دارالعلوم سبیل الرشاد کی تاسیس کا داعیہ حضرت مولانا ابوالسعود احمد صاحبؒ المعروف بہ بڑے حضرت کے قلب میں ۱۳۸۰ھ مطابق ۱۹۶۰ء میں باقیات صالحات ویلور کے بارِ اہتمام سے سبکدوشی کے بعد پیدا ہوا تھاکہ ایسے علاقے میں جہاں دینی مدرسہ نہ ہو علوم دینیہ کی ترویج واشاعت کے لئے مدرسہ کی بنیاد ڈالی جائے ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مدرسہ باقیات صالحات سے سبکدوش ہونے کے فوراً بعد متعدد اداروں نے حضرت قبلہ کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور کئی تقاضے سامنے آئے تھے مگر حضرت قبلہ نے سارے مطالبات نظر انداز فرمادیے ۔
چنانچہ سب سے پہلے حضرت قبلہ نے اپنے وطن مالوف بلنجپور میں اپنے دولت کدے پر مخلصین احباب کی ایک خصوصی مجلس طلب کی اور ان کے سامنے اپنے ارادے کا اظہار فرمایا ، سب نے بیک زبان تائید کی اور طے پایا کہ شہر بنگلور میں مدرسہ کھولا جائے ۔
بنائے مدرسہ کا ارادہ سن کر سب سے پہلے حضرت قبلہ کی والدۂ ماجدہ نے پچیس روپے اور حضرت کی ہمشیرہ محترمہ (معلمہ مدرسہ نسوان میل وشارم ) نے ایک سو پچیس روپے چندہ پیش کیا جو مدرسہ کی پہلی روئدادمیں درج ہے ۔
اہل خانہ کی موافقت اور مخلص احباب کی تائید کے بعد حضرت قبلہؒ نے اپنے استاذِ محترم جو رشتے میں آپ کے خسر بھی تھے ، شیخ الملت حضرت علامہ ضیاء الدین احمد امانیؒ کے ایمائے گرامی پر شہر گلستاں بنگلور تشریف لائے اور حاجی پی عبدالسبحان صاحب مرحوم تاجر آہن اوینیو روڈ بنگلور کے یہاں قیام پذیر ہوئے ۔
قیام مدرسہ کے سلسلے میں حاجی وی او عبدالرشید صاحب مرحوم کے دولت کدے پر مشورہ ہوا جس میں
حاجی اے محمد ابراہیم
حاجی پی کے ہدایت اللہ صاحب
حاجی آر کے عبدالحق صاحب
حاجی پی ای اکبرشریف صاحب
حاجی وی او عبدالغفور صاحب
حاجی پی عبدالسبحان صاحب
اور دیگر احباب شریک تھے ، حسب مشورہ شہر کے اطراف و اکناف ميں مدرسہ کے لئے جگہ کی فوری تلاش شروع ہوئی ، حاجی پی کے احمد حسین صاحب بھی اس کوشش میں شامل تھے ۔
آخر بنگلور کے شمالی سرے پر جو اس وقت قلب شہر ہوچکا ہے بمقام کال گنڈن ہلی چمڑے کا ایک کارخانہ جو ساڑھے تین ایکڑ زمین پر مشتمل تھا خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ۔
یہ چمڑے کا کارخانہ جو ٹیانری کہلاتا ہے ، میل وشارم کے ایک رئیس الحاج ایس ایم عبدالجلیل صاحب کے والد بزرگوار کا تھا۔
الحمد للہ ، معاملہ ساڑھے سترہ ہزار روپے پر بآسانی طے پایا اور رجسٹریشن بھی ہوگیا ، مدرسہ سے متصل زمینات بھی حسب سہولت خرید لی گئیں ۔ اس مقام پر ابتداء میں کھالوں کی صفائی کا کارخانہ تھا ، اس میں بدبودار آلائشوں اور گندگیوں کے سوا کیا ہوتا ہے پھر ایک مدت سے یہ بند بھی پڑا تھا ، جس کے نتیجے میں پورا احاطہ خار دار جنگل کا نمونہ بنا ہوا تھا ، لیکن حاجی اے محمد ابراہیم صاحب اور ان کے معاونین کی انتھک محنت نے اسے ایسا گلزار بنادیا کہ جنگل میں منگل کا لطف آنے لگا۔
حضرت مولانا ابوالسعود احمد ؒ نے اپنے رفقائے کار کی معیت میں افتتاح مدرسہ کے لئے رئیس المبلغین حضرت مولانا شاہ محمد یوسف رحمۃ اللہ علیہ جیسی بزرگ شخصیت کو دعوت دی تھی تو حضرت جی نے فرمایا کہ ’’ ہم تو تبلیغی اجتماعات میں حاضر ہوا کرتے ہیں ، کسی افتتاحی تقریب میں شرکت نہیں کرپاتے ، البتہ اس کے لئے مشورہ کیا جائے‘‘ ۔
مشورے میں حضرت مولانا انعام الحسنؒ ، حضرت مولانا عبیداللہ صاحب بلیاوی ، حضرت مولانا محمد رحمت اللہ صاحب میرٹھی ، میاں جی محمد عیسیٰ صاحب میواتی ، منشی بشیر احمد صاحب ، حافظ محمد صدیق صاحب میواتی جیسے اہم حضرات شریک تھے ۔
اس موقع پر بڑے حضرتؒ کے ہمراہ حضرت مولانا نیر ربانی صاحب ، استاذ دارالعلوم سبیل الرشاد بھی موجود تھے ۔ مشورے کے بعد بالاتفاق طے پایا کہ بنگلور کی دعوت قبول کرلی جائے بشرطیکہ مجوزہ مدرسہ کے احاطے میں تبلیغی اجتماع منعقد ہو، جماعتوں کی روانگی کا انتظام بھی ہو اور اجتماع کےآخری دن بعد نماز عصر مدرسہ کا افتتاح عمل میں آئے ، اس فیصلہ کو حضرت جی مولانا محمد یوسفؒ نے پسند فرمایا اور بنگلور کی دعوت بخوشی منظور فرمالی ، چنانچہ حسب مشورہ مدرسہ کے احاطے میں تبلیغی اجتماع منعقد ہوا اور ۲۲ ربیع الاول ۱۳۸۰ھ مطابق ۱۴ ستمبر ۱۹۶۰ء بروز چہارشنبہ بعد نماز عصر حضرت مولانا محمد یوسف صاحبؒ نے سات خوش نصیب طلبہ کو درسِ نظامی کی اولین کتاب میزان الصرف کا پہلا سبق پڑھایا ۔ اس طرح شہر گلستاں بنگلور میں مرکز تعلیم و تبلیغ دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کا افتتاح عمل میں آیا اور حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کی سر زمین کرناٹک نے ایک تاریخ ساز انقلابی کروٹ لی۔
اس افتتاحی تقریب میں شیخ الملت حضرت مولانا ضیاء الدین احمد امانیؔؒناظرمدرسہ منبع الانوار لال پیٹ و صدر جماعۃ العلماء تامل ناڈو ، حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلویؒ ، حضرت مولانا امیر احمد صاحبؒ صدرالمدرسین مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور ، حضرت مولانا محمد عمران خان صاحب ندویؒ ، امیر دارالعلوم تاج المساجد بھوپال ، مولانا جمیل احمد صاحبؒ مہتمم ادارہ ملیہ حیدرآباد ، مولانا محمد ضیاء الدین قاسمی مہتمم دارالعلوم کلکتہ اور دیگر مشاہیر علماے کرام اور مقامی و بیرونی ممتاز شخصیات نے شرکت فرمائی۔
اختتام مجلس پر حضرت جیؒ نے طویل رقت آمیز دعا فرمائی اور حاضرین نے آنسو بہاتے ہوئے آمین کہی ۔ اس طرح ریاست کرناٹک میں بڑے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی جد و جہد اور ان کے مخلص رفقاے کار کے تعاون سے علوم دینیہ کی ترویج و اشاعت کا دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔
فی الوقت تا دمِ ایں تحریر مدرسہ کا موجودہ رقبہ پندرہ ایکڑ زمین کا ہے ، جس میں ایک عالیشان خوبصورت مسجد ، سامنے کشادہ صحن (مسجد اور صحن میں بیک وقت تقریباً تین ہزار افراد نماز ادا کرسکتے ہیں )اور مدرسہ کی ضروریات کے مطابق الگ الگ عمارتیں جیسے دارالاقامہ ، مطبخ ، درس گاہ ، کتب خانہ ، ایوانِ علامہ شاہ ابوالسعود احمد کے نام سے ایک وسیع جلسہ گاہ جس میں اسٹیج کے علاوہ دو ہزار کرسیاں بچھائی جاسکتی ہیں ، پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر بنائی گئی ایک یادگار پرشکوہ عمارت جو قصر زریں کے نام سے موسوم ہے ، جس میں دارالافتاء ، کتب خانہ درسیاتِ اساتذہ ، کتب خانہ درسیاتِ طلبہ ، شعبۂ افتاء اور شعبۂ حفظ وغیرہ موجود ہے ،اس کے علاوہ دارالقضاء ہے، فقہ کی کتابوں میں دارالقضاء کی عمارت کا جو نقشہ بتایا گیا ہے ، اسی شکل میں اور اسی ترتیب سے خاص دارالقضاء کے لئے تعمیر کی جانے والی ہندوستان کی تاریخ میں سب سے پہلی عمارت ہے ، جو ریاست کرناٹک کا مرکزی دارالقضاء ہے اور اس کی بیسیوں شاخیں پوری ریاست میں پھیلی ہوئی ہیں جو مستقل رابطے میں ہوتے ہیں۔ ان عمارتوں کے درمیان میں وسیع و عریض سر سبز و شاداب ، ہریالی سے بھرپور، کشادہ میدان ہے ، جس میں طلبہ بعدِ عصر کھیل کود ، بھاگ دوڑ اور ورزش سے پوری طرح لطف اٹھاتے ہیں ۔ الحمد للہ علی ذلک ۔
پہلے تعلیمی سال میں دارالعلوم سبیل الرشاد میں صرف بیس طلبہ داخل ہوئے تھے ،جن میں ریاست کرناٹک کے چودہ ، تمل ناڈو کے چار اور آندھرا پردیش کے دو طلبہ تھے ، چونکہ مدرسہ کا افتتاح ماہ ربیع الاول میں ہوا تھا لہٰذا پہلا تعلیمی سال صرف پانچ ماہ پر مشتمل تھا ، شعبان ۱۳۸۰ کے دوسرے ہفتے میں سالانہ امتحان منعقد ہوا ، پانچ طلبہ غیر حاضر رہے جن میں دو نو مسلم بھی شامل ہیں ، بقیہ پندرہ طلبہ امتحانِ سالانہ میں شریک ہوکر مختلف درجوں میں کامیاب ہوئے ۔ الغرض ۱۳۸۰ھ مطابق ۱۹۶۰ء میں حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب کی پر خلوص دعاؤں سے افتتاح عمل میں آنے کے بعد خدا کی شان کہ مدرسہ ترقی کی منزلیں طے کرتا رہا اور سال بہ سال ایک ایک جماعت کا اضافہ ہوتا گیا اور تعلیمی زینے طے کرنے لگا۔ یہاں تک کہ ۱۳۸۵ ھ میں جماعت ہفتم کا آغاز ہوا ، اس میں سات طلبہ شریک رہے اور شعبان ۱۳۸۶ھ کے سالانہ امتحان میں کامیاب ہوئے ۔ اس طرح پہلی جماعت فارغ التحصیل ہوئی ، جس کا سلسلہ بلا ناغہ بحمد اللہ آج تک جاری و ساری ہے ۔
بانی مدرسہ کی یہ دعا اور تمنا رہی تھی کہ یہ نوخیز ادارہ اس طرح پروان چڑھے کہ اس کے فیوض و برکات کی ٹہنیاں سارے عالم میں پھیل جائیں ، یہ دعا بہت جلد رنگ لائی چنانچہ مغرب و مشرق ، شمال و جنوب کے مختلف ملکوں سے تشنگانِ علم اس چشمۂ فیض سے سیراب ہونے کے لئے ٹوٹ پڑے، بقول حضرت سعدیؒ