بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم
دارالعلوم کی تأسیس کا داعیہ حضرت مولاناابوالسعوداحمد صاحب دامت برکاتہم کے قلب میں مدرسہ باقیات صالحات ویلور کے بارِ اہتمام سے سبکدوش ہونے کے بعد پیداہوا تھاکہ ایسے علاقے میں جہاں دینی مدرسہ نہ ہو،علوم دینیہ کی ترویج واشاعت کے لیے مدرسہ کی بنا ڈالی جائے ۔
بعض احباب یہاں تک طعنہ دینے لگے کہ سرزمین بنگلور میں حضرت کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوگا۔ اس کے باوجود حضرت نے متوکلاً علی اللہ عزم فرمالیا کہ ایسے ہی علاقے میں مدرسہ جاری کیا جائے جہاں علم دین کی کمی ہواور مدرسے کی سخت ضرورت ہو۔
چنانچہ سب سے پہلے حضرت نے وطن مالوف بلنجپور میں اپنے دولت کدہ پر مخلصین احباب کی ایک خصوصی مجلس طلب کی اور ان کے سامنے اپنے ارادے کا اظہار فرمایا۔ سب نے بیک زبان تائید کی اور طے پایا کہ شہر بنگلور میں مدرسہ کھولا جائے ۔
بنائے مدرسہ کاارادہ سن کر حضرت کی والد ہ ماجدہ نے پچیس روپے اور ہمشیرہ محترمہ (معلمہ مدرسہ نسوان میل وشارم) نے ایک سو پچیس روپے چندہ پیش کیا جو مدرسے کی پہلی روداد میں درج ہے ۔ اللہ اللہ اس عظیم الشان ادارے کے لیے سب سے پہلے خواتین نے چند ہ دیا اور وہ بھی حضرت ہی کے افراد خاندان میں سے ؛ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رقم میں کتنی برکت عطافرمائی ۔ بقولِ شخصے
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
اہل خانہ کی موافقت اور احبا ب کی تائید کے بعد استاذمحترم شیخ الملت حضرت علامہ
ضیاء الدین احمد امانی رحمۃ اللہ علیہ کے ایمائے گرامی پر حضرت قبلہ بنگلور تشریف لائے اور پی حاجی عبدالسبحان صاحب مرحوم تاجر آہن اوینیو روڈ بنگلور کے یہاںقیام پذیر ہوئے ۔
قیام مدرسہ کے سلسلے میں وی او حاجی عبدالرشید صاحب مرحوم کے دولت کدہ پر مشورہ ہوا ، جس میں پی کے حاجی ہدایت اللہ صاحب ، آر کے حاجی عبدالحق صاحب ، اے حاجی محمد ابراہیم صاحب ، پی ای حاجی اکبر شریف صاحب ، وی او حاجی عبدالغفور صاحب، پی حاجی عبدالسبحان صاحب ودیگر احباب شریک تھے، حسب مشورہ شہر کے اطراف واکناف میں مدرسہ کے لیے جگہ کی فوری تلاش شروع ہوئی۔ پی کے حاجی احمد حسین صاحب بھی اس کوشش میں شامل تھے ۔
آخر بنگلورکے شمالی سرے پر بمقام کال گنڈن ہلی چمڑے کا ایک کارخانہ جو ساڑھے تین ایکڑ زمین پر مشتمل تھا ۔ خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ کارخانہ رئیس میل وشارم الحاج ایس ایم عبدالجمیل صاحب کے والد بزرگوار کا تھا، جنہوںنے اسے اپنے بھائیوں کے نام رجسٹر کردیاتھا۔
الحمد للہ معاملہ ساڑھے سترہ ہزار روپے پر بآسانی طے پایا۔ مقررہ تاریخ کے مطابق رجسٹریشن بھی ہوگیا ۔ مدرسے سے متصل زمینات بھی حسبِ سہولت خرید لی گئیں ۔ موجودہ رقبہ الحمد للہ پندرہ ایکڑ کا ہے جس میں مدرسہ اور مسجد کی خوبصورت عمارتیں پھیلی ہوئی ہیں ۔
لیکن ابتدا میں یہ ٹیانری تھی اور ظاہر ہے کہ ٹیانری میں آلائشوں اور گندگیوں کے سوا کیا ہوتا ہے ! پھر ایک مدت سے یہ بند پڑی تھی جس کے نتیجے میں پورا احاطہ خاردار جنگل کا نمونہ بنا ہوا تھا لیکن اے حاجی محمد ابراہیم صاحب اور ان کے معاونین کی انتھک محنت نے اسے ایسا گل وگلزار بنادیا کہ جنگل میں منگل کا لطف آنے لگااور یہ مبارک تقریب اسی احاطے میں منعقد ہورہی تھی ۔
بڑے حضرت ،حضرت مولانا ابوالسعود احمددامت برکاتہم بانی ومہتمم دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور نے اپنے رفقائے کار کی معیت میں افتتاحِ مدرسہ کے لیے رئیس المبلغین حضرت مولانا شاہ محمد یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسی بزرگ شخصیت کو دعوت دی تھی تو حضرت جی نے فرمایا کہ ’’ ہم تو تبلیغی اجتماعات میں حاضر ہوا کرتے ہیں ،کسی افتتاحی تقریب میں شرکت نہیںکرپاتے ، البتہ اس کے لیے مشورہ کیا جائے ‘‘۔
مشورے میںحضرت مولانا انعام الحسن صاحب دامت برکاتہم ، حضرت مولانامحمد عبیداللہ صاحب بلیاوی ،حضرت مولانا محمد رحمت اللہ صاحب میرٹھی ،میاں جی محمد عیسیٰ صاحب میواتی ،منشی بشیر احمد صاحب ، حافظ محمد صدیق صاحب میواتی جیسے اہم حضرات شریک تھے ۔
مشورہ کے بعد بالاتفاق طے پایا کہ بنگلور کی دعوت قبول کرلی جائے ، بشرطیکہ مجوزہ مدرسہ کے احاطے کے اندر تبلیغی اجتماع منعقدہو، جماعتوں کی روانگی کا انتظام ہواور بعد نماز عصر اجتماع کے اختتام پر مدرسہ کا افتتاح عمل میں آئے۔
حضرت جی علیہ الرحمۃ نے اس فیصلے کو پسند فرمایا اوربنگلور کی دعوت بخوشی منظور فرمالی اور اسی کے مطابق سبیل الرشاد میں تشریف ارزانی فرمائی تھی۔(سلسبیل )
چنانچہ یہ جلسۂ افتتاح تبلیغی اجتماع کی شکل میں منعقد ہوا ۔ ؍۱۴؍ستمبر ۱۹۶۰ء کی صبح نوبجے کارروائی کا آغاز ہوااور بعد نماز عصر حضرت مولانا محمد یوسف صاحب نے درس کاافتتاح فرمایا۔
بانی دارالعلوم بڑے حضرت ؒ نے حضرت جی سے گزارش کی کہ میزان منشعب کادرس دے کر آغاز فرمائیں اس لیے کہ یہ عربی مدرسہ ہوگا۔ جس میں علماء وفضلاء تیار ہوں گے ۔ چنانچہ حضرت نے درس نظامی کی ابتدائی کتاب میزان منشعب کا درس دیا اور دعا فرمائی۔ سات طلبہ نے یہ درس لیا۔
اس افتتاحی تقریب میں شیخ الملت حضرت علامہ ضیاء الدین احمد امانی ناظر مدرسہ منبع الانوار لال پیٹ وصدر جماعۃ العلماء تامل ناڈو،حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلوی ، حضرت مولانا امیر احمد صاحب صدر المدرسین مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور ،حضرت مولانا محمد عمران خان صاحب ندوی امیر دارالعلوم تاج المساجد بھوپال ، مولانا جمیل احمد صاحب مہتمم ادارہ ملیہ حیدرآباد، مولانا محمد ضیاء الدین قاسمی مہتمم دارالعلوم کلکتہ اور دیگر مشاہیر علماء کرام ، ممتاز مقامی وبیرونی شخصیات نے شرکت فرمائی۔
اختتام مجلس پر حضرت نے طویل رقت انگیز دعا فرمائی اور حاضرین وسامعین نے آنسو بہاتے ہوئے آمین کہی ۔ اس طرح ریاست کرناٹک میں بڑے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی جدوجہد اور ان کے مخلص رفقائے کار کے تعاون سے علومِ دینیہ کی ترویج واشاعت کا دیرینہ خواب تعبیر آشنا ہوا۔
دارالعلوم سبیل الرشاد میں بڑے حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے تجوید وقرأت کا خصوصی اہتمام فرمایا اور ہر جماعت کے لیے تجوید کا سبق لازم کیا۔ اس کے نتیجے میں روایتِ حفص اور روایاتِ سبعہ کے سینکڑوں بہترین قاری پیدا ہوئے اور آج بحمد اللہ کرناٹک میںقرأ ت وتجوید کا غلغلہ ہے ۔
دارالعلوم سبیل الرشاد کی تأسیس کے بعد جو بتاریخ ۲۲ ربیع الاول ۱۳۸۰ھ مطابق ۱۴ ستمبر ۱۹۶۰ ء بروز چہارشنبہ ہوئی تھی ایسا معلوم ہوا جیسے آفاقِ عالم میں ایک خاموش تعلیمی انقلاب برپا ہوگیا ہو۔ اس کے بعد ہر سال مدرسے سے علماء ،حفاظ ااور قراء فارغ ہوتے رہے اور بحمد اللہ آج تک یہ سلسلہ جاری ہے ، خداکرے ہمیشہ جاری رہے ۔
بانیٔ دارالعلوم بڑے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی نیت کی طہارت ووسعت کا اندازہ لگائیے کہ مختصر سی مدت میں اللہ نے اس کو عالمگیر شہرت ومقبولیت عطا فرمادی کہ شہر بنگلور اور کرناٹک کے مختلف شہروں کے علاوہ تامل ناڈو ،کیرالہ ، آندھرا ، مہاراشٹر ،گجرات، مدھیہ پردیش ، بنگال، بہار ، آسام ، اڑیسہ ، یوپی، منی پور، اور کشمیر کے طلبہ اس سرچشمۂ علم وعمل سے سیراب ہونے کے لیے پہنچنے لگے ۔
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ مہتمم دارالعلوم دیوبند نے ۸ ؍اگست ۱۹۶۲ ء کو دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کا بنفس نفیس معائنہ کرنے کے بعد جو تاثرات قلم بند فرمائے ، ذیل میں نقل کیے جارہے ہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج بتاریخ ۱۱؍ اگست ؍۱۹۶۲ء احقر مدرسہ عالیہ سبیل الرشاد میں ذمہ دارانِ مدرسہ کی دعوت پر حاضر ہوا ، اس سے پہلے دو مرتبہ اور بھی حاضر ہوچکاہے ۔
لکل من اسمہ نصیب (ہر ایک کو اس کے نام کی برکت اور معنی سے حصہ ملتا ہے ) کے شرعی اصول پر یہ مدرسہ حقیقتاً سبیل الرشاد ہے ، جس میں رشد و ہدایت کا کارخانہ جاری ہے ، یہ اس مدرسہ کی معنویت ہی کی برکت اور بانی مدرسہ حضرت مولانا ابوالسعود احمد دام مجدہ کے اخلاص و للٰہیت کا اثر ہے کہ مدرسہ نے ایک چھوٹے سے مکتب سے بہت تھوڑی مدت میں مدرسہ کی صورت اختیار کرلی ، احقر اس کی ابتدائی حالت کو بھی دیکھ چکا ہے جبکہ دو ایک ٹینری کے چھپر پوش مکان میں بے سروسامانی کی حالت میں قائم ہوا تھا، لیکن آج وہی ٹینری اپنی صفائی ستھرائی اور وسعت کے لحاظ سے ایسی نظر آرہی ہے جیسا کہ یہ ایک قدیم جما جمایا دارالعلوم ہے ، اور گویا اس میںزمانہ قدیم سے علم و تعلیم کا کارخانہ یونہی چلا آرہا ہے ۔
کل تک اس میں جانوروں کی کھالیں صاف کی جاتی تھیں، اور آج اس میں سعادت مند انسانوں کی روحوں اور دلوں کو صاف ستھرا بنایا جارہا ہے ۔
قلیل مدت میں طالبان علم بڑھتے بڑھتے سو سے متجاوز ہوچکے ہیں ، چھ سات قابل اور مستور اساتذہ اپنی علمی صلاحیتوں سے طلبہ کی تعلیم و تربیت میں مصروف ہیں ، مختصر سے کتب خانہ کی صورت بھی بن گئی ہے ، صفائی ستھرائی کا قابل اعتماد انتظام ہے ، اور الحمد للہ کہ احاطہ میں طلبہ و اساتذہ کے جم گھٹے سے ایک خاص چہل پہل ہے ۔
حضرت مولانا ابوالسعوداحمد صاحب ناظم مدرسہ کی سرپرستی اور حسن تدبیر کے تحت مدرسہ دن دونی رات چوگنی ترقی کررہا ہے ، اور امید ہے کہ اسی طرح بڑھتا اور چڑھتا چلا جائے گا۔
امید ہے کہ اس علاقے کے باخیر حضرات اس چشمۂ علم کے وجود کو غنیمت اور اپنی سعادت سمجھ کر اس کی امداد میں دل کھول کر حصہ لیں گے اور اسے اونچا اٹھانے میں کوئی کسر نہیں رکھیں گے ۔
مدرسہ کی عمارات ابھی بہت حد تک تکمیل طلب ہیں ، حق تعالیٰ ان ساری عمارتوں کو یہاں کے مخیر حضرات کےذریعہ تکمیل کو پہنچائے ۔ آمین محمد طیب عفی عنہ
وارد حال بنگلور
؍۱۱ ؍ اگست ۱۹۶۲ء
مسیح الامت حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب رحمہ اللہ نے ایک سے زائد مرتبہ دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کا تفصیلی معائنہ فرمایا تھا ، آپ نے اپنے نقوش و تاثرات کو مندرجہ ذیل الفاظ میں قلمبند فرمایا ہے ۔۔۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
’’ اما بعد، بندہ کرم فرما احباب کی فرمائش پر بنگلور حاضر ہوا ، اسی زمانۂ قیام میں جلسۂ سالانہ و تقسیم انعاماتِ امتحان طلبائے سبیل الرشاد بنگلور کا جلسہ ہوناقرار پایا، بندہ کی شرکت کے لئے مکرم جناب مولانا ابوالسعود احمد صاحب مہتمم مدرسہ نے فرمائش کی ، بندہ نے بسبب عدم اہلیت عذر کیا مگر قبول نہ ہوا ، بالآخر جلسہ میں شرکت کی گئی ، جس میں طلبہ کی اردو فارسی اور عربی تقریری ہوئیںاور چند طلبہ نے تلاوتِ قرآن پاک کی، دوسری کارروائی ملتوی فرماکر ارشاد ہوا کہ ’’چونکہ شرکائے اجلاس کی خواہش مسیح اللہ کا وعظ سننے کی ہے ، اس لئے بقیہ کارروائی بعد کو ہوگی ‘‘ ۔ چنانچہ احقر کو فرمایا گیا ، تعمیل حکم پر بتوفیقہ تقریر کی گئی ، بعد عصر واپسی ہوگئی ، پھرد وبارہ حاضری کے لئے مدعو کیا گیا ، حاضر ہوا ، درسگاہوں میں باقاعدہ تعلیم ہورہی تھی ، اساتذہ کرام تقریریں فرمارہے تھے ، مطبخ میں بھی طریقۂ نظام دیکھا ، ایک جگہ بٹھا کر طلبہ کو کھانا کھلایا جاتا ہے ۔ ایک بچے کا قرآن پاک سنا ، جس کی عمر تقریباً نو برس ہے ، چھبیس پارے حفظ ہوچکے ہیں ، قرآن پاک سن کر بے حد دلی خوشی ہوئی ، باقاعدہ تجوید سے نہایت خوش آوازی کے ساتھ جم کر سنایا ، خاص محنت بچے پر کی گئی ہے ، بندہ کو مدرسہ سبیل الرشاد بنگلور اس مرتبہ تین سال کے بعد دیکھنے کا اتفاق ہوا ، جس کو دیکھ کر بندہ متحیر تھا، تین سال میں تعلیمی و تعمیری ترقی اور تعداد مدرسین و طلبہ میں اس قدر جلدترقی ہوئی ہے ، تین سال قبل فارسی و میزان ہورہی تھی ، آج شرح وقایہ ، نور الانوار ، قطبی اور ترجمہ قرآن پاک ہورہا ہے ، تعمیر تین سال قبل برائے نام تھی ، آج ماشاء اللہ کافی کمرے تیار ہیں اور حوض ، بجلی اور مسجد کی صورت میں ایک تعمیر ہے ، غسل خانہ وغیرہ بدرجہ سہولت کفایت کے ساتھ موجود ہیں ، طلبہ کو کھانا بٹھا کرکھلانے کے لئے ایک بڑی عمارت ہے جس کے متصل مطبخ ہے ، دو طباخ کام کرتے ہیں ،طلبہ کی شستگی ، مدرسہ کی صفائی ، تعلیمی ترقی وکیفیت ، تعمیری کمیت ، اساتذہ کرام کی محنت اور طلبہ کی تربیت ، سکونی حالت اور ذو ق و شوق دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ یہ کسی کی صرف مدبرانہ طریق ہی کی کارفرمائی نہیں بلکہ پر خلوص جذبۂ دین رکھنے والے کی صرف ہمت اور باطنی توجہات کی ایک کرامت ہے ، مدرسہ ہر نوع سے ترقی پر گامزن ہے ، اس علاقے میں ایسے مدرسہ کی خاص ضرورت داعی تھی ، اللہ کے ایک مردِ مخلص نے اس کا احساس کیا اور بروقت با موقع احساس کیا اور اس کی بنیاد رکھی اور آج اس ترقی کے ساتھ ہے ، وہ مردِ مخلص با کرامت جن کی خاموش توجہ اور دعاؤں اور محنت و سعی کا یہ نتیجہ امید افزا ہے مولانا ابوالسعود احمد صاحب ہیں ، جن کے ساتھ ارکانِ مدرسہ ، مخلصین ومعاونین کار فرما ہیں ، امید کہ اہل شہر قدر و احترام کے ساتھ خاص توجہ فرمائیں گے اور تعمیر کی کمی کو تکمیل پر پہنچانے میں جلد سے جلد تعاون فرماکر صدقہ جاریہ کو اپنے لئے جاری فرمائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ مدرسہ کو باکمال باقی رکھے ۔ والسلام
احقر
محمد مسیح اللہ عفی عنہ
؍۳ ؍رجب ؍۱۳۸۳ھ م ۲۳ نومبر ۱۹۶۳ء
۱۹۶۲ء میں حضرت مہتمم صاحب کی دعوت پر حضرت مولانا شاہ ارشاد احمد صاحب مبلغ دار العلوم دیوبند کا ورود مسعود ہوا اور آپ نے ادارے کا تفصیلی معائنہ فرمایا اور مندرجہ ذیل الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار فرمایا۔۔۔
’’ا بھی مدرسے کے قیام کو دو سال سے کچھ زیادہ کا عرصہ گذرا ہے لیکن اس مختصر مدت میں بفضلہ تعالی مدرسے کے جملہ شعبوں نے ترقی کی ہے ، جس کی تفصیل کی اس مختصر تحریر میں گنجائش نہیں ہے ، مولانا مخدوم کو معاون اور کارکن بھی اللہ تعالی نے ایسے ہی عطا فرما دیے ہیں جو موصوف کے ساتھ پورا تعاون فرمارہے ہیں ، اللہ تعالیٰ معاونین اور کارکنوں کو جزائے خیر عطا فرمائے ، آمین۔ احقر نے اپنے زمانہ طالبعلمی میں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی کی ایک تقریر دینی مدرسے کے سلسلے میں سنی تھی، اس میں مولانا علیہ الرحمہ نے فرمایا تھا اگر چٹھی رساں یعنی پوسٹ میان جس وقت اپنی ڈیوٹی پر ہوتے ڈاک تقسیم کرتا ہے اگر اس کے فرض منصبی کی ادائیگی میں کوئی شخص مداخلت کرے اور روڑے اٹکائے تو گورنمنٹ مدعی ہو کر مداخلت اور رکاوٹ ڈالنے والے کو سزا دیتی ہے، اسی طرح وہ ڈاک یعنی اپنا خط جو پروردگار عالم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم الشان شخصیت کے ذریعے ہم تک پہنچایا ہے، اس کی حفاظت جو حضرات کر رہے ہیں ، اگر خلوص کے ساتھ اپنے فرضِ منصبی میں لگے ہوئے ہیں اس کی مخالفت کرنے والوں کو پروردگار عالم سزا دے گا ، ایسے لوگوں کا انجامِ کار خسران ہی ہوگا۔
دار العلوم سبیل الرشاد کا قیام اسی خط کی تقسیم کے لئے عمل میں آیا ہے ، حضرت مولانا ابوالسعو د احمد صاحب زید مجدہم کے خلوص، ان کے رفقاء کرام کی ہمت دیکھتے ہوئے توقع ہے کہ انشاء اللہ ثم انشاء اللہ مدرسہ جلد ترقی کر جائے گا‘‘۔