بڑے حضرتؒ کی ایک یادگارتقریر
حضرت علامہ شاہ ابوالسعود احمد باقوی
ذیل میں بڑے حضرت علامہ شاہ ابوالسعود احمد باقویؒ، بانی و مہتمم دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور و امیر شریعت کرناٹک اول ، کی ایک یادگار تقریر ہے ، جسے حضرت امیر شریعت سوم (مدیر سلسبیل) نے دورِ طالب علمی میں اپنی بیاض میں نوٹ فرمایا تھا۔
الحمد للہ و کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی اما بعد اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ، ما ارید منھم من رزق الایۃ
ہر چیز بنانے کا ایک سبب ہوتا ہے ، کرسی انسان بناتا ہے بیٹھنے کے لئے ، گھر بناتا ہے تو رہنے کے لئے ، گھڑی بناتا ہے وقت دیکھنے کے لئے ۔ ہر چیز ایک ضرورت اور سبب کے لئے بناتا ہے ، اب ضروری ہے کہ اس چیز کو اسی کام میں استعمال کرے ، جس کے لئے وہ بنائی گئی ہے ۔ جوتا اگر کوئی پاؤں میں پہن کر چلنے کے بجائے سرمیں استعمال کرے تو لوگ اس کو پاگل کہیں گے ، جب تک وہ چیز اسی کام میں استعمال ہو جس کے لئے وہ بنائی گئی ہے ، قیمتی رہتی ہے ، جب وہ استعمال کے قابل نہ ہو قیمتی نہیں رہتی ، اس چراغ (لائٹ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا) میں جب تک روشنی دینے کی طاقت رہے گی ، اس وقت تک اس کی قیمت ہے ، جب روشنی کے قابل نہیں تو اس کی کوئی قیمت نہیں ۔ گھڑی کو سو روپے میں دو سو روپے میں خریدتے ہیں ، چھوٹی سی چیز ہے ، ہاتھ میں باندھ لیتے ہیں ، جب تک وہ صحیح وقت بتاتی ہے تو قیمتی رہتی ہے جب وہ خراب ہوجائے اور مرمت کے بھی قابل نہ ہو تو اس کی کچھ قیمت نہیں ۔ کوئی اس کو کچل دے تو وہ دو روپے میں بھی خریدنے کے قابل نہیں رہتی۔
عزیز دوستو! انسان بناتا ہے تو غرض رکھ کر ، بے غرض نہیں ، جب انسان ہی ایسا ہے تو اللہ نے یہ جو ساری چیزیں بنائی ہیں ، بیکار نہیں بنایا ، آسمان ، چاند ، ستارے ، سورج ، درخت ، پہاڑ، پانی ، زمین ہر چیز کو ایک غرض کے لئے بنایا ہے اور یہ ساری چیزیں انسان کے کام آتی ہیں ، انسان سورج سے فائدہ اٹھاتا ہے ، پانی سے فائدہ اٹھاتا ہے ، چاند سے فائدہ اٹھاتا ہے ، درخت سے فائدہ اٹھاتا ہے ، زمین سے فائدہ اٹھاتا ہے ، زمین سےپیدا ہونے والی ہزاروں چیزوں سے فائدہ اٹھاتا ہے ، اسی طرح جانوروں سے ، پٹرول سے ، غرض ہر چیز کو اللہ نے واقعتاً اسی طرح فائدہ کے لئے بنایا ہے اور انسان ان سے فائدہ اٹھاتا ہے اور ان سے ہزاروں چیزیں بنالیتا ہے ، لوہے سے موٹر، ریل وغیرہ ، لکڑی سے ہزاروں چیزیں اور انسان کا بہت بڑا مقام ہے ۔ انسان کے مقابل کسی کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔ نہ چاند کی ، نہ آسمان کی ، نہ سورج کی ، نہ ستاروں کی ، نہ پہاڑ کی ، نہ زمین کی ، اسی لیے تو انسان کے لئے یہ ساری چیزیں بنائی ہیں ۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انسان کے لئے بنایا ، اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ان چیزوں کے بغیر انسان نہیں رہ سکتا ، مگر یہ چیزیں انسان کے بغیر بھی رہ سکتی ہیں ، تو معلوم ہوا کہ انسان کے لئے یہ چیزیں ہیں، ان چیزوں کے لئے انسان نہیں ۔ سونے کے لئے انسان نہیں بلکہ انسان کے لئے سونا ہے ۔ چاندی کے لئے انسان نہیں ، سمندر کے لئے انسان نہیں ، بلکہ سب انسان کے لئے ہے ۔
