مضامین سلسبیل

دانتوں کی صفائی کی اہمیت و فضیلت

مولانا شعیب احمد رشادی

استاذ دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور

اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس کو ’’ہدی للناس ‘‘ فرمایا ہے ، یہ اس لئے نازل کیا گیا ہے کہ لوگوں کو گمراہی سے ہدایت اور تاریکی سے روشنی کی طرف لائے ، چنانچہ قرآن انسان کی کامل رہبری کرتا ہے اور بتلاتا ہے کہ انسان کو اس دنیا میں میں کیسے زندگی گذارنا ہے ، جس کے نتیجہ میں وہ دنیا میں چین و سکون حاصل کرسکتا ہے اور اس دنیا کے ختم ہونے کے بعد ہمیشہ کی کامیابی و جنت کا مستحق ہوجاتا ہے ، تاہم قرآن جہان کثرت سے اپنے اہم موضوع توحید، رسالت اور آخرت کو ثابت کرنے کے لئے دلائل دیتا ہے وہیں دنیوی امور کے سلسلے میں اختصار کے ساتھ رہبری کرتا ہے ۔ 
اس دنیا میں اللہ کی قدرت کا شاہکار انسان ہے ، جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا: لقد خلقنا الانسان فی أحسن تقوم (التین :۴) ’’ بے شک ہم نے آدمی کو بہترین انداز میں بنایا‘‘۔ 
یہ انسان اس دنیا میں اللہ کی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے زندگی گذارتا ہے ، بیشتر وہ اللہ کے کرم سے صحت مند رہتا ہے اور کبھی کبھی بیماریوں کا شکار بھی ہوجاتا ہے ، تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن میں اللہ تعالیٰ نے علاج و معالجہ اور طبابت کے بارے میں کوئی رہبری و رہنمائی کی ہے؟ تو ماہرینِ قرآنیات و طبابت کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم : ’’ وکلوا واشربوا ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفین (الاعراف : ۳۱) ’’ اور کھاؤ اور پیو اور اسراف مت کرو ، یقینا وہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ میڈیکل سائنس کا یہ سب سے بڑا اصول ہے ، بیماریوں سے بچنے کے لئے ،چونکہ بیشتر بیماریاں زیادہ کھانے پینے اور اس میں اعتدال برقرار نہ رکھنے کے نتیجہ میں ہوتی ہیں ، لہٰذا اگر ہم بیماریوں سے بچنا اور نجات پانا چاہتے ہیں تو کھانے پینے میں اعتدال برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ اسی طرح خود شریعت میں ہے کہ پیٹ کا ایک حصہ کھانے کے لئے ، ایک حصہ پانی کے لئے اور ایک حصہ ہوا کے لئے چھوڑ دیا جائے ۔ 
اسی طرح اللہ تعالیٰ نےاپنے عطا کردہ مذہب ، مذہبِ اسلام میں صفائی و ستھرائی کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے ، صحابہؓ کے بارے میں فرمایا: رجال یحبون ان یتطھروا واللہ یحب المطھرین (التوبہ: ۱۰۸) وہ ایسے لوگ ہیں جو خوب صاف ستھرے رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب صاف ستھرے رہنے والوں کو پسند فرماتے ہیں ۔‘‘ اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے صفائی و ستھرائی اختیار کرنے والوں کے لئے پسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے ۔ 
ذرا غور فرمائیں، بیشتر بیماریاں پیدا ہونے کی اہم وجہ اور سبب گندگی کا ہونا اور نظافت کا اختیار نہ کرنا ہے ۔ اسلام نے روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے جسمانی طہارت کو اتنی اہمیت دی کہ اگر کوئی مسلمان ہوتا ہے تو سب سے پہلا عمل یہ ہے کہ وہ غسل کرے بلکہ دخولِ اسلام کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے غسل کرے پھر کلمہ شہادت کا اقرار کرے ، اس جسمانی صفائی و ستھرائی سے جہاں روحانی تزکیہ حاصل ہوتا ہے وہیں جسمانی بیماریوں سے محفوظ بھی رہتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ الطھور شطر الایمان (مسلم شریف) پاکی آدھا ایمان ہے ۔ اسی طرح ایمان کے بعد اہم فرض نماز بغیر طہارت اور وضو کے ادا نہیں ہوتی ، اسی طرح بیشتر اسلامی عبادات ہیں کہ اس میں طہارت لازمی ہے ، تو آپ اندازہ لگائیں کہ اللہ تعالیٰ ان نظافت کے احکامات کے ذریعے ہمیں بیماریوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ 
انسان احتیاطی پہلو کو اپناتا ہے ،اس کے باوجود وہ بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اس میں انسان کا ہی فائدہ ہے کہ اگر وہ اللہ سے غافل ہے تو بیماری کے نتیجہ میں اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور اس کو احساس ہوتا ہے کہ یہ صحت یہ جسم ہمیشہ برقرار رہنے والے نہیں ہیں بلکہ جب تک اللہ چاہتا ہے ہم سلامت رہ سکتے ہیں ، ورنہ کوئی بھی ہمیں نہیں بچا سکتا ، اس طرح بیماری اس کو آخرت کی طرف متوجہ کرنے والی اور صبر کی صورت میں گناہگار ہو تو گناہوں کی معافی اور نیک ہے تو درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے ۔
تاہم جب بیماری آتی ہے تو شفاء دینے والے بھی اللہ تعالیٰ ہی ہیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا : ’’واذا مرضت فھو یشفین(الشعراء : ۸۰) اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی (اللہ)  مجھےشفاء دیتا ہے ‘‘۔ شفا ء دینے والی ذات اللہ ہی کی ہے تو بیماریوں سے بچانے والی ذات بھی وہی ہے ، اس لئے ہم اللہ تعالیٰ سے بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی اور جو بیمار ہیں ان کی شفاء کے لئے دعاء کریں ، دعاء کرنے کے ساتھ ساتھ احتیاط اور دوا دارو بھی ضروری ہے ، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لکل داء دواء ’’ ہر بیماری کی دواء ہے ‘‘، اس لئے ہم علاج کے سلسلہ میں کوتاہی نہ کریں ، پورے اہتمام سے علاج کرائیں ، تاہم دواؤں اور ڈاکٹروں پر بھروسے کے بجائے اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں کہ یہ سب اسباب ہیں جنہیں اختیار کرنے کا اللہ ہی نے حکم دیا ہے ، وہ چاہے گا تو ضرور شفاء نصیب ہوگی۔ 
اسی طرح وہ امراض جن کے بارے میں اطباء کہتے ہیں کہ وہ تیزی سے پھیلتے ہیں اور متعدی ہوتے ہیں ان سے بھی احتیاط کے لئے جو تدابیر اسباب کے درجہ میں اختیار کی جاسکتی ہیں ، اختیار کرنا چاہئے ، یہ توکل کے خلاف نہیں ہے ، بلکہ سنت کےمطابق ہے ، رسول اللہ ﷺ کا جہاں یہ ارشاد ہے کہ کوئی بیماری متعدی نہیں ہے ، وہیں یہ بھی ارشاد ہے کہ فر من المجذوم فرارک من الاسد تم جذام کے مریض سے ایسے بھاگو جیسے شیر کو دیکھ کر بھاگتے ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی بیماری کسی کو نہیں لگ سکتی ،اللہ چاہے تو ہی کوئی آدمی یاجانور بیمار ہوسکتا ہے ، اس کے فیصلے کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا ، تاہم یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ احتیاط نہ کریں ، بلکہ آپ کے لئے احتیاطی اقدام کرنا از حد ضروری ہے ، ان سب اسباب کوا ختیار کرتےہوئے توکل اللہ کی ذات پر رکھیں، بہت زیادہ فکر مند نہ ہوں ، اللہ سے اچھی امید ہی رکھیں۔ 
بیماریوں کو ہماری بداعمالیوں کا نتیجہ ہے سمجھ کر خوب دل سے گریہ و زاری اور ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار ، نمازوں اور اسلامی احکامات کی پابندی اور عبادات کا اہتمام کریں ، انشاء اللہ اس طرح کی مصیبتیں ختم ہوجائیں گی ، یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی ہے  اذا حزبہ امر فزع الی الصلوٰۃ جب رسول اللہ ﷺ کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو تیزی سے نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔ 

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا