مضامین سلسبیل

حساب

مولانا نورالحسن رشادی

منشی دارالعلوم سبیل الرشادبنگلور

عنوان کا انتخاب کسی بھی مضمون کے لئے بے حد ضروری ہوتا ہے ، اسلئے کہ عنوان میں مضمون نگار کا علمی ، ذاتی ، نظریاتی پس منظر ، قاری کے سامنے پہلی جھلک میں آجاتا ہے ، میںسوچتا رہا کہ کہاں سے شروع کروں؟ کس عنوان پرلکھوں، مجھے احساس ہوا کہ حساب گاہ میں خدمت انجام دے رہاہوں تو حساب کے عنوان سے ہی شروع کرنا چاہئے ۔ میں حساب اوراسلام کے عنوان کو ذہن میں رکھتے ہوئے حساب کا تعلق قرآن مجید میں تلاش کرنے لگا کہ کوئی آیت یا حدیث مجھے حساب کے تعلق سے مل جائے اور میں اپنی بات شروع کروں۔ میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ قرآن مجید میںلفظ حساب کا تذکرہ ۳۷ مرتبہ آیاہے ، سورۂ بقرہ سے یہ سلسلہ شروع ہوکر سورۂ غاشیہ تک چل رہا ہے ۔ مجھے ایسا لگا کہ آسمان و زمین کا نظام حساب ہی کے اردگرد گھومتا ہے ،چاند اور سورج بھی حساب سے ماوراء نہیں ہیں۔ الغرض انسان کی کامیابی کے لئے اس کے اعمال کے حساب میں کامیابی ضروری ہے ، زندگی میں بھی حساب ہے ، موت کے بعد محشر میں بھی حساب ہے ۔ اللہ بھی سریع الحساب ہے۔
لفظ حساب سے آگے بڑھ کر اس کے مشتقات کی طرف نگاہ ڈالا تو میں نے محسوس کیا  ح  س  ب کی اصل سے مذکورہ الفاظ تقریباً ۵۷ ہیں جس میں  حسبہ ، حسبنا ، حسبتم ، لتحسبوہ ، لا تحسبن ، لا یحسبن ، حسبوا ، حسبت ، تحسب ، یحسبون  وغیرہ شامل ہیں جن میں سے ہر ایک لفظ کفایت شعاری ، محاسبہ ، تدبر وتفکر کی دعوت دیتا ہے ، ایک لفظ جو مجھے زیادہ تحقیق پر آمادہ کررہا تھا وہ تھا لفظ حسبان۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ اسی دوران میرے مطالعہ میں سلسبیل کا قدیم نسخہ شمار نمبر ۲۳ آیا اور میں نے حسبان کے لفظ کی تحقیق وہاں سے حاصل کی جو مندرجہ ذیل ہے :
حضرت حکیم الملتؒ نے سلسبیل کےشمارہ نمبر ۲۳ کےسرچشمہ میں قمری تاریخ کی تعیین میں جدید علوم فلکیات کی اہمیت پرروشنی ڈالی ہے ۔ قرآن مجید کی ان آیتوں کو بغور ملاحظہ فرمائیں ۔ 
والشمس والقمر حسبانا (الانعام :۹۶) اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے ۔ 
والشمس والقمر بحسبان (الرحمن:۵) اور سورج اور چاند حساب کے ساتھ چلتے ہیں۔ 
لفظ حسبان بضم الحاء بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ حساب کے معنی میں مصدر ہے ، جیسے غفران ، سبحان ، قرآن اور بعض نے فرمایا کہ حساب کی جمع ہے اور اگر حسبان کو حساب کی جمع قرار دیا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ ان میں سے ہر ایک دورہ کا الگ الگ حساب ہے ، مختلف قسم کے حسابوں پر یہ نظام شمسی و قمری چل رہا ہے اور حساب بھی ایسا محکم اور مضبوط کہ لاکھوں سال سے اس میں ایک منٹ ، ایک سکنڈ کا فرق نہیں آیا۔
حضرت مولانا عبدالماجد دریابادیؒ کی تفسیر بھی ملاحظہ فرمائیے ۔
’’ یہ نمایاں اور روشن ترین اجرام فلکی دن اور رات، اورماہ و سال کے وجود میں لانے اور فصل وموسم کے تغیرات پیدا کرنے والے اپنی رفتار میں ، طلوع و غروب ، میں گھٹاؤبڑھاؤ میں ، ہر چیز میں خود ایک باقاعدہ حساب اور پورے ضابطے کے پابند ہیں ‘‘۔ ھو الذی جعل الشمس ضیاء والقمر نورا و قدرہ منازل لتعلموا عدد السنین والحساب (یونس:۵) وہ اللہ ایسا ہے جس نے آفتاب کو روشن بنایا اور چاند کو نورانی بنایا اور اس کے لئے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو۔ (سلسبیل ، جلد ۸، شمارہ ۲۳)
مذکورہ سطور میں حضرت حکیم الملتؒ علوم فلکیات کا استعمال قمری تاریخ کی تعیین کےلئے استعمال کرنا کتنا ضروری ہے ، اس پر قرآن مجید سے دلائل پیش فرمارہے ہیں ، مجھ طالب علم کو اس میں یہ سبق ملا کہ سورج و چاند اگر اپنا حساب کھو بیٹھیں تو کائنات کا نظام درہم برہم ہوجائے گا ، اسی طرح انسانوں کی زندگی میں ذاتی ہویا سماجی ، انفرادی ہو یا تنظیمی ، دینی ہو یا دنیوی ، اگر حساب بگڑجائے تو یقیناً اپنی اندرونی کائنات برباد ہوجائے گی۔ 
ذاتی زندگی میں جس لمحہ حساب خراب ہو اسی لمحہ سے زندگی خراب ہوجائے گی ۔ یہ بات صرف ذات تک ہی نہیں بلکہ سماج کے ہر حصہ میں ضروری ہے ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حساب سے ڈرایا ہے ۔ چنانچہ ارشادِ باری ہے  اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون لوگوں کے لئے ان کے حساب کا وقت قریب آپہنچا ہے اور وہ ہیں کہ غفلت کی حالت میں منھ پھیر رہے ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں گمراہی اور آخرت میں شدید عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب حساب کے دن کو بھول جانا قرار دیا ہے ، چنانچہ سورۂ ص میں فرمایا : ان الذین یضلون عن سبیل اللہ لھم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب یقین رکھو کہ جو لوگ اللہ کے راستہ سے بھٹک جاتے ہیں ، ان کے لئے سخت عذاب ہے کیوں کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلادیا تھا ،یہاں تک کہ قیامت کے دن کی ہولناکی کو دیکھ کر بندہ یہ سوچے گا کہ کاش یہ حساب کیا چیز ہے مجھے پتہ ہی نہ ہوتا !!  یالیتنی لم اوت کتابیہ ولم ادر ما حسابیہ اے کاش مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ جاتا اور مجھے خبر بھی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے؟
ہر انسان خصوصاً ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت اپنےاعمال کا حساب یعنی محاسبہ کرتا رہے ، اس لئے کہ حساب کا ایک معنی آفت بھی ہے ، چنانچہ قرآن میں ہے  و یرسل علیھا حسبانا من السماء اور تمہارے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج دے ۔ یہی وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا  من حوسب یوم القیامۃ عذب یعنی قیامت کے دن جس کا حساب لیا گیا وہ تو ہلاک ہی ہوجائے گا ۔
پس جب عام زندگی میں حساب کی اہمیت اتنی زیادہ ہے تو دینی اداروں میں دینی معاملات میں بہت زیادہ احتیاط اور محاسبہ کی ضرورت ہے ، شاید یہی سبب ہے کہ ہمارے مدرسے میں الحمد للہ دو دو جگہ حساب رکھا جاتا ہے تاکہ احوط اوراتم درجہ میںحساب کا خیال رکھا جائے ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اکابرین کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا