مالکؒ،امام عبد اللہ بن مبارکؒ،ربیع بن صبیح ؒ، امام احمد بن حنبلؒ،علی بن مدینیؒاورامام بخاریؒسرفہرست ہیں ۔
اسی آخر الذکرمقبول اورمعروف شخصیت کے بارے میں چندسطریںسپردقرطاس کرنے کی توفیق ہو رہی ہے،جو اپنے پیش روائمہ کرام کی آرزو، اساتذہ کافخراورمعاصرین کے لئے سراپا رشک تھے،ان کے زمانےکےمحدثین میں امام احمد بن حنبلؒ، یحیی بن معین ؒاور علی بن مدینی ؒ کی شہرت تھی،لیکن جب آسمانِ علم حدیث پربخاراکاسورج طلوع ہوا تو تمام محدثین ستاروں کی طرح مستورہوتے چلے گئے ،آپ نےجامع صحیح بخاری کی تصنیف کرکےان کتب ستہ کا سلسلہ شروع فرمایا جوصحاح ستہ کے نام سے مقبول عوام وخواص ہیں ۔
اسمِ گرامی محمد،والد کانام اسماعیل،داداکانام ابراہیم ہے،کنیت ابوعبداللہ،لقب امیرالمؤمنین فی الحدیث،الحجۃ،حافظ الاحادیث النبویۃ وناشر المواریث المحمدیۃہے، سلسلۂ نسب اس طرح ہے: محمد ابن اسماعیل ابن ابراہیم ابن مغیرۃ ابن بردزبۃ جعفی بخاریؒ۔
امام بخاری کے والد اسماعیل عظیم محدث اورصالح بزرگ تھے،امام ابن ِحبانؒ نے اسماعیل ؒکو طبقہ رابعہ کے ثقہ راویوں میں شمارکیاہے ،انہیں امام مالکؒ اور حماد بن زیدؒ جیسے یکتائے روزگار محدثین سے روایتِ حدیث کاشرف حاصل ہواہے اور عبداللہ بن مبارک ؒ کی خدمت مبارکہ میںزیادہ رہنے کاموقع ملاتھا،اوریحیی بن جعفر بیکندیؒ،احمد بن جعفرؒ،نصر بن حسینؒ اورعراقیوں کی ایک بڑی جماعت نے امام بخاریؒ کے والداسماعیلؒ سے احادیث کاسماع کیاہے۔امام بخاری کے والد خوش حال اور دولت مند تھے اورجس قدر صاحب حیثیت تھے اسی قدرمتقی تھے ۔احمد بن حفصؒ ؒ کہتے ہیں کہ میں اسماعیل ابن ابراہیمؒ کے نزع کے وقت ان کی خدمت میں حاضر تھا،وہ کہنے لگے کہ میرے پاس جس قدرمال ہے اس میں ایک درہم بھی مشتبہ نہیں ہے۔ امامِ ذہبیؒ نے تاریخِ اسلام میں اورامام بخاریؒ نے اپنی کتاب تاریخِ کبیر میں اپنے والد محترم کا مفصل تذکرہ تحریرفرمایاہے ۔
علمی اسفارکاآغاز مع سفرحج
امام بخاری ؒسولہ سال کی عمر میں عبداللہ بن مبارکؒ اورامام وکیعؒکی تمام کتابوںکے حافظ تھے،پھراسی سال اپنی والدہ اوربھائی احمدکے ہمراہ برائے حج مکہ معظمہ تشریف لے گئے،حج سے فراغت پائی توامام کی والدہ اوربھائی احمداپنے وطن بخارا واپس چلےگئے اورامامِ بخاریؒ نےمزید دوسال مکہ مکرمہ میں قیام فرمایاپھراٹھار ہ سال کی عمرمیںمدینہ منورہ کے قیام میں نبی اکرمﷺکے روضۂ اطہرکے پاس چاندنی راتوںمیںان دوکتابوں’’ قضایاالصحابۃ والتابعین ‘‘اور’’التاریخ الکبیر‘‘کی تصنیف فرمائی۔
علامہ ذہبی فرماتے ہیں: کہ امامِ بخاری ؒنے سب سے پہلےسماعِ حدیث ۲۰۵ھ میں شروع کیااوربخاراکے شیوخ مثلاًمحمد بن سلامؒ ،محمد بن یوسفؒ ، اورابراہیم بن اشعثؒ وغیرہ سے استفادہ کرنے کے بعد ۲۱۰ ھسے سفر کا آغازکیا۔علمِ حدیث حاصل کرنے کےلئےدور دراز مقامات کاسفرکیا ۔بلخ ،مرو،نیشاپور،رَی ، بغداد، بصرہ ، کوفہ ،مکہ ،مدینہ ،واسط،مصر، شام،دمشق، قیساریہ ،عسقلان، حمص،جزیرہ،اور خراسان وغیرہ مختلف مقامات کاسفرکیا۔امامِ بخاری بلخ گئے اورمحدث مکی ابن ابراہیمؒ کے تلمیذبنے،مکی ابن ابراہیم ؒامامِ اعظم ؒکے تلمیذِخاص تھے،مکی ابن ابراہیم ؒسے امامِ بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں گیارہ ثلاثی احادیث روایات کی ہیں ۔
علامہ ذہبی فرماتے ہیں: کہ امامِ بخاری ؒنے سب سے پہلےسماعِ حدیث ۲۰۵ھ میں شروع کیااوربخاراکے شیوخ مثلاًمحمد بن سلامؒ ،محمد بن یوسفؒ ، اورابراہیم بن اشعثؒ وغیرہ سے استفادہ کرنے کے بعد ۲۱۰ ھسے سفر کا آغازکیا۔علمِ حدیث حاصل کرنے کےلئےدور دراز مقامات کاسفرکیا ۔بلخ ،مرو،نیشاپور،رَی ، بغداد، بصرہ ، کوفہ ،مکہ ،مدینہ ،واسط،مصر، شام،دمشق، قیساریہ ،عسقلان، حمص،جزیرہ،اور خراسان وغیرہ مختلف مقامات کاسفرکیا۔امامِ بخاری بلخ گئے اورمحدث مکی ابن ابراہیمؒ کے تلمیذبنے،مکی ابن ابراہیم ؒامامِ اعظم ؒکے تلمیذِخاص تھے،مکی ابن ابراہیم ؒسے امامِ بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں گیارہ ثلاثی احادیث روایات کی ہیں ۔
امامِ بخاری ؒبغدادمیںمعلی بن منصورکے پاس زانوئے تلمذ تہہ کئے،امامِ احمدبن حنبلؒ تحریرفرماتے ہیںکہ معلی بن منصور امام اعظم ابوحنیفہؒ اورصاحبین (امام ابویوسف امام محمد ؒ)کے شاگردِرشیدتھے،نیزامامِ اعظم ابوحنیفہ ؒکے تلامذہ میں ایک تلمیذ یحییٰ بن سعید القطانؒ بھی ہیں،جن سے امام احمدؒ اورعلی ابن مدینی ؒ نے خصوصی استفادہ کیاہےاورامامِ بخاریؒ نے ان دونوں ائمہ (امام احمد بن حنبلؒ اورعلی بن مدینیؒ) سے احادیث نقل فرمائی ہیں،چنانچہ صحیح بخاری شریف میں علی بن مدینیؒ سے بکثرت روایات مروی ہیں۔
امام بخاریؒبصرہ پہنچ کر ابوعاصم النبیلؒ کے شاگرد ہوئے،جن سے امام بخاریؒنے صحیح بخاری میںچھ ثلاثیات نقل کی ہیں،ان کے علاوہ تین ثلاثیات محمد بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہیںجو بتصریحِ خطیب بغدادیؒ صاحبینؒ کے تلمیذ اور حنفی تھے،اس کے علاوہ مصر شام اورجزیرہ میـںدودوبار تشریف لے گئے اورحجازِ مقدس میںچھ سال قیام فرماکر کوفہ اور بغدادجومرکزِعلماء تھا، متعددباررونق افروز ہوئے،بصرہ چار مرتبہ تشریف لے گئے اوربعض دفعہ پانچ پانچ سال تک قیام کیا ایامِ حج میں مکہ معظمہ چلے جاتے تھے ۔
حافظ ابنِ کثیرؒتحریرفرماتے ہیں کہ امام بخاریؒآٹھ مرتبہ بغداد گئے اورہر مرتبہ امام احمد بن حنبل ؒ امام بخاریؒ سے بغداد کے قیام پر اصرار کرتے تھے ۔حافظ ابن حجرؒ تحریر فرماتے ہیں اس کے باوجود امام بخاریؒ نے امام احمد بن حنبل ؒ سے بہت کم روایتیں نقل کی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ امام بخاری کو امام احمد ؒ کے مشائخ واساتذہ سے استفادہ کاموقع نصیب ہواتھااوردوسری وجہ یہ ہے کہ امام بخاریؒ کے آخری سفر میں امام احمد بن حنبل ؒ نے روایت کرنا بہت کم کردیاتھا۔
شوقِ مطالعہ
امام بخاری کومطالعہ کابہت شوق تھا،اوراس کے لئے بڑی مشقتیں اٹھاتے تھے ، اورمطالعۂ حدیث میں شب بیداری کرتے تھے،چنانچہ محمد بن یوسف بخاریؒ ؒ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک شب میں امام بخاریؒ کے ساتھ رہنے کااتفاق ہوا تو میں نےخود دیکھا کہ امام بخاریؒ نےشب بھر میں اٹھارہ مرتبہ اٹھ کرچراغ روشن کیااحادیث کا مطالعہ کیاپھرسوگئے۔امام بخاریؒ نے تحصیل حدیث کے لئے مقامات بعیدہ کاسفرکیا اور سخت سے سخت تکلیفیں اورصعوبتیں برداشت کیں ،کہیں کسی محدث کاپتہ چلتاتووہاں پہنچ کر خوب محنت سے حدیثیں حاصل کرتے ۔حامد بن اسماعیل کہتے ہیں کہ امام بخاریؒ طلب حدیث کے لئے میرے ہمراہ شیوخ ِوقت اورمحدثین زمانہ کی خدمت میں آمد ورفت رکھتے تھے لیکن کچھ لکھتے نہیں تھے ۔میں نے ان سے پوچھاکہ جب تم حدیثیں لکھتے ہی نہیں توتمہارے آنے جانے سے کیافائدہ ؟ سولہ دن کے بعد امام بخاری ؒ نے کہا کہ تم لوگوں نے مجھ کو تنگ کردیاہے آئو اب میری یادداشت کااپنی نوشتوں سے مقابلہ کرو،اس مدت میں ہم نے پندرہ ہزار حدیثیں لکھی تھیں، امام بخاری ؒ نے اپنے حافظے سے مکمل اسناد کی صحت کے ساتھ جملہ احادیث کو اس طرح سنایاکہ میں خود اپنی لکھی ہوئی حدیثوں کو ان سے سن کر صحیح کرتا، اس کے بعد امام بخاری نے کہاکہ کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ میں عبث اوربے فائدہ سرگردانی کرتاہوں۔ہرگز ایسانہیں ہوتاتھا بلکہ امام کی قوت حافظہ کایہ عالم تھاکہ درس میں حدیثیں صرف ایک بار سن کر یاد کر لیتے جب کہ دوسرے طلبہ لکھتے رہتے ،درس کے بعد جملہ رفقاء اپنی کاپیوں کاامام بخاری کی یادداشت سے موازنہ کرتے تھے ۔
جب امام بخاری بغداد گئے تو امام کاامتحان لینے کے لیے سواحادیث کے متون اور اسناد کو تبدیل کرکے وہاں کے محدثین میں سےدس آدمیوں نے دس دس حدیثیں خلط ملط کرکے امام بخاری کو سنایاتوامام ہرحدیث کے جواب میں لا اعرف کہتے گئے، جس سے سارامجمع حیران تھاکہ ان کاتوشہرہ تھالیکن لااعرف کہہ رہے ہیں۔امام بخاریؒ سوحدیثوںکوسننے کے بعد اولاًصرف ایک بار سنی ہوئی غلط حدیثوں(جس کے سند ومتن میں خلط ملط کیاگیاتھا) کوبالترتیب سنایا، ٹھیک اسی ترتیب سے جس ترتیب سے ان لوگوں سے سناکرحدیثوں کے بارے میں پوچھاتھا پھر صحیح متن وسند کے ساتھ ان سوحدیثوں کوسنایااس حیرت انگیز قوت حافظے سے لوگ امام بخاری کے علمی فضل وکمال کے معترف ہوگئے اوران کے گرویدہ ہوگئے۔
امام بخاری کے اساتذہ وشیوخ کی تعداد بہت زیادہ ہے ،ان کاخود بیان ہے کہ میں ایک ہزاراسی محدثین سے حدیثیںاخذکیاہوں کتبت عن الف وثمانین نفسالیس فیھم الاصاحب حدیث ۔؍(فتح الباری ج :۱؛ ص :۴۷۹)
میلادہ صدق ومدۃ عمرہ فیھاحمید وانقضی فی نور
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ابوالمظفرمحمدبن احمدؒفرماتے ہیںکہ جب ابوالعباس ولیدابن ابراہیمؒکوشہر’’رَی‘‘کی قضاسے معزول کیاگیاتووہ اپنے اور ابولفضل بلعمیؒکی مودت اورتعلق کو تازہ کرنے کے لئے شہربخارا میں ۳۱۸ ھ میں قیام فرما ہوئے اور ہمارے پڑوس میں رہتے تھے،مجھے میرے معلم ابوابراہیم اسحاق ابن ابراہیم ختلیؒ ان (ابوالعباس ولید ابن ابراہیم)کے پاس لے گئے اورمیرے استاذ اسحاق ؒنے ولید ابن ابراہیمؒ سے درخواست کی کہ اس بچہ کو آپ اپنے مشائخ سے سنی ہوئی حدیثیں یاددلائیںتوولید ابن ابراہیمؒ نے فرمایاکہ مجھے کہاں سماعِ حدیث حاصل ہے ؟اسحاق ابن ابراہیمؒ نے عرض کیا: کیوں نہیں آپ تو فقیہ ہیں۔
ولیدابن ابراہیمؒ نے فرمایاکہ جب میں نوجوانوں کی عمر کوپہنچا،تومجھے حدیثوں کو سننے، جاننے،یاد کرنے،اور روایت کرنے کاشوق دامن گیر ہوا۔اسی لئے میں نے امام بخاری ؒکے پاس پہنچا اور اپنی مرادبتائی اورامام بخاریؒ سے حدیثیں سننا چاہا،اس بارے میں ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا چاہا تو امام بخاریؒنے فرمایا کہ اے پیارے بیٹے! تم کسی کام میں شامل نہ ہو جب تک کہ اس امر کے حدود کی معرفت نہ ہوجائے اور اس کے مراتب اوردرجات سے واقفیت نہ ہوجائے ،تومیں نے عرض کیا اچھا! جس کامیں نے ارادہ کیا اس کے حدودسے مجھے واقف کرائیے اورحدیث سننے کی میں نے آپ سے درخواست کی اس بارے میںضروری باتوں سے مجھے آگاہ فرمائیے ۔ اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے ۔اس کے جواب میں امام بخاری ؒنے علم حدیث کو حاصل کرنے کاطریقہ دل نشین اندازمیں بیان فرمایا۔۔۔
فقال لی :اعلم ان الرجل لایصیر محدثاکاملافی حدیثہ الابعد ان یکتب اربعامع اربع ،کاربع مع اربع ، مثل اربع فی اربع عند اربع باربع ،علی اربع عن اربع لاربع ،وکل ھذہ الرباعیات لاتتم الاباربع مع اربع ،فاذاتمت لہ کلھا ھان علیہ اربع وابتلی باربع ، فاذاصبر علی ذلک اکرمہ اللہ تعالی فی الدنیا باربع واثابہ فی الآخرۃ باربع .
۱
؍۱ )اخبارالرسول صلی اللہ علیہ وسلم؍ ۲) اخبار الصحابۃ ؍ ۳) اخبارالتابعین؍۴) احوال الرجال والرواۃ
؍۱)اسماء الرجال ؍۲)وکناھم ؍۳)وامکنتھم ؍۴) وازمنتھم
۲
یعنی محدثین اورحدیثوں کے رواۃ کے نام،کنیتیں،ان کے جائے سکونت،ان کے شہروں اوران کے زمانےسے یادرکھنا۔
جیساکہ چارباتیں مزید چار کے ساتھ یادرکھناہے۔۔۔
۳
؍۱) التحمید مع الخطب؍۲)والدعاء مع التوسل؍۳)والبسملۃ مع السورۃ ؍۴) والتکبیر مع الصلوات
۴
؍۱)نقل المسندات؍۲)والمرسلات؍۳)والموقوفات؍۴)وا لمقطوعات
مسند اورمتصل السند روایات یاد کرنے اورنقل کرنے کااہتمام کرنااسی طرح مرسل موقوف ا ور مقطوع روایات بھی یاد کرنالازمی ہے ۔
حدیث کاعلم کس عمر میں حاصل کرناچاہئے ۔۔۔
۵
؍۱)یکتب العلم فی صغرہ؍۲)وفی ادراکہ؍۳)وفی شبابہ؍۴) وفی کہولتہ
حاصل کرنے،یاد کرنےاورلکھنے کااہتمام کرناچاہئے۔
۶
؍۱)عند فراغہ؍ ۲)وعندشغلہ؍۳)وعندفقرہ؍۴ ) وعندغناہ
فارغ اوقات میں،مشغولیت میں،فقروفاقہ میں،تونگری وفراوانی میں تحصیلِ علم کی کوشش میں لگے رہناچاہئے ۔غرض ہرحالت میں علم کی دُھن غالب ہونی چاہئے۔
کس مقام پر حدیث حاصل کریں ۔۔۔
۷
؍۱)بالجبال؍۲)والبحار؍۳)والبلدان؍۴) والبراری
علم حاصل کرنے میں خواہ پہاڑوں، سمندروں،شہروںاورقریوں،خشکیوں اور جنگلوں کا سفر کرناپڑے ،اس سے بھی گریزنہیں کرناچاہئے۔
حدیث کس چیزپر لکھ کر محفوظ کریں۔۔۔
۸
؍۱)علی الاحجار؍۲)والاخزاف؍۳)والجلود؍۴) والاکتاف
علم حاصل کرتے وقت جو چیز میسرہو،جیسے پتھرٹھیکرےچمڑے اورشانےکی ہڈیاں ان کواپنا کاغذ بنالے او ر لکھتارہے۔اس کے بعد جب کاغذ میسر ہوجائے تب کاغذ پر منتقل کرلیاجائے ۔کتابت حدیث کااتناشوق ہوناچاہئے کہ حدیث لکھنے کے لئے کاغذ کے ملنے کاانتظارنہ کیاجائے کہ کاغذ جب ملے گاتب لکھیں گے، یہ اس دور کی بات ہے جب ابھی کاغذ کی ایجاد نہیں ہوئی تھی، لیکن آج کے دورمیں تو کاغذکی بھرمار ہے مزید برآں احادیث کو اپنے پاس محفوظ رکھنے کے دیگرذرائع واسباب (کمپیوٹر فون وغیرہ) بھی ہیں ان کے ذریعے حدیث تک رسائی سہل الحصول ہے۔
علم حدیث کن افراد سے حاصل کریں۔۔۔
۹
؍۱)عمن ھوفوقہ؍۲)عمن ھومثلہ؍۳)عمن ھودونہ؍۴) عن کتاب ابیہ یتیقن انہ بخط ابیہ دون غیرہ
علم ہرایک سے حاصل کرے ۔اپنے بڑوں،اپنے برابروالوں اوراپنے چھوٹوںسے بھی نیزاپنے والد کی کاپی سے بھی جب کہ اس بات کایقین ہو کہ وہ اپنے والد کی تحریر ہی ہے،دوسرے کی نہیں ۔
علم حدیث حاصل کرنے کا مقصد کیاہوناچاہئے ۔۔۔
۱۰
؍۱)لوجہ اللہ طلبالمرضاتہ؍۲)والعمل بھاوافق کتاب اللہ منھا ؍۳) و نشرھا بین طالبیھاومحبیھا؍۴) والتالیف فی احیاء ذکرہ بعدہ
علم حاصل کرنے کے چارمقاصدہونے چاہئے۔اللہ عزوجل کی مرضی کے لئے، احادیث میں سے جو کتابِ الٰہی اورسنت نبوی کے موافق ہو،اس پرعمل کرنے کے لئے ، طلبہ اورچاہنے والوں کے درمیان علم حدیث پھیلانے کے لئے اورتصنیف وتالیف کا اہتمام کرنے کے لئے تاکہ اس کے بعد اس کاذکرخیرہوتارہے ۔
مذکورہ بالادس رباعیات کے حصول کے لئے کن چارفنون کی اشدضرورت پڑتی ہے۔
۱
؍۱)معرفۃ الکتابۃ؍۲)واللغۃ؍۳)والصرف؍۴) والنحو
۲
؍۱)القدرۃ؍۲)الصحۃ؍۳)الحرص؍۴) الحفظ
اللہ تعالی کی طرف سے حصولِ علم پر قدرت ہوتی ہے ، صحت وعافیت نصیب ہوتی ہے ، حصولِ علم کا شوق وحرص اور احادیث کو یادرکھنے میں خداکی مدد نصیب ہوتی ہے۔
جب اوپرذکرکی گئی چیزوں کااستعمال صحیح کیاجاتاہے تواللہ تعالی اپنی طرف سے مزید چار نعمتیں اورسہولتیں عطافرماتاہے۔
۳
؍۱) الاھل؍ ۲)المال؍۳)الولد؍۴) الوطن
۴
؍۱) ابتلی بشماتۃ الاعداء ؍۲) ملامۃ الاصدقاء ؍۳) طعن الجھلاء؍ ۴) حسدالعلماء
۵
؍۱) بعزالقناعۃ؍ ۲) بھیبۃ النفس ؍۳) بلذۃ العلم؍ ۴) بحیاۃ الابد
۶
؍۱)بالشفاعۃ لمن اراد من اخوانہ؍۲) بظل العرش یوم لاظل الا ظلہ؍ ۳) یسقی من اراد من حوض نبیہ ﷺ ؍۴) بمجاورۃ النبیین فی اعلی علیین فی الجنۃ