الله رب العالمین نے انسانوں کی ہدایت کے لئے آسمانی کتاب ، سرکار دو عالم صلی الله علیہ وسلم پر نازل فرمائی اور اس کی ابتداء لفظ اقرأ سے فرمائی۔ چنانچہ اللہ رب العزت نے اپنے حبیب سے فرمایا کہ پڑھئے اپنے پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا‘‘، میری مراد پہلی وحی سےہے جو نبیِ عربی صلی الله علیہ وسلم پرمکہ مکرمہ کے قریب غار حرا میں نازل ہوئی تھی ، خالق کائنات نے اپنی وحی کی اس پہلی قسط اور بارانِ رحمت کے اس پہلے چھینٹے میں اس حقیقت کا اعلان فرمایا کہ علم کا تعلق پڑھنے سے اور لکھنے سے وابستہ ہے۔ چونکہ آسمان اور زمین کا صدیوں بعد جب رابطہ قائم ہوا تو اس کی ابتداء ” اُعبُدْ یا ’’صَلِّ‘‘ یا ’صَدِّقْ‘‘ سے نہیں ہوئی بلکہ لفظ” اقرأ‘‘ سے اس کی ابتداء ہوتی ہے، پتہ چلا کہ مذہب اسلام میں پڑھنے کی، حصول علم کی اور مطالعہ کی بڑی اہمیت ہے اور حصول علم تمام اعمال پر مقدم ہے۔
چنانچہ اگر انسان صرف مکتب و مدرسہ یا اسکول وکالج کی تعلیم کو ہی مکمل سمجھنے لگے اور صرف اسی پر اکتفاء کر کے بیٹھ جائے تو اس کی سوچ اور سمجھ کا دائر ہ نہایت مختصر اور بالکل سمٹ کر رہ جائے گا، چونکہ مدارس یا اسکول وکا لج وغیرہ میں صرف مطالعہ کافقط ڈھنگ سکھایا جاتا ہے کہ مطالعہ کس طرح کیا جائے ، کس قسم کی کتابوں کوزیر مطالعہ رکھاجائے وغیرہ،لہٰذا اپنی تعلیمی فراغت کے بعد مطالعہ جتنا وسیع ہوگا ، اتنا ہی اپنے اندر نکھار پیدا ہوگا۔
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
مطالعہ انسان کی صلاحیتوں کو ابھارنے کا بہترین ذریعہ ہے اور یہ مطالعے ہی کا کمال ہے کہ انسان اس کی مدد سے جب چاہے اپنی معلومات میں اضافہ کرسکتا ہے اور اپنے غور وفکر کرنے کے نظریے کو بہتر بنا سکتا ہے اور اسے وسعت عطا کر سکتا ہے۔
انسان میں یقین کو بڑھاتا ہے اور اس کے ذہن کو کشادہ کرتا ہے، صلاحیتوں کو نکھارتا ہے۔
کسی مفکر کا قول ہے کہ کتابوں کا مطالعہ انسان کی شخصیت کوارتقاء کی بلند منزلوں تک پہنچاتا ہے۔ حصول علم اور معلومات کا ذریعہ بنتا ہے اور عملی و تجرباتی سرمایہ کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے اور آنے والی نسل کو ذہن وفکر کی روشنی فراہم کرنے کا عمدہ ذریعہ ہے، جیسا کہ مسلم شریف میں ہے:
اذا مات الانسان انقطع عنه عمله الا من ثلاثة: الا من صدقة جارية او علم ينتفع به او ولد صالح يدعو له
(مسلم: رقم الحديث ۱۶۳۱، باب ما يلحق الانسان من الثواب بعد وفاته )
یہاں أو علم ينتفع به سے مراد یا تو مرنے والے نے اپنے شاگرد چھوڑے ہوں یا کوئی کتاب لکھ دی ہو جو آنے والی نسل کے لئے فائدہ پہنچائے ۔
جس طرح جاندار کو زندہ رہنے کے لئے کھانا پینا اور سانس لینا ضروری ہے، اسی طرح تقریر اورتحریر کے لئے مطالعہ بہت ضروری ہے،کسی مقررکابلا مطالعہ تقریر کرنا، کسی مضمون نگار کا بنا مطالعہ جو چاہے لکھ مارنا ایسا ہی ہے جیسے ہوا کے بغیر پتنگ اڑانے کی ناکام کوشش کرنا۔ مطالعہ روانی کے ساتھ بولنے اور لکھنے کی طاقت پیدا کرتا ہے۔ کم ہمتی اور احساس کمتری کو اٹھا پھینکتا ہے۔ مطالعے ہی سے انسان کو علم کی عظیم منزل حاصل ہوتی ہے
کتب بینی انسان کے وقت کونہ صرف ضائع ہونے سے بچاتی ہے، بلکہ انسان کی غمخوارومددگار بھی ہوتی ہے، انسان کے ضمیر کو روشنی بخشتی ہے ،علم وآگہی کا بہترین زینہ ثابت ہوتی ہے، تنہائی میں کتاب بہترین رفیق ہے، زندگی کی ناہموار راہوں میں کتاب دل نواز ہم سفر ہے۔
دھوپ میں نکلو ، گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
زندگی کیا ہے کتابوں کو اٹھا کر دیکھو
زندگی کیا ہے کتابوں کو اٹھا کر دیکھو
مطالعے سے وسوسہ اورغم دور ہوتا ہے، ذہن کھلتا ہے۔ دل تندرست ہوتا ہے۔ مطالعے سے انسانی ذہن وفکر کی آبیاری ہوتی ہے، تہذیب و ثقافت کے عمدہ ڈھانچے میں ڈھلنے کی ترغیب ملتی ہے، قوموں کے عروج وزوال معلوم ہوتے ہیں ، تاریخ کی برگزیدہ شخصیتوں سے ملاقات ہوتی ہے اور ان کے تجربات سے استفادہ کا موقع ملتا ہے۔
مطالعہ انسان کو اس کی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا احساس دلاتا ہے، اور اس کے بعد ان کمزوریوں کووہ دور کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس سے اس کے شعور میں پختگی پیدا ہوتی ہے اور اچھے اور برے کی پرکھ اور تنقیدی صلاحیت اپنے اندر محسوس کرنے لگتا ہے۔
علمی جستجو میں لگے رہنے والے شخص کے لئے کتابیں کسی خزانے سے کم نہیں ،ابن جوزی ؒ فرماتے ہیںکہ ’’ میں کتابوں کے مطالعہ سے سیر نہیں ہوتا اور میں جب کوئی ایسی کتاب دیکھتا ہوں جس کو پہلے نہ دیکھا ہو تو یہ میرے لئے ایسا ہے جیسے میں کسی خزانے پر آیا ہوں ‘‘۔ ایک شخص جب کسی کتب خانہ میں داخل ہوتا ہے اور کتابوں سے بھری الماریوں کے درمیان کھڑا ہوتا ہے تو وہ دراصل ایک ایسے علمی شہر میں کھڑا ہوتا ہے جہاں تاریخ کے ہر دور کے علماء، عقلاء اور ادباء کی روحیں موجود ہوتی ہیں اور وہ عملیات کے کسی عمل کے بغیر ہی اسلاف کی روحوں سے ملاقات کر لیتا ہے۔
عربی زبان کے نامور شاعرمتنبّی – جن کا دیوان مدارس عربیہ کے درس نظامی میں شامل ہے – کے ایک شعرکا مصرعہ ہے
کہ زمانے میں بہترین ہمنشین کتاب ہے۔
سرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر
کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر
جس کسی کو کتابوں سے والہانہ وابستگی ہو جاتی ہے، تو اس کے لئے مطالعہ کے بغیر زندگی گذارنا دشوارترہوجاتا ہے۔ یہی اس کے دن رات کا اوڑھنا بچھونا ہو جاتا ہے، اگر وہ بیماربھی پڑ جائے تو کتاب ہی اس کا علاج ہوتی ہے ۔
جب کتابوں سے میری بات نہیں ہوتی
تب میری رات میری رات نہیں ہوتی
کبھی آنکھیں کتاب میں گم ہیں
کبھی گم ہے کتاب آنکھوں میں
ہوبہو اسی طرح کہ جس طرح آج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں ہر چیز کو اسکرین پردیکھا اور سنا جارہا ہے۔ نوجوان نسل کو موبائل فون کی لت پڑ گئی ہے کہ جنون کی حد تک موبائل فون سے چمٹے ہوئے رہتے ہیں اور کتابوں کونظرانداز کرنے لگے ہیں لیکن سائنس نے اس بات کو دعوے سے ثابت کیاہے کہ اسکرین پر دیکھنے کی بہ نسبت کتاب پڑھنے سے انسانی دماغ تین گنا زیادہ بہتر کام کرتا ہے، جب کہ اسکرین اور نیٹ ورک کی شعاعوں سے انسانی اعضاء پر جو منفی اثرات پڑتے ہیں وہ سب پر عیاں ہیں۔لفظ کا اصل گھر کتا ب ہے ، کمپیوٹر اسکرین پر تو اس کی معنویت تقریباً فنا ہوجاتی ہے ۔
اگر آپ بازار میں خریداری کو نکلیں تو آپ کی بہترین شاپنگ تب ہوتی ہے جب آپ کوئی اچھی سی کتاب خرید لاتے ہوں ۔ چھٹی صدی کے ایک حنبلی عالم امام ابن الخشاب کے بارے میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ انہوں نے ایک دن ایک کتاب پانچ سو درہم میں خریدی، قیمت ادا کرنے کی استطاعت نہیں تھی لہٰذا تین یوم کی مہلت طلب کر کے مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر مکان فروخت کرنے کا اعلان کیا ، اس طرح کتاب کی قیمت ادا کر کے اپنے ذوق مطالعہ کی تکمیل کی۔
ماضی قریب میں بھی ایسے متعدد اہل علم و دانش گزرے ہیں، جن کو کتابوں سے والہانہ تعلق تھا مثلا حکیم الملت امیر شریعت دوم شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد اشرف علی صاحب رحمہ اللہ کو بھی کتابوں سے نہایت شغف تھا، قلبی وابستگی تھی ، جس کا جیتا جاگتا ثبوت مادرعلمی دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں کتب خانے کے نام سے ایک پرشکوہ عمارت کھڑی ہے، جس میں ساری دنیا کے مشہور ومعروف مصنفین کی عمدہ اور نایاب کتابوں کا ذخیرہ خوبصورت الماریوں میں بہت ہی سلیقہ وقر ینہ سے سجا کر رکھا گیا ہے۔
اسی طرح کچھ گنے چنے ہی سہی لیکن آج بھی ایسے کتاب دوست لوگ موجود ہیں ، مدارسِ اسلامیہ میں چلے جائیں ، اساتذہ کرام کی بڑی تعداد آپ کو ایسی ملے گی جن کے چھوٹے چھوٹے حجروں میں ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کم اورمختلف فنون کی کتابیں زیادہ ملیںگی ، بلکہ ان کے گھروں کے چھجّے بھی کتابوں سے بھرے پڑے رہتے ہیں ۔ اساتذہ کا زیادہ وقت کتابوں میں گذرتا ہے ۔
اساتذہ کی علم پروری اور کتاب دوستی کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ، ابھی ماضی قریب سالِ گذشتہ نومبر 2020میں امیرِ شریعت حضرت مولانا صغیر احمد صاحب رشادی دامت برکاتہم شیخ الحدیث و مہتمم دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کی سرپرستی میں کچھ اساتذہ کا ایک وفد شمالی ہند کے سفر پر گیا ہوا تھا ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر حضرت مولانا محمد رابع صاحب دامت برکاتہم سے ملاقات کی غرض سے ندوۃ العلماء لکھنؤ بھی حاضری کا موقع ملا ، وہاں ہمیں ایک جواں سال جید عالمِ دین مولانا محمد فیصل ندوی بھٹکلی زید مجدہم نے اپنے گھر چائے پر بلایا ، جب ہم پہنچے تو انہوں نے ایک عمارت میں -جس کے ہر کمرے کی چاروں دیواریں کتابوں سے بھری ہوئی موجود تھیں ۔
درمیان میں بمشکل بٹھاکر چائے پیش کی۔ ہم نے پوچھا ،آپ کا گھر کہاں ہے تو جواب ملا کہ یہی گھر ہے ، ہر طرف کتابیں ہی کتابیں ، کہیں کوئی پلنگ نہ کرسی نہ میز ، ہماری حیرت میں اور زیادہ اضافہ اس وقت ہوا جب پتہ چلا کہ تمام ہی کتابیں ان کی اپنی ـذاتی ہیں جسے انہوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے اکٹھا کیا ہے ۔
بارود کے بدلے ہاتھوں میں آجائے کتاب تو اچھا ہو
اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو
ایک زمانے میں مسلمانوں میں کتابوں کے مطالعے کا اس حد تک شوق تھا کہ کتابوں کا وجود رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا سبب بنتا تھا، لڑکیوں کے جہیز میں کتابوں سے بھری الماریاں دی جاتی تھیں، چنانچہ امام اسحاق بن راہویہ نے سلیمان بن عبداللہ زغندانی کی بیٹی سے نکاح اس لئے کیا تھا کہ انہیں امام شافعی کی جملہ تصانیف پر مشتمل کتب خانہ ملنے والا تھا۔ ہمدرد دواخانے کے سربراہ حکیم محمد سعید صاحب مرحوم نے اپنی بیٹی کے جہیز میں اپنا ذاتی کتب خانہ دیا تھا۔ معلوم ہوا کہ اہل علم کے ہاں کتابوں کو ایک عظیم مرتبہ حاصل تھا۔
ایسی بیسیوں مثالیں ہیں کہ ہمارے اجداد نے کتب خانوں کو کھنگالا ، کتابوں کو چاٹا، ان کا یہی ذوق مطالعہ ان کوعلم وحکمت کی بلندیوں تک پہنچایا، لیکن اب ہماری نئی نسل تن آسانی کا شکار ہوگئی ہے۔ سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ کو حصول علم کے ذرائع سمجھنے لگی ہے۔ گوگل کو بطورِ حوالہ پیش کرنے لگی ہے۔ غرض کتابوں سے دوری اور دل بیزاری نے جدیدنسل کو زیور تعلیم سے دور اور نظریاتی پہلو سے برہنہ کر کے رکھ دیا ہے۔
اسی علمی انحطاط اور تعلیم کے فقدان کے نتیجے میں ہمارے نوجوان فکری سرمایہ سے خالی ہوتے چلے جارہے ہیں اور گمراہ کن افکار کی یلغار ان کے قلوب واذہان تباہ وبرباد کررہی ہے اور اس کے نتیجےمیں دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے وہ چشم عالم سے پوشیدہ نہیں۔
کتاب میری ، قلم میرا ، اور سوچ بھی میری
پر جو لکھے ہیں میں نے وہ خیال کیوں تیرے ہیں