اللہ نے ان تمام کو پیدا کرکے انسان کو مفت بخشا ہے ، پانی بھی ، ہوا بھی ، آسمان بھی ، جانور بھی ، اناج بھی ،ساری چیزیں مفت ۔ آپ کہیں گے کہ یہ ساری چیزیں تو قیمت پر ملتی ہیںہیں ، چاول بھی ، مرغی بھی ، بکرے بھی ، انڈے بھی، تو مفت کہاں ، لیکن آدمی ذرا غور کرکے دیکھے تو اس کا یہ سوچنا غلط ہے ، اللہ نے جو چیزیں بنائی ہیں وہ سب مفت ہی ہیں، جیسے سورج ، چاند اور ان کی روشنی مفت ہے ، ویسے ہی اناج بھی مفت، مگر اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں سے انسان بنالیتا ہے ، چاول سے کئی چیزیں کھانا وغیرہ بنالیتا ہے لیکن چاول تو اللہ ہی کا ہے ، اسی سے بنتا ہے ، اچھا اس کی قیمت کیوں ؟ وہ اس لئے کہ اس پرجو محنت کرنے والے ہیں ان کو کچھ مل جائے ، پانی ڈھوکر لاتا ہے تواس کو مزدوری دیدیتا ہے ،کیا وہ پانی کی قیمت ہے ؟ نہیں بلکہ ڈھو کر لانے کی وجہ سے ہے ، پانی تو اللہ ہی کا ہے ، چاول تو اللہ ہی کا ہے مگر محنت کرنے والوں کو مزدوری ملنے کے لئے قیمت رکھدی گئی ، مثلاً انڈا کی قیمت کوئی لیتا ہےتو اس لئے کہ اس نے مرغی پالی ہے ، اس لئے نہیں کہ اس نے بنایا ہے ، اس کو اللہ نےپیدافرمایا ۔
اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا اور تم کو نعمتوں میں گھیررکھا ہے ، قرآن میں ہے وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا اگر تم نعمتوں کو گننے لگو تو گن نہیں سکو گے ۔ اب ذرا غور کرکے دیکھو کہ جب اللہ نے ہم کو پیدا کیا اور ہمارے پیدا کرنے میں بھی کسی کی شرکت نہیں ، کوئی مل کر پیدا نہیں کئے ، ماں باپ سے اولاد پیدا ہوتی ہے تو اس سے انسان کو دھوکہ نہ ہو کہ ماں باپ پیدا کرتے ہیں ، اگر ان سےبچہ پیدا ہوتا تو کوئی بچہ لنگڑا نہیں ہوسکتا ، کوئی بچہ اندھا نہ ہوتا ، کیا وہ اس طرح نقص والا بچہ اپنابنائیں گے ۔ معلوم ہوا کہ اللہ بناتا ہے ، چار مہینے کے بعد روح ڈالدی جاتی ہے ، اس کے بعد تقریباً چھ ماہ رہتا ہے ،پھر اس بچہ کو منھ کے ذریعے سے نہیں بلکہ ناف میں ایک نلی لگادی جاتی ہے ، جس کے ذریعے سے اس کو غذا پہنچتی ہے ، اب اس کو ناک ، ہاتھ ، پیر آجاتے ہیں۔
اگر کوئی اس بچہ سے کہے کہ تو بہت چھوٹی جگہ میں رہتا ہے ،باہر ایک جگہ بہت بڑی ہے جہاں آفتاب بھی ہے ، چاند بھی ہے ، زمین بھی ہے تو وہ مان نہیں سکتا اور اس کو سمجھ میں نہیں آتا ، جیسے کنویں کے مینڈک سے کہا جائے کہ باہر سمندر ہے جو بہت بڑا ہے تو اس کو سمجھ میں نہیں آسکتا، ویسے ہی اگر کہا جائے کہ جنت ہے ، دوزخ ہے ، کرسی ہے ، وہ اتنا بڑا عالم ہے کہ ایک مسلمان کو جو جنت ملے گی وہ اس دنیا سے دس گنا زیادہ ہے تو کیا ہم اس کو سمجھ سکتے ہیں ، ہمارا دماغ چھوٹا ہے ، سمجھنا مشکل ہے ،لیکن حقیقت میں وہ عالم موجود ہے جیسے وہ بچہ کی سمجھ میں نہیں آیا مگر وہ عالم ہے اسی طرح وہ جنت بھی ہے ، دوزخ بھی ہے اور اس کی خبر تمام انبیاء سے ملی ہے ۔
سارے نبیوں کے سردار نے ہمیں خبر دی ہے کہ ہم تھوڑے دنوں کے لئے یہاں بھیجے گئے ہیں ، تم آئے نہیں ہو بلکہ تم کو بھیجا گیا، جیسا کہ ایک شاعر نے کہا
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اللہ نے بھیجا کس لئے ؟ آ پ اپنے نوکر کے ہاتھ سو یا ہزار روپے دے کر میسور بھیجتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ جاکر فلاں فلاں چیزیں خرید کر لاؤ ، اب اس کا کام کیا ہے؟ کیا یہ ہے کہ ہوٹل میں جائے ، خوب کھائے اورمزے اڑائے ، تفریح کرے ، ٹیکسی میں بیٹھ کر خوب پھرے اور سارے پیسے ختم کرکے آئے ، اگر اس طرح کرکے آئے تواس کا مالک خوش ہوگا یا ناراض؟ ناراض ہوگا۔ اس لئے کہ ہم نے وہ کام نہیں کیا جس کا مالک نے حکم دیا تھا۔
بالکل اسی طرح اللہ نے ہم کو ایک مقصد کے لئے بھیجا ہے ، وہ مقصد کیا ہے؟ کلام پاک میں آیت ملتی ہے وما خلقت الجن والانس الخ عبادت کے لئے بنایا ہے ۔ عبادت ، طاعت اور حکم پر چلنے کو کہتے ہیں ، ہم سب اللہ کے بندے ہیں ، عبد کے معنی غلام ، غلام کا کام غلامی کرنا ، بندے کا کام بندگی کرنا۔ اگر ہم بندگی کے حقوق نہ بجالائیں تو جیسے بلپ اٹھا کر پھینک دیا گیا اسی طرح ہم کو بھی پھینک دیا جائے گا ، اس لئے کہ الٹا سیدھا کام کرکے آیا ہے ، قیامت میں اللہ پوچھے گا کہ میںنے تجھ کو بھیجا تھا کیا کیا؟ اگر کہے کہ میں دکان رکھا تھا ، شادی کیا، فلاں فلاں کام کیا تو یہ اس کو کچھ کام نہیں دے گا ، شادی بھی کرو، دکان بھی چلاو مگر اللہ کا حکم آجائے تو سب کو چھوڑ دو ۔
نوکر کو کھانے کا حق ہے ، سونے کا حق ہے ، ہر چیز کا حق ہے ، وہ نوکر سب کام کرتا ہے مگر وہ نہیں کرتا جو اس کو ضروری ہے تو کیا اس کو تنخواہ ملے گی اور وہاں رہنے کا اسے حق ہے ؟ نہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یمعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموت والارض فانفذوا اگر تم میرے حکم پر نہیں چلتے اور میری حکومت تم کو پسند نہیں تو آسمان و زمین چھوڑ کر نکل کے چلے جاؤ ، کیا یہاں کوئی ایسی جگہ ہے کہ اللہ کی سلطنت سے باہر چلےجائیں ، نہیں۔ اور اللہ تم سے ایسی محنت لینا نہیں چاہتے کہ جو تمہاری طاقت میں نہیں ، ایک پہرہ دار رات بھر جاگتا ہے تو پچاس روپے لیتا ہے ، پچاس روپے دینے والا اس سے اتنا کام لیتا ہے ، لیکن اللہ کہتا ہے کہ اتنی محنت کی ضرورت نہیں ،جب صبح ہو تو اٹھ کر چار رکعت پڑھ لو ، پھر چھٹی ، فاذا قضیت الصلوٰۃ فانتشروا فی الارض پھر دوپہر کو اللہ کے دربار میں حاضر ہوجاو۔