مضامین سلسبیل

دارالقضاء ضرورت ، پس منظر

اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق زندگی گذارنے کا نام اسلام ہے، دنیا کی تمام چیزیں مثلاً سورج،چاند، ستارے ،سیارے،شجر، حجر ، دریا وغیرہ احکام الٰہی کے پابند ہیں اور اس کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ صرف انسان کو اس کائنات میں اختیار کی آزادی دی گئی ہے کہ چاہے تو احکاماتِ شرعیہ پر زندگی گذارے یا چاہے تو نفسانی خواہشات پر ۔ دونوں راستوں کا انجام اور نتیجہ الگ الگ ہے، شرعی احکامات پر زندگی گذارنے والوں کو دنیوی انعامات اور اخروی اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ نفسانی خواہشات پر زندگی گزارنے والوں کو سزااور عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔وسيق الذين كفروا الى جهنم زمرة (سورۂ زمر۔ آیت۷۱ ) اور جو کافر ہیں وہ جہنم کی طرف گروہ در گروہ بنا کر پھینکے جاویں گے  وسيق الذين اتقوا ربهم الى الجنة زمرا (سورۂ زمر۔ آیت ۷۳ ) اور جو لوگ خدا سے ڈرے تھے وہ گروہ در گروہ بنا کر جنت کی طرف روانہ کیے جائیں گے۔
کسی چیز پر اختیار چیز والے کو ہوتا ہے، دوسرے کو نہیں ، مکان میرا ہو اور رہن سہن کا اختیار آپ کو ہو، اسے کوئی سمجھدار ماننے کے لئے تیار نہیں ہوگا ۔ ملا زم آپ کا ہو اور اس پر اختیار میرا چلے ، یہ آپ کے لئے باعث شرم اور میرے لئے موجب ظلم ہوگا۔ جب کسی چیز کی نسبت آپ کی طرف ہوگی تو پھر وہ چیز آپ کے قبضہ اور بس میں ہوگی یعنی کسی چیز کا حکم دینے کے لئے اختیاراورحق کا ہونا ضروری ہے۔ ان دونوں کے بغیر حکم دینا غیر معتبر اورمہمل ہوگا۔
 اسی لئے قرآن کریم میں ہے  : الا لہ لالخلق والامر (اعراف۵۴) یادرکھواللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا آمر ہونا، ظاہر ہے کہ جب خلق اس خالق کے لئے ہے تو حکم دوسرے کے لئے کیونکر ہوسکتا ہے۔ ولا یشرک فی حكمه احدا خدا کی ملک میں خدا کی خلق پر کسی دوسرے کانہ حکم چل سکتا ہے نہ امر جاری ہوسکتا ہے۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے حکم دیا فاحكم بينهم بما انزل الله ولاتتبع اهوائهم (مائدہ ۴۸) آپ ان کے در میان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلے کیجئے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجئے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد آپ کی لائی ہوئی شریعت اور آپ کا دین آپ کے قائم مقام ہے، پس اب قانون شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے والا قاضی ہی قاضی کہلانے کا مستحق ہے۔ القضاء هو الحكم بين الناس بالحق والحكم بما انزل الله عزوجل (بدائع ۱؍۷) بلکہ قضاء کے معنی ہیں یہ ہیں کہ لوگوں کے درمیان حق اور اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔
ہندوستان میں قضاء کی ضرورت: ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد اکابر علماء کو نظام امارت اور نظام قضاء کے قیام کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی ۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی متوفی ۲۳۹اھ مطابق ۱۸۲۳ء وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے انگریزی تسلط کے بعد ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتوی جاری کیا نیز اس بات پر بھی اپنے فتوی میں زور دیا کہ ہر علاقے کے مسلمان اپنا امیر مقرر کر لیں اور اسی کی ماتحتی میں رہ کر وہ تمام اجتماعی کام انجام دیں جو امیر و قاضی کے بغیر انجام پانہیں سکتے ( مجموع فتویٰ عزیزی ص ۳۴)۔
علامہ انور شاہ کشمیری (متوفی ۳۵۲اھ م۹۳۳اء) نے جمعیۃ العلماء کے اجلاس ہشتم ڈسمبر ۱۹۲۷ء میں تحریر فرمایا تھا’’ آج اگر اعدادوشمارسے کام لیا جائے اور نظر تدقیق و تفتیش سے دیکھا جائے تو ہندوستان میں ایسی عورتوں کی تعداد جو اپنے خاوندوں کے ظلم و ستم کا تختہ مشق بنی ہوئی ہیں یا خاوندوں کے مفقو داور لاپتہ ہو جانے کی وجہ سے نانِ شبینہ کی محتاج ہیں یا ظالم شوہروں نے ان کو معلق بنا کر چھوڑ رکھا ہے، لاکھوں تک پہنچتی ہیں ۔ ایسی مظلوم عورتیں جب کسی طرح اپنے خاوندوں کے ظلم وستم سے خلاصی حاصل نہیں کرسکتیں تو وہ بے بسی اور بے کسی کے عالم میں بد حواس ہو کر ارتداد کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ ہندوستان میں اس قسم کے دلخراش اور ناگفتہ بہ کتنے ہی کیس ہو چکے ہیں اور مسلمانوں کی بد قسمتی سے ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایک مسلمان کا مرتد ہو جانا بھی مسلمانوں کے لئے مصیبتِ کبری ہے پھر بالخصوص عورتوں کا ارتداد معاذ الله ، معاذ اللہ نہایت ہی سخت مہلک ہے، خدا نہ کرے عورتوں میں اس قسم کی ارتداد کی تحریک سرایت کرے، کیونکہ ان کی مذہبی ناواقفیت اور فطری کم عقلی خدا جانے کیا رنگ لائے گی اور مسلم قومیت کو کس قدر تباہی اور بربادی کے قریب کر دے گی ، دردمند مسلمانوں کا اس وقت سب سے بڑا فریضہ ہے کہ وہ ان بے کس مظلوم عورتوں کی گلوخلاصی کا پہلی فرصت میں سامان کریں اور اس کی ایک ہی سبیل ہے کہ محکمہ قضاء قائم کرانے کی کوشش کریں جن میں ان بے چاروں کے مصائب کا علاج کرے۔ (خطبہ صدارت جمعیۃ العلماء اجلاس پشاور مطبوعہ ’’چ، لکھنو ۲۷ جنوری ۱۹۲۸ء ص ۴)
ہندوستان میں نظام قضاء :جب مسلمان تاجروں نے ہندوستان کے مغربی ساحل اور جنوب میں قدم رکھا تو اپنی نو آبادیاں قائم کیں، اس وقت ان کی تعداد بہت کم تھی، با وجود اس کے انھوں نے اپنی بستیوں میں نظام قضاء قائم کیا،اس وقت کے ہندوراجاؤں نے مذہبی رواداری کا ثبوت دیتے ہوئے مسلمان قاضیوں کی قانونی حیثیت کو قبول کیا پھر جب مسلم سلاطین نے سرزمین ہند کو فتح کیا تو اپنے زیراقتدار علاقوں میں اسلام کا نظام عدل نافذ کیا۔ مغلیہ سلطنت میں نظام قضاء اپنی آن بان کے ساتھ قائم تھا۔ اس سے علم کی روشنی پھیلی اور عوام کو عدل و انصاف بھی ملا، آخر میں مغل حکمرانوں نے زوال کے وقت جب اپنے اختیارات ایسٹ انڈیا کمپنی کو منتقل کیے تو انگریزوں نے آہستہ آہستہ محکمہ قضا ختم کردیا اور مسلمانوں کے معاشرتی معاملات کو عام عدالتوں کے حوالے کر دیا۔
۱۸۹۲ء میں انگریزوں نے اسلامی تحریرات کو منسوخ کر کے تعزیرات ہند کو نافذ کیا پھر ۱۸۶۴ء سے مسلمان قاضیوں کی تقرری پرروک لگا دی ، ۱۸۷۲ء میں اسلامی قانونِ شہادت کو بھی ختم کردیا گیا اس طرح عدالتی نظام کو غیر اسلامی بنیادوں پر استوار کیا گیا، دوسری طرف مسلمانوںنے اسلامی قوانین کی بحالی کی جدوجہد جاری رکھی، بالآخر ۱۹۳۷ء میں مرکزی مجلس قانون ساز کے مسلم اراکین کی کوششوں سے شریعت اپلیکیشن ایکٹ منظور ہوا، جس کا خلاصہ یہ کہ وراثت، نکاح، خلع، طلاق،فسخ نکاح، ایلاءوظہار، نان نفقہ ، مہر، شہادت نسب، امانت، جائیداد، حقِ شفعہ، ہبہ اور اوقاف کے معاملات میں مسلمان لازمی طور پر مسلم پرسنل لاء کے تابع ہوں گے ۔ موجودہ حالات ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بہت نازک ہیں، ان نازک حالات میں تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ اسلام دشمن سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے بھر پور جدوجہد کریں۔
دو کام کرنے کے ہیں:
اول مسلم معاشرہ کی اصلاح کے لئے بھر پور جدوجہد کی جائے کیونکہ ہمارے سماج کا ایک بڑا حصہ اسلامی تعلیمات و احکامات سے ناواقف ہے، خاندان کے افراد، بیوی ، شوہر، اولاد، والدین اور دیگر رشتہ دارصحیح طریقہ سے ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کرتے ، جس کی وجہ سے آپس میں تلخیاں اور تنازعات سر ابھارتے ہیں ، معاملہ سرکاری عدالت میں چارہ جوئی تک جا پہنچتا ہے اور ملکی عدالتوں سے ایسے فیصلے صادر ہوتے ہیں ، جو شریعت کے سراسر خلاف ہوتے ہیں ،ضرورت ہے کہ مسلم عوام کو اسلام کی بنیادی معاشرتی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے اور عائلی زندگی کے متعلق اسلامی احکام ان کے سامنے پیش کئے جائیں۔
دوم یہ کہ ہر شہر اور علاقے میں دار القضاء، شرعی پنچایت، تصفیہ کمیٹی قائم کی جائے تا کہ اگر مسلمانوں کے درمیان عائلی اور دیگر معاملات میں تنازعات ابھر یں تو بجائے کورٹوں میں جانے کے اسلامی عدالتوں میں لے جائیں اور وہاں سے جو فیصلے ہوں ، بہ خوشی قبول کریں ۔ کیونکہ کم وقت میں کم خرچ میں دار القضاء سے صحیح شرعی فیصلہ مل جاتا ہے۔ سب سے بڑی خوبی یہ کہ دونوں فریق کے درمیان جونفرت یا عداوت ہے وہ بھی ختم ہوجاتی ہے۔ 
اللہ تعالی ہمارے بڑےحضرتؒ (حضرت علامہ شاہ ابوالسعوداحمدصاحب،امیر شریعت کرناٹک اول ، بانی ومہتمم دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور) کو اجر جزیل عطا فرمائے، آمین، آپ نے کرناٹک کے مرکزی شہر بنگلور میں دار القضاء کی بنیاد ڈالی اور صرف بنگلور ہی نہیں بلکہ کر ناٹک کےمتعدد اضلاع میں دارالقضاء قائم فرمایا ، نیز بڑے حضرت کے بعد امیر شریعت دوم حضرت مولانا مفتی محمد اشرف علی صاحب باقوی نے ان دار القضاؤں کو وسعت دی اور مضبوط بنایا۔ اب امیر شریعت سوم حضرت مولانا صغیر احمد صاحب رشادی دامت برکاتہم کر ناٹک کے تمام اضلاع کے دارالقضاؤںکی نگرانی بہ حسن وخوبی انجام دے رہے ہیں۔ آپ نے دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور ، دار القضاء میسور اور دار القضاء ٹمکور میں قاضی اور معین قاضی حضرات کی نشستیں بلائیں ، سیمینارمنعقد فرمائے، اور کرنا ٹک کے تمام دار القضاؤں کی کارگزاریاں سنیںاور قاضیوں کو ہدایات بھی ارشاد فرمائے ۔

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا