جنوبی ہند کے فردفرید علامہ فدوی باقوی
(اور آپ کی ایک مایہ نازحمدیہ نظم (ثنائے ذوالجلال
مولانا نثاراحمدفدائی باقوی
صدر، مجددجنوب اکیڈمی و مدیرماہانہ فیضانِ باقیات، بنگلور32
چنانچہ آمدم بر سرِ مطلب علامۂ موصوف کی حمدیہ نظم ’’ثنائے ذوالجلال‘‘ ملاحظہ ہو۔۔۔
مذکورہ حمدیہ نظم ’’ثنائے ذوالجلال‘‘ آپ نے بشوق ملاحظہ فرمایا، حضرت استاذی فدوی باقوی ویلوری نے یہ دلآویز نظم، عنبروگلاب میں معطر نظم، پہلی مرتبہ میل وشارم کے مشاعرے منعقدہ ۱۹۶۶ء میں سنائی تھی، جس کی صدارت حضرت علامہ محوی صدیقی بھوپالی نے فرمائی تھی، اس مشاعرے میں جنوب کے اکابرشعراء کرام شریک تھے جیسے حضرت کمالی ویلوری، حضرت دانش فرازی، حضرت کاوش بدری، حضرت بدرجمالی، حضرت عشرت باقوی، اپنے چندساتھی طلبہ کے ساتھ راقم الحروف بھی شریک تھا، حضرت استاذ نے بڑے ہی والہانہ انداز میں نظم سنائی تھی، سخن شناس احباب نے بہت داد دی تھی، راقم الحروف کو بھی اس موقع پر کلامِ شاعر بزبانِ شاعر گوش دل سے سننے کا شرف حاصل ہوا ہے ۔
نظم سے محظوظ ہونے کے بعد آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ نظم ’’ثنائے ذوالجلال‘‘ کی ابتداء بڑے دھیمے انداز سے ہوئی ہے، ایسے لگتا ہے کہ شاعر کا دل و دماغ ذاتِ باریٔ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہے، سکوت ہی سکوت ہے۔ ذاتِ الٰہی کی تجلیات کا ظہور ہے، عالم خیال میں محوپروازِ قرب کی لذت سے ہمکنار ہیں، اس کی شانِ جلالیت اور نورِجمالیت کی چاندنی دل ودماغ پر بیک وقت اثرانداز ہورہی ہے، نورانی کیفیت کے جلوہ میں کسبِ نور کا سلسلہ جاری ہے، یہ وسیع و عریض کائنات، خالق و مولائے کریم کے کمال قدرت کی مظہرونشانی ہے اور ایک فرماںبردار صاحب بصیرت بندے کے لئے قادرمطلق کی جلوہ گاہ بھی ہے، اسی عالم محویت و وارفتگی میں شاعرکا قلب مدوجزر سے آشناہوتا ہے اور زبان گنگنانے لگتی ہے:
جلال تو جمال تو، کمال لازوال تو
صفاتِ بے نظیرتو، ہے ذاتِ بے مثال تو
سوالِ لاجواب تو، جواب ہر سوال تو
کہاں کہیں یہاں نہیں بتا کہ تو کہاں نہیں
کیب سے لطفِ زبان دوبالا ہوگیا ہے۔پھر اس پر مستزاد رواں دواں بحرہزج مثمن مقبوض کی طراوٹ افزاجملوں کی شکل میں مصرعوں کی قطع و برید الفاظ کو فطری ڈھلائو پر ڈال دیتی ہے اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب مصرعے شعر میں ڈھل کرزبان سے بے ساختہ اداہوتے چلے جارہے ہیں۔فکرانگیز تفاوت پیداکردینا الفاظ کے برتنے میں شاعر کے کمالِ ہنر کے ساتھ خلّاقانہ ذہن اور فطری بانکپن کی طرف اشارہ کرتا ہے، تصویر صاف ہوجائے گی ایک مرتبہ پھر پہلابند دہرالیا جائے!
نظم میں شاعر براہ راست خالق کائنات پروردگارعالم کی ذات اعلیٰ واکبر سے مخاطب ہے، خطاب میں تمام آداب ملحوظِ خاطر ہیں، دلربائی کے انداز نے والہانہ پن ضرور پیداکردیا ہے، ذوقِ سلیم کی رہنمائی اور علم وفن میں پختگی نے مصرعوں میں طراوٹ، الفاظ میں بے ساختگی، تراکیب میں لفظی و معنوی ربط اور اشعار میںبلندآہنگی کا حسن پیداکردیا ہے، دوسرا بند اپنی مثال آپ ہے:
نشانِ بے نشاں ہے تو، مکینِ لامکاں ہے تو
عیاں نہیں، نہاں نہیں، نہاں ہے تو عیاں ہے تو
نہ ابتدا نہ انتہا، محیط بے کراں ہے تو
کہاں کہیں یہاں نہیں، بتا کہ تو کہاں نہیں
یہاں بھی شاعر نے ایک ہی طرح کے الفاظ کے الٹ پھیر سے معانی کی نئی جہتیں پیداکی ہیں، جو شاعر کی زبان و بیان پر گرفت اور قادرالکلامی کا ثبوت ہیں، یہاںداغ دہلویؒ کا ایک پرلطف مزاح کا حامل شعریاد آرہا ہے:
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں