تاریخ سبیل الرشاد
(تیسری قسط)
کونسی بات کب کہاں کیسے کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے
اسی چمنستان علم و ادب کے خوشہ چینوں میں مشہور و معروف نامور واعظوں کے نام آتے ہیں جیسے بڑے حضرت ؒ کے بڑے فرزندِ ارجمند حضرت مولانا ولی اللہ صاحب رشادی ؒ کا بصیرت افروزبیان ، جس سے سامعین بے حد متاثر ہوا کرتے تھے ، اسی طرح حضرت مولانا ریاض الرحمن صاحب رشادی ؒ امام وخطیب جامع مسجد بنگلور کی شیریں بیانی سے محظوظ ہونے کےلئے لوگ دور دراز کا سفر برداشت کرتے تھے ، ایسے بیسیوں مقررین گذرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں جو اپنی شیریں بیانی اور شعلہ بیانی کا لوہا عوام و خواص میں منواچکے ہیں ، یہ وہ بے باک مقررین ہیں جو زمانہ طالب علمی ہی سے امت کو راہِ راست پر لانے کی طلب رکھتے تھے اور تڑپ ان کے قلوب میں جاگزیں تھی اور اس انجمن سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے خوب محنت و لگن سے اپنی مافی الضمیر کو ادا کرنے کا ڈھنگ سیکھا جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے
سمندر الٹا سیدھا بولتا ہے
سلیقے سے تو پیاسا بولتا ہے
حضرت مولانا نیر ربانی صاحب ؒ اردو زبان کی مٹھاس اور شیفتگی کو طلبہ کے سامنے بیان فرماتے ، اردو الفاظ کا املاء اور تلفظ کی صحت پر کافی زور دیتے اور اردو زبان مثالوں سے سمجھاتے تھے ، جس میں بہت سے ادیب بھی غلطی کرجاتے ہیں ،اورہر جمعرات صبح اشراق کے بعد طلبہ کو نصیحت فرماتے ہوئے چھوٹی چھوٹی مگر موٹی مثال دے کر خوشگوار طرزمیں سمجھایا کرتے تھے جو طلبہ کو سفر و حضر میں بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔ فجزاھم اللہ عنا خیر الجزاء
پتھر کی بھی تقدیر بدل سکتی ہے
شرط یہ ہے کہ سلیقے سے تراشا جائے
اسی طرح حضرت حکیم الملت ؒ اردو زبان و بیان کی نزاکتوں اور باریکیوں سے وقتاً فوقتاً طلبہ کو نہایت خوبصورت اور دل چسپ انداز میں واقف کرایا کرتے تھے ، آج ابنائے سبیل الرشاد کے زبان و قلم میں جو بھی شیرینی و چاشنی ہے وہ آپ ہی کی توجہات کی برکت ہے ۔
مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں
جامعہ کو اعلیٰ معیار پر پہنچانے کے لئے دیگر تعلیمی اداروں کا معائنہ بھی کیاجائے اور دینی طلبہ کی زندگی کو دین کے لئے کار آمد بنانے کے سلسلے میں علی الخصوص دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کے نظام کا مشاہدہ و مطالعہ کیا جائے ، جہاں تعلیم و تربیت کے علاوہ طلبہ کو تبلیغ بھی سکھائی جاتی ہے جو دینی کام ہفتہ واری چھٹیوں میں یہ طلبہ بنگلور سٹی و لشکر کے محلوں میں جاکر انجام دیتے ہیں ، جاننے سے تعلق رکھتا ہے ، ان کے نظام اور تعلیمی استعداد کی بلندی قابل رشک ہے ‘‘۔ ادارے کی اللہ تعالیٰ نظرِ بد سے حفاظت فرمائے ۔