مضامین سلسبیل

جنوبی ہند کے فردفرید علامہ فدوی باقوی
(اور آپ کی ایک مایہ نازحمدیہ نظم (ثنائے ذوالجلال

مولانا نثاراحمدفدائی باقوی

صدر، مجددجنوب اکیڈمی و مدیرماہانہ فیضانِ باقیات، بنگلور32

تعارف:حمدیہ نظم ’’ثنائے ذوالجلال‘‘ کے خالق، ماہرعروض، فن شاعری کے اسرار و رموز کے واقف کار بیسویں صدی کے استاذِسخن، مشہور و معروف شاعر و ادیب اور بے نظیر محقق حضرت علامہ مولانافدوی باقوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی ہے۔ آپ کا پورانام نثاراحمدعرف انورپاشا، مقام ولادت ویلور، سال ولادت ۱۳۴۷ھ مطابق ۱۹۲۸ء ہے۔ شہرویلور کے مشہور و معروف علمی و تاریخ ساز خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ خاندانی پس منظر نہایت شاندار ہے، آپ کے جدامجد حضرت مولاناشاہ شرف الدین آلوری، ہندوستان کی اولین جامعہ،اسلامی درسگاہ،باقیات صالحات ویلورکے بانی، اعلیٰ حضرت مولاناشاہ عبدالوہاب قادری ویلوریؒ کے علاتی بڑے بھائی ہیں، جن کے ذریعہ پانچویں پشت میں آپ کا(یعنی حضرت فدوی کا) سلسلۂ نسب بانیٔ جامعہ باقیات صالحات سے متصل ہوجاتا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
استاذی حضرت مولانانثاراحمدعرف انورپاشا متخلص ومعروف بہ فدوی باقویؒ بن حضرت مولانا ابوالکمال مفتی محمدحبیب اللہ باقویؒبن حضرت مولاناعلامہ استاذابوالجلال شاہ محمدغلام محی الدینؒ استاذِباقیات، بن حضرت مولاناشاہ شرف الدین آلوریؒ بن حضرت مولاناحافظ شاہ عبدالقادر (ثانی) آلوری (والدماجد حضرت مولاناشاہ عبدالوہاب قادری ویلوری بانی جامعہ باقیات صالحات ویلور) خلیفہ ولی کامل، صوفی دوراں، عارف باللہ سیدشاہ ابوالحسن قادری محوی ویلوریؒ۔ حضرت فدوی کے والدمحترم حضرت مولاناابوالکمال محمدحبیب اللہ باقوی ندویؒ،سابق استاذ مدرسہ فرنگی محل لکھنؤ، خود ایک باکمال ادیب و شاعر، جیدعالم دین، علوم اسلامیہ کے ماہر شمار کئے جاتے تھے۔ اردو، فارسی اور عربی کے ماہر اور تینوںزبانوں کے مقرر تھے۔ استاذی حضرت فدوی باقوی کی ولادت کی مسرت و خوشی میں انھوں نے ایک گلدستۂ تہنیت تحریرفرماکر شائع کیاتھا جو ان کی علمی صلاحیتوں کا مظہرجمیل ہے۔ جس میں تینوںزبانوں میں تاریخی قطعات ،تہنیت اظہارِ جذبات،ا متنان و تشکر پر مشتمل منظومات شامل ہیں،نیزسعادت آثارفرزندِدلبند کے حق میں بلندیِ مراتب کے آرزومند،عالم و فاضل باپ کی زبان سے اظہار محبت کے پیرایۂ کلام میں مبارکبادی پر مشتمل منظومات شامل ہیں۔بطورِ نمونہ صرف ایک فارسی مصرعہ ملاحظہ ہو، جس سے ہجری و عیسوی دونوں تاریخوں کا اخراج ہوتا ہے:
اخترقوم  ؍۱۲۴۷ھ  ۔۔۔چر اغ خاندان آبادی ست؍۱۹۲۸ء
 
نظم سےمتعلق تمہید:خالق کائنات اللہ جل جلالہ و عم نوالہ کی ذات عالی کی شانِ بے نیاز میں کائنات رنگ بو کا ذرہ ذرّہ نغمہ زیرو نغمہ سنج ہے۔ اس کی قدرت ،مظاہرقدرت سے ظاہر ہے، اس کی یکتائی اور کبریائی عالَم کو محیط ہے وہ ایسابصیروخبیر ہے کہ کائنات کا کوئی گوشہ اس سے پوشیدہ نہیں، انتہائی مربوط نظام کائنات کی ہر ہر حرکت سے وہ باخبر ہے، وہ ایساعلیم کہ بعدحشر نظم ہستی کا کیاہوگا اس کے سوا کون جانتا ہے۔ علیم بذات الصدور اس کے سوا کون ہے، انسانی احساسات ابھی الفاظ کا جامہ نہیں پہنے، ابھی زبان پر نہیں آئے ،وہ ان سب سے آگاہ ہے، وہ ان کی رسمیت، سمیت، منفعت و مضرت سب سے آگاہ ہے، وہ جانتا ہے کہ عالَمِ بے خودی و اضطراب میں حضرت ہاجرہ نے صفاومروہ کی کتنی مرتبہ چڑھائی کیں اور ان کے درمیان کیسی کیسی کیفیات سے سعی فرمائیں، وہ ایساسمیع کہ حضرت یونسؑ کی تسبیح و تحمید و استغفار کو رات کی تاریکی، سمندرکی گہرائی اور مچھلی کے پیٹ کی بندش کے باوجود برابرسنتارہا۔ ان میں سے کوئی چیز اس کی سماعت میں مخل نہیں ہوپائی، وہ ارحم الراحمین ہے لیکن اس کا قہروغضب اور انتقام بھی ویسا ہی سخت اور ناقابل تحمل ہے، وہ ذوعقاب، ذوانتقام ہے۔
اس شہنشاہ بے نظیرو بے مثل، بے ہمنوا و بے ہمسر وحدہ لاشریک لہ کی بارگاہ عالی میںشاعر نے گلدستۂ حمدایسے پیش کیا کہ انسانی فکر و خیال کی بلندیاں کپکپانے لگتی ہیں، جذبات و احساسات کی عکس بندی کرنے والے الفاظ کا خالی پن کھلنے لگتا ہے، لیکن جب تصورِرعنائی کا اچھوتاپن اظہارِ خیال کو دعوت دینے لگتا ہے، تب زبان گنگنانے لگتی ہے، ایسانغمہ جو دل کے تاروں کو چھوجائے، جس کے الفاظ نہایت سادہ مگر بھرپور اس طرح کہ معنی آفرینی کی نئی نئی جہتیں روشن ہوجائیں، چھوٹے چھوٹے اتنے رواں دواں مصرعے زبان پربلا تکلف پھسلنےلگتے ہیں کہ پوری نظم میں کہیں ذراسی جھول نہیں، نظم پڑھتے ہوئے ایسامحسوس ہوتا ہے کہ محبوب سامنے ہے اور گفتگو روبرو ہورہی ہے۔ اور عاشق محوِخیالِ یار میں ایساگم ہے کہ اس کے دیدۂ دل میں اس کے محبوب کے سوا کوئی دوسرا نہیں۔ 
چنانچہ آمدم بر سرِ مطلب علامۂ موصوف کی حمدیہ نظم ’’ثنائے ذوالجلال‘‘ ملاحظہ ہو۔۔۔

مذکورہ حمدیہ نظم ’’ثنائے ذوالجلال‘‘ آپ نے بشوق ملاحظہ فرمایا، حضرت استاذی فدوی باقوی ویلوری نے یہ دلآویز نظم، عنبروگلاب میں معطر نظم، پہلی مرتبہ میل وشارم کے مشاعرے منعقدہ ۱۹۶۶ء میں سنائی تھی، جس کی صدارت حضرت علامہ محوی صدیقی بھوپالی نے فرمائی تھی، اس مشاعرے میں جنوب کے اکابرشعراء کرام شریک تھے جیسے حضرت کمالی ویلوری، حضرت دانش فرازی، حضرت کاوش بدری، حضرت بدرجمالی، حضرت عشرت باقوی، اپنے چندساتھی طلبہ کے ساتھ راقم الحروف بھی شریک تھا، حضرت استاذ نے بڑے ہی والہانہ انداز میں نظم سنائی تھی، سخن شناس احباب نے بہت داد دی تھی، راقم الحروف کو بھی اس موقع پر کلامِ شاعر بزبانِ شاعر گوش دل سے سننے کا شرف حاصل ہوا ہے ۔
نظم سے محظوظ ہونے کے بعد آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ نظم ’’ثنائے ذوالجلال‘‘ کی ابتداء بڑے دھیمے انداز سے ہوئی ہے، ایسے لگتا ہے کہ شاعر کا دل و دماغ ذاتِ باریٔ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہے، سکوت ہی سکوت ہے۔ ذاتِ الٰہی کی تجلیات کا ظہور ہے، عالم خیال میں محوپروازِ قرب کی لذت سے ہمکنار ہیں، اس کی شانِ جلالیت اور نورِجمالیت کی چاندنی دل ودماغ پر بیک وقت اثرانداز ہورہی ہے، نورانی کیفیت کے جلوہ میں کسبِ نور کا سلسلہ جاری ہے، یہ وسیع و عریض کائنات، خالق و مولائے کریم کے کمال قدرت کی مظہرونشانی ہے اور ایک فرماںبردار صاحب بصیرت بندے کے لئے قادرمطلق کی جلوہ گاہ بھی ہے، اسی عالم محویت و وارفتگی میں شاعرکا قلب مدوجزر سے آشناہوتا ہے اور زبان گنگنانے لگتی ہے:

جلال تو جمال تو، کمال لازوال تو
صفاتِ بے نظیرتو، ہے ذاتِ بے مثال تو

سوالِ لاجواب تو، جواب ہر سوال تو
کہاں کہیں یہاں نہیں بتا کہ تو کہاں نہیں

کیب سے لطفِ زبان دوبالا ہوگیا ہے۔پھر اس پر مستزاد رواں دواں بحرہزج مثمن مقبوض کی طراوٹ افزاجملوں کی شکل میں مصرعوں کی قطع و برید الفاظ کو فطری ڈھلائو پر ڈال دیتی ہے اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب مصرعے شعر میں ڈھل کرزبان سے بے ساختہ اداہوتے چلے جارہے ہیں۔فکرانگیز تفاوت پیداکردینا الفاظ کے برتنے میں شاعر کے کمالِ ہنر کے ساتھ خلّاقانہ ذہن اور فطری بانکپن کی طرف اشارہ کرتا ہے، تصویر صاف ہوجائے گی ایک مرتبہ پھر پہلابند دہرالیا جائے!
نظم میں شاعر براہ راست خالق کائنات پروردگارعالم کی ذات اعلیٰ واکبر سے مخاطب ہے، خطاب میں تمام آداب ملحوظِ خاطر ہیں، دلربائی کے انداز نے والہانہ پن ضرور پیداکردیا ہے، ذوقِ سلیم کی رہنمائی اور علم وفن میں پختگی نے مصرعوں میں طراوٹ، الفاظ میں بے ساختگی، تراکیب میں لفظی و معنوی ربط اور اشعار میںبلندآہنگی کا حسن پیداکردیا ہے، دوسرا بند اپنی مثال آپ ہے:

نشانِ بے نشاں ہے تو، مکینِ لامکاں ہے تو
عیاں نہیں، نہاں نہیں، نہاں ہے تو عیاں ہے تو

نہ ابتدا نہ انتہا، محیط بے کراں ہے تو
کہاں کہیں یہاں نہیں، بتا کہ تو کہاں نہیں

یہاں بھی شاعر نے ایک ہی طرح کے الفاظ کے الٹ پھیر سے معانی کی نئی جہتیں پیداکی ہیں، جو شاعر کی زبان و بیان پر گرفت اور قادرالکلامی کا ثبوت ہیں، یہاںداغ دہلویؒ کا ایک پرلطف مزاح کا حامل شعریاد آرہا ہے:

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

آپ کو یہ بھی پسند آئے گا