوڑ گئی۔ باہم مشورے ہونے لگے۔ نضر بن حارث نے کہا کہ تم جس طرح اس شخص کا مقابلہ کر رہے ہو، اس میں تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ نہ وہ شاعر ہے نہ مجنون، نہ وہ ساحر ہے نہ کا ہن۔ ان الزامات کا اس کی دعوت پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے ایک چال چلی۔تجارت پیشہ آدمی تھا، اپنے کاروبار کے سلسلے میں مختلف ممالک ایران،عراق، شام وغیرہ میں اس کی بکثرت آمد ورفت رہتی تھی۔ وہاں سے وہ رستم و اسفند یار کے قصے، بادشاہوں کے جنگوں کی کہانیاں خرید کر لے آیا اور جب نبی اکرم ﷺلوگوں کو کلام الٰہی پڑھ کر سنانے لگتے تو وہ بالمقابل اپنی مجلس جماتا اورکہا کرتا کہ محمد تو تمہیں قومِ عاد و ثمود وغیرہ کے واقعات سناتے ہیں اور قرآن سنا کر کہتے ہیں کہ نماز پڑھو ،روزہ رکھو اور اپنی جان دو ، جس میں تکلیف ہی تکلیف ہے ، آؤ میں تمہیں اس سے بہتر قصے سناتا ہوں جن میں لذت ہی لذت ہے اور لوگوں کو دلچسپ افسانے اور بے سروپا کہانیاں سناتا، جو عام لوگوں کی تفریحِ طبع کا باعث ہوتیں۔ چنانچہ کئی لوگ قرآن کریم سننے کی بجائے اس کی مجلس میں شرکت کو ترجیح دیتے۔ اس ظالم نے فقط اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس نے کئی پری پیکر لونڈیاں بھی خرید رکھی تھیں جو رقص و سرود کے فن میں ماہر تھیں۔ جب اسے پتہ چلتا کہ فلاں شخص اسلام کی طرف مائل ہورہا ہے تو وہ ان مہ وِشوں کو اس کے اوپر مسلط کر دیتا جو گا تیں، ناچتیں ، کھلاتیں پلاتیں اور اپنی اداؤں سے اس کے دل کو لبھاتیں یہاں تک کہ وہ راہِ حق سے بھٹک جاتا۔
جو طریقہ نضر بن حارث نے اختیار کیا تھا اِس زمانے میں اسلام دشمن قوتیں اسی راستے پر چل رہی ہیں کہ وہ نوجونواں کے شہوانی جذبات کو مشتعل کرکے انہیں عیش و نشاط کا خوگر بنانے میں شب و روز لگے ہوئے ہیں، فلم انڈسٹری ، شبینہ کلبیں ، ثقافتی تقریبیں اور ناچ رنگ کی محفلیں قیامت برپا کررہی ہیں۔
غرض وہ عوام کو کھیل تماشوں ، رقص و سرود کی محفلوں میں غرق کرنے میں لگےہوئے ہیں تاکہ انہی زندگی کے سنجیدہ مسائل کی طرف رخ کرنے کا ہوش نہ رہے اور اس عالم مستی میں ان کو سرے سے یہ محسوس ہی نہ ہونے پائے کہ انہی کس تباہی کی طرف ڈھکیلا جارہا ہے کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جس سے انسان کو مقصد حیات سے غافل کیا جاسکتا ہے ۔
لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ آج انہوں نے جس طرح اللہ تعالیٰ کے دین کو تمسخر بنایا ہے کل کو اسی کی سزا کے طور پر سب کے سامنے رسوا کردینے والا عذاب ہوگا چنانچہ حضرت انسؓ کی روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من جلس الی قنیۃ یسمع منھا صب فی اذنیہ الاٰنک یوم القیامۃ جو شخص گانے والی کی مجلس میں بیٹھ کر اس کا گانا سنے گاقیامت کے روز اس کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔
حضرت ابومالک اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ شراب کو اس کا نام بدل کر پئیں گے ، ان کے سامنے معازف و مزامیر کے ساتھ عورتوں کا گانا ہوگا ، اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں دھنسا دے گا اور بعض کی صورتیں مسخ کرکے بندر اور خنزیر بنادے گا۔ (ابوداؤد)
ترمذی میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت میں جن پندرہ باتوں کے امت کے اندر پیدا ہوجانے پر اللہ کی طرف سے یکے بعد دیگرے مختلف قسم کے عمومی عذابات کی خبر دی گئی ہے ،ان میں خاص طور سے یہ دو چیزیں بھی ہیں۔جب گانے بجانے والی لونڈیاں اور آلاتِ لہو و لعب کا غلبہ ہوجائے ۔ (ترمذی)
مذکورہ تفصیل سے لہو و لعب کے اسباب کو استعمال کرنے اور ان کے خرید و فروخت کاحکم بھی معلوم ہوگیا ، جو کھیل دین سے گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بنے وہ کفر ہے اور جو کھیل لوگوں کو اسلامی عقائد سےتو گمراہ نہیں کرتا مگر ان کو معصیت میںمبتلا کرتا ہے تو وہ حرام ہے ۔ اور اسی طرح جو انسان کو ادائے فرائض وغیرہ سے مانع ہو ، جیسے ٹی وی ، ویڈیو ، اور موبائل کا غلط استعمال یہ سب ناجائز ہیں۔جن کھیلوں میں نہ کفر ہے نہ کھلی ہوئی معصیت مگر اسی کو مشغلہ بنانا اور اپنی توانائی اور وقت ضائع کرنا مکروہ ہے ۔ جیسے کرکٹ بینی اور فٹ بال بینی وغیرہ۔ ہاں جو کھیل صحت و تندرستی باقی رکھنے کے لئے یا کم از کم تھکان دور کرنے کے لئے ہوں بشرطیکہ ان میں غلو نہ کیا جائے اور مشغلہ نہ بنایا جائے تو ایسے کھیل مباح ہیں،اگر دینی نیت سے ہوں تو ان میں ثواب بھی ہے ۔ جیسے تیر اندازی ، گھوڑسواری اور اپنے اہل کے ساتھ ملاعبت۔ (الحدیث)
مذکورہ احادیث کی روشنی میں دیکھئے اس زمانے میں وہ ساری برائیاں عام ہوچکی ہیں اور بڑھتی جارہی ہیںجن کی خبر چودہ سو برس پہلے رسول اللہ ﷺ نے دی ہے۔ مسلمانوں کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ ایسے گناہ اگر عام ہوجائیں تو آسمانی عذابات کا سلسلہ شروع ہوجائے گا پھر قیامت کی آخری علامات بھی ظاہر ہونے لگیں گی۔
اسی تناظر میں حضرت مولانا علی میاں ندویؒ کی جدہ میں ۱۹۸۷ء میں کی گئی ایک تقریر کا یہ اقتباس بالکل بر موقع معلوم ہوتا ہے ، اس کو ملاحظہ فرمائیے ، اس وقت تو گھروں میں صرف ٹی وی اور ویڈیو کا بگاڑ تھا، آج تو اس سے کئی گناآگے بڑھ کر بچہ بچہ کے ہاتھ میں موبائل اوروہ بھی انٹرنیٹ کے ساتھ ہے ۔ اس کی حیثیت دو دھاری تلوارکی طرح ہے ۔ اس کا صحیح مقاصد سے کہیں زیادہ غلط مقاصد میں استعمال ہورہا ہے ، اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق پانے والے خوش نصیب بندے ہی اس کےمفاسد سے محفوظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی خرابیوں سے امت کی حفاظت فرمائے۔
حضرت مولانا ابولحسن علی میاں ندویؒ کی تقریر کا اقتباس ملاحظہ ہو۔۔۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ الخ
’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے صرف نام لینا رہ گیا ویڈیو اور ٹی وی کا، قرآن تو عربی زبان میں ہے ، اس میں انگریزی کا لفظ کیسے آتا ، عقل کی بات نہیں تھی، لیکن قرآن کا اعجاز معلوم ہوتا ہے کہ آج سے چودہ سو برس پہلے جو کتاب نکلی ، اگر میں مسجد میں بیٹھ کر کہوں کہ اس میں ٹی وی اور ویڈیو کا ذکر ہے تو میں غلط نہیں کہوں گا اس لئے کہ قرآن میں کہا گیا من یشتری لھو الحدیث جو لوگ عربی کی بلاغت سے واقف ہیں اور اس کی زبان کا صحیح ذوق رکھتے ہیں اہل زبان کی طرح ، اور محض اللہ کا شکر وانعام ہے کہ ہمیں اسی حجا ز و یمن کا فیض پہنچا ہےکہ ہم اس قابل ہوئے ، ہمارے استاذ عرب تھے ، ہم نے ساری عربی عربوں سے پڑھی الحمد للہ ! تو ہم ’’ لھو الحدیث‘‘ کالطف لے رہے ہیں ، ہمارا عربی کا ذوق لھو الحدیث کے دائرے کی وسعت کو دیکھ رہا ہے ، میں اس لفظ کا ترجمہ نہیں کرسکتا، حالانکہ لکھنو کا رہنے والا ہوں ، میں اقرار کرتا ہوں کہ میں ’’ لھو الحدیث ‘‘ کے ترجمہ کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ اس کے معنی ہیں باتوں کاکھیل ، اب بتائیے – ریڈیو اور ویڈیو وغیرہ میں کیا ہے ، اگر یہ ہوتا کہ بہت سے لوگ ہیں جو کھیل کو پسند کرتے ہیں ، کھیل خریدتے ہیں تو اس میں ریڈیو اور ٹی وی نہ آتا – مگر باتوں کا کھیل کہا گیا یہ وہ ہے جو میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ قرنِ اول، قرنِ ثانی ، قرنِ ثالث ، قرنِ رابع اور پانچویں ، چھٹی ، ساتویں ، آٹھویں ، یہاں تک کہ میں کہوں شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؓ کا ذہن بھی یہاں تک نہیں گیا ہوگا (یعنی ویڈیو اور ٹی وی کی طرف) یہ قرآن کا معجزہ ہے ، حدیث کا لہو ، باتوں کا کھیل اور وہ کیا ہے ، یہ ویڈیو کا پروگرام ،ٹی وی کی بولتی تصویریں ، یہ ویڈیو ، یہ رکارڈ جو سنے جاتے ہیں ، سب ’’ لھو الحدیث ‘‘ ہیں، آج سے چودہ سو برس پہلے جب یہ سب چیزیں ایجاد ہونا تو در کنار ، کسی نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا، اس وقت کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا ، اس وقت اللہ کی کتاب نے کہہ دیا ، بہت سے لوگ ہیں جو ’’ لھو الحدیث ‘‘ خریدتے ہیں ۔
میرے عزیزو! آپ کو کم از کم اپنے گھروں کی حفاظت کرنی چاہئے اور یہ سمجھنا چاہئے کہ عقائد میں بھی ہم کو پورا مسلمان ہونا چاہئے ، عبادات میں بھی پورا مسلمان ہونا چاہئے ‘‘۔
[ویڈیو اور ٹی وی باتوں کا کھیل ۔ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ ۔ ص:۱۴، ۱۵]